سمندری محافظ: پاکستان نیوی کا سفرِ عزم

سمندر بظاہر خاموش ہوتا ہے، مگر اس کی لہروں میں کسی قوم کی سلامتی، معیشت اور مستقبل کی کہانی پوشیدہ ہوتی ہے۔ پاکستان خوش قسمت ہے کہ اسے بحیرۂ عرب کے کنارے ایک ایسی جغرافیائی حیثیت حاصل ہے جہاں سے نہ صرف اس کی تجارت کے دروازے کھلتے ہیں بلکہ خطے کی اہم بحری گزرگاہیں بھی گزرتی ہیں۔ کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں، سی پیک کی سمندری راہ اور ملک کی طویل ساحلی پٹی پاکستان کی بحری اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ اس پورے منظرنامے میں پاکستان نیوی وطن کی سمندری خودمختاری کی محافظ ہے۔
پاکستان کے قیام کے وقت بحریہ کو محدود وسائل کے ساتھ ایک مشکل سفر شروع کرنا پڑا۔ تقسیمِ ہند کے نتیجے میں پاکستان کو بحری جنگی ساز و سامان کا نسبتاً معمولی حصہ ملا۔ مگر محدود وسائل نے پاکستانی قوم کے حوصلے کو محدود نہیں کیا۔ ابتدائی برسوں میں بحری اڈوں، تربیتی مراکز، افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور جنگی صلاحیتوں کو منظم کیا گیا۔ رفتہ رفتہ پاکستان نیوی نے اپنے جہازوں، آبدوزوں، ہوائی دستوں، ساحلی دفاع اور خصوصی دستوں کی صلاحیت میں اضافہ کیا۔
پاکستان نیوی کے قیام کا بنیادی مقصد ملک کی سمندری حدود کا دفاع، دشمن کی بحری جارحیت کو روکنا، بندرگاہوں اور ساحلی تنصیبات کی حفاظت، سمندری تجارت کے راستوں کو محفوظ بنانا اور قومی مفادات کا تحفظ تھا۔ وقت کے ساتھ اس کے فرائض میں سمندری دہشت گردی، بحری قزاقی، غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام، سمندر میں امدادی کارروائیاں اور قدرتی آفات کے دوران انسانی خدمت بھی شامل ہو گئی۔
پاکستان نیوی کی ترقی ایک دن میں نہیں ہوئی بلکہ یہ کئی دہائیوں پر محیط مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ابتدائی دور میں بیرونِ ملک سے حاصل کیے گئے جنگی جہازوں پر انحصار کیا گیا۔ پھر پاکستان نے جدید آبدوزیں حاصل کیں، بحری ہوائی قوت کو مضبوط کیا، میزائل بردار جہاز شامل کیے اور نئے بحری جنگی جہازوں کی تعمیر کی طرف قدم بڑھایا۔ اس سفر کا ایک اہم مرحلہ کراچی شپ یارڈ میں جنگی جہازوں کی تعمیر اور آبدوزوں کی تیاری میں پاکستانی ماہرین کی بڑھتی ہوئی شمولیت ہے۔ آج پاکستان صرف بحری جہاز خریدنے والا ملک نہیں بلکہ کئی پیچیدہ بحری نظام تیار کرنے اور تعمیر کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرچکا ہے۔
پاکستان نیوی کے اہم مراکز میں کراچی میں واقع بحریہ کا مرکزی صدر دفتر، پی این ایس کارساز، پی این ایس مہران، پی این ایس اقبال اور کراچی کی بحری جہاز ساز تنصیبات نمایاں ہیں۔ اورماڑہ میں قائم جناح بحری اڈہ پاکستان کے ساحلی دفاع میں اہم حیثیت رکھتا ہے، جبکہ گوادر کی بڑھتی ہوئی معاشی اور تزویراتی اہمیت کے باعث وہاں موجود بحری تنصیبات بھی مستقبل میں مزید اہمیت اختیار کر رہی ہیں۔ پاکستان میرینز، آبدوزوں کا شعبہ، بحری ہوابازی اور خصوصی خدمات انجام دینے والے دستے بھی پاکستان نیوی کی مجموعی قوت کا اہم حصہ ہیں۔
1965 ء کی جنگ پاکستان نیوی کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب پاکستانی بحری جنگی جہازوں نے بھارتی ساحل پر واقع دوارکا کے علاقے میں کارروائی کی۔ اس کارروائی کا مقصد بھارتی ساحلی نگرانی اور مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچانا اور دشمن پر یہ واضح کرنا تھا کہ پاکستان اپنی بحری حدود کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ کارروائی پاکستانی بحری جوانوں کے حوصلے اور پیشہ ورانہ تیاری کی علامت بن گئی۔
1971 ء کی جنگ پاکستان کے لیے انتہائی مشکل مرحلہ تھی، لیکن اسی جنگ میں پاکستانی آبدوز ہنگور نے 9 دسمبر 1971 ء کو بھارتی بحری جہاز کھکری کو غرق کر کے بحری تاریخ میں اپنا نام درج کرایا۔ ہنگور کی کارروائی پاکستان نیوی کے لیے غیر معمولی عسکری کامیابی سمجھی جاتی ہے اور آج بھی اس کے نام پر بننے والی نئی آبدوزیں اس تاریخی ورثے کی یاد دلاتی ہیں۔
اسی لیے ہر سال 8 ستمبر کو پاکستان نیوی ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1965 ء کی جنگ میں پاکستان نیوی کی دوارکا کارروائی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک جنگی کامیابی کی یاد نہیں بلکہ ان تمام بحری جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے جو سمندر کی گہرائیوں اور لہروں کے درمیان وطن کے دفاع کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔
پاکستان نیوی کا کردار صرف جنگ تک محدود نہیں۔ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ سمندری تجارت سے وابستہ ہے۔ ہماری درآمدات اور برآمدات کا بیشتر حصہ بندرگاہوں کے ذریعے آتا جاتا ہے۔ اگر سمندری راستے محفوظ نہ ہوں تو ملکی تجارت، صنعت اور توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ پاکستان نیوی ان بحری راستوں، بندرگاہوں اور ساحلی تنصیبات کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
پاکستان کے لیے سمندر مستقبل کی معیشت کا بھی ایک بڑا میدان ہے۔ ماہی گیری، بندرگاہیں، سمندری تجارت، ساحلی سیاحت، سمندری تحقیق، معدنی وسائل اور سمندر سے حاصل ہونے والی توانائی ایسے شعبے ہیں جن میں پاکستان کے لیے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ اسے ہم ”نیلی معیشت“ کہہ سکتے ہیں۔ پاکستان نیوی سمندری نگرانی، ساحلی تحفظ، سمندری تحقیق اور بحری آگاہی کے ذریعے اس وسیع قومی منصوبے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔
سمندری آلودگی کے خلاف اقدامات بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ پلاسٹک، صنعتی فضلہ، تیل اور دیگر کچرا سمندری حیات کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان نیوی مختلف مواقع پر ساحلوں کی صفائی، آگاہی اور سمندری ماحول کے تحفظ کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہے۔ تاہم سمندر کی صفائی صرف ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں ؛ حکومت، صنعت، شہریوں، ماہی گیروں اور ساحلی آبادیوں کو مل کر اس قومی فریضے کو انجام دینا ہو گا۔
پاکستان نیوی نے عالمی سطح پر بھی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت منوائی ہے۔ کراچی میں ہونے والی ”امن“ بحری مشقیں اس کی ایک نمایاں مثال ہیں۔ ان مشقوں میں مختلف ممالک کی بحری افواج شرکت کرتی ہیں۔ اس کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنی بحری صلاحیت کا اظہار کرتا ہے بلکہ مختلف ملکوں کے ساتھ تعاون، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ تربیت کے مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔ چین، ترکیہ، سعودی عرب، امریکہ، برطانیہ، جاپان، ملائیشیا، انڈونیشیا، سری لنکا اور کئی دوسرے ممالک کے ساتھ پاکستان کے بحری روابط اس تعاون کو مزید وسعت دیتے ہیں۔
