بلاگ

دوسروں کے منظر کو اپنی مرضی کا رنگ کیوں دیں؟

mubashara sultan

دوسروں کی زندگی میں جھانکنے کے لیے ہمیں اب کھڑکی کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ موبائل ہاتھ میں ہے، سوشل میڈیا کھلا ہے اور رائے دینے کے لیے دل پہلے ہی بے قرار۔ ہم پاکستانی ویسے بھی اس معاملے میں خاصے خودکفیل واقع ہوئے ہیں۔ اپنی زندگی کے فیصلے چاہے برسوں سوچ کر کریں، دوسروں کی زندگی پر رائے دینے میں ہمیں چند سیکنڈ بھی نہیں لگتے۔ شادی کسی کی ہو، فکر ہمیں؛ بچہ کسی کا ہو، مشورہ ہمارا؛ کوئی نوکری بدلے تو وجہ جاننے کا حق بھی جیسے ہمیں پیدائشی طور پر حاصل ہے۔

اور اگر کسی نے سوشل میڈیا پر کوئی تصویر، ویڈیو یا جملہ ذرا مختلف انداز میں ڈال دیا تو بس پھر کیا کہنا! چند لمحوں میں شخصیت کا تجزیہ، کردار کا فیصلہ اور نیت کی تشریح—سب کچھ مفت اور عموماً بغیر کسی درخواست کے۔ شاید پہلے ہم صرف دوسروں کی زندگی میں جھانکتے تھے، سوشل میڈیا نے ہمیں باقاعدہ جج بھی بنا دیا ہے۔ اب ہم صرف دوسروں کے معاملات میں دلچسپی نہیں لیتے، ان کی زندگی کو اپنی رائے کے ترازو میں تولنا بھی اپنا حق سمجھنے لگے ہیں۔

کسی کی شادی نہیں ہو رہی تو خاندان کی اجتماعی تشویش جاگ اٹھتی ہے۔ کوئی شادی کر لے تو اگلا سوال تیار۔ کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے تو مبارک باد کے ساتھ مستقبل کا پورا خاندانی منصوبہ بھی پیش کر دیا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی کہہ دے کہ "ابھی ہم نے کچھ سوچا نہیں” تو سامنے والے کے چہرے پر ایسی مایوسی آتی ہے جیسے اس منصوبے میں ان کی اپنی سرمایہ کاری لگی ہوئی تھی۔ ہمارے ہاں کسی کی ذاتی زندگی، ذاتی رہنے کے لیے شاید ہی چھوڑی جاتی ہے۔

نوکری بھی ہماری دلچسپی سے محفوظ نہیں۔ کسی نے اچھی خاصی نوکری چھوڑ دی تو فوراً پوچھا جائے گا، "کیوں؟” کاروبار شروع کیا تو "چلے گا؟” اور اگر بیرون ملک چلا گیا تو اگلا سوال تقریباً یقینی ہے: "وہاں کتنا کما لیتے ہو؟” ہمیں شاید انسان سے زیادہ اس کی معلومات میں دلچسپی ہوتی ہے۔

پھر لباس، رہن سہن اور زندگی گزارنے کا انداز بھی ہماری نظر سے محفوظ نہیں۔ کوئی سادہ رہے تو "بے چارہ”، ذرا اچھا پہن لے تو "بہت دکھاوا ہے”، خاموش رہے تو "اکڑ ہے”، زیادہ ہنسے تو "بہت آزاد خیال ہے”۔ گویا معاشرے نے ہر شخص کے لیے ایک مخصوص سانچہ بنا رکھا ہے اور جو اس میں فٹ نہ آئے، اس پر تبصرہ کرنا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔

سوشل میڈیا نے تو اس عادت کو نئی پرواز دے دی ہے۔ پہلے محلے میں دو چار لوگ ہماری زندگی پر تبصرہ کرتے تھے، اب ایک پوسٹ لگاتے ہی معلوم ہوتا ہے کہ مبصرین کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ کسی نے تصویر میں مسکرا دیا تو سوال، "اتنی خوشی کیوں؟” اداس تصویر لگائی تو "کیا ہوا؟” اور کچھ بھی نہ لگائیں تو فکر کہ "آج کل نظر نہیں آ رہے!” ہم نے سوشل میڈیا کو رابطے کا ذریعہ سمجھا تھا، مگر آہستہ آہستہ اسے دوسروں کی زندگی کی کھڑکی بنا لیا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کھڑکی کے پردے بھی ہم خود ہٹاتے ہیں اور پھر شکایت بھی کرتے ہیں کہ لوگ دیکھ کیوں رہے ہیں۔

لیکن آخر ہمیں دوسروں کی زندگی میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ شاید اس لیے کہ دوسروں کی زندگی دیکھنا آسان ہے، اپنی زندگی کا حساب مشکل۔ دوسرے کے فیصلے میں خامی نکالنا آسان ہے، اپنے فیصلے پر سوال اٹھانا ذرا مشکل۔ کبھی کبھی دوسروں کو غلط ثابت کرکے ہمیں اپنے درست ہونے کا اطمینان بھی ملتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہم کسی کی پوری کہانی جانے بغیر اس کے ایک فیصلے پر رائے قائم کر لیتے ہیں۔ ہمیں واقعہ معلوم ہوتا ہے، پس منظر نہیں؛ تصویر نظر آتی ہے، کہانی نہیں۔ پھر بھی فیصلہ مکمل ہوتا ہے۔ کسی کی خاموشی کے پیچھے کیا ہے، ہمیں معلوم نہیں؛ کسی کی مسکراہٹ کتنی مشکل سے آئی، یہ بھی نہیں معلوم۔ مگر ہماری عدالت میں سماعت مختصر ہوتی ہے اور فیصلہ فوری۔

شاید ہمیں اپنے اندر ایک چھوٹا سا "اسکرول روکیں” بٹن بھی رکھنا چاہیے۔ رائے دینے سے پہلے ذرا رکیں اور سوچیں کہ اگر یہی صورتحال ہماری زندگی میں ہوتی تو کیا ہم چاہتے کہ کوئی شخص چند لمحوں کی معلومات کی بنیاد پر ہمارے کردار کا فیصلہ سنا دے؟ زندگی کھلی کتاب ضرور ہو سکتی ہے، مگر ہر صفحہ عوام کے لیے نہیں ہوتا۔

ہمیں فکر ضرور کرنی چاہیے، مگر فکر اور مداخلت میں فرق بھی یاد رکھنا چاہیے۔ ہر سوال پوچھنا ضروری نہیں، ہر رائے دینا لازم نہیں اور ہر فیصلے پر اپنی مہر لگانا بھی کوئی قومی فریضہ نہیں۔ اگلی بار کسی کی زندگی پر رائے دینے سے پہلے ایک لمحے کو رک جائیے۔ ممکن ہے جس زندگی پر ہم اتنے اطمینان سے تبصرہ کر رہے ہیں، اس کی کچھ کہانیاں ایسی ہوں جنہیں جاننے کا حق صرف اسی شخص کو ہو۔ زندگی کھلی کتاب ہو سکتی ہے، مگر ہر صفحہ سب کے لیے نہیں ہوتا۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW