بلاگ

نئے صوبوں کا شوشہ وفاق کو ہلا کے رکھ دے گا

ibrahim kumbhar

پاکستان کو 12 صوبوں میں تقسیم کرنے کے حوالے سے بحث ایک بار پھر جاری ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ بحث کسی سیاسی پلیٹ فارم سے نہیں بلکہ تاجروں اور سرمایہ داروں کے حلقے سے اُٹھی ہے۔ گویا اب یہ فیصلہ بھی بڑے بڑے سیٹھ کریں گے کہ ملک میں کتنے صوبے ہونے چاہئیں۔ ان صوبوں کو کیسے چلنا چاہیے، اس کا انتظام کس طرح کا ہونا چاہیے، یعنی پرانی عادت ہے اپنا کام نہیں کرنا دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑانا اولین ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔

کبھی میاں عامر، کبھی علیم خان، کبھی شاہد خاقان عباسی اور کبھی مفتاح اسماعیل اس بحث کو آگے بڑھاتے نظر آتے ہیں۔ یہ حضرات بنیادی طور پر کاروباری سیٹھ ہیں، میری رائے میں ان کا وطن اور مفاد پیسہ ہے ”مینو نوٹ وکھا تے میرا موڈ بنے ”، سیاست ان کے لیے محض ایک جز وقتی مشغلہ ہے۔ نئے صوبوں کا یہ شوشہ سب سے پہلے کراچی میں اُس وقت اُٹھایا گیا جب کوئی ایک برس پہلے آرمی چیف نے تاجروں سے ملاقات اور بعد میں ان سے خطاب کیا۔ چند دن بعد ہی ایک تاجر نے آرمی چیف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ سمیت دیگر صوبوں کو توڑ کر نئے صوبے بنائے جائیں اور بیان فرمایا کہ یہ آرمی چیف صاحب نے کہا ہے۔

اس بیان کو ایک سال گزر گیا مگر نہ آئی ایس پی آر نے اس کی تردید کی اور نہ ہی آرمی چیف نے اپنی پوزیشن واضح کی۔ ورنہ سہیل وڑائچ کے کالم کی تردید اڑتالیس گھنٹوں میں ہو گئی تھی گویا سندھ کی تقسیم کا معاملہ معافی کے معاملے یا بیان سے بالکل چھوٹا ہے۔ یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگر کسی کالم نگار کے مضمون پر فوجی ترجمان 48 گھنٹوں میں وضاحت جاری کر سکتا ہے تو پھر صوبوں کی تقسیم جیسے بڑے معاملے پر خاموشی کیوں؟

اس خاموشی کا مطلب سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ جنرل ضیاء الحق کی سندھ دشمن پالیسی آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ ضیاء نے ایم آر ڈی کی تحریک کو دبانے کے لیے سندھ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی، ایم کیو ایم بنائی اور خود کو ”شریف النفس“ کہلوانے کے لیے بڑے بڑے جتن کیے۔ اگر آج بھی سندھ کی تقسیم جیسے فیصلے کسی عقیل کریم ڈھیڈی سیٹھ کے ہاتھ میں ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ الطاف حسین اور اس کے نظریات کو بالواسطہ طور پر اب بھی تقویت مل رہی ہے۔

اس کے نتائج کس قدر خطرناک ہو سکتے ہیں، اس کا اندازہ کرنے کی صلاحیت شاید موجودہ حکمران طبقات میں نہیں۔ نئے صوبوں کے علاوہ آج اٹھارہویں ترمیم کو رول بیک کرنے، اور مالیاتی ایوارڈ کی تقسیم کے موجودہ فارمولہ کو تبدیل کرنے پر بھی بحث جاری ہے، جس کا مدار 27 ویں آئینی ترمیم پر ہے، بعض حلقے سمجھتے ہیں کہ نئے صوبوں کی بحث دراصل دباؤ ڈالنے کا ہتھکنڈا ہے تاکہ پیپلز پارٹی کو مجبور کیا جائے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو ملنے والے اضافی وسائل کاٹ کر مرکز کے حوالے کیے جائیں۔

اگر مالیاتی ایوارڈ میں ترمیم کر دی گئی تو یہ عملاً اٹھارہویں ترمیم کو رول بیک کرنے کے مترادف ہو گا۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ اٹھارہویں ترمیم صرف پیپلز پارٹی کا کارنامہ نہیں تھا بلکہ نون لیگ نے بھی اس کی حمایت کی تھی، لیکن سب سے پہلے مخالفت بھی ن لیگ ہی نے کی۔ مثال کے طور پر جب شاہد خاقان عباسی پیٹرولیم کے وزیر بنے تو انھوں نے آئین کے آرٹیکل 172 ( 3 ) یعنی قدرتی وسائل پر صوبوں کے حق کو تسلیم کرنے کی شق کو بدلنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایسا بیان قومی اسمبلی میں دیا گیا۔

اسی طرح آرٹیکل 158 جو گیس کی تقسیم کے اصول وضع کرتا ہے، اور مقامی لوگوں کو گیس پر پہلا حق دیتا ہے، وہ آئینی شق بھی شاہد خاقان عباسی کو کبھی اچھی نہیں لگی، پنجاب نواز حلقے انہیں بڑا ایماندار اور حق گو لیڈر قرار دیتے ہیں، لیکن صوبائی حقوق کے حوالے سے ان کی سوچ و دماغ نہایت تنگ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ نئے صوبوں کی بحث کیوں چھیڑی جا رہی ہے؟ کیا یہ سیاسی جماعتوں کو آزمانے کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے یا پھر ضیاء الحق کے دور سے جاری سندھ دشمن سوچ کا تسلسل؟

اس بحث کو غیر سیاسی اور انتظامی ضرورت کے پردے میں پیش کیا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نئے صوبے وقت کی ضرورت ہیں۔ مگر یہ دلیل دینے والے بھول جاتے ہیں کہ صوبے صرف انتظامی یونٹ نہیں بلکہ عوام کی قومی نفسیات اور احساسات کے بھی نمائندہ ہوتے ہیں۔ بغیر عوام کی امنگوں کو سمجھے محض انتظامی نعرے کے تحت نئے صوبوں کی بات دراصل مزید بحران پیدا کرے گی۔ ریاست نے کبھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ صوبے اس ملک کے خالق ہیں، بالخصوص سندھ۔

یہاں ہر بار بھارت، بیلجیم، ترکی، امریکہ یا برطانیہ کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ وہاں صوبوں یا ریاستوں کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھی ہے۔ لیکن اصل نکتہ یہ ہے کہ ان ممالک نے پہلے جمہوریت، عوامی حقوق اور فلاحی ریاست کا نظام مضبوط کیا۔ اگر آپ بھی برطانیہ جیسا معاشرہ قائم کر لیں، امریکہ جیسی جمہوریت لے آئیں، ترکی یا بیلجیم کی طرح عوام کو حقوق دیں تو پھر صوبوں پر بحث کیجیے۔ مگر یہاں تو نہ جمہوریت کو آزادی ملتی ہے، نہ پارلیمان کو۔ ریاست اپنی شناخت ”سیکیورٹی اسٹیٹ“ کے طور پر برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

ایسی صورت میں نئے صوبوں کا قیام کسی مثبت نتیجے کے بجائے صرف ایک اور ”ون یونٹ“ مسلط کرنے کے مترادف ہو گا۔ آئین کا آرٹیکل 239 واضح طور پر کہتا ہے کہ صوبوں کی سرحدوں یا نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ متعلقہ صوبائی اسمبلی ہی کرے گی۔ ماضی میں ایم کیو ایم نے اس شق میں ترمیم کے لیے کئی بل قومی اسمبلی میں پیش کیے لیکن سب ردی کی ٹوکری میں ڈال دیے گئے۔

آج بھی کوئی صوبائی اسمبلی اپنے اختیارات سے دستبردار ہونے پر تیار نہیں۔ سندھ کے عوام میں فکری یا سیاسی اختلافات چاہے جتنے ہوں، لیکن سندھ کی وحدت اور اس کے پانی پر سودے بازی کبھی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سندھ کی قوم سمجھتی ہے کہ پیپلز پارٹی اس موقف پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس لیے نئے صوبوں کی بحث نہ تو عوامی امنگوں کی ترجمان ہے اور نہ ہی انتظامی ضرورت۔ یہ دراصل ایک خطرناک سازش ہے جو وفاق اور صوبوں کے درمیان خلیج کو مزید بڑھا دے گی۔ اس کے نتائج کسی کے لیے بھی خوش کن نہیں ہوں گے۔

Facebook Comments Box

ابراہیم کنبھر

ابراھیم کنبھرموئن جو دڑو کی وارث سندھ دھرتی کے مٹی جیسے مانھو ہیں۔ کل وقتی صحافی ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے ضمن میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے لئے کام کرتے ہیں اور سندھی روزنامے کاوش میں کالم لکھتے ہیں۔
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW