ہم غریب کیوں ہیں؟

پاکستان میں غربت پر گفتگو ہو تو ہماری انگلی فوراً حکومت، مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن، سیاسی عدم استحکام اور عالمی معاشی حالات کی طرف اٹھتی ہے۔ یہ تمام عوامل واقعی اہم ہیں اور کسی سنجیدہ تجزیے میں انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مگر ایک تلخ سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہماری اپنی کچھ عادات، ترجیحات اور سماجی رویے بھی غربت کو طول دینے میں کردار ادا کرتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ غربت صرف کم آمدنی کا نام نہیں۔ غربت ایک ایسا چکر بھی ہے جس میں کم آمدنی، کم مواقع، کم تعلیم، غلط مالی فیصلے، سماجی دباؤ اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا فقدان ایک دوسرے کو مضبوط کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے اگر ہم غربت سے نکلنا چاہتے ہیں تو ہمیں حکومت سے سوال کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے معاشرتی رویوں کا احتساب بھی کرنا ہو گا۔ پاکستانی معاشرے میں سرکاری ملازمت کا جنون اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ لاکھوں نوجوان برسوں صرف اس انتظار میں گزار دیتے ہیں کہ کسی دن گریڈ 11، 14، 16 یا 17 کی سرکاری اسامی نکلے گی اور زندگی سنور جائے گی۔ اس انتظار میں عمر کا قیمتی حصہ گزر جاتا ہے۔ پرائیویٹ ملازمت، فری لانسنگ، ہنر سیکھنے یا چھوٹا کاروبار شروع کرنے کو اکثر اپنی شان کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ دنیا کی معیشت میں بہت سے کامیاب لوگ چھوٹے کام سے بڑے مقام تک پہنچے ہیں۔ مسئلہ کام کی نوعیت نہیں، ہمارے ذہن میں کام کی عزت کا پیمانہ ہے۔
اسی ذہنیت کا ایک دوسرا پہلو دکھاوے کی شادیوں میں نظر آتا ہے۔ بعض خاندان برسوں کی جمع پونجی چند گھنٹوں کی تقریب پر خرچ کر دیتے ہیں۔ مہمانوں کی تعداد، کھانے کی اقسام، ہال کی شان و شوکت، جہیز اور لباس سب کچھ معاشرتی مقابلے کا حصہ بن جاتا ہے۔ پھر یہی خاندان برسوں قرض اتارتے رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا شادی زندگی شروع کرنے کا نام ہے یا زندگی بھر کی مالی مشکلات شروع کرنے کا؟ ہماری تعلیم بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ڈگریاں بڑھ رہی ہیں، مگر مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق عملی مہارتیں اس رفتار سے نہیں بڑھ رہیں۔ نوجوان کے پاس ڈگری تو ہے لیکن communication، digital skills، زبان، تحقیق، ٹیکنالوجی یا کاروباری صلاحیت نہیں۔ آج کی دنیا میں صرف سند کافی نہیں ؛ علم کو قابلِ استعمال ہنر میں تبدیل کرنا بھی ضروری ہے۔ ڈگری دروازہ کھول سکتی ہے، مگر اندر داخل ہونے کے لیے قابلیت درکار ہوتی ہے۔
مشترکہ خاندانی نظام اپنی جگہ ایک خوبصورت روایت ہو سکتا ہے، مگر جب خاندان کا ایک فرد کمائے اور باقی افراد اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہوجائیں تو یہی نظام بوجھ بن جاتا ہے۔ والدین، بہن بھائی اور بچوں کی مدد اخلاقی ذمہ داری ہے، مگر مستقل انحصار کسی ایک کمانے والے کی معاشی ترقی روک دیتا ہے۔ مدد اور مفت خوری کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اسی طرح ہماری بچت کی عادات بھی غور طلب ہیں۔ کمیٹی ڈالنا بذاتِ خود غلط نہیں، لیکن اگر بچت کا پورا تصور صرف رقم جمع کر کے مقررہ مدت کے بعد وہی رقم واپس لینے تک محدود ہو تو مہنگائی اس رقم کی حقیقی قوتِ خرید کو کم کر سکتی ہے۔ مالی تعلیم کا تقاضا ہے کہ انسان بچت کے ساتھ محفوظ اور مناسب سرمایہ کاری کے بنیادی اصول بھی سمجھے۔
ہماری معاشرتی انا بھی کئی مواقع ضائع کرتی ہے۔ ”میں فلاں خاندان سے ہوں، فلاں کا بیٹا ہوں، میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں؟“ یہ جملہ بظاہر وقار کی علامت لگتا ہے، مگر کبھی کبھی انسان کے ہاتھ باندھ دیتا ہے۔ کوئی کاروبار چھوٹا نہیں ہوتا، کوئی ہنر حقیر نہیں ہوتا اور حلال روزگار کبھی باعثِ شرم نہیں ہو سکتا۔ ریڑھی، دکان، آن لائن کام، دستکاری یا چھوٹا کاروبار۔ اگر انسان محنت اور دیانت سے کرتا ہے تو وہ بے روزگاری سے کہیں بہتر راستہ ہے۔ صحت بھی دولت کا حصہ ہے۔ غیر متوازن خوراک، ورزش سے دوری، تمباکو نوشی اور بے احتیاط طرزِ زندگی انسان کو مستقبل میں بڑے طبی اخراجات کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ جو شخص اپنی صحت کو مسلسل نظرانداز کرتا ہے، وہ دراصل اپنی آمدنی کا ایک حصہ مستقبل کی بیماریوں کے لیے محفوظ کر رہا ہوتا ہے۔
پھر شارٹ کٹ کی ہماری شدید خواہش ہے۔ ہمیں دولت چاہیے مگر وقت نہیں دینا، کامیابی چاہیے مگر مہارت نہیں سیکھنی، کاروبار چاہیے مگر تجربہ نہیں حاصل کرنا۔ یہی ذہنیت لوگوں کو جعلی سرمایہ کاری اسکیموں، فراڈ، غیر حقیقی منافع کے وعدوں اور مختلف مالیاتی دھوکوں کا شکار بناتی ہے۔ دولت عموماً کسی ایک رات کے معجزے سے نہیں بلکہ مسلسل محنت، درست فیصلوں اور وقت کے ساتھ بنتی ہے۔ الزام تراشی بھی ایک خطرناک نفسیاتی سہارا ہے۔ حکومتیں واقعی ناکام ہو سکتی ہیں، نظام میں خامیاں واقعی ہو سکتی ہیں اور معاشی پالیسیاں واقعی زندگی مشکل بنا سکتی ہیں۔ لیکن اگر انسان اپنی ہر ناکامی کا ذمہ دار صرف دوسروں کو قرار دے تو وہ اپنی اصلاح کا دروازہ خود بند کر دیتا ہے۔ ایک کامیاب معاشرہ حکومت سے جواب بھی مانگتا ہے اور فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے۔
ہماری ایک اور کمزوری غیر ضروری نمود و نمائش ہے۔ ایسی چیز خریدنے کے لیے قرض لینا جس کی ضرورت ہی نہیں، صرف اس لیے کہ دوسروں پر اثر پڑے، مالی دانش مندی نہیں۔ مہنگا موبائل، گاڑی، لباس یا تقریب اگر آمدنی سے زیادہ بوجھ بن جائے تو وہ آسائش نہیں، مالی دباؤ ہے۔ اسی طرح سیکھنے کا عمل ڈگری کے ساتھ ختم نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ جو شخص نئی مہارت نہیں سیکھتا، اس کی مارکیٹ ویلیو وقت کے ساتھ کم ہو سکتی ہے۔ کتاب، کورس، ٹیکنالوجی، زبان، تحقیق اور تجربہ یہ سب دراصل انسان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہیں۔
آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی بھی غربت کے مسئلے سے جڑی ہوئی ہے۔ بچوں کی تعداد صرف جذبات کا نہیں، وسائل کا بھی سوال ہے۔ ہر بچے کو اچھی خوراک، تعلیم، صحت، تربیت اور محفوظ مستقبل دینے کے لیے مناسب وسائل درکار ہوتے ہیں۔ اولاد کو مستقبل کی آمدنی کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے ایک مکمل انسانی ذمہ داری سمجھنا ہو گا۔ نہ پاکستانیوں کے والدین، نہ ان کے دادا پردادا، کسی کی بھی پیرنٹنگ کی کوئی تربیت نہیں ہے۔ ان کو کچھ پتہ ہی نہیں کہ ہم نے پیرنٹنگ کیسے کرنی ہے۔
رسک سے مکمل خوف بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص اپنی جمع پونجی کسی غیر یقینی کاروبار میں لگا دے۔ اصل ضرورت ”حساب شدہ خطرے“ کی سمجھ ہے۔ محفوظ بچت، متنوع سرمایہ کاری، چھوٹے پیمانے پر کاروبار اور مسلسل سیکھنے کا راستہ اندھے رسک سے کہیں بہتر ہے۔ امیر لوگوں کے بارے میں ہمارا رویہ بھی کبھی کبھی عجیب ہوتا ہے۔ ہر دولت مند شخص کو حرام خور سمجھ لینا اتنا ہی غلط ہے جتنا ہر امیر شخص کو کامیابی کی مثالی علامت سمجھنا۔ دولت کے ذرائع کا جائزہ ضرور ہونا چاہیے، مگر حسد اور تحقیق میں فرق ہے۔ بہتر سوال یہ ہے کہ اس شخص نے کیا سیکھا، کون سا مسئلہ حل کیا، کس طرح کاروبار بنایا اور کون سی غلطیاں نہیں کیں؟
اور آخر میں وقت۔ غریب انسان کے پاس شاید سرمایہ کم ہو، مگر اس کے پاس وقت ایک ایسا سرمایہ ہے جو اگر درست استعمال ہو تو زندگی بدل سکتا ہے۔ گھنٹوں فضول بحث، مسلسل سوشل میڈیا، غیر ضروری محفلیں اور بے مقصد مصروفیات انسان کو بظاہر مصروف مگر حقیقت میں غیر پیداواری بنا دیتی ہیں۔ تاہم یہ کہنا بھی نا انصافی ہوگی کہ پاکستان کی غربت صرف افراد کی سستی، انا یا غلط عادات کا نتیجہ ہے۔ کمزور ادارے، مہنگائی، کم اجرت، ناقص تعلیم، محدود روزگار، توانائی کے مسائل، سیاسی عدم استحکام، ٹیکس کا غیر مساوی نظام، کرپشن اور مواقع کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے ساختی مسائل بھی حقیقی ہیں۔ ایک غریب آدمی کو صرف یہ کہہ دینا کہ ”اپنا دماغ بدل لو“ مسئلے کا مکمل حل نہیں۔
اصل ضرورت ایک دو طرفہ انقلاب کی ہے۔ ریاست اپنے نظام کو بہتر کرے اور شہری اپنی عادات کو۔ حکومت روزگار، تعلیم، صحت اور کاروباری مواقع پیدا کرے، جبکہ فرد ہنر، محنت، بچت، منصوبہ بندی اور ذمہ داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ کیونکہ غربت صرف اس وقت ختم نہیں ہوتی جب جیب میں زیادہ پیسہ آ جائے ؛ غربت اس وقت کم ہونا شروع ہوتی ہے جب انسان کی سوچ میں مستقبل پیدا ہوتا ہے۔ قومیں صرف بجٹ سے امیر نہیں ہوتیں، وہ اپنی ترجیحات بدل کر امیر ہوتی ہیں۔
