کالم۔

الزبتھ پیکارڈ کی کہانی۔ پاگل کون؟ پانچویں قسط

dr khalid sohail

11۔ پاگل خانے میں باہر سے خط۔

پاگل خانے میں پانچ مہینے بسر کرنے کے بعد امید کی ایک کرن ابھری۔ ان کا نام مس بلیسنگ تھا جو ہسپتال کی ایک نوجوان ملازمہ تھیں۔ ان کی الزبتھ پیکارڈ سے دوستی ہو گئی۔ وہ ایک ہمدرد خاتون تھیں۔ انہوں نے جب الزبتھ سے پوچھا

میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں؟
تو الزبتھ نے کہا

آپ میرے خطوط خفیہ طور پر پاگل خانے سے باہر بھجوا دیں اور باہر کے خط چھپ کر مجھے لا کر دیں۔ مس بلیسنگ الزبتھ کی مدد کرنے کو تیار ہو گئیں یہ جانتے ہوئے کہ پکڑی گئیں تو اپنی ملازمت کھو دیں گی۔

مس بلیسنگ نے جو پہلا خط چھپ کر الزبتھ کو دیا وہ پادری سیموئل فیلڈ کا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا
’ محترمی مسز پیکارڈ!

ہم آپ کو بھولے نہیں ہیں۔ ہم اب بھی سچ اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ زیادتی ہوئی ہے۔ ظلم ہوا ہے۔ ہم آپ کے لیے کوئی قانونی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ آپ ایک دن پاگل خانے سے رہائی حاصل کر سکیں۔ ’

پادری فیلڈ نے اپنے ہم خیال ساتھیوں کو جمع کیا۔ وہ جانتے تھے کہ الزبتھ پیکارڈ کے شوہر نے قوانین کا ناجائز استعمال کر کے انہیں پاگل خانے بھجوایا تھا۔

پادری فیلڈ نے لکھا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ ایک ذہین اور صاحب الرائے خاتون ہیں۔ آپ اپنا خیال رکھیں۔

الزبتھ پیکارڈ وہ خط پڑھ کر بہت خوش ہوئیں۔ وہ جان گئیں کہ ہسپتال کے باہر کچھ ہمدرد لوگ ہیں جو ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ وہ خط الزبتھ پیکارڈ کے لیے امید کی ایک کرن تھا۔

الزبتھ پیکارڈ کو یہ جان کر دکھ ہوا کہ ان کے شوہر نے ان کے بچوں کو یہ بتایا تھا کہ ان کی ماما اپنا ذہنی توازن کھو چکی ہیں اور اگر وہ ان سے ملے تو ماما کی حالت ابتر ہو جائے گی۔

الزبتھ پیکارڈ کے بچے نہ ان سے ملنے آتے اور نہ انہیں کوئی خط بھیجتے۔ ان کے شوہر نے ان کے بچوں کے ذہنوں میں ان کی ماما کے لیے نفرت کا زہر بھر دیا تھا۔

الزبتھ پیکارڈ کے لیے پاگل خانے جانا چھوٹا دکھ اور بچوں سے نہ ملنا بڑا دکھ تھا۔ وہ ایک محبت کرنے والی شفیق ماں تھیں اس لیے بچوں سے جدائی انہیں دکھی کر دیتی تھی۔ ان کی اپنے بچوں سے محبت کے چاند کو ان کے شوہر نے نفرت کا گرہن لگا دیا تھا۔

ایک دن الزبتھ پیکارڈ کو ایک اور خفیہ خط ملا جو شکاگو کی ایک وکیل کا تھا جن کا نام سارہ بریڈول تھا۔ انہوں نے الزبتھ پیکارڈ کے خط میں اعتراف کیا تھا کہ ریاست کے چند قوانین غیر انسانی اور غیر منصفانہ ہیں جو عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھتے ہیں۔

انہوں نے الزبتھ پیکارڈ کو یقین دلایا تھا کہ وہ ان کے انسانی حقوق کی بحالی کے لیے کوشش کرتی رہیں گی۔

سارہ بریڈول نے الزبتھ پیکارڈ کی ہمت افزائی کی اور مشورہ دیا کہ وہ اپنی جنگ لڑتی رہیں۔ جلد یا بدیر انہیں ان کے جائز حقوق ضرور ملیں گے اور انہیں ہسپتال سے رہائی مل جائے گی۔

یہ الزبتھ پیکارڈ کی بدقسمتی تھی کہ 1861 میں امریکہ میں سول وار شروع ہو گئی جس کے امریکی معاشرے پر دو مختلف اثرات مرتب ہوئے۔ پہلا اثر یہ تھا کہ لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول ہو گئی اور دوسرا اثر یہ تھا کہ انسانی حقوق کی جدوجہد تیز ہو گئی۔

خفیہ خطوط نے الزبتھ پیکارڈ کا حوصلہ بڑھایا اور امید دلائی کہ جلد یا بدیر انہیں ہسپتال کی جیل سے رہا کر دیا جائے گا۔

ان خفیہ خطوط کے تبادلے سے الزبتھ پیکارڈ کو بھی نادر موقع ملا کہ وہ اپنے تجربات اور مشاہدات اپنے خیالات و تصورات باہر کی دنیا کو بتائیں تا کہ وہ ان کی مدد کر سکیں۔ انہوں نے اپنے خطوط میں واضح طور پر لکھا کہ پاگل خانے میں عورتوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

1862 تک خطوط کا سلسلہ دراز ہوا اور پاگل خانے سے باہر کی دنیا میں ان کے ہمدردوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ ان خطوط نے ذاتی اور سماجی مسائل کے درمیان ایک پل تعمیر کیا اور انفرادی سانحے کو اجتماعی سانحے سے جوڑا۔ اس دوران الزبتھ پیکارڈ کے حامیوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ اس طرح کمیونٹی میں ایک تحریک نے جنم لیا جس نے عورتوں کے حقوق کی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔

جب عورتوں کے حقوق کی جنگ لڑی جا رہی تھی اسی دوران ذاتی جنگ نے سیاسی جنگ کا روپ دھار لیا تھا۔ اس تحریک نے عورتوں کی آزادی کی جنگ میں سرعت پیدا کی تھی۔

12۔ ایک ہزار دن کی قید

الزبتھ پیکارڈ نے اپنی JANUARY 5 TH، 1862 کی ڈائری میں لکھا

’ سردی بڑھتی جا رہی ہے۔ چونکہ پاگل خانے میں کپڑوں اور کمبلوں کی کمی ہے اس لیے مریض ٹھٹھرتے رہتے ہیں۔ سردی کا اثر ہماری ہڈیوں تک پہنچ گیا ہے۔ سردی کا اثر جسم تک ہی محدود نہیں وہ ہمیں نفسیاتی طور پر بھی متاثر کر رہی ہے۔ وہ عورتیں جو گرمیوں میں بہت باتیں کیا کرتی تھیں اب خاموش ہو گئی ہیں۔ وہ اب خلاؤں میں گھورتی رہتی ہیں۔ یوں لگتا ہے سردیوں کے سورج کے ساتھ ان کے اندر کا دیا بھی کہیں غائب ہو گیا ہے۔ ‘

الزبتھ پیکارڈ خود بھی اس بے مقصد کی زندگی سے بور ہو رہی تھیں۔

ڈاکٹر میک فارلینڈ الزبتھ پیکارڈ کے عدم تعاون سے برہم ہو رہے تھے۔ ان کی الزبتھ پیکارڈ سے جو ماہانہ میٹنگ ہوتی تھی اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تھی،

دونوں اپنی اپنی پوزیشن پر ڈٹے ہوئے تھے
الزبتھ کا موقف تھا کہ وہ ذہنی بیمار نہیں ہیں
ڈاکٹر کا اصرار تھا کہ الزبتھ ان کی تشخیص قبول کرے جسے وہ قبول کرنے کے لیے ہرگز تیار نہ تھیں
دونوں ایک دوسرے کی مخالفت میں ثابت قدم تھے۔

الزبتھ پیکارڈ کا مشاہدہ تھا کہ پاگل خانے کی عورتیں آہستہ آہستہ اپنی آزادی و خود مختاری کھوتی جا رہی تھیں۔ وہ ہر کام اور ہر فیصلے میں نرسوں پر انحصار کرنے لگی تھیں۔

ایک دن مسز مینارڈ نے الزبتھ پیکارڈ سے کہا

’ میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ میں ہی بیمار تھی اور مجھے پتہ ہی نہ تھا کہ میں ذہنی طور پر بیمار ہوں۔ اب میں ہسپتال کی روٹین کی اتنی عادی ہو گئی ہوں کہ مجھے رہائی ملی تو مر جاؤں گی‘

الزبتھ پیکارڈ نے ان کو تسلی دی ’ان کی ہمت بندھائی‘ ان کا حوصلہ بڑھایا اور کہا

’ اگر آپ ذہنی طور پر بیمار ہوتیں تو ایسے خیال آپ کے ذہن میں نہ آتے۔ سوال کرنا ذہنی صحت کی نشانی ہے ذہنی بیماری کی نہیں‘

الزبتھ پیکارڈ کو 1862 کے موسم گرما میں ایک خفیہ خط ملا جو مائرا بریڈول کا تھا۔ لکھا تھا

’ سول وار سے جہاں نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں وہیں کچھ نئے مواقع بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ پورے ملک میں انسانی حقوق کے بارے میں نئے مکالمے شروع ہو چکے ہیں‘

ان دنوں الزبتھ پیکارڈ کی ذہنی حالت کچھ اچھی نہ تھی
کبھی وہ پر امید ہو جاتیں
کبھی مایوسیوں کا شکار ہو جاتیں
کبھی وہ سوچتیں کہ میں ایک دن اس قید سے رہائی پا لوں گی
اور کبھی سوچتیں میں ساری عمر اسی پاگل خانے میں گزار دوں گی۔

الزبتھ پیکارڈ کے دکھوں میں سب سے بڑا دکھ اپنے بچوں سے جدائی کا تھا۔ ان کے شوہر نے ان کے بچوں کے ذہن میں نفرت کا اتنا زہر بھر دیا تھا کہ وہ ان سے نہ ملنے آتے اور نہ ہی کوئی خط بھیجتے۔

الزبتھ پیکارڈ کی پکی سہیلی ان کی خفیہ ڈائری تھی جس میں وہ تواتر سے پاگل خانے کے حالات درج کرتیں اور پھر ان حالات پر تبصرہ لکھتیں۔

انہوں نے SEPTEMBER 20 TH، 1862 کی ڈائری میں لکھا

’ مسز اولسن کو اس لیے نرسوں نے ٹھنڈے پانی کے ٹب میں پھینکنے کی سزا دی کیونکہ وہ اپنی دوست سے نارویجین میں گفتگو کر رہی تھی۔ نرسوں کا اصرار تھا کہ وہ امریکہ میں ہے اس لیے انگریزی میں گفتگو کرے۔ اس بیچاری کی انگریزی کمزور ہے۔ وہ اپنی مادری زبان میں بہتر گفتگو کر سکتی ہے۔ بعض نرسیں بہت ظالم ہیں وہ مریضوں کو دکھ پہنچا کر خوش ہوتی ہیں۔ وہ مریضوں سے زیادہ ذہنی مریض ہیں۔

وہ نرسیں صرف نارویجین زبان پر ہی معترض نہیں وہ جرمن مریضوں کو جرمن بھی نہیں بولنے دیتیں۔ کتنی جابر ہیں یہ نرسیں۔ ’

الزبتھ پیکارڈ کی خفیہ ڈائری اب صرف ذاتی ڈائری ہی نہ رہی تھی وہ ایک ماہر جرنلسٹ کی رپورٹ بنتی جا رہی تھی۔

الزبتھ پیکارڈ کے لیے وہ شامیں اور راتیں بہت تکلیف دہ تھیں جب نا امیدی امید پر غلبہ پانے لگتی اور وہ مایوسی کی تاریکیوں میں کھو جاتیں۔ خوشی کی بات یہ تھی کہ وہ کیفیت عارضی ہوتی اور الزبتھ پیکارڈ دوبارہ امید کو گلے لگا لیتیں۔

(جاری ہے )

Facebook Comments Box

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔
Subscribe
Notify of
guest
6 Comments
Agha Anwar GUL
Agha Anwar GUL
22 days ago

الزبتھ پیکارڈ بہادر تھی ۔ کہ مقابلہ کرتے رھی ۔ اگلی قسط کا بےچینی سے انتظار رھے گا

Zuhra
Zuhra
22 days ago

Sir kya khoob likhite ho aap sir aap ka email edrees de dein

Habeeb sheikh
Habeeb sheikh
22 days ago

It is sad some people in extremely distress situations begin thinking that they really are what tyey were being punishing for.

ڈاکٹر سارہ علی
Dr. Sarah Ali
22 days ago

وہ صرف اس لیے زندہ رہ پائیں کہ اپنی طویل جدوجہد
میں انہوں نے امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑا مجھے یہ مضامین بہت اچھے لگے کہ یہ ایک عام انسان جسے کوئ privilege میسر نہیں تھی کہ عزم حوصلے اور اصولوں کے لیے ثابت قدم رہنے کی داستان ہے

نعیم اشرف
نعیم اشرف
21 days ago

It’s a story of determination courage and resilience.

فریحہ مصطفی
فریحہ مصطفی
19 days ago

امید

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW