کیا کبھی غیرت کے نام کسی سردار کی بیٹی یا بیوی کا قتل ہوا ہے؟

بلوچستان میں قتل ہونے والے جوڑے کی ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد حکومت نے کارروائی کا حکم جاری کر دیا۔ اگلے روز حکومت نے دعویٰ کیا کہ گیارہ لوگ گرفتار ہو چکے ہیں۔ مزید حکومت کا کہنا ہے کہ اب گرفتاریوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔ مگر مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ صرف دو لوگوں کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ اور ان گرفتار ہونے والے لوگوں میں علاقے کا سردار شیر باز خان ساتکزئی اور بانو کی ماں گل جان بی بی ہیں جن کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ لیکن وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سب سے پہلے یہ بیانیہ دینے کی کوشش کی کہ مقتولین کا ایکسٹرا میرٹیل ریلیشنز (یعنی غیر اخلاقی / تہذیبی /مذہبی تعلقات) تھے اور یہی بیان بانو کی ماں کی طرف سے بھی سامنے آیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کسی طرح مذہبی اور قبائلی بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ عوامی دباؤ میں کمی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اِس سانحے نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوئی پہلا واقعہ ہے؟ یا پھر یہ وہی اجتماعی جرم کا تسلسل جس نے بانو اور احسان کی جان لی ہے۔ کیا اس اجتماعی جرم کی رسم کو قبائلی رسومات اور مذہبی روایات کا سہارا لے کر چلایا جا رہا ہے!
میں پچھلے کئی برسوں سے غیرت کے نام پر قتل ہونے والے واقعات کو رپورٹ کرتا آ رہا ہوں۔ میری نظر میں یہ معاملہ کچھ اور نوعیت کا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں کچھ سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے کی سعی کرنی پڑے گی۔
پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بلوچستان میں آباد بلوچ خواتین کے لیے شادی کے بغیر تعلقات بنانا ممکن ہے یا پھر کیا بلوچ قبائل میں غیر شادی شدہ مرد اور عورت کی محبت ممکن ہے؟ آیا اس کی پہلے سے کوئی روایت موجود ہے؟
بلوچ قبائل میں غیرت کس چیز کو کہتے ہیں؟ کیا کبھی غیرت کے نام پر کسی سردار کی بیٹی یا بیوی کا قتل ہوا ہے؟
ان سوالوں کا جواب جاننے کی کوشش کریں گے۔ پہلے سوال کا جواب ہے کہ نہیں۔ اس کی چند وجوہ یہ ہیں :
خواتین کی جلدی شادی ہو جاتی ہے یعنی کم عمری میں شادی ہو جانا۔ بلوچ قبائل میں شادی کی عمر 14 سے 16 سال ہوتی ہے۔ جب لڑکی ہوش سنبھالنا شروع کرتی ہے تو اس کی شادی کر دی جاتی ہے۔ یہ معاملہ بلوچستان میں عام ہے اور کوئی نئی بات نہیں۔ جس کا اعتراف ہماری حکومتیں بھی کرتی ہیں لیکن مذہبی اور قبائلی روایات کی وجہ سے حکومتیں اس کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ قبائل سردار بالواسطہ یا بلاواسطہ حکومت کا حصہ ہوتے ہیں اس لیے عام لوگوں کے قبائل کے سردار کے ساتھ تعلق کو حکومت نہیں چھیڑتی ہے۔
اگلا سوال بانو کے پانچ بچوں کا ہے۔ بانو کی ماں ویڈیو میں بتا رہی ہے کہ بانو کا بڑا بیٹا بھی ہے۔ جس کی عمر 18 سال ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس خاتون کی شادی کو تقریباً بیس سال ہو گئے تھے۔ حکومت کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا کہ بانو کی عمر 37 سال ہے یعنی بانو کی بھی باقی قبائلی خواتین کی طرح شادی 16 یا 17 سال کی عمر میں ہو گئی تھی۔
دوسرا سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا وہ 18 سال تک کسی غیر مرد کے ساتھ تعلقات میں نہیں رہی؟ اور پھر اچانک چھ ماہ قبل اسے خیال آیا کہ وہ کسی اور کے ساتھ بھاگ جائے؟
اس سوال کا جواب ہے ہاں ممکن ہے۔ بلوچ معاشرے میں شادی شدہ خواتین کے غیر مردوں سے تعلقات بنانے کی روایت بھی موجود ہے۔ بلکہ تعلق بنتا ہی شادی کے بعد ہے۔ حتیٰ کہ بلوچی ادب میں پیار و محبت کی مشہور داستانیں مست تو کلی/مائی سمو (سمی) ، بیورغ رند/ لال سذو، سڑدار گہرام لاشاری / مائی بانڑی، حسن مولانغ / شلی کی محبت کی کہانیاں ہیں اور ان تمام کہانیوں میں تعلقات شادی کے بعد شروع ہوئے تھے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں :
1۔ کم عمری میں شادی: جب لڑکی کی شادی چھوٹی عمر میں ہو جاتی ہے تو اسے محبت کا احساس کافی دیر بعد پنپتا ہے، جو شوہر کی طرف سے نہیں مل پاتا۔ کیونکہ وہ اسے صرف بیوی کے روپ میں دیکھتا ہے۔ اس کی وجہ ان کی شادی میں کسی ایک شخص کی بھی رضامندی شامل نہیں ہوتی۔ وہ شادی خاندان کے درمیان تعلقات کے بناء پر ہو جاتی ہے۔
دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ بلوچ قبائل میں شوہر کی دوسری شادی کا رواج بالکل عام ہے۔ یہ صرف عام لوگ نہیں قبائلی سردار بھی کرتے ہیں۔ شاید کوئی قبائلی سردار ہو جس نے ایک شادی کی ہو۔ اور دوسری شادی تب کرتے ہیں جب پہلے والی خاتون کی عمر بڑھ جائے۔ اس سے پھر سب سے زیادہ نقصان پہلی بیوی کا ہوتا ہے۔ وہ پھر معاشی تنگی کا سامنا کرتی ہے۔ بلوچستان میں فیملی کورٹ کی کمی ہے اور خواتین کم تعلیم یافتہ ہوتی ہیں تو وہ عدالتوں تک بھی نہیں پہنچ پاتیں۔ اِس دوران سب سے زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے اخراجات کم کر دیے جاتے ہیں۔ خواتین مجبوراً دوسرے مردوں کے ساتھ تعلقات بنا کر اپنے بچوں کی زندگی کا پہیہ چلاتی ہیں۔
بلوچستان میں غیرت میں قتل ہونے والے واقعات میں اگر خواتین کی عمریں دیکھی جائیں یا پھر ان کی شادی کے سال تو تقریباً دس سے پندرہ سال گزر چکے ہوتے ہیں۔ پچھلے ایک دو سالوں میں بلوچستان میں بڑی عمر کی خواتین کے قتل کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
بانو کی والدہ کا قرآن پاک ہاتھ میں لے کر دیا گیا بیان سامنے آیا۔ جس کے بعد اس کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جس ویڈیو بیان میں وہ بچوں کا ذکر کر رہی ہیں اور شادی شدہ ہونے کی تصدیق کر رہی ہیں۔ وہ زور دے رہی ہیں کہ یہ تمام چیزیں جائز طریقے سے ہوئی ہیں۔ کوئی بھی بلوچ قبیلے کا فرد یہ بات قبول نہیں کر سکتا۔ وہ یہ بھی کہہ رہی ہیں کہ انہیں چھوڑ دیا جائے اور سردار کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ یہ بھی بتا رہی ہے کہ اس کے شوہر نے اس کو واپس گھر میں رکھا۔ مگر پھر اچانک قبیلے اور خاندان والوں کے پریشر نے بھائی کو مجبور کیا کہ بانو کو قتل کرے اور یہ احسان کی مبنی سوشل میڈیا پر ڈالنے والی دھمکیوں کی ویڈیوز تھیں۔ جس نے خاندان کو مجبور کیا کہ یہ فیصلہ کیا جائے۔
اور یہ بھی ممکن ہے باز اوقات خاندان کو نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کچھ کرنا پڑتا ہے جس کا عام حالات میں تصور بھی ممکن نہیں ہوتا۔ غیرت کے نام پر بیٹے کے ہاتھوں ماں کا قتل کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ اس کیس سے اگلے روز نصیر آباد میں دو بیٹوں نے اپنے والد کے ساتھ مل کر اپنی اماں کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا۔ طلاق کے مطالبہ پر بیٹی کے قتل، باپ کا گلے میں پھندا لگا کر بیٹی کی جان لینے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کارروائی کا اعلان کیا اور کہا کہ پورے واقعہ کی تحقیق کی جائے گی اور مجرموں کو سزا دی جائے گی۔ یعنی عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ درحقیقت یہ ویڈیو مین سٹریم میڈیا تک پہنچ گئی تھی، جس کے بعد صوبائی حکومت کو مجبوراً گرفتاریاں کرنی پڑیں۔ ورنہ بلوچستان میں ایسے واقعات معمول بن چکے ہیں اور صوبائی حکومت قبائلی رٹ کو چیلنج کرنے سے ڈرتی ہے، کیونکہ قبائلی سرداروں کا سیاست میں گہرا اثر ہے۔ قتل کے تقریباً 45 دن بعد ویڈیو سامنے آنے کے بعد کارروائی کا آغاز ہوا۔ ورنہ خاندان تو کیا قبیلے کے کسی فرد کو بھی اتنی جرآت نہیں ہوئی کو اس کو رپورٹ کرے۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو پندرہ روز قبل پولیس تک پہنچ گئی تھی مگر پولیس عوامی پریشر کے بغیر اس پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لے کے آئی تھی۔
پچھلے پانچ سالوں میں کئی ہائی پروفائل کیسسز سامنے آتے رہے ہیں۔ سینیٹر سرفراز بگٹی کا ماریہ اغوا کیس، سردار عبدالرحمان کھیتران کا کنویں والا واقعہ وغیرہ۔ مگر ثبوت کی کمی کی وجہ سے عدالتوں نے بری کر دیے ہیں اور وہ شخصیات اب بھی برسر اقتدار ہیں۔ میں بلوچستان میں غیرت کے نام پر خواتین کے قتل کے واقعات رپورٹ کرتا رہا ہوں۔ پچھلے ایک سال سے ان کی شدت اور تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اب بڑی عمر کی خواتین بھی نشانہ بن رہی ہیں، جبکہ پہلے 20۔ 25 سال کی لڑکیوں کے قتل کی خبریں آتی تھیں۔ زیادہ تر واقعات نصیر آباد، جعفر آباد، ڈیرہ بگٹی اور کوہلو سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جو نیم قبائلی اور نیم جاگیردارانہ نظام کے تحت چلتے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل کا یہ تصور جاگیردارانہ سوچ کی پیداوار ہے۔
عورت فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق، 2019 سے 2024 تک بلوچستان میں غیرت کے نام پر 212 افراد قتل ہوئے۔ بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ یہ اعداد و شمار صوبے میں صنفی تشدد اور انصاف کے نظام کی ناکامی کو واضح کرتے ہیں۔
اور آخری سوال میرا یہ تھا کہ آج تک کسی بلوچ سردار کی بیٹی کے قتل کا واقعہ پیش آیا تو جواب کہ نہیں، ہاں مگر ان کے تعلقات کی وجہ سے کچھ مرد ضرور قتل ہوئے ہیں۔
