بلوچستان: کیا ہم بھی انسان ہیں؟

ایک طرف وفاق میں بجٹ کی تیاریاں عروج پر ہیں، سیاسی لوگوں کا آنا جانا جاری ہے۔ ہر طرف نفسانفسی کا عالم ہے۔ اس سال بھی سب سے زیادہ آئی ایم ایف اور سیکورٹی کے بجٹ کو ترجیحاتی بنیادوں پر رکھا جا رہا ہے۔ اس کی واضح وجہ اس حکومت کے ساتھ ساتھ، ریاست کا وجود ہی اب ان دو اداروں سے منسلک ہو گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے پیسے ہوں گے تو سال گزرے گا ورنہ حکومت کے لیے مشکل ہو جائے گی۔ دوسری اہم چیز سیکورٹی کے پیسے، کیوں کہ اب سیکورٹی ہماری خارجی اور داخلہ کے ساتھ ہر شعبہ زندگی کے لیے ضرورت بن گئی ہے۔ یہاں ایک الگ بحث ہے کہ ان کے نتائج کیا نکل رہے ہیں۔ مگر یہ واضح ہے کہ حکومت کا آگے چلنے کے لیے اب ان دو اداروں کے علاوہ کوئی چارہ کار بھی نہیں۔ اور دوسری جانب گلگت میں الیکشن ہو رہے ہیں اور کشمیر میں کریک ڈاؤن حسب معمول وقفے وقفے سے ان تمام چیزوں کو میڈیا چینلز پر دکھایا جا رہا ہے۔ مگر ایک چیز جو ان سب کے درمیان سے غائب ہے وہ ہے بلوچستان۔ جو کہ اس خطے کے سب سے متاثر ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ جس کا کسی کو کوئی خیال تک نہیں آ رہا ہے کہ وہاں کے انسان اس وقت کن مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔
بلوچستان اس وقت ایک شدید بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹے صوبے کی تاریخ کے تاریک ترین دنوں میں سے ایک رہے، جہاں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر خراب رہی ہے۔
صوبے کے مختلف اضلاع میں انتہا پسند گروہوں کی جانب سے کئی آبادی والے علاقوں میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔ جس کی وجہ سے معمولاتِ زندگی کافی حد تک متاثر ہو کر رہے گئے۔ دکی کے علاقے نرہن میں پولیس تھانے پر 30 سے 40 مسلح افراد کے حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار جان بحق اور تین زخمی ہوئے۔
اسی طرح نوشکی کے قریب 6 آئل باؤزرز کو فائرنگ کے بعد نذرِ آتش کر دیا گیا۔ ضلع پشین اور قلعہ عبداللہ کی سرحد پر بھی تھانوں اور چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں مسلح افراد سرکاری اسلحہ لوٹ کر اور عمارتوں کو آگ لگا کر فرار ہو گئے۔ مزید برآں، سپیرہ راغہ روڈ پر غازی انٹرپرائزز کے کیمپ پر حملے میں مشینری جلائی گئی اور عملے کو اغوا کر لیا گیا۔
امن و امان کے اس بحران کے ساتھ ساتھ بلوچستان بھر میں احتجاج کی لہر بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ آج بلوچستان نیشنل پارٹی نے بلوچستان بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ کئی اضلاع میں معمول زندگی متاثر رہے۔ کاروباری مراکز بند رہے۔ مال بردار گاڑیوں کے جلائے جانے کے خلاف ٹرانسپورٹ یونین نے 11 جون سے صوبہ بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے ’لوڈنگ‘ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے معاشی پہیہ جام ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب، کوئٹہ میں گرینڈ الائنس (ملازمین) نے صوبائی حکومت کی وعدہ خلافیوں اور انتقامی کارروائیوں کے خلاف 11 اور 12 جون کو ’یوم سیاہ‘ منانے اور سرکاری دفاتر میں تالہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پچھلے ایک ہفتے سے سراپا احتجاج ہے۔
صوبے میں جاری بدامنی، سرکاری تنصیبات پر حملوں اور ٹرانسپورٹ و ملازمین کے احتجاج نے بلوچستان کو ایک ایسے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے کہ عام شہری ہجرت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ایرانی پٹرول پر پابندی جس کی وجہ سے پنجگور اور نوکنڈی میں پیٹرول کا بحران پیدا ہو چکا ہے، کئی جگہ 5 سو روپے فی لیٹر پر فروخت اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت نے عام آدمی کی زندگی کو مزید اجیرن کر دیا ہے۔ بلوچستان کے بیس سے زائد اضلاع مناسب مقدار میں پینے کے لیے صاف پانی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ اور ان اضلاع میں ڈیرہ بگٹی، اقر جھل مگسی سب سے زیادہ متاثر ہیں۔
