میرے مطابق

عزم، عوامی حمایت اور جغرافیے کی فتح

Dilpazir Ahmad Janjua

طاقتور ملک اپنے مقابل کو صرف اپنی طاقت کے پیمانے سے دیکھتا ہے۔ اسے اپنی فوج کی تعداد، اپنے ہتھیاروں، ٹیکنالوجی، دولت اور وسائل پر اتنا اعتماد ہوتا ہے کہ وہ مخالف کے عزم، جغرافیے، حکمتِ عملی اور عوامی حمایت کو معمولی سمجھنے لگتا ہے۔ پھر بظاہر کمزور قوم میدانِ جنگ میں طاقتور کو ایسا سبق سکھا دیتی ہے جسے تاریخ صدیوں تک یاد رکھتی ہے۔

”ڈین بین پھو کی 1954 ء کی جنگ“ میں ایک طرف فرانس تھا؛ ایک بڑی یورپی طاقت، ایک وسیع نوآبادیاتی سلطنت کا مالک، جدید اسلحے اور تربیت یافتہ فوج کا حامل۔ دوسری طرف ویت منہ کی وہ قوت تھی جو بنیادی طور پر مقامی ویت نامی مزاحمت کی نمائندگی کرتی تھی۔ ظاہری موازنے میں دونوں کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ فرانس کے پاس جدید فوجی ساز و سامان تھا، فضائی طاقت تھی، توپ خانہ تھا اور جنگی تجربہ تھا، جبکہ ویت منہ کے پاس وسائل محدود تھے۔

مگر جنگ صرف وسائل سے نہیں لڑی جاتی۔ فرانس نے ”ڈین بین پھو“ کے علاقے میں ایک مضبوط فوجی اڈہ قائم کیا۔ فرانسیسی قیادت کا خیال تھا کہ ویت منہ کی افواج اس قلعہ بند مقام پر براہِ راست حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گی۔ یہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں فرانسیسی فوج اپنے جدید ہتھیاروں اور فضائی طاقت سے مخالف کو شکست دینے کا تصور کر رہی تھی۔ لیکن فرانسیسی قیادت ایک چیز کو سمجھنے میں ناکام رہی: جس جنگ کو وہ ہتھیاروں کی جنگ سمجھ رہے تھے، ویت منہ اسے ارادے، وقت اور جغرافیے کی جنگ سمجھ رہا تھا۔

ویت منہ کے کمانڈر جنرل ”وو نگوین جیاپ“ نے روایتی انداز میں حملہ کرنے کے بجائے فرانسیسی اڈے کا محاصرہ شروع کر دیا۔ توپیں پہاڑوں میں چھپائی گئیں۔ ہزاروں مقامی لوگ رسد پہنچانے کے لیے استعمال ہوئے۔ دشوار گزار راستوں سے خوراک، گولہ بارود اور فوجی سامان محاذ تک پہنچایا گیا۔

فرانس کے پاس طاقتور توپیں تھیں، مگر ویت منہ کے پاس وہ پہاڑ تھے جن پر توپیں چھپائی جا سکتی تھیں۔

فرانس کے پاس طیارے تھے، مگر ویت منہ نے زمین پر ایسا محاصرہ قائم کر دیا تھا کہ فضائی رسد بھی مسلسل خطرے میں آ گئی۔

فرانس کے پاس جدید فوج تھی، مگر جیاپ کے پاس وقت تھا اور جنگ میں کبھی کبھی وقت بھی ایک ہتھیار بن جاتا ہے۔

مارچ 1954 ء کو ڈین بین پھو کی جنگ شروع ہوئی۔ فرانسیسی فوج کو ابتدا میں شاید اندازہ نہیں تھا کہ وہ جس مقام کو اپنی طاقت کا مظہر سمجھ رہی ہے، وہی اس کے لیے ایک جال بننے والا ہے۔ ویت منہ نے فرانسیسی دفاعی پوزیشنوں پر مسلسل دباؤ بڑھایا۔ خندقیں آگے بڑھتی گئیں۔ فرانسیسی فوج کا دائرہ سکڑتا گیا۔ رسد مشکل ہوتی گئی اور بالآخر وہ لمحہ آ گیا جب جدید فوجی طاقت رکھنے والی فرانسیسی فوج ایک ایسے محاصرے میں پھنس چکی تھی جس سے نکلنا آسان نہیں تھا۔

صرف 56 روز بعد ، 7 مئی 1954 ء کو فرانسیسی فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔

ایک بڑی نوآبادیاتی طاقت ایک نسبتاً کم وسائل رکھنے والی مقامی قوت کے ہاتھوں فیصلہ کن شکست کھا چکی تھی۔ یہ صرف ایک فوجی شکست نہیں تھی۔ اس شکست نے فرانس کے پورے نوآبادیاتی منصوبے کو ہلا کر رکھ دیا اور فرانسیسی ہند چین میں اس کے مستقبل پر بنیادی سوال کھڑا کر دیا۔ بالآخر فرانس کو ویت نام اور خطے سے اپنے نوآبادیاتی اقتدار کے خاتمے کی طرف جانا پڑا۔

ڈین بین پھو کی لڑائی ہمیں ایک بنیادی حقیقت یاد دلاتی ہے کہ طاقت اور فتح ایک ہی چیز نہیں ہوتی۔ ایک ملک کے پاس زیادہ ٹینک ہوسکتے ہیں، زیادہ طیارے ہوسکتے ہیں، جدید ترین میزائل ہوسکتے ہیں، بڑی فوج ہو سکتی ہے، زیادہ دولت ہو سکتی ہے ؛ لیکن اگر اسے یہ یقین ہو جائے کہ مخالف صرف اس لیے ہار جائے گا کہ وہ کمزور ہے، تو یہی یقین اس کی سب سے بڑی کمزوری بن سکتا ہے۔

تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ بڑی طاقتیں چھوٹی قوموں کو محض اعداد و شمار کی نظر سے دیکھتی رہیں اور پھر جنگ کے میدان میں انہیں معلوم ہوا کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑتیں، اپنے یقین سے بھی لڑتی ہیں۔

ڈین بین پھو میں فرانس کے پاس بندوقیں زیادہ تھیں، مگر ویت منہ کے پاس مقصد زیادہ واضح تھا۔
فرانس کے پاس جدید فوجی ٹیکنالوجی تھی، مگر جیاپ نے جنگ کو اپنی شرائط پر لڑا۔
فرانس کے پاس طاقت تھی، مگر ویت منہ نے اس طاقت کو استعمال کرنے کا موقع ہی محدود کر دیا۔

یہاں ایک اور اہم سبق بھی ہے۔ کمزور فریق کا کامیاب ہونا محض جذبات یا بہادری کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس کے پیچھے حکمتِ عملی، مقامی جغرافیے کا گہرا علم، رسد کا غیر معمولی انتظام، طویل جنگ برداشت کرنے کی صلاحیت اور عوامی تعاون موجود تھا۔

آج دنیا پھر طاقت کے مظاہروں کے دور میں داخل ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے جنگی بجٹ، جدید میزائلوں، ڈرونز، طیارہ بردار جہازوں اور ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد گنواتی ہیں۔ چھوٹے ممالک اپنی کمزوری جانتے ہیں، مگر تاریخ انہیں یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت کا توازن ہمیشہ جنگ کا نتیجہ طے نہیں کرتا۔

جنگ جیتنے کے لیے صرف دشمن سے زیادہ طاقتور ہونا کافی نہیں ؛ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ دشمن کس چیز کے لیے لڑ رہا ہے، کتنی دیر لڑ سکتا ہے اور اس کی زمین اس کے لیے کتنی بڑی طاقت بن سکتی ہے۔

طاقت اگر غرور بن جائے تو کمزوری بن سکتی ہے۔ اور کمزوری اگر عزم، حکمت اور صبر کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW