مجھے مشرقی بوڑھوں پر ترس آتا ہے

لکھنے لکھانے اور پڑھنے پڑھانے میں مصروفیت کی وجہ سے بہت کم باہر نکلتا ہوں، اتفاق سے کل اتوار کی چھٹی کی وجہ سے بازار جانے کا اتفاق ہوا، اپنے شناسا دکانداروں کے پاس سودا سلف کے سلسلے میں حاضری ہوئی تو حیرت کی انتہا نہیں رہی، اچھے بھلے ہوا کرتے تھے، کسی کا وجود بڑھا ہوا تو کسی کی داڑھی، خیر یہ تو ان کی صوابدید ہے، مطلب یوں محسوس ہوا کہ انہوں نے جانے انجانے میں خود پر بڑھاپا طاری کیا ہوا ہے، کچھ حاضر سروس اور کچھ ریٹائرڈ اساتذہ کرام سے بھی ملاقات ہوئی تو ایسے محسوس ہوا کہ ایک طرح سے خواہ مخواہ کی سنجیدگی و متانت انہوں نے اوڑھ رکھی ہے، ایک چیز سب میں مشترکہ دکھائی دی، وہ یہ کہ انہیں اپنے بچوں سے ڈھیر ساری شکایات ہیں، انہیں شکوہ ہے کہ ان کے بچے ان کی پرواہ نہیں کرتے، وہ اس قدر مصروف ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس ہمیں دینے کے لیے چند منٹ نہیں ہیں، اس بیچ جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ پڑھے لکھے ہونے کے باوجود مطالعہ، مشاہدہ، تحقیق یا اپنی فیلڈ میں کچھ نیا کرنے کی بجائے یہ بزرگ خود کو محض عبادات تک مخصوص کیے ہوئے ہیں، عبادات ضرور کریں کوئی مضائقہ نہیں لیکن زندگی کی حقیقتوں سے منہ موڑنے کی بجائے تسلیم کرنا ہی درست رویہ کہلاتا ہے، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان بزرگوں نے سرگرمیاں اس قدر محدود کر لیں کہ ایک طرح سے خود کو گھر کی چاردیواری میں قید کر لیا، زندگی ایسے حسین تحفے کی اس سے زیادہ بے قدری اور بھلا کیا ہو سکتی ہے؟
اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ آپ پڑھتے پڑھاتے ریٹائر ہوئے اور پھر کتاب و شعور والی زندگی سے کوسوں دور ہو گئے، بس مرنے کے انتظار میں بیٹھ گئے، گھر میں ہیں تو اپنے بچوں کی فیملیز پر آئی سی یو ٹائپ نگاہیں مرکوز کیے بیٹھے ہیں، زندگی اس قدر بے کار اور بے قیمت تو نہیں ہوتی نا کہ اسے فقط یونہی بسر کر دیا جائے، ہم کہہ تو دیتے ہیں کہ یورپ والوں نے اولڈ ہوم سنٹر بنا رکھے ہیں جہاں بچے اپنے بڑے بوڑھوں کو چھوڑ جاتے ہیں لیکن یہ ایک آدھی تصویر ہے۔
پوری تصویر دیکھنے کے لیے دل بڑا کرنا پڑتا ہے، یورپ اگر پُرسکون اور جنت نظیر ہے تو اس کے پیچھے وجہ وہاں کا لائف اسٹائل ہے، وہاں سب لوگ مل کر کام کرتے ہیں، مرد اور خواتین میں جنس کی بنیاد پر کوئی تخصیص نہیں ہے بلکہ دونوں کو ”فرد“ تصور کیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر وہ روزی روٹی مل کر کماتے ہیں۔
ان کی نظر میں انسان بہت قیمتی ہوتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ مصروف ترین طرزِ حیات کی وجہ سے بڑے بوڑھوں کی طرف فیملیز کی اتنی توجہ نہیں رہتی جتنی اس بڑھتی ہوئی عمر میں ضرورت ہوتی ہے، اس مقصد کے لیے انہوں نے اولڈ ہوم سنٹر بنائے جو ایک طرح سے جدید ترین ہسپتال ہیں جہاں بزرگوں کی صحت کو بغور مانیٹر کیا جاتا ہے اور کوئیک ریسپانس کے طور پر عملہ ہر وقت موجود رہتا ہے، انہیں ان کی خواہش کے مطابق ہر وہ سہولت مہیا کی جاتی ہے جن کا وہ تقاضا کرتے ہیں، ویک اینڈ پر فیملیز اپنے بزرگوں کو گھر لے جاتے ہیں اور مل کر چھٹی سے لطف اندوز ہوتے ہیں، سب سے قابلِ غور بات یہ ہے کہ اولڈ ہوم سنٹر آپ کی چوائس پر ہیں، اگر آپ اپنے بزرگوں کا گھر پر خیال رکھ سکتے ہیں تو کوئی زور زبردستی نہیں۔
زندگی ایک پراسرار سی پہیلی ہے، اس کے اندر بہت سے اسرار و رموز پائے جاتے ہیں، المیہ سب سے بڑا ہمارے معاشرے کا یہ ہے کہ یہاں منصوبہ بندی کا فقدان ہے، ایک انسان کو دنیا میں لانے کے لیے جس سطح کے ہوم ورک کی ضرورت ہوتی ہے اس طرف کوئی توجہ نہیں دیتا، بس بے دھیانی میں مباشرت کے ذریعے سے ننھے مہمان کو دنیا میں لے تو آتے ہیں لیکن اسے کوئی خاص پروٹوکول دینے کی بجائے اسی جنجال پورہ کا حصہ بنا دیتے ہیں جہاں سب پل رہے ہوتے ہیں۔
اب جو معاشرہ بچوں کے لیے موزوں نہ ہو وہ بڑے بوڑھوں کے لیے مثالی بھلا کیسے ہو سکتا ہے، بھلے لوگو! یہی جوان ہی تو کل کلاں کو بوڑھے ہوتے ہیں، جن کی جوانی بے سمت رہی ہو بڑھاپا پرلطف کیسے ہو سکتا ہے؟
ٹیڑھی بنیادوں پر دیوار اور عمارت سیدھی کیسے بن سکتی ہے؟
سب سے بڑا مسئلہ مشترکہ فیملی نظام ہے جو ایک طرح سے مجموعہ الضدین کا کردار ادا کرتا ہے، مختلف سوچ، فطرت اور نقطہ نظر رکھنے والے انسانوں کو جب آپ زبردستی ایک فیملی نظام میں باندھ کر رکھتے ہیں تو اس میں سے خیر بھلا کیسے برآمد ہو سکتی ہے؟
بڑے بوڑھے نظر انداز کیے جانے کا جو گلہ کرتے ہیں وہ خود ہی اس صورتحال کے ذمہ دار ہوتے ہیں، اپنی بزرگی کی قلغی کو برقرار رکھنے کی خاطر وہ جو کچھ کرتے ہیں ان کا خمیازہ انہیں بھائیوں کے ایک دوسرے کے گریبانوں تک پہنچنے والے ہاتھوں کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔
شادی کا مطلب علیحدگی ہوتا ہے، ایک نئے خاندان کی شروعات ہوتی ہے، دو بالغ انسان ایک دوسرے کے ساتھ زندگی جینے کا عہد کرتے ہیں، اب ان کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرنا کوئی مناسب رویہ تو نہیں ہو سکتا نا!
جب بات خود کی بیٹی پر آتی ہے تو ہمارے یہی بزرگ بھاگ کر دوسری طرف کھڑے ہو جاتے ہیں، سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں نے اپنے بچوں کو تسلیم کرنا نہیں سیکھا ہوتا بس حکم چلانا سیکھا ہوتا ہے، ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کیا مسئلہ ہے کہ ہمارے بچے ہم سے کہیں زیادہ ذہین، سمجھدار اور ہمارے وقت سے بہت آگے ہیں، یہ تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ جو وہ جانتے ہیں ہم نہیں جانتے، مجھے یہ حقیقت تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ میرے بچے مجھ سے کہیں زیادہ باصلاحیت ہیں اور میں ان سے بہت کچھ سیکھ رہا ہوں، جب آپ خود اپنے بچوں کے متعلق دل بڑا نہیں کریں گے تو دوسروں سے آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟
والدین کو اس کلیشے سے پیچھے ہٹنا ہو گا، ”بچے تو بچے ہی رہتے ہیں بھلے بڑے کیوں نہ ہو جائیں“
نہیں جناب انہیں بچے سمجھنے کی بجائے فرد سمجھنا سیکھیں، ان کو اپنی جذباتی آنول سے باندھے رکھنے کی بجائے آزادی دینا سیکھیں، ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کریں، اپنی ضد اور انا کو سرنڈر کرنا سیکھیں پھر آپ گلہ کرتے ہوئے نہیں پائے جائیں گے کہ آپ کے بچے آپ کا خیال نہیں رکھتے۔
