کالم۔

اسرائیل: جب مظلوم ظالم بن جائیں

dr khalid sohail

عمر بارٹو ایک یہودی پروفیسر ہیں جنہوں نے نسل کشی کے موضوع پر تحقیق کر کے بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ ان کی حالیہ کتاب کا نام ISRAEL: WHAT WENT WRONG؟ ہے۔ اس کتاب کے دیباچے کے چند اقتباسات کی تلخیص اور ترجمہ حاضر خدمت ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

میرے دادا ایک یہودی تھے جو پولینڈ میں پلے بڑھے۔ چونکہ پولینڈ میں یہودیوں کے خلاف تعصب اور نفرت پائی جاتی تھی اس لیے انہیں پولینڈ سے لا کر فلسطین میں آباد کر دیا گیا۔ میرے دادا صیہونی سوچ کے مالک تھے۔

ہمارے خاندان کے مالی حالات اتنے خراب تھے کہ میرے والد کو پندرہ برس کی عمر میں سکول چھوڑ کر ملازمت کرنی پڑی تا کہ وہ خاندان کا خیال رکھ سکیں۔ میرے والد بھی صیہونی سوچ کے مالک تھے۔ میرے والد یہودیوں پر ظلم و ستم کے چشم دید گواہ تھے۔ وہ ساری عمر ان تلخ یادوں سے چھٹکارا نہ پا سکے۔

میرے والد اسرائیل کے وفادار شہری تھے۔ اپنی نوجوانی میں میں نے جب انہیں بتایا کہ میں اسرائیل سے امریکہ ہجرت کر رہا ہوں تو وہ زیادہ خوش نہ تھے لیکن جب بنجامین نیتن یاہو اسرائیل کے وزیر اعظم بنے اور انہوں نے فلسطینیوں کے ساتھ ظلم کرنا شروع کیا تو میرے والد بہت دلبرداشتہ ہوئے۔

میری والدہ بھی پولینڈ میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے بھی پولینڈ میں یہودیوں کے خلاف ظلم و ستم ہوتا دیکھا۔ وہ بھی یہودیوں کے خلاف تعصب کی وجہ سے گیارہ برس کی عمر میں پولینڈ سے ہجرت کر کے فلسطین آ گئیں۔ میری والدہ بھی صیہونی سوچ کی مالک تھیں۔

میں خود اسرائیل میں پیدا ہوا۔ میں نے بچپن میں سنا تھا کہ پولینڈ میں میرے ننھیال اور ددھیال کے بہت سے رشتہ دار اس لیے قتل کر دیے گئے تھے کیونکہ وہ یہودی تھے۔ میرے والدین خوش قسمتی سے زندہ بچ گئے تھے۔ میری پرورش اسرائیل کے ایسے کبوتز میں ہوئی جہاں کے باسی سوشلسٹ نظریات کے حامل تھے۔ وہ سب مل کر کماتے اور کھاتے تھے۔ اس کبوتز میں ذاتی ملکیت کا کوئی تصور نہ تھا۔

اسرائیل میں ہر نوجوان کا فوج میں جانا لازمی ہے اس لیے میں بھی چار سال اسرائیلی فوج کا حصہ رہا۔ میرے دل میں فلسطینیوں کے بارے میں ہمدردی ان دنوں پیدا ہوئی جب میرا فوجی تقرر غزہ میں ہوا اور میں نے فلسطینیوں کی آنکھوں میں اسرائیلی فوجیوں کے بارے میں خوف کے سائے دیکھے۔ مجھے ان دنوں اندازہ ہوا کہ اسرائیلی فوج کتنی ظالم ہے۔

فوج کی ملازمت کے بعد میں نے اپنی یونیورسٹی کی تعلیم جاری رکھی اور تاریخ کے مضمون میں تخصص حاصل کیا۔
جب میں فوج کا حصہ تھا تو سوچا کرتا تھا
فوجی کیوں لڑتے ہیں؟
کیا فوجی
ذاتی مفاد کے لیے لڑتے ہیں؟
قومی مفاد کے لیے لڑتے ہیں؟
یا انسانیت کی بہتری کے لیے لڑتے ہیں؟

میں نے جب اوکسفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تو میری تحقیق کا موضوع یہ تھا کہ جرمن فوج نے نازی سپاہیوں کی کن خطوط پر تربیت کی کہ وہ یہودیوں کی نسل کشی کے لیے تیار ہو گئے۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ فوجیوں کو نسل کشی کے لیے کیسے تیار کیا جاتا ہے؟

1987 میں جب فلسطین میں انتفادہ کا آغاز ہوا اور فلسطینی بچوں اور نوجوانوں نے اسرائیلی فوجیوں پر سنگباری شروع کی تو مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ اسرائیل کے وزیر دفاع نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ جو بچے تم پر پتھر پھینکتے ہیں تم ان کے ’بازو اور ٹانگیں توڑ دو‘ ۔

میں نے وزیر دفاع یٹزک ربین کو خط لکھا کہ تم اسرائیلی فوجیوں کو اسی راستے پر لے جا رہے ہو جس راستے پر جرمن حکومت اپنے نازی فوجیوں کو لے کر گئی تھی۔

مجھے یٹزک ربین کا خط آیا اور انہوں نے مجھے سرزنش کی کہ میں نے اسرائیلی فوجیوں کا تقابل جرمن فوجیوں سے کیا ہے۔

میں نے اس پیغام کے بعد یٹزک ربین کو ایک اور تفصیلی خط لکھ کر بتایا کہ اسرائیل کے مسلح فوجی نہتے فلسطینیوں کو قتل کر رہے ہیں۔

بعد میں مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ یٹزک ربین کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور انہوں نے یاسر عرفات سے ہاتھ ملا کر اوسلو کے معاہدہ امن پر دستخط کیے ہیں۔ (بدقسمتی سے اس معاہدے کے کچھ عرصہ بعد یٹزک ربین کو ایک شدت پسند یہودی نے قتل کر دیا تھا۔ )

میں 1989 سے ایک امریکی یونیورسٹی میں پروفیسر کی حیثیت سے پڑھا رہا ہوں۔ میں نے نسل کشی کے حوالے سے تحقیق بھی کی ہے اور کتابیں بھی لکھی ہیں۔

میں رہتا تو امریکہ میں ہوں لیکن میرا اسرائیل سے گہرا رشتہ ہے کیونکہ میرے بہت سے دوست اور رشتہ دار اسرائیل میں بسے ہوئے ہیں۔ میرا بڑا بیٹا بھی اپنی بیوی بچوں سمیت اسرائیل میں رہتا ہے۔

مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوا ہے کہ میرے پرانے دوست اور رشتہ دار جو ایک زمانے میں امن پسند انسان ہوتے تھے وہ دھیرے دھیرے فلسطینیوں کے اتنے خلاف ہو گئے ہیں کہ ان کے دلوں کو محبت کی جگہ نفرت کے جذبات نے بھر دیا ہے۔ وہ بنجامن نیتن یاہو کی شدید نفرت کا حصہ بن گئے ہیں اور فلسطینوں کی نسل کشی کے حامی بن گئے ہیں۔

یہ ہمارے دور کا المیہ ہے کہ
وہ یہودی جنہوں نے نازیوں کے ظلم سہے
ان ہی یہودیوں کے بچے
اب فلسطینیوں پر ظلم کر رہے ہیں
وہ فلسطینیوں کے ساتھ وہی ظلم کر رہے ہیں جو جرمنوں نے ان کے آبا و اجداد کے ساتھ کیے تھے۔
میں نے اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں کے سامنے مظلوموں کو ظالم بنتے دیکھا ہے۔

Facebook Comments Box

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔
Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
نعیم اشرف
نعیم اشرف
11 hours ago

Good read. Although , it’s not a justification that oppressions should be recoiled with oppression.

habeeb sheikh
habeeb sheikh
10 hours ago

Another good article on this topic. Just a point needs to be emphasized: The oppression did not begin during the period of the current prime minster. It has been going on even before Nakaba of 1948 by the two Israelis militias during the British rule on Palestine.

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW