بلاگ

کیا ہم آزاد ہیں یا غلام؟

bin yamin khan

ہم ایک آزاد ملک کے شہری ہیں لیکن کبھی کبھی ایک سوال پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے کہ کیا ہم بحیثیت شہری بھی واقعی آزاد ہیں؟ آزادی صرف اپنی سرحد، پرچم اور حکومت رکھنے کا نام نہیں۔ حقیقی آزادی اس وقت معنی رکھتی ہے جب ریاست اپنے شہری کو عزت، تحفظ، انصاف، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتیں فراہم کرے۔ جب قانون سب کے لیے برابر ہو اور عام شہری اپنے جائز حق کے لیے کسی طاقتور شخصیت، سفارش یا اثر و رسوخ کا محتاج نہ ہو۔ غلامی ہمیشہ زنجیروں کی شکل میں نہیں ہوتی۔ کبھی غلامی خوف بن جاتی ہے، کبھی غربت، کبھی بے بسی اور کبھی ایسا نظام جس میں شہری کو یقین ہو جائے کہ قانون سے زیادہ طاقتور کسی شخص کی سفارش کام آئے گی۔ آج عام آدمی کے ذہن میں ایک بنیادی سوال پیدا ہو رہا ہے کہ ریاست شہری سے کیا لے رہی ہے اور اسے بدلے میں کیا دے رہی ہے؟

بجلی کا بل آتا ہے تو ادائیگی لازم ہے۔ گیس، گاڑی، جائیداد، کاروبار اور مختلف سرکاری خدمات کے لیے ٹیکس، فیسیں اور دیگر محصولات ادا کرنا پڑتے ہیں۔ ریاست کو ریونیو کی ضرورت ہے کیونکہ ٹیکس کے بغیر کوئی ملک نہیں چل سکتا لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ریونیو کا مقصد کیا ہے؟

کیا ریاست کی ذمہ داری صرف شہری سے زیادہ سے زیادہ رقم وصول کرنا ہے یا اس رقم کو شہری کی فلاح، سہولت اور ترقی پر خرچ کرنا بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے؟ عوام میں یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ ریاستی نظام میں شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے مقابلے میں ٹیکس، فیس، جرمانے اور مختلف مدات میں رقم وصول کرنے پر زیادہ توجہ محسوس ہوتی ہے۔ اگر شہری کو بجلی کا بل بروقت ادا کرنا ہے تو اسے مسلسل اور قابلِ اعتماد بجلی بھی ملنی چاہیے۔ اگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ وصول کیا جاتا ہے تو شہری کو محفوظ، منظم اور بہتر ٹریفک نظام بھی ملنا چاہیے۔ اگر شہری ٹیکس ادا کرتا ہے تو اسے یہ پوچھنے کا حق بھی ہونا چاہیے کہ اس ٹیکس کے بدلے اسے کیا ملا؟ ہماری پولیس کا نظام ایسا ہونا چاہیے کہ شہری خود کو محفوظ محسوس کرے۔ ہسپتال ایسا نظام فراہم کریں جہاں غریب مریض کو علاج، ادویات اور ضروری ٹیسٹ کے لیے دروازے دروازے نہ پھرنا پڑے۔ تعلیمی نظام ایسا ہو جہاں غریب اور متوسط طبقے کے بچے بھی معیاری تعلیم حاصل کرسکیں۔ کسان کے لیے ایسا زرعی نظام ہو جہاں اسے پانی، معیاری بیج، کھاد، جدید ٹیکنالوجی، منڈی تک رسائی اور فصل کی مناسب قیمت کے لیے مسلسل مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ریاست صرف سڑک بنا دینے سے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی۔ شہری کو محفوظ سفر، بہتر ٹریفک، صاف پانی، صفائی، نکاسیٔ آب، امن، صحت اور تعلیم بھی چاہیے۔ ایک عام شہری یہ دیکھتا ہے کہ ایک طرف اس کی آمدن محدود ہے، مہنگائی مسلسل اس کی قوتِ خرید متاثر کر رہی ہے، دوسری طرف بجلی، گیس، پٹرول، ٹیکس، فیسیں اور دیگر اخراجات اس کی زندگی مشکل بنا رہے ہیں۔ ایسے میں اگر بنیادی سہولتیں بھی پوری نہ ہوں تو شہری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ ریاست کی ترجیحات کیا ہیں؟

اصل مسئلہ ریونیو وصول کرنا نہیں۔ اصل مسئلہ ریونیو کے استعمال اور ترجیحات کا ہے۔ ایک مضبوط ریاست وہ نہیں جو صرف زیادہ ٹیکس وصول کرے۔ مضبوط ریاست وہ ہے جو معیشت کو وسعت دے، دولت پیدا کرے، روزگار پیدا کرے، اپنی آمدن بڑھائے اور پھر اس آمدن کو عوام کی زندگی بہتر بنانے پر خرچ کرے۔ پاکستان قدرتی وسائل سے محروم ملک نہیں۔ ہمارے پاس معدنیات، قدرتی گیس، زرعی زمین، دریاؤں کا پانی، ہائیڈرو پاور کی صلاحیت، سمندری وسائل اور ایک بڑی نوجوان آبادی موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان وسائل کو ہم نے قومی خوشحالی میں کس حد تک تبدیل کیا؟ قدرتی وسائل صرف زمین کے اندر موجود دولت نہیں ہوتے۔ اگر درست منصوبہ بندی ہو تو یہی وسائل صنعت، بجلی، روزگار، برآمدات اور عوامی فلاح کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر وسائل موجود ہوں اور ملک پھر بھی مسلسل قرضوں کی ضرورت محسوس کرے تو ہمیں اپنی معاشی حکمت عملی پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔

پاکستان کئی برسوں سے بیرونی اور اندرونی قرضوں کے بوجھ کا سامنا کر رہا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینا کسی ایک حکومت کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ کئی دہائیوں پر محیط معاشی پالیسیوں اور مالی ترجیحات کا نتیجہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کب تک قرض لے کر موجودہ اخراجات پورے کرتے رہیں گے، پھر عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالتے رہیں گے اور دوبارہ قرض کی طرف جاتے رہیں گے؟ ہمیں اپنی سوچ بدلنا ہوگی۔ پاکستان کو ریونیو لینے والی ریاست سے ریونیو پیدا کرنے والی ریاست بنانا ہو گا۔ ایسی ریاست جو قدرتی وسائل کو موثر طریقے سے استعمال کرے، زراعت کو جدید بنائے، صنعت کو فروغ دے، برآمدات میں اضافہ کرے، نوجوانوں کو ہنر فراہم کرے، چھوٹے کاروبار کے لیے آسانیاں پیدا کرے، توانائی کے منصوبے بنائے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے۔ پھر اس آمدن کا مقصد صرف سرکاری اخراجات پورے کرنا نہیں بلکہ عوامی فلاح ہونا چاہیے۔

آج مسئلہ یہ بھی ہے کہ عام شہری ایک ہی ضرورت کے لیے کئی مرتبہ اپنی جیب سے ادائیگی کرتا ہے۔ وہ ٹیکس دیتا ہے، پھر بچوں کی تعلیم کے لیے نجی ادارے کی فیس دیتا ہے۔ ٹیکس دیتا ہے، پھر علاج کے لیے نجی ہسپتال جاتا ہے۔ ٹیکس دیتا ہے، مگر امن و تحفظ کے لیے بھی اپنی سطح پر انتظام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بجلی کا بل دیتا ہے، مگر بجلی کے متبادل انتظام پر بھی خرچ کرتا ہے۔ یہ صورتحال شہری پر دوہرا بوجھ ڈالتی ہے۔ ریاست کا کام صرف رقم جمع کرنا نہیں بلکہ شہری کے لیے ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں اسے اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بار بار اضافی مالی بوجھ برداشت نہ کرنا پڑے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ ریاست صرف وفاقی حکومت کا نام نہیں۔ وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر مختلف اداروں کی الگ الگ ذمہ داریاں ہیں۔ اس لیے ہر مسئلے کا ذمہ دار ایک ہی ادارہ قرار دینا درست نہیں۔ لیکن مجموعی نظام کی کارکردگی پر سوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے۔ اگر بجلی کا مسئلہ موجود ہو، امن و امان کے بارے میں شکایات ہوں، ٹریفک کا نظام کمزور ہو، سرکاری ہسپتالوں میں سہولتوں کی کمی ہو، تعلیمی نظام مطلوبہ معیار تک نہ پہنچ رہا ہو، کسان اپنی پیداوار کی مناسب قیمت کے لیے پریشان ہو اور نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہو، تو پھر ریاستی ترجیحات پر سوال ضرور اٹھے گا۔ یہ سوال ملک دشمنی نہیں۔ یہ سوال دراصل شہری ہونے کا حق ہے۔

آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ شہری صرف ریاست کو دینے کے لیے آزاد ہو۔ آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ شہری اپنے حقوق کے لیے سوال کرسکے، اپنی شکایات بیان کرسکے اور بہتر نظام کا مطالبہ کرسکے۔ ہمیں ایسی ریاست چاہیے جہاں ٹریفک جرمانہ وصول کرنا مقصد نہ ہو بلکہ حادثات کم کرنا مقصد ہو۔ جہاں پولیس کا مقصد صرف مقدمہ درج کرنا نہیں بلکہ شہری کو تحفظ دینا ہو۔ جہاں ہسپتال کی عمارت سے زیادہ مریض کی صحت اہم ہو۔ جہاں اسکول کی تعداد سے زیادہ تعلیم کا معیار اہم ہو۔ جہاں کسان سے صرف پیداوار کی توقع نہ کی جائے بلکہ اسے پیداوار کے لیے ضروری سہولتیں بھی دی جائیں۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جس میں حکومت کا بنیادی سوال یہ نہ ہو کہ عوام سے مزید کتنا وصول کیا جاسکتا ہے؟ بلکہ یہ ہو کہ عوام کی زندگی مزید بہتر کیسے بنائی جا سکتی ہے؟ لیکن اس کے ساتھ عوام کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگی۔ ہم قانون کی پابندی کریں، ٹیکس چوری سے گریز کریں، سفارش اور ناجائز اثر و رسوخ کی حوصلہ افزائی نہ کریں، اپنے سے کمزور کا حق نہ ماریں اور ریاستی وسائل کو اپنا ذاتی مال سمجھنے کے بجائے قومی امانت تصور کریں۔ ایک آزاد معاشرہ صرف حکومت کی اصلاح سے نہیں بنتا، شہریوں کے رویے بدلنے سے بھی بنتا ہے۔

آخر میں سوال پھر وہی ہے کہ کیا ہم آزاد ہیں یا غلام؟ اگر آزادی کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہمارے پاس اپنا ملک، پرچم اور سرحدیں ہیں تو ہم آزاد ہیں۔ لیکن اگر آزادی کا مطلب یہ ہے کہ عام آدمی عزت سے جئے، اسے انصاف ملے، اس کے بچوں کو معیاری تعلیم ملے، بیمار کو علاج ملے، کسان خوشحال ہو، نوجوان کو روزگار ملے، شہری محفوظ ہو، بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتیں دستیاب ہوں، قانون سب کے لیے برابر ہو اور ریاست شہری کو صرف ریونیو کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی اصل طاقت سمجھے، تو پھر ہماری آزادی کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ہمیں صرف آزاد ملک نہیں چاہیے۔ ہمیں آزاد، باعزت، محفوظ اور برابر کے شہری بھی چاہئیں۔ ایسا پاکستان جہاں ریاست عوام سے صرف لینے والی قوت نہ ہو، بلکہ عوام کے لیے دولت پیدا کرنے، سہولت فراہم کرنے اور فلاح و بہبود پر خرچ کرنے والی ریاست ہو۔ تب ہی آزادی محض ایک دعویٰ نہیں رہے گی، بلکہ عام آدمی کی زندگی میں نظر آئے گی۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW