اسلوب اور مصنوعی ذہانت
کبھی صاحبِ اسلوب ادیب ہونا باعثِ فخر تھا، آج بھی ہے ؛ لیکن آج صاحبِ اسلوب ہونے کے لیے کسی مشاقی یا خداداد صلاحیت کا ہونا لازم نہیں، آپ کو مصنوعی ذہانت بھی صاحبِ اسلوب ادیب بنا سکتی ہے۔
صاحبِ اسلوب ہونے سے یہی مراد ہے نا وہ ادیب جس کی تحریر پڑھتے ہی اس کے اندازِ بیان، جملوں کی ساخت، لفظوں کے انتخاب، فکر کی کروٹ، لہجے اور اظہار کے آہنگ سے اس کی شناخت ہونے لگے ؛ یعنی نام سامنے نہ بھی ہو تو تحریر یہ بتا دے کہ اسے کس نے لکھا ہے۔ مثلاً شبلی کی بلند آہنگی اور پُرشکوہ لفاظی، پطرس کی شگفتگی، یوسفی کی ظرافت اور انتظار حسین کی داستانوی فضا ایک دوسرے سے الگ محسوس ہوتی ہے۔ یہی انفرادیت انھیں صاحبِ اسلوب بناتی ہے۔ وقت گزرنے کے بعد موضوع پرانا پڑ سکتا ہے، مگر اسلوب تحریر کو زندہ رکھتا ہے۔
اب چیٹ جی پی ٹی کی یہ دلچسپ صلاحیت بھی دیکھیے، اسے جس اسلوب کا ذرا سا ذائقہ چکھا دیجیے، یہ اسی رنگ میں بولنے لگتی ہے۔ کسی گزرے ہوئے ادیب کی نثر سامنے رکھ دیجیے، کئی بڑے ادیبوں کی خوبیوں کو یکجا کرنے کا کہیے یا اپنی چند تحریریں دے کر اپنے ہی انداز میں لکھنے کا حکم دیجیے، صاحب ایک نیا اسلوب تشکیل پانے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ گویا اب صاحبِ اسلوب ہونا صرف قلم کی ریاضت کا مسئلہ نہیں رہا؛ مشین کو نمونہ دیجیے اور وہ آپ کے لیے لہجہ، جملہ، آہنگ اور طرزِ اظہار کا ایک نیا پیکر تراش دے گی۔ میں نے بھی اپنی دو تین تحریریں چیٹ جی پی ٹی کے حوالے کیں اور کہا: عدنان نصیر کے اسلوب میں، عدنان نصیر کے اسلوب پر لکھو، اس نے لکھا۔ کچھ جگہ آئینہ ایسا صاف تھا کہ آدمی خود کو پہچان لے، کچھ جگہ معلوم ہوا کہ برتن ابھی اور مانجھنے کی ضرورت ہے۔ چند اصلاحوں کے بعد تحریر میں وہی روانی، وہی بے تکلفی اور وہی فکری کروٹ دکھائی دینے لگی جسے میں اپنا اسلوب کہتا ہوں۔
لیجیے اب عدنان نصیر کے اسلوب میں عدنان نصیر کے اسلوب پر ملکہِ ذہانت کا تبصرہ ملاحظہ کیجیے۔
”کسی آدمی کے بارے میں لکھنا شاید اتنا مشکل نہیں جتنا اپنے بارے میں لکھنا ہے۔ دوسروں کے عیبوں میں بھی کوئی حسن نکالا جا سکتا ہے اور خوبیوں میں بھی کوئی گرہ ڈال کر بات آگے بڑھائی جا سکتی ہے، مگر اپنے سامنے آئینہ ہو تو آدمی ذرا سنبھل کر کھڑا ہوتا ہے۔ عدنان نصیر کے بارے میں بھی یہی الجھن ہے کہ اسے آخر کس نام سے پکارا جائے؟ استاد، ادیب، شاعر، مضمون نگار یا کتابوں کے پیچھے بھاگتا ہوا وہ شخص جسے معمولی چیزوں میں بھی کوئی چھپی ہوئی بات دکھائی دے جاتی ہے؟ شاید آخری تعارف زیادہ قرینِ قیاس ہے، باقی سب اسی کے راستے میں پڑنے والے پڑاؤ ہیں۔
اس کی نگاہ کی ایک عادت ہے، یہ چیزوں پر زیادہ دیر ٹھہرتی ہے۔ ایک لفظ ملے تو اس کے پیچھے چھپی ہوئی صدیوں کی چاپ سنائی دینے لگتی ہے، کوئی شعر دل کو لگ جائے تو اس کے حسن کا سراغ ڈھونڈنے بیٹھ جاتا ہے، اور ایموجی جیسی معمولی سی چیز بھی اس کے لیے زبان اور انسانی اظہار کے کسی بڑے سوال کا دروازہ بن جاتی ہے۔ جہاں عام آدمی گزر جاتا ہے، وہاں عدنان ذرا رک جاتا ہے۔ شاید اسی رک جانے کا نام اس کا فکر ہے۔ اس کی نثر میں استاد بھی ہے مگر استاد کی کرسی پر بیٹھا ہوا نہیں ؛ وہ دوستوں کی مجلس میں بیٹھ کر بات کرتا ہے۔ علمی بات کو کتابی بوجھ نہیں بننے دیتا، ادبی گفتگو میں زندگی کی خوشبو باقی رکھتا ہے اور اختلاف کرے تو یوں نہیں کہ سامنے والے کے لیے دروازہ بند ہو جائے۔ اردو سے محبت ہے تو اس کی کمزوریوں پر بھی بات کرے گا، روایت عزیز ہے تو اس کے جمود سے بھی الجھے گا اور نئی روشنی پسند ہے تو اس کے نام پر ہونے والی سطحیت سے بھی آنکھ نہیں چرائے گا۔
اور پھر اس کا مزاح ہے، دوستوں کو اس سے ذرا محتاط رہنا چاہیے۔ کسی کی چال، کوئی جملہ، کوئی عجیب عادت یا مجلس میں کی ہوئی کوئی حرکت اس کی نظر سے بچ جائے تو اسے اتفاق ہی کہنا چاہیے۔ عدنان اسے پکڑتا ہے، ذرا ہوا دیتا ہے، اس پر تشبیہ کا رنگ چڑھاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک عام سا واقعہ خاکے میں بدل جاتا ہے۔ مگر اس ہنسی میں کسی کی تحقیر نہیں ہوتی۔ وہ جس پر ہنستا ہے، آخرکار اسی کے ساتھ ہنسنے لگتا ہے۔ اس کی زبان کا حسن بھی اسی بے تکلفی میں ہے۔ کہیں ادبی ترکیب آ کر جملے کو چمکا دیتی ہے، کہیں روزمرہ کا کوئی سیدھا سا لفظ ساری آرائش کو ایک طرف رکھ کر بات کو دل تک پہنچا دیتا ہے۔ جملہ چلتا ہے تو ساتھ کوئی منظر، کوئی یاد یا کوئی شرارت بھی چل پڑتی ہے۔ راستہ کبھی سیدھا نہیں رہتا، مگر بات کہیں کھوتی بھی نہیں۔ یہی اس نثر کی دل کشی ہے کہ یہ لکھی ہوئی کم اور جیتی ہوئی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ عدنان نصیر شاید بڑا موضوع تلاش کرنے کی بجائے بڑی بات معمولی چیزوں میں ڈھونڈتا ہے۔ اسے ایک لفظ میں زمانہ دکھائی دے جاتا ہے، ایک شخص میں پوری کہانی، ایک عادت میں مزاح اور ایک کتاب میں ایک گزرا ہوا عہد۔ یہی اس کے فکر و فن کی اصل زمین ہے۔ وہ زندگی کو دور کھڑے ہو کر نہیں دیکھتا؛ اس کے بیچ بیٹھ کر اسے سنتا، پرکھتا، چھیڑتا اور کبھی کبھی اس پر ہنستا ہے۔
اور شاید اچھا نثر نگار بھی وہی ہے جو بات ختم ہونے کے بعد قاری کو اپنے ساتھ کچھ دور تک لے جائے۔ عدنان نصیر کی نثر میں کوئی جملہ، کوئی منظر، کوئی شرارت یا کوئی سوال تحریر کے آخری لفظ کے ساتھ رخصت نہیں ہوتا؛ کچھ نہ کچھ دیر تک ذہن میں چلتا رہتا ہے۔ لفظ ختم ہو جاتے ہیں، آدمی گھر چلا جاتا ہے، مگر بات۔ وہ کچھ دیر اور بیٹھی رہتی ہے۔ ”
تو صاحبو! دیکھ لیا کمال۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کہاں عدنان نصیر کا قلم ہے اور کہاں ملکہِ ذہانت کا کارنامہ؟ تو کیا اب ہر شخص صاحبِ اسلوب ہو سکتا ہے؟ جی بالکل مصنوعی ذہانت سے آپ کسی بھی اسلوب کا پیکر تراش سکتے ہیں اور نیا اسلوب تشکیل دے سکتے ہیں ؛ سوال صرف یہ ہے کہ اس پیکر میں جان کون ڈالے گا۔ اسلوب کی صورت مشین بنا سکتی ہے، مگر اس کے پیچھے جو نظر، تجربہ، حافظہ اور زندگی سانس لیتی ہے، وہ کہاں سے آئے گی؟ شاید، وہ بھی مصنوعی ذہانت سے مہیا ہو جائے گی۔

