ایک سائنسی انقلاب کی داستان :کوانٹم میکانکس کا جنم

یہ جولائی 1925 کی ایک صبح تھی۔ جرمنی کے شمال میں ایک چھوٹے سے جزیرے، ہیلیگولینڈ (Heligoland) ، میں سورج کے نکلنے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ ایک پچیس سالہ نوجوان، و رنر ہائزنبرگ (Werner Heisenberg) ، نے رات بھر کی محنت کے بعد ریسرچ میں نتائج حاصل کیے تھے اور وہ اب سمندر کے کنارے ایک چٹان پر بیٹھے سورج نکلنے کے منتظر تھے۔
ایک انقلاب رونما ہو چکا تھا، ایسا انقلاب جو انسانی تاریخ کا رخ موڑ دے گا۔ یہ لمحہ ایک نئے دور کا آغاز تھا۔
اس بے مثال انقلاب کی بنیاد 10 دسمبر 1900 کو رکھی گئی تھی جب ایک جرمن سائنسدان، میکس پلانک (Max Planck) ، نے ایک ایسے مسئلے کا حل پیش کیا جو پچھلے چالیس سالوں سے حل طلب تھا۔
یہ مضامین کا سلسلہ اس 25 سالہ سفر کی داستان ہے۔
2025 میں کوانٹم میکانکس کی پیدائش کی سوویں سالگرہ تھی۔ اس موقعے پر مجھے دنیا میں کئی جگہ اس موضوع پر لیکچرز دینے کا موقعہ ملا کہ وہ کیا مسائل تھے جن کا حل نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین میں موجود نہیں تھا۔ اور جن کے حل کی تلاش کوانٹم میکانکس کی دریافت کا باعث بنی۔ یہ چار مضامین کی سیریز ان لیکچرز کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔
یہ مضامین محض کوانٹم میکانکس کی پیدائش کی داستان نہیں، بلکہ اس بات کی بھی ایک روشن مثال ہیں کہ سائنس آگے کیسے بڑھتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ سائنسی علم قطعی اور جامد حقائق کا ایک مجموعہ ہے جسے سائنس دان یکے بعد دیگرے دریافت کرتے چلے جاتے ہیں۔ سائنس کی حقیقی تاریخ اس سے بالکل مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ سائنسی ترقی مفروضوں، غلطیوں، ناکامیوں، نامکمل نظریات، نئے تجربات اور مسلسل اصلاح کے ایک طویل عمل سے ہوتی ہے۔ پلانک اور ان کے بعد آئن سٹائن، بوہر اور دوسرے سائنسدانوں میں سے کسی کے پاس ابتدا ہی سے مکمل جواب موجود نہیں تھا۔ ہر نئی کامیابی نے کچھ سوالوں کے جواب دیے، لیکن ساتھ ہی نئے سوال بھی پیدا کیے۔ یہی سائنس کی اصل قوت ہے کہ وہ اپنے نظریات کو آخری سچ قرار نہیں دیتی بلکہ نئے شواہد کی روشنی میں انہیں بدلنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہے۔ دریافت اور اصلاح کا یہ سفر آج بھی جاری ہے اور شاید کبھی ختم نہ ہو، کیونکہ فطرت کے بارے میں ہر نیا جواب ہمارے سامنے کچھ نئے سوال کھڑے کر دیتا ہے۔
انیسویں صدی کے اختتام تک طبیعیات دانوں کو یقین ہونے لگا تھا کہ شاید اب فطرت کے تقریباً تمام بنیادی قوانین دریافت ہو چکے ہیں۔ نیوٹن کی میکانکس سیاروں کی حرکت سے لے کر توپ کے گولے تک ہر چیز کی وضاحت کرتی تھی۔ میکسویل کی مساوات نے روشنی، بجلی اور مقناطیسیت کو ایک ہی نظریے میں سمو دیا تھا۔ حرارت کی تشریح ایٹموں اور مالیکیولز کی حرکت سے کی جا چکی تھی، اور کیمسٹری بھی ایٹم کے نظریے کی بنیاد پر ایک مضبوط علم بن چکی تھی۔
اسی اعتماد کی وجہ سے ایک ممتاز طبیعیات دان، لارڈ کیلون (Lord Kelvin) ، نے یہاں تک کہہ دیا کہ طبیعیات کی عظیم عمارت تقریباً مکمل ہو چکی۔ اب مستقبل کے سائنس دانوں کا کام صرف پہلے سے معلوم قوانین کو زیادہ درست پیمانوں سے جانچنا رہ گیا ہے۔
لیکن سائنس کی تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ جب انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب سب کچھ معلوم ہو چکا ہے، تب ہی فطرت اپنا کوئی نیا راز آشکار کر دیتی ہے۔ انیسویں صدی کے اختتام پر بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
ایک بظاہر معمولی سا سوال طبیعیات دانوں کو پریشان کر رہا تھا۔ اگر کسی دھات کے ٹکڑے کو گرم کیا جائے تو وہ مختلف رنگوں کی روشنی کیوں خارج کرتا ہے؟ شروع میں وہ سرخ دکھائی دیتا ہے، پھر نارنجی، اس کے بعد زرد اور آخرکار تقریباً سفید۔ یہ تو ہر شخص دیکھ سکتا تھا، لیکن اصل سوال یہ تھا کہ ہر رنگ کی روشنی کتنی مقدار میں خارج ہوتی ہے، اور اس کی صحیح تقسیم کیا ہے؟
یہ مسئلہ پہلی نظر میں بہت معمولی معلوم ہوتا تھا۔ آخر ایک گرم جسم کی روشنی میں ایسی کیا خاص بات ہو سکتی تھی؟ لیکن یہی سوال آنے والے پچیس برسوں میں پوری طبیعیات کو بدل دینے والا تھا۔
کئی برسوں تک یورپ کے بہترین طبیعیات دان اس مسئلے پر کام کرتے رہے، مگر کامیابی نہ ملی۔ کلاسیکی طبیعیات کے تمام معروف قوانین استعمال کیے گئے، لیکن ہر کوشش کسی نہ کسی مقام پر ناکام ہو جاتی۔ حساب یہ پیش گوئی کرتا تھا کہ چھوٹی طولِ موجوں (wavelengths) پر خارج ہونے والی توانائی لامحدود ہونی چاہیے، جبکہ تجربات اس کے بالکل برعکس تھے۔ فطرت ایک بات کہہ رہی تھی اور ریاضی دوسری۔
یہ اختلاف اتنا بنیادی تھا کہ اگر تجربات درست تھے تو کلاسیکی طبیعیات میں کہیں نہ کہیں ایک گہری خامی موجود تھی۔
یہی وہ مسئلہ تھا جس نے برلن یونیورسٹی کے ایک خاموش طبع جرمن طبیعیات دان، میکس پلانک، کو اپنی پوری توجہ اس طرف مبذول کرنے پر مجبور کر دیا۔
پلانک خود کسی انقلاب کے خواہش مند نہیں تھے۔ اس کے برعکس، وہ کلاسیکی طبیعیات کے مضبوط حامی تھے اور ان کی دلی خواہش تھی کہ موجودہ نظریات ہی اس مسئلے کو حل کر دیں۔ لیکن بعض اوقات سائنس دان وہ دریافت کر بیٹھتے ہیں جس کی انہیں خود بھی توقع نہیں ہوتی۔
10 دسمبر 1900 کو پلانک نے ایک ایسا مفروضہ پیش کیا جو بظاہر محض ایک ریاضیاتی ترکیب معلوم ہوتا تھا۔ انہوں نے فرض کیا کہ مادہ توانائی کو مسلسل مقدار میں جذب یا خارج نہیں کرتا بلکہ نہایت چھوٹے چھوٹے ”پیکٹوں“ کی صورت میں ایسا کرتا ہے۔
یہ خیال اتنا غیر معمولی تھا کہ خود پلانک بھی اسے فطرت کا بنیادی قانون ماننے پر آمادہ نہیں تھے۔ ان کے نزدیک شاید یہ صرف ایک عارضی مفروضہ تھا جو حساب کو درست بنا دیتا تھا۔ پلانک کو اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے صرف ایک مسئلہ حل نہیں کیا بلکہ طبیعیات کے ایک نئے عہد کا دروازہ کھول دیا ہے۔
پلانک کا نظریہ فوری طور پر قبول نہیں کیا گیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ خود پلانک بھی اسے فطرت کا بنیادی قانون سمجھنے پر تیار نہیں تھے۔ ان کے نزدیک توانائی کے چھوٹے چھوٹے پیکٹ صرف ایک ریاضیاتی ترکیب تھے، جن کی مدد سے گرم اجسام سے خارج ہونے والی روشنی کی صحیح تقسیم معلوم کی جا سکتی تھی۔ کسی نے یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہ مفروضہ حقیقت میں فطرت کے بارے میں ایک نئی زبان کی ابتدا ہے۔
لیکن صرف پانچ برس بعد ایک نوجوان طبیعیات دان نے پلانک کے اس محتاط مفروضے کو ایک حیرت انگیز حقیقت میں بدل دیا۔
1905 سائنس کی تاریخ کا ایک غیر معمولی سال تھا۔ اسی سال البرٹ آئن سٹائن نے چار ایسے تحقیقی مقالات شائع کیے جنہوں نے طبیعیات کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہی میں سے ایک مقالہ روشنی کی ماہیت سے متعلق تھا۔
اس زمانے تک تقریباً تمام طبیعیات دان اس بات پر متفق تھے کہ روشنی ایک موج ہے۔ تھامس ینگ کے دو شگافوں والے تجربے اور میکسویل کے نظریۂ برقی مقناطیسی امواج نے اس تصور کو بے حد مضبوط بنا دیا تھا۔ موجی نظریہ روشنی کے انعکاس، انعطاف interference) ، (diffraction جیسے بے شمار مظاہر کی کامیاب تشریح کر چکا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس معاملے میں اب کسی بنیادی تبدیلی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
لیکن فطرت ایک مرتبہ پھر سائنس دانوں کو حیران کرنے والی تھی۔
جب بعض دھاتوں پر مخصوص تعدد (frequency) کی روشنی ڈالی جاتی تھی تو ان کی سطح سے الیکٹرون خارج ہونے لگتے تھے۔ اس مظہر کو آج ہم ضیائی برقی اثر (photoelectric effect) کے نام سے جانتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سادہ تجربہ تھا، لیکن اس کے نتائج کلاسیکی طبیعیات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔
اگر روشنی واقعی ایک مسلسل موج ہوتی تو زیادہ تیز روشنی، خواہ اس کا رنگ کچھ بھی ہو، آخرکار الیکٹرونوں کو ضرور باہر نکال دیتی۔ لیکن تجربات کچھ اور کہہ رہے تھے۔ اگر روشنی کی تعدد ایک خاص حد سے کم ہو تو چاہے اس کی شدت کتنی ہی بڑھا دی جائے، کوئی الیکٹرون خارج نہیں ہوتا تھا۔ دوسری طرف اگر تعدد اس حد سے زیادہ ہوتی تو نسبتاً کمزور روشنی بھی فوراً الیکٹرون خارج کر دیتی۔
یہ نتیجہ کلاسیکی نظریے کے لیے ایک معمہ بن گیا۔
آئن سٹائن نے اس معمہ کو بالکل مختلف زاویے سے دیکھا۔ انہوں نے ایک جرات مندانہ تجویز پیش کی۔ اگر پلانک کا مفروضہ صرف مادے پر لاگو ہونے کے بجائے خود روشنی پر بھی لاگو ہو تو کیا ہو گا؟ اگر روشنی مسلسل موج نہ ہو بلکہ توانائی کے الگ الگ پیکٹوں پر مشتمل ہو تو شاید اس تجربے کی وضاحت ممکن ہو جائے۔
اس تصور کے مطابق روشنی کا ہر پیکٹ ایک مخصوص مقدار میں توانائی رکھتا ہے اور یہ توانائی روشنی کے تعدد کے برابر ہوتی ہے۔ اس طور نیلے رنگ کے پیکٹ کی توانائی سرخ رنگ کے پیکٹ کی توانائی سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر یہ توانائی دھات کے الیکٹرون کو آزاد کرنے کے لیے کافی ہو تو الیکٹرون فوراً خارج ہو جائے گا، اور اگر ناکافی ہو تو چاہے روشنی کتنی ہی دیر تک ڈالی جائے، کچھ نہیں ہو گا۔ یوں روشنی کی شدت سے زیادہ اس کے ہر پیکٹ کی توانائی اہم بن جاتی ہے۔
یہ ایک نہایت انقلابی خیال تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ روشنی، جو برسوں سے موج سمجھی جا رہی تھی، بعض حالات میں ذرے کی طرح بھی برتاؤ کرتی ہے۔
ابتدا میں اس خیال کو بہت کم پذیرائی ملی۔ حتیٰ کہ میکس پلانک بھی اسے مکمل طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ انہیں محسوس ہوتا تھا کہ آئن سٹائن نے ایک کامیاب موجی نظریے کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا دیا ہے۔
لیکن تجربات آہستہ آہستہ آئن سٹائن کے حق میں گواہی دینے لگے۔
روشنی اب صرف موج نہیں رہی تھی۔
اس میں ذرّاتی خصوصیات بھی نمایاں ہونے لگی تھیں۔
قدرت گویا ایک ایسی زبان بول رہی تھی جسے کلاسیکی طبیعیات سمجھنے سے قاصر تھی۔
لیکن اس سے پہلے کہ روشنی کا معمہ مکمل طور پر حل ہوتا، طبیعیات دان ایک اور بنیادی مسئلے سے دوچار تھے۔ یہ مسئلہ خود ایٹم کی ساخت کا تھا۔
اگر روشنی کبھی موج اور کبھی ذرہ بن سکتی ہے تو پھر ایٹم کے اندر گردش کرنے والے الیکٹرونوں کی اصل حقیقت کیا ہے؟ یہی وہ سوال تھا جس نے ڈنمارک کے ایک نوجوان طبیعیات دان، نیلز بوہر، کو طبیعیات کے اگلے بڑے انقلاب کی طرف رہنمائی کی۔
1897 ء میں جے جے تھامسن (J۔ J۔ Thomson) نے الیکٹرون دریافت کر لیا تھا اور یہ واضح ہو گیا تھا کہ ایٹم ناقابلِ تقسیم ذرہ نہیں بلکہ اس کے اندر مزید ساخت موجود ہے۔ چند برس بعد ارنسٹ ردرفورڈ (Ernest Rutherford) نے اپنے مشہور سنہری ورق (gold foil) کے تجربے سے ایک اور حیران کن حقیقت آشکار کی۔ ایٹم کی تقریباً تمام کمیت ایک نہایت چھوٹے مگر بھاری مرکزے میں مرتکز ہے، جبکہ الیکٹرون اس کے گرد موجود ہیں۔
یہ دریافت اپنی جگہ ایک انقلاب تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی ایک نیا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا۔
اگر الیکٹرون واقعی مرکزے کے گرد گردش کرتے ہیں تو کلاسیکی طبیعیات کے مطابق انہیں مسلسل برقی مقناطیسی شعاعیں خارج کرنی چاہئیں۔ توانائی خارج کرنے کا مطلب یہ تھا کہ ان کی رفتار آہستہ آہستہ کم ہوتی جائے گی، مدار سکڑتا جائے گا اور آخرکار الیکٹرون مرکزے میں گر جائے گا۔ حساب سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ عمل ایک سیکنڈ کے انتہائی معمولی حصے میں مکمل ہو جانا چاہیے۔
لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔
ایٹم نہ صرف مستحکم تھے بلکہ پوری کائنات انہی کی بنیاد پر قائم تھی۔
یہ شاید اس زمانے کی طبیعیات کا سب سے بڑا تضاد تھا۔
1913 ء میں ڈنمارک کے نوجوان طبیعیات دان نیلز بوہر نے اس مسئلے کا ایک ایسا حل پیش کیا جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔
بوہر نے ایک نہایت جرات مندانہ مفروضہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کلاسیکی طبیعیات ایٹم کے اندر پوری طرح لاگو ہی نہیں ہوتی۔ الیکٹرون ہر ممکن مدار میں گردش نہیں کر سکتے بلکہ صرف چند مخصوص مداروں میں رہ سکتے ہیں۔ جب تک وہ ان مداروں میں موجود رہیں، وہ کوئی توانائی خارج نہیں کرتے۔ توانائی صرف اس وقت خارج یا جذب ہوتی ہے جب الیکٹرون ایک مدار سے دوسرے مدار میں منتقل ہوتا ہے۔
یہ خیال اس قدر غیر معمولی تھا کہ اس کی کوئی کلاسیکی توجیہ موجود نہیں تھی۔ بوہر خود بھی جانتے تھے کہ وہ روایتی طبیعیات سے ہٹ کر ایک نئی راہ اختیار کر رہے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان کے اس مفروضے نے ہائیڈروجن کے طیف (spectrum) کی ایسی درست وضاحت کر دی جسے برسوں سے کوئی نظریہ سمجھا نہیں سکا تھا۔
اب پہلی مرتبہ یہ واضح ہوا کہ ہر کیمیائی عنصر روشنی کی مخصوص لکیریں کیوں خارج کرتا ہے۔ ہر الیکٹرون صرف مخصوص توانائیوں پر موجود ہو سکتا تھا، اس لیے وہ صرف مخصوص رنگوں کی روشنی ہی خارج یا جذب کرتا تھا۔ طیف کی یہ باریک لکیریں دراصل ایٹم کے اندر موجود توانائی کے انہی مخصوص مدارج کا اظہار تھیں۔
یہ کامیابی غیر معمولی تھی۔
چند ہی برسوں میں بوہر کا نظریہ جدید طبیعیات کی سب سے بڑی کامیابیوں میں شمار ہونے لگا۔ نوجوان سائنس دانوں کو محسوس ہونے لگا کہ شاید ایٹم کا بنیادی راز آخرکار سمجھ لیا گیا ہے۔ پلانک نے توانائی کے کوانٹم دریافت کیے تھے، آئن سٹائن نے روشنی کے ذرات کی نشاندہی کی تھی، اور اب بوہر نے ایٹم کو استحکام بخشنے کا طریقہ بھی بتا دیا تھا۔ پلانک کو 1918 کا ، آئن سٹائن کو 1921 کا اور بوہر کو 1922 کا نوبل انعام دیا گیا۔
بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ کوانٹم نظریہ اپنی منزل تک پہنچ رہا ہے۔
لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔
بوہر کا نظریہ صرف ہائیڈروجن جیسے سادہ ایٹم پر پوری طرح کامیاب تھا۔ جیسے ہی طبیعیات دانوں نے زیادہ پیچیدہ ایٹموں، باریک طیفی ساخت، مقناطیسی فیلڈ اور دوسرے تجربات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی، نئے مسائل سامنے آنے لگے۔ ہر نئی کامیابی کے ساتھ ایک نیا سوال جنم لیتا تھا۔
یہ سوال اتنے بنیادی تھے کہ چند ہی برسوں میں خود بوہر کو محسوس ہونے لگا کہ ان کا نظریہ آخری جواب نہیں بلکہ ایک عبوری مرحلہ ہے۔
کلاسیکی طبیعیات کی عمارت میں دراڑیں اب واضح دکھائی دینے لگی تھیں، لیکن نئی عمارت ابھی تعمیر نہیں ہوئی تھی۔
1913 سے 1925 تک کے بارہ برس طبیعیات کی تاریخ کے شاید سب سے بڑے بحران کے سال تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب سائنس دانوں کو پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ مسئلہ صرف ایٹم کا نہیں بلکہ خود فطرت کی زبان کو سمجھنے کا ہے۔
اسی داستان کا اگلا مرحلہ، میں اس سیریز کے دوسرے مضمون میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔

بہت بہت شکریہ سر ۔ اتنا مشکل ٹاپک جناب نے کس سادہ انداز میں سمجھا دیا ہے ۔ بھلا ہو نیٹ والوں کا کہ ہم اتنے عظیم۔سائنسدان کو براہ راست سن سکتے ہیں ۔پڑھ سکتے ہیں ۔ سر جی انتہائی عقیدت سے بھر پور میرا سلام قبول فرمائیں ۔
بہت خوب سر ۔ آپ کا انداز بیان اتنا خوبصورت اور سادہ ہے کہ مشکل سے مشکل مسئلہ بھی بہت آسانی سے بیان فرما دیتے ہیں۔ دلچسپ اتنا کے پڑھنے والے فو رن ہی پڑھتے اور انھیں اگلی قسط کا شدت سے انتظار رہتا۔
زبردست تحریر ۔ شکریہ ! فزکس کے علم کی تازگی ہو گئی۔ بلا شبہ علم کی کوئی حد نہیں ۔ سوچ ایک منزل پر پہنچتی تو آگے ایک وسیع کائنات ” تفکر ” کو مزید دعوت فکر و عمل دیتی ہے اور انسان بے اختیار پکار اٹھتا ہے ” ربنا ما خلقت ھذا باطلا” اے اللہ تیری صنعائی بےہنگم نہیں بلکہ نہایت مربوط ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قوانین فطرت آشکار و دریافت کرنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے آمین
.I believe you spent a lot of time to explain all these mysteries of . Thanks for this wonderful article.
کوئی دھات گرم کرنے پر لال نیلی پیلی کیوں ہو جاتی ہے؟
ایسی باتیں یہاں نہیں سوچی جاتیں۔۔۔