مونی بھائی کا علم جغرافیہ، تاریخِ نو اور نظریہ سازش
ہمارے مونی بھائی کی سب سے بڑی خوبی ان کا وہ بے پناہ، لافانی اور ہمالیہ جیسا اعتماد ہے، جس کے سامنے سائنس، تاریخ اور عالمی جغرافیہ ہاتھ جوڑے، سر جھکائے کھڑے رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مونی بھائی نے نہ کبھی تاریخ کی کوئی کتاب کھولی ہے، نہ کبھی دنیا کا نقشہ غور سے دیکھا ہے لیکن تاریخ اور جغرافیہ کے بارے ان کا علم اتنا تہہ در تہہ، گتھم گتھا اور پیچیدہ ہے کہ اچھے اچھے ماہرینِ تاریخ اور جغرافیہ والے اپنا سر دیوار سے مارنے لگتے ہیں۔ مونی بھائی نے درحقیقت ابنِ خلدون کے نظریہِ عصبیت کو پیچھے چھوڑ کر اپنا ذاتی ”نظریہِ سازش“ پیش کیا ہے، جس سے تاریخ کی حرکیات ہی بدل گئی ہیں۔ اگرچہ ان کے ناقدین مونی بھائی کے تمام تر علم کو سراسر ہوائی اور تخیلاتی قرار دیتے ہیں۔ مگر مونی بھائی اپنے نظریات پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
مثلاً ایک دن چائے کی پیالی ہاتھ میں تھامے، مونی بھائی نے بڑے پرسکون اور فلسفیانہ لہجے میں ارشاد فرمایا ”یار! لوگ کہتے ہیں آسٹریلیا براعظم اوشیانا میں ہے۔ بھائی، سیدھی سی بات ہے، وہاں انگریزوں کی بادشاہی ہے، صدیوں سے وہاں سفید فام لوگوں کو رہتا دیکھ رہے ہیں، تو ظاہر ہے آسٹریلیا یورپ کے اندر ہی کہیں واقع ہو گا! اب بندہ ان انگریزوں کو یورپ سے اٹھا کر کہیں سمندر میں تو نہیں پھینک سکتا نا؟ اتنی سی منطق ان پڑھے لکھے جاہلوں کی سمجھ میں نہیں آتی“ ۔
میں نے کچھ بولنا چاہا، لیکن مونی بھائی کے چہرے کی معصومیت اور آنکھوں کا جلال دیکھ کر خاموش ہی رہا۔ ابھی میں آسٹریلیا کو یورپ میں ہضم کرنے کی ناکام کوشش کر ہی رہا تھا کہ انہوں نے روس اور سائبیریا کے جغرافیے پر ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیے ”اور یہ جو سائبیریا ہے نا۔ یہ روس کا حصہ بالکل نہیں ہے، یہ لوگوں کو سراسر غلط فہمی ہے روس یورپ کا ایک ملک ہے اور سائبیریا اصل میں ایشیا اور یورپ سے الگ ایک بالکل علیحدہ براعظم ہے۔ روس والوں نے مفت میں قبضے کا ڈرامہ رچایا ہوا ہے۔ وہاں کوئی بھی جا کر رہ سکتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں پاکستان کو فوراً اقوامِ متحدہ میں جا کر سائبیریا پر اپنا دعویٰ ٹھونک دینا چاہیے! خالی پڑا ہے، ہمارے لوگ وہاں جا کر اچھے سے آباد ہو سکتے ہیں، سب کو دس دس ایکڑ کے فارم ہاؤس اور چار چار کینال کے رہائشی پلاٹ مل سکتے ہیں۔“
جغرافیے کے بعد جب مونی بھائی سمندروں کے حجم اور زمینی رقبے کی طرف آئے، تو ان کا جلال دیکھنے والا تھا۔ ایک گھونٹ چائے کا بھر کر بولے ”یہ جو سائنسدان اور جغرافیہ دان کہتے ہیں کہ دنیا کا تین چوتھائی حصہ سمندر ہے اور خشکی صرف ایک چوتھائی یہ سب سے بڑا سفید جھوٹ اور عقل سے دشمنی ہے۔ تم خود سوچو! جہاں دیکھو شہر کے شہر، گاؤں کے گاؤں، لوگوں سے ہر جگہ بھری پڑی ہے۔ اتنی خشکی ہے یار! اگر تین چوتھائی پانی ہوتا تو ہم سب کب کے ڈوب چکے ہوتے۔ یہ اصل میں ایک بہت بڑی بین الاقوامی سازش ہے تاکہ مسلمانوں کو اصل خشکی کا اندازہ نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ کئی براعظم چھپا کر رکھے گئے ہیں، جہاں یہ گورے خود مزے سے رہتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ سمندر زیادہ ہے۔“
سمندروں کی اس گہری سازش سے نکل کر جب مونی بھائی تاریخ پر ہاتھ صاف کرتے ہیں تو تاریخ خود شرما کر اپنے صفحے الٹ لیتی ہے۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کی ایسی تفسیر آپ کو دنیا کی کسی یونیورسٹی کی کتاب میں نہیں ملے گی۔
مونی بھائی کے بقول ”دیکھو بھائی، پہلی جنگِ عظیم (World War I) کچھ بھی نہیں تھی، بس مسلم اُمّہ کے خلاف ایک عالمی سازش تھی۔ اس وقت چند ماہ اور یہ جنگ نہ چھڑتی تو تمام یورپ، لاطینی امریکہ اور سنٹرل افریقہ نے مسلم اُمّہ کا حصہ بن جانا تھا، اس کو روکنے کے لئے یہ جنگ کا تھیٹر سجایا گیا تھا اور رہی دوسری جنگِ عظیم (World War II) جو ورلڈ وار ٹو ہے نا، یہ کمیونزم یا فاشزم کی نہیں، بلکہ ’گرم کپڑوں تک رسائی‘ کی عالمی لڑائی تھی! جرمنی میں رہنے والے نازیوں کو شدید ترین سردیوں میں بھی کمبل اور سویٹر مہیا نہیں ہو پا رہے تھے۔ وہاں نہ کپاس اگتی تھی نہ اونی کپڑے کے کارخانے تھے۔ دوسری طرف روس والوں کے پاس بہترین گرم لحاف اور اعلیٰ معیار کے اونی سویٹر موجود تھے۔ ہٹلر نے سٹالن سے کہا ’بھائی میری فوجوں کو سویٹر اور کمبل دے دو‘ ۔ سٹالن نے صاف انکار کر دیا۔ بس اسی سردی اور انا کی جنگ میں ہٹلر نے فوجیں روس کی طرف موڑ دیں! اب تم بتاؤ، اس میں کمیونزم کہاں سے آ گیا؟ یہ تو سیدھا سیدھا اونی سوئیٹر اور رضائی کا جھگڑا تھا، تاریخ والوں نے اسے بڑے بڑے نظریوں کا لباس پہنا دیا ہے۔“
مونی بھائی کی نظر میں دنیا کا جغرافیہ کوئی مستقل یا جامد چیز نہیں ہے، بلکہ یہ سیاسی حالات کے مطابق بدلتا اور حرکت کرتا رہتا ہے۔ ایک دن بتانے لگے ”تمہیں شاید پتہ نہ ہو، پہلے مصر بالکل ایشیا میں شامل تھا۔ پھر ایک دن مصر کے حکمرانوں نے آپس میں بیٹھ کر اجلاس کیا اور فیصلہ کیا کہ نہیں یار، ایشیا میں اب وہ مزہ نہیں رہا، ہمیں اب افریقہ کی طرف جانا چاہیے۔ بس پھر کیا تھا، انہوں نے اپنا پورا ملک افریقہ میں شفٹ کر لیا اور ہاں، ابھی کچھ عرصے پہلے کی بات ہے، ہندوستان نے اقوامِ متحدہ میں بیٹھ کر یہودی لابی کے ساتھ مل کر ایک بہت بڑی اور خوفناک سازش کی تھی۔“
کیسی سازش مونی بھائی؟ ”میں نے ہنسی روکتے ہوئے پوچھا۔
”سازش یہ تھی کہ پاکستان کو کسی طریقے سے ایشیا سے نکال کر افریقہ میں شامل کر دیا جائے۔ انہوں نے دلیل دی کہ پاکستان میں بھی افریقہ کی طرح بجلی نہیں ہوتی، سہولتیں صفر ہیں، فی کس آمدنی بھی افریقی ملکوں جیسی ہے، لا اینڈ آرڈر کی صورتحال وہی ہے اور لوگ بھی افریقہ والوں کی طرح جذباتی ہیں۔ بات بات پر لڑتے رہتے ہیں۔ بس جی، اسرائیل اور ہندوستانی لابی نے پورا زور لگا دیا تھا کہ کاغذات میں پاکستان کو افریقہ میں ڈالو، وہ تو بھلا ہو ہمارے کچھ دوستوں کا جنہوں نے بروقت ویٹو کروا کے بات سنبھال لی ورنہ آج ہم افریقی قوم کہلاتے“ ۔
مونی بھائی کے مطابق دنیا کا ہر بڑا فاتح اصل میں مسلمان تھا۔ سکندرِ اعظم کا ذکر آتے ہی مونی بھائی نے چھاتی چوڑی کی اور بولے ”یہ جو لوگ کہتے ہیں نا سکندر یونانی تھا۔ بھائی! یہ بھی ایک سفید جھوٹ گھڑا گیا ہے۔ سکندر بھی اصل میں مسلمان ہی تھا، آپ بتائیں سکندر مسلمانوں کا نام نہیں کیا؟ کسی یونانی یا فرنگی کا نام سکندر سنا ہے؟ اور یہ چنگیز خان؟ وہ بھی مرنے سے تھوڑی دیر پہلے خاموشی سے مسلمان ہو گیا تھا۔ جسے آج تک چھپایا گیا ہے۔ مگر علامہ اقبال کو اس بات کا پتہ تھا، اس لیے انہوں نے غائبانہ اشارہ فرمایا:
ہے عیاں یورش تاتار کے فسانے سے
کعبے کو پاسبان مل گئے صنم خانے سے
مونی بھائی کی اس معصومانہ لاعلمی کا شاہکار عروج تو تب دیکھنے کو ملا جب انہوں نے اپنے ایک دوست کے حالیہ دورہ سعودی عرب کا احوال سنایا۔ فرمانے لگے ”پچھلے دنوں میرے ایک دوست کا موڈ ہوا کہ ذرا گاڑی پر ہی عمرہ کرنے چلتے ہیں۔ انہوں نے سوچا پرانے راستے سے کیا جانا، ذرا شمالی سائیڈ والا خوبصورت روٹ لیتے ہیں، ناران کاغان اور ہنزہ سے ہوتے ہوئے چائنا کی طرف سے چلتے ہیں۔ “ کسی نے اعتراض کیا کہ یہ چائنہ سے تو بہت لمبا سفر نہیں ہو جائے گا تو مونی بھائی نے یہ کہہ کر اس کو چپ کروا دیا۔ ”میرے بھائی شاہراہ ریشم کا نام کبھی سنا ہے؟ ابن بطوطہ اور مارکو پولو کا پتہ ہے؟ وہ اسی سڑک پر ٹہلتے ہوئے چین سے بخارا اور پھر عرب جاتے تھے۔ اب چائنا کی سرحد سے جیسے ہی دوست ذرا سا آگے نکلا، تو وہاں سے سعودی عرب بالکل قریب ہی تھا! ان کے کچھ عرب دوست وہاں پہلے سے انتظار کر رہے تھے، وہ ان کو وہاں سے آگے جدہ لے گئے۔“
اب بندہ ان سے کیا سر کھپائے کہ چائنا ہمارے بالکل شمال میں ہے اور سعودی عرب مغرب کے دور دراز صحراؤں میں! لیکن مونی بھائی جس اطمینان، تمکنت اور معصومانہ مسکراہٹ کے ساتھ یہ بات بتاتے ہیں کہ سننے والا حیرت، صدمے اور ہنسی کی کیفیت میں معلق ہو کر رہ جاتا ہے۔


منی بھائی کے کی معصومیت بارے ماموں جی کے ساتھ کافی بات ہوئی ۔ انہوں نے ہر بات میں منی بھائی کو ہمدردی سے نوازا۔ بہرحال منی بھائی عالمی سیاست پر بھی گہری نظر رکھے ہیں۔ اب یقین ہو گیا۔