پرانی یادیں اور پرانی کتابیں

آج دوسری مرتبہ میں اپنے ہی گھر کو تلاش کرنے کی غرض سے اس گلی میں مڑا تھا۔ وہ گھر جہاں ہم چند برس نہیں بلکہ چار دہائیاں پہلے رہا کرتے تھے۔ ٹرانسفارمر چوک والا وہ مکان، جہاں میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کہانی لکھی، پہلی بار سائیکل چلانا سیکھی، اور وہی ایک گلی تھی جہاں سے نکلنے والے موٹر سائیکل سوار کی زد میں آ کر میں اپنی سرخ سائیکل سمیت گر پڑا تھا اور دایاں بازو فریکچر کروا بیٹھا تھا۔
آج کسی کام کے سلسلے میں اس علاقے کا رخ ہوا تو سوچا کہ ایک بار پھر اس گھر کو تلاش کرنے کی کوشش کی جائے، مگر بے سود۔ مجھے یاد تھا کہ جس سڑک پر ہم روزانہ پیدل چلتے ہوئے اسکول سے واپس آیا کرتے تھے، اس کے بائیں جانب دوسری یا تیسری گلی مڑا کرتی تھی، اور اسی گلی میں چند میٹر آگے بائیں ہاتھ ایک بند گلی تھی، جس کے دائیں جانب انکل شاہ اور بٹ صاحب کے گھر کے بعد ہمارا گھر ہوتا تھا۔ افسوس کہ مجھے اپنے اس کرائے کے مکان کا نمبر تک یاد نہ رہا۔ خیر اگلی بار والدِ محترم سے پوچھ کر آؤں گا۔
کتنی عجیب بات ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صرف مکین ہی نہیں بدلتے، مکان اور ان کے نقشے بھی بدل جاتے ہیں۔ سب کچھ بدل جاتا ہے، اور ہم ان جگہوں پر آ کر بھی اجنبی ہو جاتے ہیں جنہیں ہم اپنی ذات اور وجود کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ہمیں گمان ہوتا ہے کہ وہ گلیاں ہمیں ویسے ہی خوش آمدید کہیں گی، مگر وہاں جا کر معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے زمانے کو وہاں سے گزرے بھی ایک زمانہ ہو چکا ہے۔
یہ وہ وقت تھا جب چراہ چوک پر واقع سموسوں کی دکان سے سموسے چھ روپے درجن ملا کرتے تھے، اور آج چھ سو سے بھی اوپر کے ہیں۔ واقعی کتنے زمانے بیت گئے۔ والدہ محترمہ ہمارے لیے اسکول کی پتلونیں ٹرانسفارمر چوک کے قریب لگے لنڈے بازار سے پانچ روپے میں الاسٹک والی اور دس روپے میں بٹن والی لے آیا کرتی تھیں۔ ہم خوشی خوشی پہن کر اسکول جاتے تھے، البتہ پانچ روپے والی پتلون کو آدھی چھٹی کے دوران بار بار سنبھالنا پڑتا تھا، کہ اس کا الاسٹک اکثر بے قابو ہو جایا کرتا تھا۔
ایک بار پھر نہ تو وہ گھر ملا، نہ ہی وہ گلی، جو بچپن میں بہت کشادہ محسوس ہوتی تھی۔ صبح صبح دائیں جانب اسٹیشنری اور پرانی کتابوں کی ایک دکان نظر آئی تو سوچا، کیوں نہ کتابوں پر ہی ایک نظر ڈال لی جائے۔ دکان دار باہر رکھے تختے پر کتابیں سجا رہا تھا۔ میں نے موٹر سائیکل روکی اور پوچھا ”آپ کے پاس اردو ناولز اور افسانے ہوں گے؟“ اس کے روکھے سے جواب سے اندازہ ہوا کہ شاید وہ مجھے کتابیں بیچنے والا سمجھ بیٹھا تھا۔ فوراً بولا ”وہ دور گیا جی، جب لوگ کتابیں خریدتے اور پڑھتے تھے۔ اب کوئی نہیں لیتا۔“ میں نے مسکرا کر کہا ”نہیں جی، پڑھنے والے اب بھی پڑھتے ہیں۔ کیا نصابی کتب کے علاوہ بھی کچھ ہے؟“ اس نے دکان کے اندر ترتیب سے رکھے ڈھیر کی طرف اشارہ کیا۔ میں گرد سے اٹی کتابوں کی کمر پر لکھے نام غور سے پڑھنے لگا۔ پرانی کتابوں کے دکان دار عموماً اکتائے ہوئے سے لگتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ اکثر لوگ کتابیں دیکھ کر قیمت پوچھتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ اور اگر دکان دار کو اندازہ ہو جائے کہ سامنے والا واقعی قاری ہے تو قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں۔
میں نے اندازہ لگانے کے لیے نیشنل فاؤنڈیشن کی ایک رنگین کتاب کی قیمت پوچھی۔ اصل قیمت تین سو تھی، اس نے سو روپے بتائی۔ بچوں کے لیے لکھی گئی ان کہانیوں میں مستنصر حسین تارڑ کی ”نانگا پربت کے بیٹے“ بھی شامل تھی، جسے دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ پھر میں نے پانچ چھ ناولز چن لیے، جن میں تارڑ صاحب کا سفرنامہ ”غارِ حرا میں ایک رات“ ، ڈاکٹر عبدالرب بھٹی کا ”زرد چاند“ ، اے آر خاتون کا ضخیم ناول ”چشمہ“ اور چند دیگر کتابیں شامل تھیں، جن کی اصل قیمتیں ملا کر اڑھائی ہزار سے اوپر بنتی تھیں۔ میرا ذوقِ مطالعہ دیکھ کر قیصر صاحب نے کولر سے کپڑا بھگو کر کتابوں کی گرد صاف کی اور کہا ”سب ملا کر نو سو روپے۔“
میری خوشی دیدنی تھی۔ میں نے ایک اور ناول اٹھایا اور کہا ”چلیں، ہزار پورے کر لیتے ہیں۔“ پھر میری نظر بچپن کے ایک رسالے پر پڑی۔ شیخ چلی کی حماقتیں، قیمت پانچ روپے۔ ہم یہ رسالے کبھی چار آنے اور آٹھ آنے میں خریدا کرتے تھے۔ میں نے اسے بھی یادوں کے تحفے کے طور پر بیگ میں رکھ لیا۔ ایک بڑی، رنگین بچوں کی کہانیوں کی کتاب بھی نظر آئی۔ حالت مناسب تھی۔ میں نے مسکرا کر کہا ”یہ آپ کی طرف سے میرے بچوں کے لیے۔“ حالانکہ میرے بچے اب کالج اور یونیورسٹی میں ہیں، مگر میں جانتا تھا کہ فائن آرٹس کی طالبہ میری بیٹی اسے دیکھ کر خوش ہو گی۔
تمام کتابیں ڈبل شاپنگ بیگ میں ڈالیں۔ میری طرح قیصر صاحب کے چہرے پر بھی خوشی تھی۔ اس نے جیب سے پیسے نکالے، حساب لگایا اور پاس بیٹھے بزرگ کو بجلی کا بل دیتے ہوئے کہا ”آج یہ ضرور جمع کرا دیں۔“ مجھے اس کا وہ جملہ یاد آیا ”چلو جی، بل میں سے ہزار روپے کم تھے، پورے ہو گئے۔“ موٹر سائیکل اسٹارٹ کرتے ہوئے میں نے پوچھا ”ماہانہ بل کتنا آ جاتا ہے؟“ کہنے لگا ”چار، ساڑھے چار ہزار۔“
یوں اس علاقے میں آ کر اگرچہ اپنا گھر نہ ملا، مگر ایک اچھی کتابوں کی دکان اور ایک بھلا مانس انسان ضرور مل گیا۔ اس نے اپنا نام قیصر بتایا، دکان کا کارڈ دیا ”ملتان اسٹیشنری اینڈ اولڈ بکس سنٹر“ ۔ میں نے وعدہ کیا کہ اپنے دوست احباب کو اس دکان کے بارے میں ضرور بتاؤں گا۔
لیجیے جناب، وعدہ پورا ہوا۔ مجھے آنے والے مہینوں کے لیے پڑھنے کو بہت کچھ مل گیا، اور قیصر صاحب کو بجلی کے بل کی بقیہ رقم۔ امید ہے، تیسری کوشش میں ٹرانسفارمر چوک والا گھر بھی مل ہی جائے گا۔