پاکستان نیوی کی موجودہ قیادت ایڈمرل نوید اشرف کے ہاتھوں میں ہے، جنہوں نے اکتوبر 2023 ء میں بحریہ کی کمان سنبھالی۔ ان کے دور میں جدید بحری جہازوں، آبدوزوں، بحری ہوابازی، تربیت، سمندری نگرانی اور عالمی بحری تعاون پر توجہ دی جا رہی ہے۔ چین کے ساتھ آبدوزوں کی تیاری کا پروگرام اور پاکستان میں جدید بحری جہازوں کی تعمیر پاکستان کے بڑھتے ہوئے فنی اعتماد کی علامت ہے۔
موجودہ قومی دفاعی نظام میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سربراہی میں تینوں مسلح افواج کے درمیان باہمی تعاون اور مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی دفاعی ضرورتیں اب صرف بری، بحری یا فضائی قوت کو الگ الگ مضبوط کرنے تک محدود نہیں بلکہ تینوں افواج کے درمیان مربوط کارروائی کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس تناظر میں پاکستان نیوی کی جدید کاری اور بحری دفاع کو قومی دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
افرادی قوت اور جنگی وسائل کے اعتبار سے پاکستان نیوی ایک نسبتاً محدود مگر جدید اور مخصوص دفاعی ضرورتوں کے مطابق تیار کی گئی قوت ہے۔ دستیاب بین الاقوامی دفاعی جائزوں کے مطابق اس میں تقریباً تیس ہزار فعال اہلکار ہیں۔ اس کے پاس آبدوزیں، جنگی بحری جہاز، میزائل بردار کشتیاں، بحری طیارے، ہیلی کاپٹر اور ساحلی نگرانی کے مختلف نظام موجود ہیں۔ جدید آبدوزوں اور میزائل نظام کی وجہ سے پاکستان نیوی کی اصل طاقت صرف جہازوں کی تعداد نہیں بلکہ دشمن کے لیے سمندر میں خطرہ پیدا کرنے اور اپنی ساحلی حدود کے دفاع کی صلاحیت ہے۔
بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی بحری قوت مجموعی تعداد کے لحاظ سے کم ہے، لیکن پاکستان نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں آبدوزوں، میزائلوں، بحری ہوابازی، نگرانی کے نظام اور جدید ٹیکنالوجی کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نیوی خطے میں ایک ایسی قوت کے طور پر موجود ہے جسے کسی بھی ممکنہ جنگ میں نظر انداز کرنا آسان نہیں۔
آج پاکستان نیوی کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہ ہے کہ اس نے محدود وسائل سے سفر شروع کر کے ایک ایسی بحری قوت کی شکل اختیار کی ہے جو نہ صرف وطن کی سمندری سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے بلکہ قومی معیشت، عالمی تجارت، ساحلی آبادیوں اور پاکستان کے مستقبل کے سمندری مفادات کی محافظ بھی بن چکی ہے۔
8 ستمبر ہمیں دوارکا کی لہروں میں گونجنے والی وہ آواز یاد دلاتا ہے جو دشمن کو پیغام دے رہی تھی کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے تیار ہے۔ آج کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود اس عزم کی روح وہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے پاس محدود وسائل تھے، جبکہ آج اس کے پاس تجربہ، تربیت، جدید ٹیکنالوجی، آبدوزیں، جنگی جہاز، بحری ہوابازی اور اپنی دفاعی صنعت کو آگے بڑھانے کا عزم موجود ہے۔
سمندر کی لہریں کبھی رکتی نہیں۔ پاکستان نیوی کا سفر بھی رکنے والا نہیں۔ کیونکہ جس قوم نے محدود وسائل سے اپنی بحری قوت کھڑی کی ہو، وہ اگر خود انحصاری، علم، تحقیق اور قومی عزم کو اپنا شعار بنا لے تو بحیرۂ عرب کی لہروں سے اٹھنے والی یہ طاقت آنے والی نسلوں کے لیے پاکستان کی ترقی اور سلامتی کی نئی داستان لکھ سکتی ہے۔ نیوی سمیت تمام فورسز کے ان شہداء کو سلام جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جانیں لہروں کے سپرد کر دیں۔
پاکستان زندہ باد، پاکستان نیوی پائندہ باد!
