بلاگ

کوئٹہ سانحہ: اس خاندان کا اصل مجرم کون

abdul ghaffar bugti

مجھے مار دیا جائے گا، وہ بہت طاقتور لوگ ہیں۔ میں اپنے بچوں تک پہنچنے سے پہلے اپنے بچوں کو خود مار دوں گا۔ ان ظالموں کے ہاتھ نہیں لگنے دوں گا۔ آپ تک ویڈیو پہنچنے سے پہلے ہم ہوں گے یا شاید نہیں، ہمیں پلیز انصاف دینا۔ وہ لوگ آپ کے ساتھ میٹنگیں کرتے ہیں۔ وہ حکومت میں کام کرتے ہیں۔ مجھے کہتے ہیں کہ کام کرو، ورنہ گھر خالی کرو۔ مجھے راستہ میں روک کر بچوں کے سامنے تھپڑ مارتے ہیں۔ اور غائب کرنے کی دھمکی بھی دیتے ہیں۔ میں نے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے کیمرے بھی لیے ہیں۔ اب میں بہت مجبور ہوں۔

اپنے خاندان کو خود سمیت قتل کرنے والے شخص آصف کا آخری پیغام۔ آصف ایک سرکاری ملازم تھا اور چار بچوں کا والد تھا۔ جنہوں نے کل کوئٹہ کی وحدت کالونی میں اپنے چار بچوں اور بیوی سمیت خود کو مار دیا۔ اور اس ویڈیو میں نامزد لوگوں کے خلاف اب ایف آئی آر بھی درج ہو گئی ہے۔ مقدمے میں قتل، اقدامِ خودکشی وغیرہ کی دفعات شامل ہیں۔ اور ان ملازمین کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ مگر یہ بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اس وقوعہ نے ہمارے معاشرے میں رہنے والے ہر ذی شعور انسان کے ذہنوں میں بہت سارے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ویڈیو میں جن کے نام لیے گئے تھے، وہ تمام کے تمام سرکاری افسران تھے۔ اور جس شخص نے یہ سب کچھ کیا، وہ بھی سرکاری ملازم تھا۔ اب عوامی حلقے کا ایک حصہ آصف یعنی بچوں کے باپ کو برا بھلا کہہ رہا ہے کہ وہ ظالم تھا، اس نے اپنے ڈھائی سالہ بچے کو بھی قتل کر دیا ہے۔ کچھ دوسری طرف ان سرکاری ملازمین کو، اور کچھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کسی حد تک سب کی بات ٹھیک ہو سکتی ہے کہ جو واقعہ ہوا، اس میں ان تمام کا رول رہا ہے۔ جبل سبب بنا، آصف ذریعہ بنا اور انتظامیہ خاموش تماشائی، اور میڈیا والے رونے سے زیادہ مرنے کی خبر کے انتظار میں رہے ؛ کیونکہ بلوچستان کی بدقسمتی یہی رہی ہے کہ میڈیا صرف ہماری مرنے کی خبر دیتا ہے کہ بلوچستان میں اس نے اس کو مارا، اور کل رات اتنے بندے مارے گئے۔ اس کے علاوہ وہاں آباد ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے مسائل پر کوئی بات نہیں کرتا، کیونکہ آبادی کم ہے، انٹرنیٹ نہ ہونے کے برابر ہے، دیکھنے والوں کی تعداد بھی کم ہے اور اکثر معاملات بھی حساس ہیں، تو بس مرنے کا انتظار کیا جائے۔

مگر خیر، واقعہ ہو گیا اور سب نے دیکھا۔ اب پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ حکومتی دفاتر میں ایسے لوگ کیسے موجود ہیں جن کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہو اور وہ اپنے بچوں تک کو بھی مار سکتے ہوں؟ اور دوسرے وہ لوگ جو بلیک میل کر کے لوگوں کو خودکشیاں کرنے پر مجبور کرتے ہوں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومتی ریکروٹمنٹ کا نظام ہی ختم ہے جو ایسے لوگوں کی بھرتیاں کرتا ہے۔ اور دوسری چیز یہ کہ احتساب کا کوئی نام و نشان نہیں ہے کہ کوئی گریڈ 7 سے اوپر کسی سرکاری ملازم سے کوئی پوچھے کہ وہ دن بھر اپنے دفتر میں کیا کرتا رہا ہے، اور اپنے ساتھ کام کرنے والے شخص کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا/کرتی ہے۔

اس سے بڑھ کر یہ کہ سرکاری دفتر میں کام کرنے کا مطلب عوامی خدمت ہوتا ہے۔ تو ذرا سوچو کہ کوئی ذہنی مریض، کوئی خاموش قاتل، کوئی رشوت خور، کوئی چور ہمارے سرکاری دفاتر میں بیٹھے ہیں، تو وہ ہم عوام کے ساتھ کیسا برتاؤ رکھتے ہوں گے؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ انفرادی عمل ہمیشہ ایک سازگار ماحول میں جنم لیتا ہے۔ اگر دفتر کا ماحول ایسا نہ ہوتا اور بلیک میلنگ نہ ہو رہی ہوتی، تو شاید وہ شخص اس انتہا تک نہ پہنچتا۔ سرکاری دفاتر میں نفسیاتی صحت کی جانچ کا کوئی سنجیدہ معیار موجود نہیں ہے۔ بھرتی کے عمل میں صرف تعلیمی قابلیت اور سیاسی سفارش دیکھی جاتی ہے۔ کسی ملازم کی ذہنی کیفیت، اس کا غصہ اور دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کو پرکھنے کے لیے کوئی ’سائیکو میٹرک ٹیسٹ‘ رائج نہیں ہے، جو کہ ہونا چاہیے ؛ اور دوسری یہ کہ ہر ڈیپارٹمنٹ میں ایک سائیکاٹرسٹ ہو جو ہر ماہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں کی رپورٹ بنا کر آگے جمع کروائے۔ اس میں نشے کا رول بھی ہو سکتا ہے کہ سرکاری دفاتر میں افسر شاہی بڑے نشے اور چھوٹے لوگ اپنی جیب کے مطابق نشے کرتے ہیں ؛ اس کی مکمل تحقیق ہونی چاہیے اور روک تھام کے لیے بھی عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

اس سے بڑھ کر جو چیز ہے وہ ہے ’پاور حرارکی‘ جس کے لیے کوئی احتساب موجود نہیں۔ گریڈ 17 سے اوپر کے افسران کے لیے تو احتساب کا عمل ہوتا ہی نہیں، اگر ہوتا بھی ہے تو ہمارے یہاں کبھی ہوتے دیکھا نہیں گیا۔ لیکن اس سے نیچے کے عملے میں جو ’کلرک شاہی‘ اور ’افسر شاہی‘ کا گٹھ جوڑ ہے، اس نے عام آدمی کی زندگی کو جہنم بنا رکھا ہے۔ ایچ آر ڈیپارٹمنٹ سے لے کر فنانس ڈیپارٹمنٹ تک، ہر جگہ کلریکل سٹاف اپنے سے نیچے والوں سے پیسے لے کر آگے پہنچانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ دفاتر کے اندر ہونے والی بلیک میلنگ، ہراسانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال اصل میں ہمارے یہاں ’ادارتی کلچر‘ کا حصہ بن چکا ہے۔

اس کیس میں ایک سماجی پہلو بھی ہے یعنی معاشرتی دباؤ اور خاندانی عزت کا تصور اور مرد کی بالادستی کا ہونا ہے۔ اکثر اوقات مردوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ تمام مالی یا سماجی بوجھ خود اٹھائیں، اور ناکامی یا بلیک میلنگ کی صورت میں وہ انتہائی اقدام اٹھا لیتے ہیں، کیونکہ خواتین کو کسی بھی فیصلے میں حصہ دار نہیں بنایا جاتا تو مرد صرف اپنی شخصی انا اور معاشرتی رویے کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے، اور اس کا نتیجہ پھر کبھی اپنے اور کبھی دوسروں کے گھر اجاڑنے تک آ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا کا رول بھی ختم ہو گیا ہے۔ اکثر اوقات میڈیا سنسنی خیزی پر توجہ دیتا ہے اور انتظار کرتا ہے کہ کوئی واقعہ ہو جائے جس سے سماجی سطح پر لوگوں کے جذبات جڑے ہوں، تب خبر بنے گی اور اس سے پیسے آئیں گے۔ نہ اس سے پہلے بچوں پر گرنے والی چھت کی فکر ہے اور نہ ہی باپ کے ہاتھوں مر جانے والے بچوں کی۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW