میرے مطابق

جرمانوں کے سائے میں گم ہوتی ریاستی ذمہ داری

Gul Tasam

قومیں صرف قوانین سے نہیں بلکہ انصاف، جواب دہی اور مساوات سے مضبوط ہوتی ہیں۔ قانون کی حکمرانی اس وقت موثر اور قابلِ احترام بنتی ہے جب اس کی گرفت طاقتور اور کمزور، شہری اور ریاست، دونوں پر یکساں ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ تاثر روز بروز گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ قانون کا رخ صرف عوام کی طرف ہے، جبکہ ریاستی ادارے اپنی کوتاہیوں کے باوجود احتساب سے محفوظ رہتے ہیں۔

آج اگر کوئی شہری ہیلمٹ نہ پہنے، ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کرے، غلط پارکنگ کرے، ون وے پر گاڑی چلائے یا بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے سڑک پر نکل آئے تو اس پر بھاری جرمانہ عائد ہوتا ہے، اور ہونا بھی چاہیے۔ کیونکہ قانون کی پابندی ہر مہذب معاشرے کی بنیاد ہے اور شہری کی ذمہ داری بھی۔ انسانی جان کا تحفظ کسی رعایت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا قانون صرف شہری کے لیے ہے؟

اگر ایک سڑک گڑھوں سے بھری ہو، مین ہول کا ڈھکن غائب ہو، ٹریفک سگنل خراب پڑے ہوں، فٹ پاتھ تجاوزات کی نذر ہو چکے ہوں، گلیوں میں سیوریج اور بارش کا پانی کھڑا ہو، سڑکوں کی کھدائی کے بعد مہینوں مرمت نہ ہو، سرکاری ہسپتالوں میں ضروری ادویات نہ ہوں، رات کے وقت شاہراہیں اندھیرے میں ڈوبی رہیں یا کچرے کے ڈھیر شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دیں، تو ان تمام کوتاہیوں کا ذمہ دار کون ہے؟ ان خرابیوں کی وجہ سے ہونے والے حادثات، معذور ہونے والے افراد، ضائع ہونے والی جانوں اور اربوں روپے کے نقصانات کا حساب کس سے لیا جاتا ہے؟

افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں جواب دہی کا معیار یکساں نہیں۔ عوام سے تو ہر غلطی کا حساب لیا جاتا ہے، مگر اداروں کی غفلت اکثر صرف فائلوں میں دفن ہو کر رہ جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ شہری اس ملک میں صرف جرمانے ادا کرنے، ٹیکس دینے اور ہر نئی پالیسی کا بوجھ اٹھانے کے لیے موجود ہیں، جبکہ ریاست اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے صرفِ نظر کر سکتی ہے۔

اس سے بھی زیادہ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد سے تقریباً ہر سال مون سون کی بارشیں اور سیلاب ہمارے لیے ایک نئے المیے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ بستیاں ڈوب جاتی ہیں، فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، پل بہہ جاتے ہیں، سڑکیں ٹوٹ جاتی ہیں اور ہزاروں خاندان اپنے گھروں، اپنے روزگار اور بعض اوقات اپنے پیاروں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ہر سال میڈیا پر وہی دل دہلا دینے والی تصویریں، وہی امدادی سرگرمیاں، وہی دورے اور وہی وعدے نظر آتے ہیں، لیکن اگلے سال منظرنامہ پھر ویسا ہی ہوتا ہے۔

آخر کیوں؟

اگر یہ مسئلہ ہر سال پیش آتا ہے تو کیا یہ صرف قدرتی آفت ہے، یا ہماری منصوبہ بندی کی کمزوری بھی؟ دنیا کے کئی ممالک پاکستان سے کہیں زیادہ بارشیں برداشت کرتے ہیں، مگر بہتر نکاسیٔ آب، مضبوط انفراسٹرکچر، جدید وارننگ سسٹم، ڈیموں، حفاظتی بندوں اور موثر شہری منصوبہ بندی کی بدولت جانی و مالی نقصان کو بڑی حد تک روک لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں، افسوس کے ساتھ، ہر سال تباہی کے بعد امداد تقسیم کرنے کو کامیابی سمجھ لیا جاتا ہے، مگر مستقل حل تلاش کرنے کی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔

اگر شہری سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ اس نے ہیلمٹ کیوں نہیں پہنا، تو متعلقہ اداروں سے یہ سوال کیوں نہیں کیا جاتا کہ شہر پانی میں کیوں ڈوب گیا؟ اگر ایک موٹر سائیکل سوار سے قانون کی پاسداری کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو سڑک تعمیر کرنے والے ادارے سے یہ سوال کیوں نہیں کیا جاتا کہ پہلی بارش میں سڑک کیوں ٹوٹ گئی؟ اگر ایک ڈرائیور کو ٹریفک قوانین توڑنے پر جرمانہ کیا جا سکتا ہے تو عوام کے جان و مال کے تحفظ میں غفلت برتنے والوں سے بھی جواب طلبی کیوں نہیں ہوتی؟

ریاست اور شہری کا تعلق صرف فرائض کا نہیں بلکہ حقوق اور ذمہ داریوں کا باہمی معاہدہ ہے۔ شہری ٹیکس دیتا ہے، قوانین کی پابندی کرتا ہے، قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈالتا ہے، ووٹ دیتا ہے اور ملک کی ترقی میں کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے بدلے میں ریاست پر لازم ہے کہ وہ محفوظ سڑکیں، معیاری صحت، صاف ماحول، موثر نکاسیٔ آب، شفاف طرزِ حکمرانی اور جان و مال کا تحفظ فراہم کرے۔ اگر اس معاہدے کا ایک فریق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور دوسرا نہیں، تو اعتماد کا بحران پیدا ہونا ناگزیر ہے۔

یہ کالم ہرگز قانون شکنی کا جواز پیش نہیں کرتا۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں، ٹیکس ایمانداری سے ادا کریں، سرکاری املاک کی حفاظت کریں اور اپنی سماجی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ لیکن اسی جذبے کے ساتھ ریاستی اداروں کو بھی اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ احتساب اگر صرف کمزور کے لیے ہو اور طاقتور اس سے مستثنیٰ رہے تو قانون کی ہیبت تو قائم ہو سکتی ہے، مگر اس کا احترام نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ جرمانوں سے زیادہ توجہ اچھی حکمرانی پر دی جائے، وقتی اقدامات کے بجائے مستقل منصوبہ بندی کی جائے، اداروں کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر جواب دہ بنایا جائے اور قومی وسائل کو عوام کی فلاح پر خرچ کیا جائے۔ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جہاں کسی شہری کو یہ احساس نہ ہو کہ اس کی ذمہ داریاں تو بے شمار ہیں، مگر اس کے حقوق کا کوئی محافظ نہیں۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم صرف جرمانوں کی ریاست بننا چاہتے ہیں یا ذمہ داری کی حکومت۔ کیونکہ مضبوط قومیں صرف قانون نافذ کرنے سے نہیں بنتیں، بلکہ اس یقین سے بنتی ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، احتساب سب کا ہوتا ہے اور ریاست اپنے شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے۔

اگر عوام میں شعور بیدار ہو، سوال کرنے کا حوصلہ پیدا ہو اور ریاست جواب دہی کو اپنی طاقت سمجھے، تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب بارش رحمت ہو گی، سڑکیں محفوظ ہوں گی، ادارے ذمہ دار ہوں گے اور قانون واقعی سب کے لیے یکساں ہو گا۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Eisha Munir
Eisha Munir
19 hours ago

You’ve written exactly the right thing
That’s exactly what’s happening
👏🔥

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW