
پچھلے مضمون میں ہم نے دیکھا کہ قدیم یونانی مفکرین نے پہلی مرتبہ روشنی اور بینائی کو دیومالائی کہانیوں سے نکال کر عقل، فلسفے اور ریاضی کا موضوع بنایا۔ ڈیموکریٹس، افلاطون، ارسطو، اقلیدس اور بطلیموس جیسے عظیم مفکرین نے بصریات (Optics) کے ایسے بنیادی سوالات اٹھائے جنہوں نے تقریباً ایک ہزار سال تک انسانی فکر کی رہنمائی کی۔ اگرچہ ان کے اکثر نظریات بعد میں غلط ثابت ہوئے، لیکن انہوں نے ایک ایسی روایت قائم کی جس میں فطرت کے رازوں کو عقل کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔
لیکن دوسری صدی عیسوی کے بعد یہ علمی سفر تقریباً رک گیا۔
رومی سلطنت زوال کا شکار ہونے لگی، اسکندریہ جیسے عظیم علمی مراکز اپنی رونق کھو بیٹھے، اور یورپ ایک ایسے دور میں داخل ہوا جسے بعد کے مؤرخین نے تاریک دور (Dark Ages) کا نام دیا۔ کئی صدیوں تک بصریات سمیت بہت سے سائنسی علوم میں کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی۔
ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے روشنی کے متعلق انسانی علم ایک بند گلی میں پہنچ گیا ہو۔
مگر تاریخ کا سفر کبھی رکتا نہیں۔
جب یورپ علمی جمود کا شکار تھا تو دنیا کے ایک دوسرے حصے میں علم کا ایک نیا سورج طلوع ہو رہا تھا۔
آٹھویں صدی عیسوی میں اسلامی دنیا ایک وسیع سلطنت میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اس کی سرحدیں اسپین سے لے کر وسطی ایشیا تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس وسیع سلطنت میں مختلف زبانیں، مختلف تہذیبیں اور مختلف علمی روایات ایک دوسرے سے مل رہی تھیں۔
لیکن مسلمانوں کی اصل طاقت صرف ان کی سیاسی فتوحات نہیں تھیں۔ ان کی سب سے بڑی طاقت علم سے محبت تھی۔
قرآنِ مجید بار بار انسان کو کائنات پر غور کرنے، زمین و آسمان کی نشانیوں پر سوچنے اور علم میں اضافہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں نے علم کو صرف دنیاوی ضرورت نہیں بلکہ ایک دینی ذمہ داری بھی سمجھا۔ اسی جذبے نے چند ہی صدیوں میں ایک ایسی علمی تحریک کو جنم دیا جس کی مثال اس سے پہلے انسانی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔
عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے زمانے میں بغداد صرف ایک سیاسی دارالحکومت نہیں تھا بلکہ علم کا بھی مرکز بنتا جا رہا تھا۔ ان کے بیٹے المامون نے نویں صدی کے آغاز میں بغداد میں ایک عظیم ادارے کو وسعت دی جسے بیت الحکمہ کہا جاتا ہے۔
عام طور پر لوگ اسے صرف ایک کتب خانہ سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔
اگر آج ہم کسی جدید تحقیقی ادارے کا تصور کریں، جہاں دنیا بھر کے سائنس دان اکٹھے ہو کر تحقیق کرتے ہیں، تو بیت الحکمہ کسی حد تک اسی قسم کا ادارہ تھا۔ یہاں صرف کتابیں محفوظ نہیں کی جاتی تھیں۔ یہاں کتابوں کا ترجمہ ہوتا تھا۔ ان پر بحث ہوتی تھی۔ ان کی غلطیوں کی نشاندہی کی جاتی تھی۔ اور پھر ان سے آگے بڑھ کر نئی تحقیق کی جاتی تھی۔ یہی وہ فرق تھا جس نے اسلامی سائنسی تحریک کو صرف ”ترجمے کی تحریک“ بننے سے بچایا۔
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ مسلمان علماء نے صرف یونانی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا تھا۔ یہ بات صرف جزوی طور پر درست ہے۔ اگر مقصد صرف ترجمہ ہوتا تو سائنس کبھی آگے نہ بڑھتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یونانی علوم کو پہلے سمجھا گیا، پھر ان پر تنقید کی گئی، ان کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی، نئے تجربات کیے گئے، اور بالآخر نئے نظریات پیش کیے گئے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سائنس نے حقیقی ترقی کی۔ بصریات اس کی بہترین مثال ہے۔
یونانیوں نے تقریباً ایک ہزار سال تک یقین کیا تھا کہ روشنی آنکھ سے نکلتی ہے۔ مسلمان سائنسدانوں نے سب سے پہلے اس بنیادی تصور پر سوال اٹھایا۔ یہ ایک غیر معمولی جرات تھی، کیونکہ اس زمانے میں افلاطون، ارسطو، اقلیدس اور بطلیموس صرف بڑے عالم ہی نہیں بلکہ تقریباً ناقابلِ اختلاف اتھارٹی سمجھے جاتے تھے۔ ان سے اختلاف کرنا آسان نہیں تھا۔
اسلامی بصریات کی داستان میں پہلا بڑا نام ابو یوسف یعقوب الکندی کا ہے۔ الکندی کو اکثر ”پہلا عظیم مسلمان فلسفی“ کہا جاتا ہے، لیکن ان کی دلچسپی صرف فلسفے تک محدود نہیں تھی۔ ریاضی، موسیقی، فلکیات، طب اور بصریات سمیت شاید ہی کوئی ایسا علمی شعبہ ہو جس میں انہوں نے کام نہ کیا ہو۔ الکندی نے یونانی بصریات کا گہرا مطالعہ کیا۔ انہوں نے اقلیدس اور بطلیموس کے نظریات کو عربی دنیا میں متعارف کرایا، لیکن ان پر صرف شرح نہیں لکھی بلکہ ان میں بہت سی اصلاحات بھی کیں۔
انہوں نے روشنی، انعکاس، انعطاف اور آئینوں کے بارے میں جیومیٹری کی مدد سے تحقیق کی اور واضح کیا کہ روشنی عام حالات میں سیدھی لکیروں میں سفر کرتی ہے۔ آج ہمیں یہ بات بالکل معمولی معلوم ہوتی ہے، لیکن اس زمانے میں یہی تصور بعد کی تمام بصریات کی بنیاد بنا۔
الکندی کا سب سے بڑا کارنامہ شاید کوئی نئی دریافت نہیں بلکہ ایک نئی روایت کا آغاز تھا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ یونانی علماء کے نظریات احترام کے مستحق ضرور ہیں، لیکن انہیں آخری سچ نہیں سمجھنا چاہیے۔ علم میں ہر نظریہ سوال پوچھنے کے لیے ہوتا ہے، عبادت کرنے کے لیے نہیں۔
سائنس کی تاریخ میں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک عظیم دریافت اپنے زمانے میں تو ہو جاتی ہے، لیکن دنیا اسے پہچان نہیں پاتی۔ صدیاں گزر جاتی ہیں، اور پھر وہی دریافت کسی دوسرے سائنس دان کے نام سے مشہور ہو جاتی ہے۔
اسلامی سنہری دور کے عظیم ریاضی دان اور ماہرِ بصریات ابو سعد العلاء ابنِ سہل کی داستان بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اگر آپ طبیعیات کی کسی کتاب میں روشنی کے انعطاف (Refraction) کا قانون پڑھیں تو وہاں تقریباً ہمیشہ لکھا ہوتا ہے کہ اسے سترہویں صدی میں ہالینڈ کے سائنس دان ولبرورڈ اسنیل (Willebrord Snell) نے دریافت کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا اسے اسنیل کا قانون (Snell ’s Law) کہتی ہے۔
لیکن جدید تاریخی تحقیق نے ایک حیران کن حقیقت آشکار کی ہے۔
یہی قانون اسنیل سے تقریباً چھ سو سال پہلے بغداد میں دریافت ہو چکا تھا۔ اور اس کا دریافت کنندہ ایک مسلمان سائنس دان تھا۔
اس سے پہلے کہ ہم ابنِ سہل کی دریافت کو سمجھیں، آئیے ایک نہایت عام مشاہدہ کرتے ہیں۔
ایک شفاف گلاس میں پانی بھریں اور اس میں ایک پنسل رکھ دیں۔ آپ دیکھیں گے کہ پانی کی سطح پر پہنچ کر پنسل مڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ حالانکہ حقیقت میں وہ بالکل سیدھی ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر آپ کسی صاف تالاب میں کھڑے ہوں تو پانی کی تہہ حقیقت سے کم گہری معلوم ہوتی ہے۔
یہ سب کیوں ہوتا ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ روشنی ہمیشہ ایک ہی رفتار سے سفر نہیں کرتی۔ ہوا میں اس کی رفتار سب سے زیادہ ہوتی ہے، لیکن جب وہ پانی یا شیشے میں داخل ہوتی ہے تو اس کی رفتار کچھ کم ہو جاتی ہے۔ رفتار میں یہی تبدیلی روشنی کے راستے کو بھی بدل دیتی ہے۔ طبیعیات میں اسی عمل کو انعطافِ نور (Refraction) کہتے ہیں۔
اس کا تذکرہ ایک پچھلے مضمون میں تفصیل سے کر چکا ہوں۔
یہی اصول عینک، خوردبین، دوربین، کیمرہ اور تقریباً ہر عدسے کی بنیاد ہے۔ اگر روشنی مڑتی نہ ہوتی تو نہ چشمہ بنایا جا سکتا، نہ دوربین، نہ خوردبین، اور نہ ہی آج کا کیمرہ وجود میں آتا۔
ذرا ایک لمحے کے لیے اپنی عینک یا موبائل فون کے کیمرے کو دیکھیے۔ اس میں موجود شیشہ بالکل ہموار نہیں ہوتا بلکہ ہلکا سا خمیدہ ہوتا ہے۔ یہ خمیدگی محض خوبصورتی کے لیے نہیں ہوتی۔ جب روشنی اس خمیدہ سطح سے گزرتی ہے تو اس کا راستہ بدل جاتا ہے۔ بعض شعاعیں زیادہ مڑتی ہیں، بعض کم۔ آخرکار یہ سب ایک خاص مقام پر جمع ہو جاتی ہیں۔ اسی مقام کو فوکس (Focus) کہتے ہیں۔ اگر فوکس درست نہ ہو تو تصویر دھندلی ہو جاتی ہے۔ آج دنیا میں جتنے بھی کیمرے، دوربینیں، خورد بینیں، طبی آلات اور لیزر کے نظام موجود ہیں، ان سب کی بنیاد اسی اصول پر قائم ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ روشنی کتنی مڑے گی؟
یہی وہ سوال تھا جس کا جواب ابنِ سہل تلاش کر رہے تھے۔
دسویں صدی کے اختتام پر ابنِ سہل جلانے والے (آتشی) آئینوں اور (محدب) عدسوں پر تحقیق کر رہے تھے۔ ان کا مقصد صرف نظری بحث کرنا نہیں تھا۔ وہ ایسے عدسے بنانا چاہتے تھے جو روشنی کو انتہائی درست انداز میں ایک نقطے پر جمع کر سکیں۔ یہ کام صرف تجربے سے ممکن نہیں تھا۔ اس کے لیے ریاضی کی ضرورت تھی۔ بہت غور و فکر اور جیومیٹری کی مدد سے ابنِ سہل ایک ایسے اصول تک پہنچے جس سے یہ معلوم کیا جا سکتا تھا کہ جب روشنی ایک میڈیم سے دوسرے میڈیم میں داخل ہوگی تو وہ کس زاویے پر مڑے گی۔ یہ وہی قانون تھا جسے آج پوری دنیا Snell ’s Law کے نام سے جانتی ہے۔
گویا ابنِ سہل نے نہ صرف مسئلہ حل کیا بلکہ جدید عدسہ سازی (Lens Design) کی ریاضیاتی بنیاد بھی رکھ دی۔
پھر دنیا کو اس کا علم کیوں نہ ہو سکا؟
یہ ایک نہایت دلچسپ تاریخی سوال ہے۔ اگر ابنِ سہل واقعی اس عظیم قانون تک پہنچ گئے تھے تو پھر دنیا نے ان کا نام کیوں بھلا دیا؟
اس کی کئی وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں۔ سب سے اہم وجہ شاید یہ تھی کہ ابنِ سہل نے اس قانون کو الگ سے ایک بنیادی قانون کے طور پر پیش نہیں کیا۔ انہوں نے اسے اپنے عدسوں اور آئینوں کے نظریے کے دوران ایک ریاضیاتی نتیجے کے طور پر استعمال کیا۔ ان کی اصل دلچسپی اس بات میں تھی کہ بہترین عدسے کیسے بنائے جائیں۔ بعد کے سائنسدانوں نے ان کی ریاضی کو تو استعمال کیا، لیکن یہ محسوس نہ کر سکے کہ اس کے اندر بصریات کا ایک بنیادی قانون پوشیدہ ہے۔
چھ سو سال بعد اسنیل نے اسی تعلق کو ایک مستقل قانون کی شکل میں پیش کیا، اور رفتہ رفتہ یہ قانون انہی کے نام سے مشہور ہو گیا۔ تاریخ میں ایسے واقعات کم نہیں۔ کبھی کسی دریافت کا سہرا اس شخص کے سر بندھتا ہے جس نے اسے سب سے پہلے دریافت کیا، اور کبھی اس شخص کے سر جو اسے سب سے پہلے دنیا کے سامنے نمایاں انداز میں پیش کر سکا۔
میرے نزدیک ابنِ سہل کی عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ انہوں نے انعطاف کا قانون دریافت کیا۔ ان کی اصل عظمت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ روشنی کے رویّے کو صرف فلسفے یا قیاس آرائی سے نہیں بلکہ ریاضی کے ذریعے بیان کیا جا سکتا ہے۔ قدرت کے قوانین خوبصورت ضرور ہوتے ہیں، لیکن ان کی اصل زبان ریاضی ہوتی ہے۔
یہی روایت بعد میں کیپلر، ڈیکارٹ، فرما، نیوٹن اور پھر میکسویل تک پہنچی۔ اسی لیے اگر اقلیدس نے بصریات کو جیومیٹری سے متعارف کرایا تھا تو ابنِ سہل نے اسے اعلیٰ درجے کی ریاضیاتی طبیعیات میں داخل کر دیا۔
لیکن اسلامی بصریات کا سب سے بڑا انقلاب ابھی آنا باقی تھا۔
ابنِ سہل نے روشنی کے سفر کو سمجھایا، مگر ایک بنیادی سوال ابھی بھی اپنی جگہ موجود تھا۔ آخر ہم دیکھتے کیسے ہیں؟ کیا واقعی روشنی آنکھ سے نکلتی ہے، جیسا کہ افلاطون، اقلیدس اور بطلیموس سمجھتے تھے؟ یا حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے؟
یہ وہ سوال تھا جس کا جواب ایک ایسے سائنس دان نے دیا جنہیں بجا طور پر ”بابائے جدید بصریات“ کہا جاتا ہے۔ ان کا نام الحسن ابن الہیثم تھا۔ ان کی دریافت نے نہ صرف بصریات بلکہ پورے سائنسی طریقِ تحقیق کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
ابن الہیثم وہ شخص تھے جنہوں نے دو ہزار سال پرانے عقیدے کو چیلنج کر دیا۔ دسویں صدی کے اختتام تک تقریباً پوری علمی دنیا ایک بات پر متفق تھی۔
افلاطون یہی کہتے تھے۔
اقلیدس بھی یہی سمجھتے تھے۔
ہیرو آف اسکندریہ اور بطلیموس بھی اسی نظریے کے حامی تھے۔
یعنی انسان اس لیے دیکھ سکتا ہے کیونکہ روشنی آنکھ سے نکلتی ہے۔
یہ نظریہ تقریباً ایک ہزار سال تک اتنا مقبول رہا کہ شاید ہی کسی نے اس پر سنجیدگی سے شک کیا ہو۔
اب ذرا تصور کیجیے۔ آپ ایک ایسے زمانے میں زندہ ہیں جب دنیا کے تمام بڑے سائنسدان ایک بات پر متفق ہیں۔ ان کی کتابیں صدیوں سے پڑھائی جا رہی ہیں۔ ہر استاد انہی کو درست سمجھتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی نوجوان یہ کہے کہ ”شاید یہ سب غلط ہیں“ تو اس کے لیے غیر معمولی جرات کی ضرورت ہوگی۔ یہ جرات ابو علی حسن ابن الہیثم نے دکھائی۔
لیکن ان کی اصل عظمت صرف یہ نہیں تھی کہ انہوں نے اختلاف کیا۔ اصل عظمت یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ آئیے، اس نظریے کو تجربے سے جانچتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں فلسفہ، جدید سائنس میں تبدیل ہونے لگا۔
قدیم دنیا میں کسی نظریے کو درست ماننے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی تھی کہ اسے کوئی عظیم فلسفی بیان کر چکا ہے۔ اگر افلاطون نے کہا ہے تو یقیناً درست ہو گا۔ اگر ارسطو نے لکھا ہے تو اس پر شک کیوں کیا جائے؟
ابن الہیثم نے اس روایت کو بدل دیا۔
انہوں نے اپنی مشہور کتاب کتاب المناظر میں ایک نہایت اہم بات لکھی، جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے : ”جو شخص سچائی کی تلاش کرتا ہے، اسے صرف قدیم علماء کی باتوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ اسے ہر دعوے کو تجربے اور عقل کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔“
آج یہ بات ہمیں بالکل معمولی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن ایک ہزار سال پہلے یہ ایک انقلابی اعلان تھا۔ گویا ابن الہیثم کہہ رہے تھے کہ سائنس میں آخری اختیار کسی فلسفی یا استاد کو نہیں، بلکہ خود فطرت کو حاصل ہے۔
ابن الہیثم نے سوچا کہ اگر واقعی روشنی آنکھ سے نکلتی ہے تو اس کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک تاریک کمرہ تیار کیا۔ کمرے کی دیوار میں ایک نہایت چھوٹا سا سوراخ بنایا۔ کمرے کے باہر مختلف جگہوں پر روشن چراغ رکھے۔ اب انہوں نے اندر جا کر دیوار پر بننے والی روشنی کو دیکھا۔ اگر ایک چراغ کو ڈھانپ دیا جاتا تو دیوار پر اس سے متعلق روشن دھبہ فوراً غائب ہو جاتا، جبکہ دوسرے چراغ کا دھبہ اپنی جگہ قائم رہتا۔ یہ ایک نہایت سادہ تجربہ تھا۔ لیکن اس کا نتیجہ بہت گہرا تھا۔
اگر روشنی آنکھ سے نکل رہی ہوتی تو باہر چراغ کو ڈھانپنے سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے تھا۔ لیکن فرق پڑ رہا تھا۔ اس کا مطلب صرف ایک ہی ہو سکتا تھا۔ روشنی چراغ سے نکل کر آنکھ تک پہنچ رہی ہے۔ آنکھ روشنی پیدا نہیں کرتی۔ وہ صرف اسے وصول کرتی ہے۔
دو ہزار سالہ نظریہ ایک معمولی سے تجربے کے سامنے ٹک نہ سکا۔
اسی تجربے سے ابن الہیثم نے ایک اور حیرت انگیز چیز دریافت کی۔ انہوں نے دیکھا کہ چھوٹے سوراخ سے گزرنے والی روشنی سامنے والی دیوار پر باہر کے منظر کی ایک مکمل تصویر بنا دیتی ہے۔ لیکن ایک عجیب بات تھی۔ تصویر الٹی ہوتی تھی۔ درخت اوپر کی بجائے نیچے دکھائی دیتا تھا۔ آسمان نیچے اور زمین اوپر نظر آتی تھی۔
یہ کیوں ہوتا ہے؟
ابن الہیثم نے اس کی نہایت خوبصورت وضاحت کی۔
انہوں نے بتایا کہ روشنی ہمیشہ سیدھی لائن میں سفر کرتی ہے۔ درخت کی چوٹی سے آنے والی شعاع سوراخ سے گزر کر دیوار کے نچلے حصے تک پہنچتی ہے، جبکہ درخت کے نچلے حصے سے آنے والی شعاع اوپر پہنچتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پوری تصویر الٹ جاتی ہے۔ یہی آلہ بعد میں پن ہول کیمرہ (Pinhole Camera) کہلایا۔ سترہویں صدی میں کیپلر نے اسے کیمرا اوبسکیورا (Camera Obscura) کا نام دیا، لیکن اس کا بنیادی اصول چھ سو سال پہلے ابن الہیثم بیان کر چکے تھے۔ اگر آج آپ اپنے موبائل فون کے کیمرے سے تصویر کھینچتے ہیں تو اس کے اندر موجود پیچیدہ عدسے، سینسر اور کمپیوٹر الگ بات ہیں، لیکن بنیادی اصول وہی ہے جو ابن الہیثم نے ایک تاریک کمرے میں دریافت کیا تھا۔
شاید ابن الہیثم کی سب سے حیران کن بصیرت یہ تھی کہ انہوں نے بصارت کو صرف آنکھ کا عمل نہیں سمجھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ آنکھ صرف روشنی وصول کرتی ہے۔ اصل ادراک کہیں اور ہوتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ کسی چیز کی شکل، جسامت، فاصلہ اور مقام کو سمجھنے میں ذہن اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آج جدید اعصابی سائنس (Neuroscience) یہی بات بتاتی ہے۔ آنکھ دراصل ایک حیاتیاتی کیمرہ ہے۔ جو تصویر ہم ”دیکھتے“ ہیں وہ دماغ تخلیق کرتا ہے۔
اس اعتبار سے ابن الہیثم اپنے زمانے سے کئی صدیاں آگے تھے۔
ابن الہیثم نے عدسوں اور چشموں کی سائنسی بنیاد فراہم کی۔ انہوں نے عدسوں کے بارے میں بھی ایک بنیادی سوال اٹھایا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ شاید شیشے کے اندر کوئی جادوئی خاصیت موجود ہے جو چیزوں کو بڑا دکھاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ اصل راز شیشے کے اندر نہیں بلکہ اس کی سطح پر ہے۔ جب روشنی ہوا سے شیشے میں داخل ہوتی ہے تو اس کی رفتار بدلتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ مڑتی ہے۔ اگر شیشے کی سطح خمیدہ ہو تو مختلف شعاعیں مختلف مقدار میں مڑتی ہیں اور ایک نئی تصویر بناتی ہیں۔ یہی اصول آج ہر عینک، خوردبین، دوربین، کیمرے اور فلکیاتی ٹیلی سکوپ کی بنیاد ہے۔
آج سوال کیا جائے کہ ابن الہیثم کی سب سے بڑی دریافت کیا تھی تو شاید جواب ہو گا: ”انہوں نے ثابت کیا کہ روشنی آنکھ سے نہیں بلکہ اشیاء سے آتی ہے۔“ کوئی کہے گا: ”انہوں نے پن ہول کیمرہ بنایا۔“ کوئی ان کے عدسوں یا انعطافِ نور کے کام کا ذکر کرے گا۔
یہ تمام باتیں درست ہیں۔
لیکن اگر سائنس کی تاریخِ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ابن الہیثم کا سب سے بڑا کارنامہ ان میں سے کوئی ایک دریافت نہیں تھا۔ ان کی اصل عظمت اس بات میں تھی کہ انہوں نے علم حاصل کرنے کا طریقہ بدل دیا۔ اس سے پہلے فلسفی کسی مسئلے پر غور کرتے، منطقی دلائل دیتے اور پھر ایک نظریہ پیش کر دیتے تھے۔ اگر وہ فلسفی افلاطون یا ارسطو جیسی شخصیت ہوتا تو ان کے نظریات صدیوں تک تقریباً ناقابلِ اختلاف سمجھے جاتے تھے۔
ابن الہیثم نے اس روایت کو بدل دیا۔
انہوں نے کہا کہ صرف منطقی استدلال کافی نہیں۔ قدرت سے سوال پوچھو۔ پھر خود قدرت کو جواب دینے دو۔ اور قدرت صرف ایک زبان سمجھتی ہے، تجربہ۔ یہی جدید سائنس کی بنیاد ہے۔
کتابوں سے زیادہ اہم فطرت ہے۔ ابن الہیثم یونانی علماء کے بے حد معترف تھے۔ انہوں نے اقلیدس، بطلیموس اور دوسرے یونانی مفکرین کی کتابوں کا گہرا مطالعہ کیا۔ لیکن وہ ان کی اندھی تقلید نہیں کرتے تھے۔
انہوں نے ایک جگہ لکھا کہ سچائی کے متلاشی شخص کو چاہیے کہ وہ ہر بات پر شک کرے، خواہ وہ کسی عظیم عالم ہی نے کیوں نہ لکھی ہو۔ یہ الفاظ آج بھی حیران کر دیتے ہیں۔ اس زمانے میں کسی قدیم اتھارٹی سے اختلاف کرنا آسان نہیں تھا۔ لیکن ابن الہیثم کا یقین تھا کہ اگر تجربہ کسی مشہور نظریے کے خلاف ہو تو نظریہ بدلنا چاہیے، تجربہ نہیں۔ یہی رویہ بعد میں گلیلیو، کیپلر، نیوٹن اور جدید سائنس کی پہچان بنا۔
بہت سے مؤرخین نے انہیں ”پہلا سائنس دان“ (First Scientist) قرار دیا۔ لیکن اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان سے پہلے کسی نے تجربات نہیں کیے تھے۔
بطلیموس نے بھی تجربات کیے تھے۔
ارشمیدس بھی تجربات کرتے تھے۔
لیکن ابن الہیثم نے پہلی مرتبہ تجربے، ریاضی، مشاہدے اور تنقیدی فکر کو ایک منظم طریقۂ تحقیق کی صورت دی۔ ان کے نزدیک سائنسی تحقیق کے بنیادی مراحل یہ تھے :
·پہلے مسئلہ واضح کرو۔
·پھر ایک مفروضہ قائم کرو۔
·اس کے بعد تجربہ کرو۔
·نتائج کو بار بار دہراؤ۔
·اگر نتائج مفروضے کے خلاف ہوں تو مفروضہ بدل دو۔
یہی طریقہ آج دنیا کی ہر تجربہ گاہ میں اختیار کیا جاتا ہے۔ چاہے وہ جنیوا میں سرن (CERN) کی تجربہ گاہ ہو، امریکہ کی ناسا (NASA) ہو، یا کسی یونیورسٹی کی لیبارٹری۔
ابن الہیثم کی دریافتوں نے یورپ کی سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ابن الہیثم کی مشہور کتاب کتاب المناظر تقریباً 1027 ء میں مکمل ہوئی۔ بارہویں صدی میں اس کا لاطینی زبان میں ترجمہ ہوا۔ اس کے بعد تقریباً چھ سو برس تک یہ یورپ میں بصریات کی بنیادی کتاب رہی۔ راجر بیکن، وٹیلو، جان پیکھم، کیپلر اور بے شمار یورپی علماء نے اسی کتاب سے استفادہ کیا۔
سترہویں صدی میں جب کیپلر نے آنکھ کی ساخت اور بصارت پر تحقیق کی تو ان کے بہت سے بنیادی تصورات ابن الہیثم کی تحقیقات سے متاثر تھے۔ بعد میں نیوٹن نے روشنی کے بارے میں نئے نظریات پیش کیے، لیکن وہ بھی ایک ایسی بنیاد پر کھڑے تھے جس کی تعمیر میں ابن الہیثم کا نمایاں حصہ تھا۔
یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ اگر یونانی بصریات نے سوالات پیدا کیے تھے تو ابن الہیثم نے ان سوالات کو صحیح سمت میں موڑ دیا، اور یورپی سائنس دانوں نے اسی راستے کو مزید آگے بڑھایا۔
شاید بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ ایک ہزار سال پہلے کی یہ تحقیقات اب صرف تاریخ کا حصہ ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
جب آپ چشمہ پہنتے ہیں،
جب آپ موبائل فون سے تصویر لیتے ہیں،
جب ڈاکٹر آپ کی آنکھ کا معائنہ کرتا ہے،
جب خلائی دوربینیں دور دراز کہکشاؤں کی تصاویر بھیجتی ہیں،
یا جب فائبر آپٹکس کے ذریعے انٹرنیٹ کا ڈیٹا روشنی کی شکل میں دنیا بھر میں سفر کرتا ہے،
تو ان سب کے پس منظر میں وہی اصول کام کر رہے ہوتے ہیں جنہیں سمجھنے میں ابن الہیثم نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ اسی لیے ان کی میراث صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ آج کی ٹیکنالوجی کا زندہ حصہ ہے۔
روشنی کی تاریخ دراصل انسانی فکر کی تاریخ ہے۔ یونانیوں نے پہلی مرتبہ یہ سوال اٹھایا کہ ہم دیکھتے کیسے ہیں۔ انہوں نے فلسفے، منطق اور ریاضی کی مدد سے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ان کے اکثر جوابات درست نہ تھے، لیکن انہوں نے سوال پوچھنے کا حوصلہ پیدا کیا۔
اسلامی سنہری دور میں یہی سوال ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ الکندی نے یونانی علم کو محفوظ رکھا اور اسے آگے بڑھایا۔ ابنِ سہل نے روشنی کے انعطاف کو ریاضی کی زبان میں بیان کیا اور جدید عدسہ سازی کی بنیاد رکھی۔ پھر ابن الہیثم آئے، جنہوں نے دو ہزار سال پرانے تصورات کو تجربات کی کسوٹی پر پرکھا، غلطیوں کی نشاندہی کی، اور بصریات کو فلسفیانہ قیاس آرائی سے نکال کر ایک تجرباتی سائنس میں تبدیل کر دیا۔
لیکن شاید ان کی سب سے بڑی میراث بصریات بھی نہیں تھی۔ ان کی اصل میراث ایک ایسا اصول تھا جو آج بھی ہر سائنس دان کی رہنمائی کرتا ہے کہ قدرت کے راز دلیل سے ضرور سمجھے جا سکتے ہیں، لیکن ان کا فیصلہ صرف تجربہ کرتا ہے۔
یہی اصول جدید سائنس کی روح ہے۔
اور اسی لیے، ایک ہزار برس گزر جانے کے باوجود، ابن الہیثم کا نام نہ صرف بصریات بلکہ پوری انسانی تہذیب کی علمی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔



Thank you Dr Sahib. I wait expectantly and carefully read all your articles and always gain better and more in-depth insight into the topics, matters and subjects you write about; much much appreciated