سائنس و ٹیکنالوجیکالم۔

روح کیا ہے؟ سائنس، دماغ اور شعور کا معمہ

dr suhail zubairy

ڈھائی ہزار برس کے اس سفر میں روح کا سوال بار بار اپنی شکل بدلتا رہا ہے۔ افلاطون نے روح کو جسم سے الگ ایک ابدی حقیقت سمجھا، ارسطو نے اسے زندہ جسم کا اصول قرار دیا، ابنِ سینا نے اپنے مشہور ”اڑتے ہوئے انسان“ کے ذریعے خود آگہی کا سوال اٹھایا، اور ڈیکارٹ نے ہر چیز پر شک کرتے ہوئے آخرکار اس حقیقت کو یقینی سمجھا کہ ”میں سوچتا ہوں، اس لیے میں موجود ہوں۔“ بعد کے فلسفیوں نے اسی ”میں“ کو یادداشت، شعور، تجربے اور شخصی شناخت کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی۔ لیکن ان سب کے سامنے ایک بنیادی مشکل تھی: وہ ذہن کے بارے میں سوچ سکتے تھے، زندہ دماغ کے اندر ہونے والے عمل کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔

انیسویں اور بیسویں صدی میں یہ صورتِ حال بدلنے لگی۔ طب، نفسیات، اعصابی سائنس اور پھر دماغ کی تصویر بندی کی نئی تکنیکوں نے پہلی مرتبہ یہ ممکن بنایا کہ یادداشت، زبان، جذبات، شخصیت اور شعور کو دماغ کی سرگرمی سے جوڑ کر دیکھا جائے۔ یہاں سے روح کی قدیم داستان ایک نئی منزل میں داخل ہوتی ہے۔

اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ فلسفی روح کے بارے میں کیا کہتے تھے۔ سوال یہ بن گیا کہ ہمارا شعور دماغ سے کس طرح وابستہ ہے، اور اگر دماغ کو بہت گہرائی سے سمجھ لیا جائے تو کیا ”روح“ یا ”میں“ کے لیے کوئی الگ سوال باقی رہ جاتا ہے؟

انسانی دماغ تقریباً چھیاسی ارب عصبی خلیوں (neurons) پر مشتمل ہے۔ ہر خلیہ بہت سے دوسرے خلیوں سے رابطہ قائم کر سکتا ہے اور ان کے درمیان برقی اور کیمیائی پیغامات کا ایک ناقابلِ تصور پیچیدہ سلسلہ ہر لمحے جاری رہتا ہے۔ ہم کسی چہرے کو پہچانیں، کوئی پرانا گیت یاد کریں، خوف محسوس کریں، حساب کا مسئلہ حل کریں یا کسی عزیز کی آواز سنیں، دماغ کے مختلف حصے باہم مربوط انداز میں سرگرم ہوتے ہیں۔ جدید سائنس کی ایک بڑی دریافت یہ ہے کہ ہماری ذہنی زندگی کے تقریباً ہر معلوم پہلو کا دماغ کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔

اس تعلق کا سب سے واضح ثبوت دماغی چوٹ اور بیماری سے ملتا ہے۔ کسی مخصوص حصے کو نقصان پہنچے تو زبان متاثر ہو سکتی ہے، کسی دوسرے حصے کی خرابی سے چہروں کو پہچاننے کی صلاحیت ختم ہو سکتی ہے، اور بعض بیماریوں یا حادثات کے بعد یادداشت، مزاج، فیصلے اور شخصیت تک بدل سکتے ہیں۔ انیسویں صدی کے مشہور ریلوے کارکن فینیاس گیج کے واقعے سے لے کر جدید اعصابی طب کے ہزاروں مشاہدات تک ایک ہی بات بار بار سامنے آئی ہے : جس شخصیت کو ہم اپنے ”میں“ کا حصہ سمجھتے ہیں، اس کا دماغ کی جسمانی حالت سے نہایت گہرا تعلق ہے۔

یہ مشاہدات روح کے روایتی تصور کے سامنے ایک مشکل سوال رکھتے ہیں۔

اگر یادداشت اور شخصیت ایک ایسی غیر مادی ہستی میں محفوظ ہیں جو دماغ سے آزاد ہے، تو دماغ کو نقصان پہنچنے سے یادیں اور شخصیت کیوں بدل جاتی ہیں؟ اس سوال سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی غیر مادی روح کا وجود ناممکن ہے، لیکن اتنا ضرور واضح ہوتا ہے کہ انسان کی وہ ذہنی زندگی جسے ہم جانتے ہیں، جسم اور خصوصاً دماغ سے الگ کر کے آسانی سے نہیں سمجھی جا سکتی۔

ابنِ سینا کے ”اڑتے ہوئے انسان“ نے یہ تصور پیش کیا تھا کہ اگر انسان کو اپنے جسم اور حواس کا کوئی احساس نہ بھی ہو تو شاید اسے پھر بھی اپنے وجود کا احساس ہو گا۔ یہ ایک غیر معمولی فلسفیانہ تجربہ تھا، کیونکہ اس نے خود آگہی کو جسم کے شعوری احساس سے الگ کر کے دیکھا۔ لیکن جدید سائنس اس میں ایک اہم اضافہ کرتی ہے : کسی شخص کو اپنے دماغ کا شعوری احساس نہ ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ شعور دماغ سے آزاد ہے۔ ہمیں اپنے جگر، گردوں یا دماغ کے اندر جاری بیشتر عمل کا بھی کوئی احساس نہیں ہوتا، مگر وہ ہمارے وجود کے لیے ضروری ہیں۔ ممکن ہے خود آگہی کے لیے دماغ ضروری ہو، خواہ شعور کو خود دماغ کا کوئی احساس نہ ہو۔

بے ہوشی کی دوا اس تعلق کو نہایت ڈرامائی انداز میں دکھاتی ہے۔ آپریشن سے پہلے مریض ہوش میں ہے، بات کر رہا ہے، ماحول سے واقف ہے، درد محسوس کر سکتا ہے اور نئی یادیں بنا سکتا ہے۔ چند کیمیائی مادّوں کے اثر سے کچھ ہی دیر میں شعوری دنیا غائب ہوجاتی ہے، حالانکہ دماغ اور اس کے عصبی خلیے اپنی جگہ موجود ہوتے ہیں۔ دوا کا اثر ختم ہو تو شعور واپس آ جاتا ہے۔ یہ روزمرہ طبی واقعہ فلسفیانہ اعتبار سے حیرت انگیز ہے۔ شعور کا وجود دماغ کی محض موجودگی سے نہیں بلکہ اس کی ایک خاص منظم سرگرمی سے وابستہ دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اصل معمہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ وہ منظم سرگرمی آخر شعور کیوں پیدا کرتی ہے؟

کیا ”میں“ واقعی ایک وحدت ہے؟

بعض اعصابی تجربات نے ہمارے اس سادہ احساس کو بھی چیلنج کیا ہے کہ ہر دماغ میں ایک ناقابلِ تقسیم ”میں“ موجود ہے۔ شدید مرگی کے کچھ مریضوں میں علاج کے لیے دماغ کے دائیں اور بائیں نصف کرّوں کو ملانے والے بڑے عصبی رابطے کو کاٹا گیا۔ ایسے مریض عام زندگی بڑی حد تک معمول کے مطابق گزار سکتے تھے، لیکن خاص تجربات میں دونوں نصف کرّوں کے پاس ایک ہی معلومات تک یکساں رسائی نہیں رہتی تھی۔ ایک ہاتھ ایسی چیز کی شناخت کر سکتا تھا جسے مریض زبان سے بیان نہیں کر سکتا تھا۔ اس سے ایک گہرا سوال پیدا ہوا: کیا شعور کی وحدت کوئی پہلے سے موجود غیر متغیر حقیقت ہے، یا دماغ کے مختلف حصوں کے باہمی رابطے سے پیدا ہونے والی کیفیت؟

اسی طرح بعض دماغی چوٹوں میں انسان دعویٰ کرتا ہے کہ اسے بصری میدان کے ایک حصے میں کچھ دکھائی نہیں دیتا، لیکن اگر اس سے اندازہ لگانے کو کہا جائے کہ وہاں روشنی یا حرکت موجود ہے یا نہیں تو اس کے جواب محض اتفاق سے کہیں بہتر نکل سکتے ہیں۔ گویا دماغ نے معلومات حاصل کرلی، مگر وہ معلومات شعوری تجربے میں داخل نہیں ہوئیں۔

یہاں ایک نہایت اہم فرق سامنے آتا ہے۔ دماغ میں معلومات کا موجود ہونا اور اس معلومات سے آگاہ ہونا ایک ہی چیز نہیں۔ ایک کیمرہ بھی تصویر حاصل کرتا ہے اور کمپیوٹر بھی چہرہ پہچان سکتا ہے، لیکن ”دیکھنے“ کے شعوری تجربے کا سوال اس سے الگ ہے۔

فرض کریں ہاتھ میں سوئی چبھتی ہے۔ سائنس بیان کر سکتی ہے کہ جلد کے کون سے عصبی خلیے سرگرم ہوئے، برقی پیغام کس راستے سے ریڑھ کی ہڈی اور دماغ تک پہنچا، اور دماغ کے کون سے حصے متحرک ہوئے۔ لیکن اس مکمل جسمانی بیان کے بعد بھی ایک سوال باقی رہتا ہے : درد محسوس کیسا ہوتا ہے؟ اسی طرح ہم سرخ روشنی کی طولِ موج، آنکھ کے خلیوں اور دماغی سرگرمی کی تفصیل جان سکتے ہیں، مگر اس سے یہ پوری طرح واضح نہیں ہوتا کہ سرخ رنگ ”دکھائی دینا“ کیسا تجربہ ہے۔

یہی خارجی سائنسی بیان اور اندرونی ذاتی تجربے کا فرق ہے۔ دماغ معلومات کیسے لیتا ہے، یادداشت کیسے بنتی ہے، توجہ کس طرح مرکوز ہوتی ہے اور فیصلے کیسے ہوتے ہیں۔ یہ سب نہایت مشکل سوال ہیں، مگر انہیں دماغ کے عمل کا مطالعہ کر کے بتدریج سمجھا جاسکتا ہے۔ زیادہ مشکل سوال یہ ہے کہ ان جسمانی عملوں کے ساتھ کوئی اندرونی تجربہ کیوں وابستہ ہے۔ برقی کرنٹ محض برقی کرنٹ کیوں نہیں رہتی بلکہ درد بن جاتی ہے؟ روشنی محض معلومات کیوں نہیں رہتی بلکہ رنگ کا تجربہ بن جاتی ہے؟ آواز کی لہریں موسیقی کی لذت کیوں پیدا کرتی ہیں؟

جدید فلسفۂ ذہن میں اسی کو شعور کا مشکل ترین مسئلہ کہا جاتا ہے۔

بہت سے سائنس دان اور فلسفی سمجھتے ہیں کہ شعور دماغ کی پیچیدہ سرگرمی سے ”ابھرنے“ والی خصوصیت ہو سکتا ہے۔ پانی کے ایک مالیکیول کو گیلا نہیں کہا جاسکتا، مگر بے شمار مالیکیول مل کر وہ خصوصیت پیدا کرتے ہیں جسے ہم گیلا پن کہتے ہیں۔ شاید اسی طرح کوئی ایک عصبی خلیہ شعور نہیں رکھتا، لیکن اربوں خلیوں کا منظم تعامل شعور پیدا کر دیتا ہے۔ یہ خیال معقول ہے، مگر ابھی مکمل جواب نہیں۔ پانی کی اجتماعی خصوصیات کو طبیعیات سے اصولی طور پر اخذ کیا جاسکتا ہے ؛ دماغی سرگرمی سے ذاتی تجربہ کیسے پیدا ہوتا ہے، اس پل کی مکمل وضاحت ابھی ہمارے پاس نہیں۔

اسی لیے شعور کے بارے میں متعدد نظریات موجود ہیں۔ کچھ نظریات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی معلومات اس وقت شعوری بنتی ہے جب وہ دماغ کے مختلف نظاموں۔ توجہ، یادداشت، فیصلہ اور زبان۔ کے لیے وسیع طور پر دستیاب ہو جائے۔ ایسے نظریات شعور کے بعض قابلِ پیمائش پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن آخری سوال پھر بھی باقی رہتا ہے : معلومات خواہ پورے دماغ میں پھیل جائے، اسے ”محسوس“ کیوں ہونا چاہیے؟ اس سوال پر ابھی سائنس اور فلسفہ دونوں میں اتفاق نہیں۔

اکیسویں صدی میں یہی مسئلہ مصنوعی ذہانت کے باعث ایک نئی صورت اختیار کرچکا ہے۔ کمپیوٹر حساب کرتے ہیں، زبان استعمال کرتے ہیں، تصویریں پہچانتے ہیں اور ایسے مسائل حل کرتے ہیں جو کبھی صرف انسانی ذہانت کا میدان سمجھے جاتے تھے۔ لیکن ذہانت اور شعور ایک ہی چیز ہیں یا نہیں، یہ معلوم نہیں۔ اگر کوئی انتہائی ترقی یافتہ مشین ایک دن کہے، ”مجھے خوف محسوس ہو رہا ہے،“ تو ہم کیسے جانیں گے کہ اس کے اندر واقعی خوف کا کوئی ذاتی تجربہ موجود ہے یا وہ صرف مناسب الفاظ پیدا کر رہی ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ دوسرے انسان کا شعور بھی ہمیں براہِ راست دکھائی نہیں دیتا؛ ہم اس کے رویے، زبان اور اپنی مماثلت سے نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ وہ بھی محسوس کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت اس پرانے فلسفیانہ مسئلے کو نئی شدت کے ساتھ ہمارے سامنے لے آئی ہے۔

روح کے بارے میں گفتگو میں قریب المرگ تجربات کا ذکر بھی بار بار آتا ہے۔ بعض لوگ شدید جسمانی بحران کے دوران روشنی، سرنگ، جسم سے باہر ہونے یا غیر معمولی سکون جیسی کیفیات بیان کرتے ہیں۔ یہ تجربات ان افراد کے لیے نہایت حقیقی اور گہرے ہوسکتے ہیں اور ان کا سائنسی مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن موجودہ شواہد سے جسم سے آزاد روح کا فیصلہ کن نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ آکسیجن کی کمی، دواؤں کے اثرات، خواب اور یادداشت سے وابستہ دماغی نظام اور شدید دباؤ غیر معمولی تجربات پیدا کر سکتے ہیں ؛ دوسری طرف یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ہر انفرادی تجربے کی مکمل اعصابی وضاحت پہلے ہی موجود ہے۔ سائنسی اعتبار سے محتاط نتیجہ یہی ہے کہ یہ اہم انسانی تجربات ہیں، مگر روح کے آزاد وجود کا قطعی ثبوت نہیں۔

کیا سائنس نے روح کو رد کر دیا ہے؟

اس پوری داستان کا شاید سب سے اہم سوال یہی ہے۔ مختصر جواب ہے : نہیں۔ سائنس نے بہت مضبوط شواہد فراہم کیے ہیں کہ یادداشت، شخصیت، ادراک، جذبات اور شعور کی معلوم صورتیں دماغ سے نہایت گہرے طور پر وابستہ ہیں۔ دماغ بدلتا ہے تو ذہنی زندگی بدل سکتی ہے۔ لیکن اگر ”روح“ کو ایسی غیر مادی حقیقت کہا جائے جو اصولی طور پر کسی مشاہدے یا پیمائش میں نہ آ سکے، تو سائنس کے پاس اسے براہِ راست ثابت یا رد کرنے کا طریقہ نہیں۔ سائنس ان دعوؤں کو جانچتی ہے جن سے کوئی قابلِ مشاہدہ اور قابلِ آزمائش نتیجہ نکلتا ہو۔

اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ”سائنس نے ثابت کر دیا کہ روح موجود نہیں“ ، اور یہ کہنا بھی درست نہیں کہ سائنس نے روح کے وجود کو ثابت کر دیا ہے۔ موجودہ علم اتنا ضرور بتاتا ہے کہ انسانی ذہنی زندگی کو سمجھنے میں دماغ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن کیا دماغ ہی شعور کی مکمل حقیقت ہے؟ یہ سوال ابھی کھلا ہے۔

چار مضامین کے اس سفر میں ہم افلاطون کی ابدی روح سے ارسطو کے زندہ جسم، ابنِ سینا کی خود آگہی، ڈیکارٹ کے سوچنے والے ”میں“ ، لاک کی یادداشت، ہیوم کے غیر مستقل نفس اور جدید اعصابی سائنس کے دماغ تک پہنچے ہیں۔ ہر مرحلے پر سوال کی زبان بدلی، لیکن ایک معمہ باقی رہا: مادّہ محسوس کیسے کرنے لگتا ہے؟ دماغ میں برقی اور کیمیائی عمل جاری ہیں، اور اسی کے ساتھ سرخ رنگ کی خوبصورتی، موسیقی کا لطف، درد، محبت، خوف اور یہ اندرونی احساس موجود ہے کہ ”میں ہوں“ ۔

کیا یہ ”میں“ صرف دماغ کا ایک عمل ہے؟ کیا یہ پیچیدہ عصبی سرگرمی سے ابھرنے والی خصوصیت ہے؟ کیا یہ کسی زیادہ بنیادی حقیقت کا پہلو ہے؟ یا یہی وہ چیز ہے جسے انسان نے ہزاروں برس سے روح کا نام دیا ہے؟ سائنس ابھی ان سوالات کا حتمی جواب نہیں دیتی۔ شاید ”روح کیا ہے؟“ کا سوال اپنی طویل تاریخ میں بار بار ایک اور سوال کی صورت اختیار کرتا رہا ہے : ** ”میں کون ہوں؟“ **

یہ سوال فلسفے کا بھی ہے، مذہب کا بھی اور سائنس کا بھی، لیکن ان کے طریقۂ کار مختلف ہیں۔ فلسفہ مفہوم اور استدلال کا تجزیہ کرتا ہے، سائنس قابلِ مشاہدہ اور قابلِ آزمائش مظاہر کا مطالعہ کرتی ہے، جبکہ مذہب انسان، مقصد، خدا اور موت کے بعد کی حقیقت کے بارے میں وحی اور ایمان کی زبان میں گفتگو کرتا ہے۔ ان تینوں کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھنا شاید مسئلے کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔

قرآن روح کے بارے میں ایک نہایت مختصر مگر معنی خیز جملہ پیش کرتا ہے :

”اور وہ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے، اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔“ ( 17:85 )

یہ آیت کوئی اعصابی یا فلسفیانہ نظریہ پیش نہیں کرتی۔ اسے جدید سائنس کی پیش گوئی کہنا بھی درست نہ ہو گا۔ لیکن انسانی علم کی محدودیت کی یاد دہانی کے طور پر یہ اس طویل داستان کے اختتام پر غیر معمولی طور پر موزوں محسوس ہوتی ہے۔

ہم آج افلاطون اور ابنِ سینا کے مقابلے میں دماغ کے بارے میں ناقابلِ تصور حد تک زیادہ جانتے ہیں۔ ہم عصبی خلیوں کی سرگرمی ناپ سکتے ہیں، دماغ کے اندر خون کے بہاؤ کی تصویریں بنا سکتے ہیں، مخصوص دماغی بیماریوں کو شناخت کر سکتے ہیں اور شعور کی بعض حالتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ لیکن علم میں اس عظیم اضافے نے پرانا سوال ختم نہیں کیا۔ شاید اس نے اسے اور زیادہ گہرا کر دیا ہے۔ دماغ کے بارے میں ہمارا علم بڑھا ہے، مگر ”میں“ کا راز ابھی باقی ہے۔

اور شاید روح کے بارے میں ہزاروں سال کی اس داستان کا سب سے مناسب اختتام یہی ہے کہ بعض عظیم سوالوں کی قدر صرف اس میں نہیں کہ ان کا کوئی آخری جواب مل جائے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ وہ ہر نسل کو اپنی حقیقت، اپنی حدود اور اپنے وجود کے بارے میں دوبارہ سوچنے پر مجبور کرتے رہتے ہیں۔

جب تک انسان خاموشی میں اپنے آپ سے یہ پوچھتا رہے گا۔ ”میں کون ہوں؟“ ۔ روح کا سوال بھی زندہ رہے گا۔
یہاں روح کی تلاش کا میرا یہ سفر ختم ہوتا ہے۔

Facebook Comments Box

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔
Subscribe
Notify of
guest
3 Comments
Dr Santosh Kamrani
Dr Santosh Kamrani
20 days ago

excellent….thought provoking…..complicated……complex…..trying to understand….comprehend…… instigates to read more from diversified angles / aspects….thank you very much for such a brilliant article….

Ishrat Popal
Ishrat Popal
20 days ago

سائنسدانوں کا ایک گروپ مراقبے میں مہارت حاصل کرے۔۔۔مذہبی مراقبہ نہیں۔۔۔meditation….اس طرح وہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیں گے۔۔وہ اپنے تجربات شیئر کریں تو بات کچھ آگے بڑھے۔۔۔

Saqeeb Ahmed
Saqeeb Ahmed
20 days ago

حاصل کلام کہ انسان جہاں محوہ حیرت کھڑا تھا وہیں کھڑا ہے کیونکہ اسے اتنا ہی سکھایا گیا ہے

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW