بلاگ

سندھ پر بیرونی حملوں کی تاریخ کا اجمالی خاکہ ( 4 )

qazi sami ullah

کلہوڑا اور تالپور، مغل سلطنت کے زوال کے بعد ان دونوں خاندانوں نے سندھ پر راج کیا۔

کلہوڑا دور ( 1701 تا 1783 )

کلہوڑا خاندان بنیادی طور پر ایک صوفی اور مذہبی تحریک سے ابھرا جس کے بانی میاں آدم شاہ کلہوڑو تھے۔ بعد میں ان کی اولاد نے سیاسی طاقت حاصل کی۔ میاں یار محمد کلہوڑو نے مغلوں سے ”خدا یار خان“ کا خطاب پایا اور حکومت کی بنیاد رکھی۔ ان کے بعد میاں غلام شاہ کلہوڑو اس خاندان کے سب سے طاقتور حکمران ثابت ہوئے، 1768 میں میاں غلام شاہ کلہوڑو نے تاریخی قلعہ تعمیر کروایا اور حیدرآباد شہر کی بنیاد رکھی جسے انہوں نے سندھ کا دارالحکومت بنایا۔ کلہوڑا حکمرانوں نے سندھ میں زراعت کو فروغ دینے کے لیے نہروں کا ایک وسیع جال بچھایا جس سے سندھ کی معیشت بہت مضبوط ہوئی۔ سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی اسی دور (میاں نور محمد کلہوڑو کے عہد) میں گزرے جنہوں نے سندھی زبان و ادب کو لازوال عروج بخشا۔

تالپور دور ( 1783 تا 1843 )

تالپور بنیادی طور پر بلوچ نسل سے تعلق رکھتے تھے جو کلہوڑا حکمرانوں کی فوج اور دربار کا حصہ تھے۔ کلہوڑا حکمرانوں کے داخلی انتشار اور تالپور سرداروں (میروں ) کے قتل کے بعد دونوں کے درمیان 1783 میں ہلانی کی جنگ ہوئی جس میں تالپوروں نے فتح حاصل کر کے سندھ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ تالپوروں نے اقتدار کسی ایک شخص کو دینے کے بجائے آپس میں تقسیم کیا۔ ان کا پہلا مرکز حیدرآباد تھا جہاں چار تالپور بھائیوں (میر فتح علی خان، میر غلام علی خان، میر کرم علی خان اور میر مراد علی خان) نے مل کر حکومت کی، جنہیں ”چار یار“ کہا جاتا ہے۔ تالپوروں نے سندھ کو انتظامی طور پر تین بڑی ریاستوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ حیدرآباد کے میر زیریں سندھ کے حکمران ہوئے۔ خیرپور کے میر بالائی سندھ کے حکمران ہوئے۔ میرپور خاص کے میر تھرپارکر اور میرپور خاص کے علاقوں کے حکمران ہوئے۔ تالپوروں کے دور میں سندھ میں امن قائم رہا۔ میروں کو قیمتی ہتھیاروں، علم و ادب اور شکار کا بہت شوق تھا اور انہوں نے کئی تاریخی قلعے (جیسے کوٹ ڈیجی قلعہ) تعمیر کروائے۔ انیسویں صدی کے آغاز میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی نظریں سندھ پر جم گئیں۔ تالپوروں نے انگریزوں کے ساتھ کئی امن معاہدے کیے لیکن انگریزوں نے بد عہدی کرتے ہوئے 1843 میں جنگِ میانی میں میروں کو شکست دی اور سندھ پر قبضہ کر لیا۔

سندھ پر برطانوی حملہ اور جنگِ میانی ( 1843 ) سندھ کی تاریخ کا وہ المناک باب ہے جس نے اس خطے کی آزادی کا خاتمہ کر کے اسے برطانوی راج کا حصہ بنا دیا۔ انگریزوں کو افغانستان کی جنگوں کے لیے اور روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے سندھ کے راستوں اور دریائے سندھ پر کنٹرول چاہیے تھا۔

جنگِ میانی کا پس منظر

ایسٹ انڈیا کمپنی نے تالپور میروں کے ساتھ کئی معاہدے کیے تھے جن کے تحت انگریزوں کو سندھ سے گزرنے کی اجازت تھی لیکن انگریزوں کی نیت پورے سندھ پر قبضے کی تھی۔ برطانوی جنرل سر چارلس نیپیئر کو سندھ بھیجا گیا جس نے جان بوجھ کر ایسی سخت شرائط پیش کیں جنہیں تالپور میر قبول نہ کر سکیں اور یوں جنگ کی راہ ہموار کی گئی۔ معرکہِ میانی ( 17 فروری 1843 ) کی یہ تاریخی جنگ حیدرآباد کے قریب میانی کے مقام پر دریائے پھلیلی کے خشک دامن میں لڑی گئی۔ :اس جنگ میں سندھی فوج نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ تالپوروں کے جنرل ہوش محمد شیدی نے بہادری کی نئی تاریخ رقم کی اور لڑتے لڑتے شہید ہوئے۔ ان کا تاریخی نعرہ ”مرسوں مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں“ سندھ کی آزادی کی علامت بن گیا۔ جدید اسلحہ، توپ خانے اور تالپوروں کی صفوں میں کچھ اندرونی غداریوں کی وجہ سے انگریز یہ جنگ جیت گئے۔ اس جنگ میں ہزاروں سندھی اور بلوچ جنگجو مارے گئے۔ ِمیانی کے فوراً ًبعد میرپور خاص کے حکمران میر شیر محمد تالپور (جنہیں شیر سندھ کہا جاتا ہے ) نے ہار نہیں مانی۔ انہوں نے دوبارہ فوج جمع کی اور مارچ 1843 میں ”جنگ دوبو“ لڑی لیکن انگریزوں کے جدید توپ خانے کے سامنے انہیں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حملے کے بعد سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ بنا دیا گیا اور تالپور میروں کو قیدی بنا کر ملک بدر کر دیا گیا۔

سندھ کی بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی کی تحریک

سندھ کی بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی کی تحریک سندھ کی جدید سیاسی تاریخ کا ایک انتہائی اہم معرکہ تھا۔ 1843 میں فتح کے بعد انگریزوں نے انتظامی سہولت کے لیے سندھ کو بمبئی کا حصہ بنا دیا تھا۔ تاہم جغرافیائی، لسانی اور ثقافتی فرق کی وجہ سے سندھ کے عوام اور رہنماؤں نے اس الحاق کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا اور ایک طویل سیاسی جدوجہد کے بعد 1 اپریل 1936 کو سندھ کو دوبارہ ایک آزاد صوبے کا درجہ دلوایا۔ یہ تحریک بیسویں صدی کے آغاز میں منظم انداز میں شروع ہوئی اور اس میں سندھ کے ہندو اور مسلم رہنماؤں نے ابتدائی طور پر مل کر کام کیا۔ سر غلام حسین ہدایت اللہ اور شاہنواز بھٹو جیسے رہنماؤں نے برطانوی حکومت کے سامنے پہلی بار سندھ کی علیحدگی کا مقدمہ مضبوطی سے پیش کیا۔ سر حاجی عبدا اللہ ہارون اور ایوب کھوڑو نے اس تحریک کو عوامی سطح پر ابھارا۔ ایوب کھوڑو نے ایک مشہور کتابچہ ”سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کا کیس“ لکھا جس نے انگریز حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ سائمن کمیشن ( 1928 ) اور گول میز کانفرنسیں ( 1930۔ 1932 ) ان تمام فورمز پر سندھی رہنماؤں نے بمبئی سے علیحدگی کا مطالبہ سرفہرست رکھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی اپنے مشہور 14 نکات میں سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کا مطالبہ شامل کر کے اسے آل انڈیا سطح کا مسئلہ بنا دیا۔

صوبہ سندھ

سندھی رہنماؤں کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں برطانوی پارلیمنٹ نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت سندھ کو بمبئی سے الگ کرنے کی منظوری دی۔ 1 اپریل 1936 کو سندھ باقاعدہ طور پر بمبئی سے الگ ہو کر ایک خودمختار صوبہ بن گیا۔ سر لانسلوٹ گراہم سندھ کے پہلے برطانوی گورنر بنے اور بعد میں سر غلام حسین ہدایت اللہ سندھ کے پہلے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ اس علیحدگی نے سندھ کو یہ سیاسی طاقت دی کہ 1943 میں سندھ اسمبلی نے برصغیر میں سب سے پہلے پاکستان کے حق میں قراردادِ منظور کی۔
(خاتمہ شد)

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW