پروین رحمان: امید کی معمار، کراچی کے فراموش کردہ لوگوں کی آواز

پروین رحمان پاکستان کی انتہائی باہمت اور بصیرت افروز سماجی کارکنوں اور معماروں میں شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے امیر طبقے کے لیے عالی شان یادگاریں تعمیر کرنے کے بجائے کراچی کے غریب ترین شہریوں کو وقار، تحفظ اور معاشی مواقع فراہم کرنے کی راہ چنی۔ اورنگی پائلٹ پروجیکٹ (OPP) کے پلیٹ فارم سے کیے گئے ان کے کام نے غیر رسمی اور کچی بستیوں کا نقشہ بدل دیا۔ انہوں نے مقامی برادریوں کو با اختیار بنایا اور شہر پر قابض لینڈ مافیا اور ان کے سیاسی سہولت کاروں کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا۔ 2013 میں ان کا سفاکانہ قتل پورے ملک کے لیے ایک گہرا صدمہ تھا، لیکن ان کی فکر اور میراث آج بھی پاکستان اور عالمی سطح پر شہری ترقی کی بحث میں اہم مقام رکھتی ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم:
پروین رحمان 22 جنوری 1957 کو ڈھاکہ (سابقہ مشرقی پاکستان) میں پیدا ہوئیں۔ 1971 میں سحر و شام بدلنے اور بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے بعد ان کا بہاری خاندان کراچی منتقل ہو گیا۔ اس ہجرت اور نقل مکانی کے تکلیف دہ تجربے نے ان کے دل میں محروم اور بے گھر طبقوں کے لیے ہمدردی کا گہرا جذبہ پیدا کیا۔
ان کا تعلیمی ریکارڈ نہایت شاندار رہا۔ 1982 میں داؤد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے انہوں نے بیچلرز آف آرکیٹیکچر کی ڈگری میں اپنی پوری کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس کے بعد 1986 میں نیدرلینڈز (روٹرڈیم) کے انسٹیٹیوٹ آف ہاؤسنگ اسٹڈیز سے ہاؤسنگ، بلڈنگ اور اربن پلاننگ میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ مکمل کیا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک نجی آرکیٹیکچر فرم سے کیا، لیکن جلد ہی عوامی خدمت کا جذبہ انہیں 1983 میں معروف سماجی سائنسدان ڈاکٹر اختر حمید خان کے پاس لے آیا، جنہوں نے انہیں اورنگی پائلٹ پروجیکٹ سے منسلک کیا۔
اورنگی پائلٹ پروجیکٹ (OPP) : ترقی کا نیا نمونہ
او پی پی ایک انقلابی اور حقیقت پسندانہ سوچ پر مبنی تھا کہ کم آمدنی والے لوگ خیرات یا صدقے کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ اگر انہیں درست تکنیکی رہنمائی فراہم کی جائے تو وہ اپنے حالات خود بدلنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
1۔ ابتدائی خدمات:
پروین رحمان نے او پی پی میں ہاؤسنگ اور سینیٹیشن (نظامِ نکاسِ آب) کے شعبوں سے کام شروع کیا۔ انہوں نے مقامی لوگوں کو کم لاگت سیوریج لائنیں، پینے کے پانی کا نظام اور مضبوط مکانات کی خود تعمیر اور ڈیزائننگ سکھائی۔ اس ماڈل نے ثابت کیا کہ عوامی شمولیت سے بننے والا سیوریج نظام سرکاری منصوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پائیدار اور کم خرچ ہوتا ہے۔
2۔ OPP۔ RTI کی ڈائریکٹر کے طور پر کردار:
1988 میں او پی پی کی چار الگ اداروں میں تقسیم کے بعد پروین رحمان ’اورنگی پائلٹ پروجیکٹ۔ ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ‘ (OPP۔ RTI) کی ڈائریکٹر بنیں۔ ان کی قیادت میں انسٹیٹیوٹ کے دائرہ کار کو پھیلایا گیا جس میں درجِ ذیل امور شامل تھے :
·تعلیم اور نوجوانوں کے لیے فنی تربیت
·پانی کی فراہمی اور سینیٹیشن پر تحقیق
·غریبوں کے لیے محفوظ رہائش کی ضمانت
·چھوٹے کاروباروں (Micro۔ enterprises) کی معاونت
3۔ کراچی کی کچی بستیوں اور لینڈ مافیا کی نقشہ سازی:
پروین رحمان کا سب سے بڑا اور تاریخی کام کراچی کی پھیلتی سرحدوں کے ساتھ کچی بستیوں کی سائنسی بنیادوں پر دستاویز کاری تھا۔ انہوں نے درج ذیل کا تفصیلی ڈیٹا مرتب کیا:
·شہر کی توسیع میں ضم ہونے والے قدیم گوٹھ (دیہات)
·غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس (پانی کی چوری)
·سرکاری زمینوں پر قبضہ
·لینڈ قبضہ اور بھتہ خوری کے جرائم پیشہ نیٹ ورکس
ان کی اس باریک بین نقشہ سازی نے جرائم پیشہ مافیا اور سیاسی سرپرستوں کے مابین گٹھ جوڑ کا پردہ چاک کر دیا، جس نے قبضہ مافیا کے مفادات پر کاری ضرب لگائی اور یہی معلومات بالآخر ان کی جان کی دشمن بن گئیں۔
شہری غریبوں کا فلسفہ اور قیادت:
پروین رحمان محض ایک تکنیکی آرکیٹیکٹ نہیں تھیں بلکہ انہوں نے کچی بستیوں کی خواتین کے ساتھ ذاتی اور گہرے انسانی تعلقات استوار کیے۔ او پی پی کی بچت سکیموں میں شامل خواتین کے لیے وہ کوئی بیرونی افسر نہیں بلکہ ایک سہیلی اور قابلِ اعتماد حامی تھیں۔
ان کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ غریب لاچار نہیں، بلکہ وہ اپنے مسائل حل کرنے میں برابر کے شراکت دار ہیں۔ انہوں نے محض امداد دینے کے روایتی طریقوں کو مسترد کیا اور پیشہ ورانہ رہنمائی پر زور دیا، جس سے مقامی لوگوں کو اپنا انفراسٹرکچر خود ڈیزائن کرنے اور چلانے کا اعتماد ملا۔
1۔ شہادت:
لینڈ مافیا کے خلاف ڈٹے رہنے پر پروین رحمان کو برسوں قتل کی دھمکیاں ملتی رہیں۔ 13 مارچ 2013 کو اورنگی ٹاؤن میں دفتر سے واپسی کے دوران موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ وہ شدید زخمی حالت میں عباسی شہید ہسپتال لائی گئیں لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئیں۔
2۔ پولیس کی ناکامی اور سپریم کورٹ کا ایکشن:
قتل کے چوبیس گھنٹے کے اندر پولیس نے دعویٰ کیا کہ مبینہ قاتل ’قاری بلال‘ (طالبان کارندہ) پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ لیکن عدالتی تحقیقات نے ثابت کیا کہ یہ پولیس کا بنایا ہوا جھوٹا ڈرامہ اور کیس کی پردہ پوشی تھی۔ 2014 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کی ازسرِنو تحقیقات کا حکم دیا۔ نئی تحقیقات میں رحیم سواتی سمیت قبضہ مافیا کے افراد کے نام سامنے آئے۔ جن کا نام پروین رحمان نے اپنی شہادت سے 15 ماہ قبل ایک ریکارڈ شدہ انٹرویو میں لینڈ قبضے کے حوالے سے لیا تھا۔
3۔ سزائیں اور بریت:
·دسمبر 2021 : آٹھ سال بعد انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (ATC) نے چار ملزمان کو عمر قید اور ایک کو 7 سال قید کی سزا سنائی۔
·نومبر 2022 : سندھ ہائی کورٹ نے اپیل پر تمام ملزمان کو بری کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ پولیس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی، اعترافی بیانات قانونی طور پر نا اہل تھے، اسلحے کا فارنسک ربط موجود نہیں تھا اور کیس دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا تھا۔ یوں، پروین رحمان کے قتل کے جرم میں کسی ایک شخص کو بھی قانون کے مطابق سزا نہ مل سکی۔
میراث۔ پروین رحمان کی تیار کردہ تکنیک اور ماڈل آج بھی زندہ ہیں :
1۔ عملی اثرات: او پی پی کے سینیٹیشن اور ہاؤسنگ ماڈل کو پاکستان بھر کے 562 مقامات (پنجاب، سندھ، کے پی اور بلوچستان) سمیت جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک میں لاگو کیا گیا۔
2۔ ادارتی کام: انہوں نے 1989 میں اربن ریسورس سینٹر (URC) بنایا اور سائبان جیسے اداروں سے جڑی رہیں۔
3۔ عالمگیر نصاب: او پی پی۔ آر ٹی آئی کا طریقہ کار ہارورڈ، ایم آئی ٹی، یو سی برکلے، ایل ایس ای (LSE) اور انسٹیٹیوٹ آف ہاؤسنگ اسٹڈیز جیسے معروف عالمی اداروں کے نصاب کا حصہ ہے۔
4۔ اعزازات:
2013 : ستارہِ شجاعت (شجاعت کا اعزاز) ۔ 23 مارچ کو بعد از مرگ عطا کیا گیا
2008 : اوسلو کی واٹر اکیڈمی کی تاحیات اعزازی رکنیت
2001 : ورلڈ ہیبی ٹیٹ ایوارڈ یافتہ (او پی پی۔ آر ٹی آئی کے ساتھ)
2001 : پیشہ ورانہ خدمات کے لیے روٹری کلب ایوارڈ
1997 : کمیونٹی ریسرچ کے لیے فیض فاؤنڈیشن ایوارڈ
1996 : یو این ہیبی ٹیٹ بیسٹ پریکٹس (او پی پی۔ آر ٹی آئی کے ساتھ)
1994 : نیشنل بلڈنگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ ایوارڈ برائے ہاؤسنگ
1986 : کمیونٹی کام کے لیے جے سیز ایوارڈ
1984 : تعلیمی قابلیت کے لیے مہدی علی مرزا ایوارڈ
پروین رحمان کی زندگی خلوص، علم، اور قربانی کی مثال ہے۔ لیکن ان کا قتل ہمارے سماجی اور قانونی نظام پر ایک دردناک سوالیہ نشان بھی ہے کہ کس طرح ایک عظیم اور بے لوث خاتون کو مافیا نے راستے سے ہٹا دیا اور ہمارا انصاف کا نظام بے بس رہا۔ معاشرے کی الم ناک خاموشی اور ان کی موت کو شہادت کا سہارا دے کر ٹالنے کی عادت کے باوجود، پروین رحمان کی روشن کی ہوئی مشعلِ راہ کبھی نہیں بجھے گی، اور وہ ہمیشہ غریبوں کی حقیقی ہیرو کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔
(یہ مضمون ’تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے‘ کے سلسلے کی سولہویں قسط ہے )

بہت خوب ۔ میں اس عظیم خاتون کے صرف نام سے واقف تھا ۔ ان کے کاموں اجاگر کرنے کا شکریہ ۔ امید ہے اس سلسلے مزید مضامین لکھے جائیں گے ۔ شکریہ