بلاگ

خالی جھولی۔ جب بچہ واپس گھر نہیں آتا

dr muhammad abdullah avais

کبھی کبھی بازار کی بھیڑ میں، پر ہجوم ریلوے اسٹیشن پرایک لمحہ ایسا آتا ہے جو والدین کی پوری دنیا بدل دیتا ہے۔ ایک پل پہلے بچہ سامنے تھا، اگلے پل نہیں ہے۔ ”میرا بچہ کہاں ہے؟“ یہ صرف ایک سوال نہیں، یہ وہ گونجتی چیخ ہے جو خون کو جمنے نہیں دیتی، نیند کو آنے نہیں دیتی، اور زندگی کو خدانخواستہ دوبارہ زندگی نہیں رہنے دیتی۔ پاکستان میں یہ کہانی صرف اخباری داستانیں نہیں ہیں۔ یہ درد بھری داستان ہمارے ہمسائیوں کی کہانیوں میں ہے، محلے کی گلیوں میں ہے، اور بہت سے گھروں کی خاموشی میں دفن ہے۔

اگر لاپتہ بچوں کے اعداد و شمار دیکھیں تو دل بیٹھ جاتا ہے۔ پاکستان بھر میں گمشدہ اور اغوا شدہ بچوں کے 3808 کیس رپورٹ ہوئے (روشنی ویب سائٹ کے دو ہزار پچیس کے ڈیٹا کے مطابق) ۔ اور یہ صرف وہ نمبر ہیں جو رپورٹ ہوئے۔ کتنے گھر ہیں جہاں بچہ غائب ہوا اور رپورٹ ہی نہیں لکھوائی گئی۔ کیونکہ تھانہ کلچر سے ڈر لگتا ہے، پولیس نے رپورٹ ہی نہیں درج کی، اغوا کنندگان بڑے آدمی تھے (پریا کماری کیس ایک مثال ہے ) ، عزت کا معاملہ ہے، یا بس امید تھی کہ خود آ جائے گا۔

ایک زمانہ تھا جب گمشدگی کا مطلب صرف راستہ بھٹک جانا ہوتا تھا۔ آج یہ ایک منظم جرم ہے، انسانی سمگلنگ ہے، آن لائن جال ہے اور کبھی کبھی اپنوں کی غداری بھی ہے۔

سب سے پہلے والدین کو اپنے بچوں کی تربیت کرنا ہو گی کیونکہ تبدیلی وہیں سے آتی ہے جہاں بچہ سب سے پہلے سیکھتا ہے۔ تمام والدین اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں، اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے۔ مگر اسں دور پر فتن میں محبت کے ساتھ ساتھ اب ہوشیاری بھی چاہیے۔ آج کے دور میں بچے کو صرف کھانا کھلانا اور اسکول بھیجنا کافی نہیں۔ اسے بنیادی باتیں سکھانا بھی ضروری ہے۔ ایک سادہ مگر بہت کام کی چیز ہے، کوڈ ورڈ۔ اپنے بچے کے ساتھ ایک خفیہ لفظ طے کریں۔ اگر کوئی اجنبی کہے ”امی یا ابو نے بھیجا ہے، چلو“ تو بچہ پوچھے ”کوڈ ورڈ کیا ہے؟“ اور اگر وہ نہ بتا سکے تو بچہ جانے کہ یہ جھوٹ ہے، بچے کو پتا ہو کہ اس ہنگامی صورتحال میں اس نے چیخنا ہے اور بھاگنا ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی بات ہے مگر کسی دن یہی چھوٹی بات ہمارے معصوم بچے کی جان بچا سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ہر مہینے بچے کی ایک واضح تصویر اپنے فون میں محفوظ کریں جس میں بچے کا لباس، بالوں اور آنکھوں کا رنگ، بالوں کا انداز، اگر بچہ عینک استعمال کرتا ہو تو وہ بھی واضح ہو۔ گم ہونے کے پہلے گھنٹے میں یہ تصویر سونے سے زیادہ قیمتی ثابت ہو سکتی ہے۔ اور سب سے بڑی بات، گھر میں بچے کو بولنے کا موقع دیں۔ جو بچہ گھر میں بول سکتا ہے، وہ باہر کے خطروں سے زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔ اگر بچہ کچھ کہنا چاہے اور ہمارے پاس سننے کا وقت نہ ہو تو بچہ اگلی بار اپنی باتیں کسی اجنبی کو بتائے گا۔

ہمارے معاشرے میں کبھی کہا جاتا تھا کہ ”بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں“ ، مگر عمل میں ہم نے ”ہمارا کیا کام“ والی سوچ اپنا لی ہے۔ اگر گلی میں کوئی بچہ رو رہا ہے، کوئی اجنبی اسے کھینچ رہا ہے یا بچے کا رویہ ڈرا ہوا لگ رہا ہے، تو رک جائیں۔ آپ کی ایک لمحے کی ہمت کسی خاندان کی پوری زندگی بچا سکتی ہے۔ بغیر سوچے 15 ڈائل کریں۔ اپنے سوشل میڈیا گروپس کو گمشدہ بچوں کی تصاویر وائرل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ پولیس اور والدین کو جوڑنے کا ذریعہ بنائیں۔ غلط یا ادھوری معلومات پھیلانا بچے کو واپس لانے میں مددگار نہیں ہوتا بلکہ رکاوٹ بنتا ہے۔ مسجد کے خطیب، محلے کی کمیٹی، اسکول کے استاد، یہ سب مل کر بچوں کی حفاظت کا ایک مضبوط جال بن سکتے ہیں۔ مگر یہ صرف تب ممکن ہے جب ہم سمجھیں کہ یہ ”کسی اور کا مسئلہ“ نہیں۔ یہ ہم سب کا مسئلہ ہے۔

حکومت نے زینب الرٹ ریسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی یعنی ”زارا“ قائم کی۔ یہ اس چھ سالہ معصوم بچی زینب کے نام پر قائم کی گئی جسے 2018 میں قصور میں اغوا کے بعد درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔ ہیلپ لائن 1099 قائم کی گئی، زارا ایپ آئی اور جہاں جہاں اس ایپ کا شعور زیادہ ہوا، وہاں رپورٹنگ بھی بہتر ہوئی ہے۔ یہ حکومت کا ایک اچھا اقدام ہے۔ مگر قانون بنانا ایک بات ہے، اسے نافذ کرنا دوسری۔ تھانوں کا رویہ، مقدمہ درج کروانے میں تاخیر، اور سزاؤں کی کمی، یہ سب مسائل آج بھی موجود ہیں۔ حکومت کو تمام صوبوں کے تھانوں کو ایک مرکزی ڈیٹا بیس سے جوڑنا ہو گا تاکہ لاہور میں گم ہونے والا بچہ اگر کراچی پہنچے تو سسٹم فوراً الرٹ دے۔

مگر سوچنے کی ضرورت ہے کہ دنیا اس قسم کے مسائل سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہی ہے اور ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ امریکہ میں امبر الرٹ ریڈیو، ٹیلی ویژن، سڑکوں کے سائن بورڈز اور موبائل فونز پر فوری نشر ہوتا ہے۔ پاکستان میں پی ٹی اے اور موبائل کمپنیاں مل کر ایسا سسٹم بنا سکتی ہیں جو بچہ لاپتہ ہوتے ہی پورے ضلع کے فونز پر الرٹ بھیجے۔ یہ ناممکن نہیں، بس ارادہ چاہیے۔ لائسنس پلیٹ کی شناخت کرنے والے کیمرے مشکوک گاڑیوں کو منٹوں میں پکڑ لیتے ہیں۔ پاکستان کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں کیمرے لگے ہیں مگر وہ ایک سسٹم سے جڑے نہیں۔ اگر یہ نادرا اور پولیس کے ڈیٹا سے لنک ہوں تو کیا تصویر بدل سکتی ہے؟

مغربی ممالک میں والدین اور حکومت کے پاس بچوں کا ڈی این اے اور انگلیوں کے نشانوں کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ جب کہ پاکستان میں نادرا کے پاس پہلے سے بائیومیٹرک ڈیٹا موجود ہے۔ کیا اسے بچوں کے تحفظ کے لیے موثر طریقے سے استعمال نہیں کیا جا سکتا؟ دو ہزار چھبیس میں بچوں کے لیے جی پی ایس ٹریکنگ واچز سب سے موثر حفاظتی آلہ ثابت ہو سکتی ہیں جو والدین کو بچے کی پوزیشن کی اطلاع دیتی رہیں گی۔ پاکستان میں یہ تین سے آٹھ ہزار روپے میں دستیاب ہیں۔ حکومت اگر اسکول یونیفارم کے ساتھ سستا ٹریکر لازمی کر دے تو کروڑوں بچے محفوظ ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح ہر اسکول میں ایک ماہ میں صرف دو گھنٹے کا بچوں کی حفاظت کا سیشن لازمی کر دیا جائے۔ جہاں بچوں کو کھیل کھیل میں سکھایا جائے کہ کون سا لمس غلط ہے، کہاں جانا خطرناک ہے، اور چیخنا کمزوری نہیں طاقت ہے۔ یاد رہے کہ ایک بچہ گم جانا کسی خاندان کی نہیں، پورے معاشرے کی ہاری ہوئی لڑائی ہے۔

تکنیک اور سسٹم انسانی جذبات کی جگہ نہیں لے سکتے۔ مگر وہ جذبات کو موثر طریقے سے کام میں لانے میں ضرور مدد کر سکتے ہیں۔

آج ہی اپنے بچے کو ایک خفیہ کوڈ ورڈ سکھائیں۔ اس کی ایک تازہ تصویر فون میں محفوظ کریں۔ اور اگر کبھی گلی میں کوئی بچہ پریشان نظر آئے تو رک جائیں۔ شاید یہی چھوٹا سا عمل کسی کی پوری زندگی روشن کر دے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
عارف احمد
عارف احمد
1 month ago

بہت ہی اچھا اور کارآمد مضمون

Tanvir Ahamd
Tanvir Ahamd
1 month ago

Excellent

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW