بلاگ

ڈاکٹر مسعود الرؤف ہراج کے نام ایک اخلاقی گواہی

gorish

یہ دنیا اکثر اپنے فیصلے ہنگاموں اور انتشار کی بنیاد پر کرتی ہے مگر کچھ فیصلے ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان کے باطن میں قائم ایک خاموش عدالت میں صادر ہوتے ہیں، ایسی عدالت جہاں نہ ہجوم کا دباؤ ہوتا ہے، نہ وقتی جذبات کا غلبہ، نہ الزام کی گرد اور نہ شہرت کی چکاچوند۔ وہاں صرف یادداشت گواہ بنتی ہے، کردار ثبوت فراہم کرتا ہے اور ضمیر فیصلہ سناتا ہے۔ یہ خط اسی یادداشت کی عدالت میں دی گئی ایک اخلاقی گواہی ہے۔

محترم،

ان دنوں جب سوشل میڈیا کے ہجوم نے آپ کے گرد سوالات، الزامات اور فیصلوں کی ایک فصیل کھڑی کر دی ہے، میں خاموش نہیں رہ سکا۔ شاید اس لیے کہ بعض رشتے محض واقعات سے نہیں بنتے بلکہ انسان کی روح میں اتر جانے والی یادوں سے تشکیل پاتے ہیں۔ میری یادداشت میں آپ کا نام کسی خبر، کسی تنازع یا کسی الزام کے ساتھ نہیں، بلکہ زندگی کے ان لمحوں کے ساتھ محفوظ ہے جہاں امید دم توڑ رہی تھی اور آپ نے اس میں پھر سے جان ڈال دی تھی۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ انسان کی اصل شناخت کیا ہے؟ وہ جو اس کے مخالفین بیان کرتے ہیں؟ وہ جو اس کے حامیوں کی زبان پر ہوتی ہے؟ یا وہ جو اس کے اعمال کی صورت میں دوسروں کی زندگیوں میں محفوظ ہو جاتی ہے؟ میرا ایمان ہے کہ انسان اپنی سب سے سچی تعبیر دوسروں کی یادوں میں پاتا ہے۔ کیا انسان وہ ہے جو ایک لمحے میں نظر آتا ہے یا وہ جو برسوں تک دوسروں کی زندگیوں میں روشنی بن کر موجود رہتا ہے؟ اور میری یادوں میں آپ ایک ایسے شخص کے طور پر زندہ ہیں جس نے پیشے کو محض ذریعۂ معاش نہیں بلکہ خدمت کا وسیلہ بنایا۔

مجھے آج بھی 2012 کے وہ کربناک دن یاد ہیں جب میری بہن زندگی اور موت کے درمیان ایک باریک لکیر پر کھڑی تھی۔ اس وقت آپ صرف ایک معالج نہیں تھے۔ آپ ہمارے خوف میں شریک تھے، ہماری بے بسی کے گواہ تھے اور ہماری امید کے محافظ تھے۔ دن میں کئی کئی بار آنا، مریض سے زیادہ تیمارداروں کی ڈھارس بندھانا اور اس توجہ کے ساتھ خیال رکھنا جو آج کے زمانے میں نایاب ہوتی جا رہی ہے، یہ سب کچھ محض طبابت نہیں تھا بلکہ انسان دوستی کی وہ شکل تھی جسے الفاظ میں قید کرنا ممکن نہیں۔

پھر 2013 آیا۔ میرے والد محترم کو دل کا دورہ پڑا۔ اس وقت بھی آپ نے وہی کردار ادا کیا جو ایک سچے محسن کا ہوتا ہے۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب میں آپ کے گھر پہنچا ہی تھا کہ آپ کی کال آ گئی: ”آپ آرام کریں، میں آتا ہوں۔“ اور پھر آپ آئے۔ آپ نے نہ صرف حوصلہ دیا بلکہ اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کو بھی ایک پریشان حال خاندان کے لیے استعمال کیا۔ اگلے ہی دن علاج کا بندوبست ہو گیا۔ شاید آپ کے لیے یہ ایک معمول کا واقعہ ہو مگر ہمارے لیے یہ زندگی کے دوبارہ لوٹ آنے کی کہانی تھی۔

ڈاکٹر صاحب!

فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان کو کسی ایک لمحے، ایک واقعے یا ایک الزام کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ ایک درخت کی حقیقت جاننے کے لیے اس کے تمام موسم دیکھنے پڑتے ہیں۔ خزاں کی چند سوکھی پتیاں پورے درخت کے سرسبز ہونے کا انکار نہیں کر سکتیں۔ اسی طرح کسی انسان کی مکمل شناخت اس کی پوری زندگی، اس کی خدمات، اس کے رویوں اور اس کے اثرات میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ انسان خطا سے ماورا ہوتا ہے۔ خطا انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ لیکن میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے انسان کی پوری داستان پڑھی جائے۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کا عہد داستان نہیں پڑھتا، سرخیاں پڑھتا ہے، کردار نہیں دیکھتا، رجحانات دیکھتا ہے، حقیقت نہیں ڈھونڈتا، تاثر کو کافی سمجھ لیتا ہے۔

مجھے آپ کے حق میں گواہی دینے کا کوئی قانونی اختیار نہیں مگر ایک اخلاقی ذمہ داری ضرور محسوس ہوتی ہے۔ میں اس شخص کے بارے میں کیسے خاموش رہوں جس کے احسان میری زندگی کے صفحات پر ثبت ہیں؟ میں اس نام کو کیسے فراموش کر دوں جو ہمارے خاندان کے لیے مشکل وقت میں سہارا بنا؟ اگر یادداشت بھی ایک عدالت ہے تو میری یادداشت میں آپ کے حق میں بے شمار شہادتیں موجود ہیں۔

آج جب لوگ آپ کے بارے میں مختلف آرا رکھتے ہیں، میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ میری نظر میں آپ وہی شخص ہیں جس نے بیمار جسموں کے ساتھ ساتھ شکستہ دلوں کا بھی علاج کیا۔ آپ وہی شخص ہیں جس نے ہمارے گھر میں امید کی وہ شمع روشن کی تھی جس کی روشنی آج تک باقی ہے۔

تاریخ کا ایک اصول ہے کہ وقتی شور ہمیشہ سچائی کا پیمانہ نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وقت گزرنے کے بعد گرد بیٹھ جاتی ہے، آوازیں مدھم پڑ جاتی ہیں اور آخر کار صرف کردار باقی رہ جاتے ہیں۔ میں دعا گو ہوں کہ آپ کے بارے میں بھی فیصلہ ہجوم کے شور سے نہیں بلکہ انصاف کی میزان پر ہو، الزام کی گونج سے نہیں بلکہ حقیقت کی روشنی میں ہو اور وقتی جذبات کی رو میں نہیں بلکہ وقت کے ساتھ قائم رہنے والی سچائیوں کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔

آپ کے لیے احترام، دعا اور نیک تمناؤں کے ساتھ۔
گورش
6 جون 2026
میاں چنوں

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW