میرے مطابق

چاغی کی تقسیم ترقی یا شناخت کا خاتمہ؟

farooq rind

ضلع چاغی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ جہاں بھی اس ضلع کا نام آتا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ چاغی سونے کی چڑیا ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں۔ اللہ پاک نے اس ضلع کے پہاڑوں کو قدرتی معدنی وسائل سے نوازا ہے۔ اس سرزمین کی ہزاروں من مٹی کے نیچے اربوں ڈالر مالیت کا سونا دفن ہے۔

اس ضلع کی کل آبادی تقریباً ساڑھے تین لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، جبکہ اس کا رقبہ 44 ہزار اسکوائر کلومیٹر سے زائد ہے۔ ضلع چاغی کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کے پہاڑ، خوبصورت صحرا اور قدرتی مناظر ہیں، جو دبئی کے صحرا کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ امین آباد اور چاغی زرعی حوالے سے بھی مشہور ہیں۔ یہ ضلع پاک ایران اور پاک افغان بارڈر کے ساتھ منسلک ہے۔

28 مئی 1998 کو اسی ضلع کے راسکوہ پہاڑوں میں پاکستان نے ایٹمی تجربات کر کے ملک کو دفاعی لحاظ سے ناقابلِ تسخیر بنایا۔ پاکستان کو بذریعہ سڑک ایران اور دیگر ممالک سے ملانے والی آر سی ڈی شاہراہ، جسے لندن روڈ بھی کہا جاتا ہے، وہ بھی اسی ضلع سے گزرتی ہے۔ ضلع چاغی بے شمار خصوصیات کا حامل ہے، اور یہی تمام خصوصیات اس کی شناخت ہیں۔

مگر گزشتہ روز صوبائی حکومت کی جانب سے ایک فیصلہ سامنے آیا کہ چاغی کو انتظامی لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ واشک ضلع کی تحصیل ماشکیل کو شامل کر کے، تحصیل نوکنڈی اور تفتان کو ملا کر ایک الگ ضلع بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ضلع چاغی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی نوبت کیوں پیش آئی؟ میرے خیال میں اس کی چند وجوہات ہیں۔ چونکہ ریکودک، سیاہ دک، سیندک اور دیگر معدنی علاقے نوکنڈی اور تفتان میں واقع ہیں، اس لیے جب بھی چاغی کے وسائل کی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلی آواز چاغی کے صدر مقام دالبندین سے اٹھتی ہے، کیونکہ یہی ضلع کا ہیڈکوارٹر ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کے ضلعی قائدین بھی یہیں موجود ہوتے ہیں۔

اگر چاغی کو دو الگ اضلاع میں تقسیم کر دیا گیا تو دالبندین، یک مچ، تحصیل چاگئے اور دیگر علاقے، جہاں کوئی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں موجود نہیں، مزید محرومی کا شکار ہوسکتے ہیں۔

بعض سیاسی حلقے اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اس کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ تقسیم صرف انتظامی نہیں بلکہ چاغی کی صدیوں پرانی تاریخ، جغرافیائی اور ثقافتی شناخت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ نوکنڈی اور تفتان نہ صرف تاریخی طور پر چاغی کا حصہ ہیں بلکہ ان کا رشتہ قبائلی، ثقافتی اور جذباتی طور پر بھی چاغی کے ساتھ گہرا ہے۔ ایسے مضبوط رشتے کو صرف کاغذی حد بندیوں سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔

دوسری جانب حامی حلقوں کا موقف ہے کہ ضلع کی تقسیم سے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ نوکنڈی، تفتان اور ماشکیل ایک دوسرے کے قریب ہیں، اس لیے انتظامی لحاظ سے بھی کافی فائدہ ہو گا، اور ان علاقوں کے لوگوں کو ملازمت اور ترقی کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔

لیکن چاغی کی اپنی ایک الگ شناخت ہے۔ اس کاغذی تقسیم سے چاغی کی وہ پہچان متاثر ہو گی جو آج دنیا بھر میں موجود ہے۔ پہلے ہی اکیس سال سے زائد عرصے سے سیندک پروجیکٹ چل رہا ہے، مگر چاغی کو اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ملا۔ اب ریکودک پروجیکٹ بھی شروع ہو چکا ہے، مگر اس کی سرگرمیاں زیادہ تر نوکنڈی تک محدود دکھائی دیتی ہیں۔ دالبندین سمیت ضلع کے دیگر علاقوں میں اس کے نمایاں اثرات نظر نہیں آتے۔

ریکودک کمپنی نے انڈس زیر سرپرستی چلنے والے ایک ہیلتھ کمیونٹی سینٹر، ہنر ٹیکنیکل سینٹر، چند واٹر پلانٹس اور ایک دو دیہی اسکولز کو فعال کرنے جیسے اقدامات تو کیے ہیں، مگر مجموعی طور پر یہ اقدامات ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔ گزشتہ ماہ ایک ورکشاپ میں میں نے ریکودک پروجیکٹ کے کنٹری منیجر سے یہی سوال کیا کہ پریزنٹیشن میں بار بار یہی چند منصوبے دکھائے جاتے ہیں، آخر ریکوڈک چاغی کے دیگر علاقوں میں کب عملی کام شروع کرے گا جو نوجوان زمبیاد چلاتے ہیں کیا ان کے مستقبل کے لیے آپ کے پاس کوئی عملی منصوبہ بندی ہے؟

اب جبکہ بلوچستان کابینہ چاغی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے، تو خدشہ یہ ہے کہ باقی علاقوں میں ترقیاتی کام مزید محدود نہ ہو جائیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چاغی آبادی کے لحاظ سے کم، مگر رقبے کے اعتبار سے بہت بڑا ضلع ہے۔ اس لیے انتظامی تقسیم سے نوکنڈی اور تفتان میں ترقیاتی کاموں اور عوامی مسائل کے حل میں آسانی ہو گی۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اگر نوکنڈی، تفتان اور ماشکیل الگ ضلع بن گئے تو چاغی کے پاس باقی کیا بچے گا؟

سیانے کہتے ہیں کہ یہ بالکل ویسا ہی ہو گا جیسے کوئی شخص سب کچھ بانٹ کر خود خالی ہاتھ رہ جائے۔ آج بھی نہ سیندک پروجیکٹ کا معاہدہ عوام کے سامنے لایا گیا اور نہ ہی ریکودک کا۔ عوام کو یہ تک معلوم نہیں کہ ان منصوبوں میں ضلع چاغی کا حصہ کتنا ہے۔ یہ سوال ہر فورم پر اٹھایا گیا، مگر آج تک اس کا واضح جواب نہیں ملا۔

اگر چاغی کو تقسیم کیا جاتا ہے تو کیا باقی علاقے ان منصوبوں کے فوائد سے محروم ہو جائیں گے؟ اگر نہیں، تو اس کے لیے جامع پالیسی کیا ہو گی اور اس پر کس حد تک عمل درآمد ہو گا؟ کیا آئندہ بھی چاغی کے لوگ یہ کہہ سکیں گے کہ ہم چاغی کے سونا اور تانبا کے مالک ہیں؟

کیونکہ اگر نہ سونا رہا اور نہ تانبا، تو پھر یہ دعویٰ صرف نئے ضلع کے لوگ ہی کرسکیں گے۔ اس لیے چاغی کے باشعور عوام کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW