سانحہ کلثوم بائی ولیکا اسپتال اور انصاف کا سوال

سماجی تحفظ کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی ذمہ داری اور محنت کش کا قانونی حق ہے اس کا مقصد محنت کشوں اور ان کے خاندانوں کو بیماری، حادثات، معذوری، زچگی، بڑھاپے اور دیگر سماجی و معاشی خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ باوقار زندگی گزار سکیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ، بین الاقوامی عہدنامہ برائے معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق، سوشل سکیورٹی سے متعلق عالمی معیارات ہر انسان کے سماجی تحفظ، صحت اور باوقار زندگی کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ پاکستان ان بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پابند ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ محنت کشوں اور ان کے خاندانوں کو موثر، محفوظ اور معیاری سوشل سکیورٹی فراہم کرے۔ پاکستان کا آئین بھی ان حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 9 ہر شہری کے حقِ زندگی اور آزادی کا تحفظ کرتا ہے، آرٹیکل 14 انسانی وقار کے احترام کو یقینی بناتا ہے، جبکہ آرٹیکل 38 ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ عوام کی سماجی و معاشی بہبود، سماجی تحفظ اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں سوشل سکیورٹی کا دائرہ آج بھی محدود ہے۔ کروڑوں محنت کش، خصوصاً غیر رسمی شعبے، زرعی مزدور، گھریلو ملازمین اور گگ اکانومی کے کارکن اس حق سے محروم ہیں۔ جو محنت کش اس نظام کے تحت رجسٹرڈ ہیں، انہیں بھی معیاری، محفوظ طبی سہولیات میسر نہیں۔ ایسے حالات میں اگر سوشل سکیورٹی کے تحت چلنے والے کسی اسپتال میں مبینہ غفلت کے باعث معصوم بچوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے متاثر ہو جائیں، تو یہ صرف ایک طبی حادثہ نہیں بلکہ آئین، بین الاقوامی مزدور معیارات اور سماجی انصاف کے تصور پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔
کراچی میں (سیسی کی زیر انتظام ) کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ طبی غفلت کے نتیجے میں درجنوں بچوں میں ایچ آئی وی منتقل ہونے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا۔ یہ معاملہ اب سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، جہاں ایک عوامی مفاد کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ طبی غفلت اور آلودہ سرنجوں کے استعمال کے باعث درجنوں بچوں کو ایچ آئی وی منتقل ہوا، متعدد بچوں کی اموات ہوئیں، اور متاثرین کو انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔ عدالت نے حکومت سندھ، محکمہ صحت اور متعلقہ حکام سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے، جبکہ درخواست میں آزادانہ تحقیقات، ایف آئی آر کے اندراج، ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی، متاثرہ بچوں کے لیے تاحیات علاج اور مناسب معاوضے کی استدعا کی گئی ہے۔
سندھ حکومت نے ابتدا میں انکوائری کمیٹیاں تشکیل دیں، بعد ازاں 37 ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اور دیگر عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی، معطلیاں اور شوکاز نوٹس جاری کیے، جبکہ وزیرِ محنت سعید غنی نے یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی ذمہ دار فرد کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ سیسی کی گورننگ باڈی نے متاثرہ 78 بچوں کے علاج اور فلاح کے لیے دو ارب روپے کے اینڈومنٹ فنڈ کی منظوری دی ہے۔ متاثرہ بچوں کے لیے فنڈ قائم کرنا ایک ضروری قدم ہے، لیکن یہ اس سانحے کی سنگینی یا ذمہ داروں کے جرم کو ہرگز کم نہیں کرتا۔ مالی امداد انصاف کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ اگر انتظامی غفلت، ناقص نگرانی یا طبی پروٹوکول کی خلاف ورزی کے باعث معصوم بچوں کی زندگیاں تباہ ہوئیں تو صرف فنڈ قائم کر دینا کافی نہیں۔ اصل سوال جوابدہی، شفاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کا ہے۔ اگر یہ واقعہ اکتوبر 2025 میں حکام کے علم میں آ چکا تھا تو اتنے مہینوں تک مکمل حقائق عوام سے کیوں پوشیدہ رہے؟ کیوں متاثرہ خاندانوں کو احتجاج اور عدالت سے رجوع کرنا پڑا؟ اور آخر سیسی کے نظام میں ایسی کون سی خامیاں موجود تھیں جنہوں نے اس سانحے کو جنم دیا؟
یہ سانحہ صرف سیسی یا ایک اسپتال کی ناکامی نہیں بلکہ پورے عوامی نظامِ صحت پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایک سوشل سکیورٹی اسپتال، جس کا مقصد محنت کشوں کو محفوظ اور معیاری علاج فراہم کرنا ہے، ایسے واقعے کا مرکز بن جائے تو عام سرکاری اسپتالوں میں علاج کروانے والے لاکھوں شہری خود کو کتنا محفوظ سمجھیں؟ یہ تشویشناک امر بھی ہے کہ پنجاب کے تونسہ کے سرکاری اسپتال میں بھی بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے متعلق سنگین الزامات اور تحقیقات سامنے آ چکی ہیں۔ اگر مختلف صوبوں میں یکساں نوعیت کے واقعات رونما ہو رہے ہیں تو یہ انفرادی غلطیوں کا نہیں بلکہ عوامی صحت کے نظام، انفیکشن کنٹرول، نگرانی اور احتساب کے ڈھانچے کی گہری ناکامی کا ثبوت ہے۔ عالمی ادارۂ صحت پہلے ہی پاکستان میں صحت کے نظام میں انفیکشن کنٹرول کی کمزوریوں کے بارے میں خبردار کر چکا ہے۔ 2019 کے لاڑکانہ ایچ آئی وی پھیلاؤ پر اپنی رپورٹ میں WHO نے واضح کیا تھا کہ غیر محفوظ انجیکشن، انفیکشن سے بچاؤ کے ناقص انتظامات، غیر محفوظ خون کی منتقلی اور طبی فضلے کو ٹھکانے لگانے کے ناقص طریقہ کار ایسے سانحات کی بنیادی وجوہات 2024 میں عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین نے بھی اس نتیجے کی توثیق کرتے ہوئے زور دیا کہ صحت کے اداروں میں انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول کی نظام کو فوری طور پر مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ ولیکا اسپتال کا حالیہ سانحہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ماضی سے خاطر خواہ سبق نہیں سیکھا گیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت، خصوصاً بلاول بھٹو زرداری، متعدد مواقع پر یہ دعویٰ کرتی رہے ہیں کہ سندھ کا صحت کا نظام بین الاقوامی معیار کا مقابلہ کر رہا ہے اور صوبہ صحت کے شعبے میں دوسرے صوبوں کے لیے ایک مثال ہے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی خود کو مزدور دوست جماعت قرار دیتی ہے اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کو اپنی سیاست کا بنیادی ستون قرار دیتی ہے۔ لیکن اگر سوشل سکیورٹی کے ایک ایسے اسپتال میں، جو محنت کشوں اور ان کے خاندانوں کے علاج کے لیے قائم کیا گیا ہے، اگر مبینہ طبی غفلت کے نتیجے میں بچوں کی زندگیاں دائمی طور پر متاثر ہو جائیں، تو یہ دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ اس پورے سانحے پر حکومت سندھ، پاکستان پیپلز پارٹی، سیسی کی اعلیٰ انتظامیہ اور اس کے گورننگ باڈی کے اراکین، خصوصاً مزدور نمائندوں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ سوشل سکیورٹی مزدوروں کی دہائیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ یہ خیرات نہیں بلکہ مزدوروں اور آجروں کی شراکت سے قائم ایک قانونی نظام ہے۔ جب اسی نظام کے تحت چلنے والے اسپتال میں ایسا المناک واقعہ پیش آئے تو سب سے پہلے آواز مزدور تنظیموں اور بورڈ میں موجود مزدور نمائندوں کی بلند ہونی چاہیے تھی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتیں محض دعووں، اشتہارات اور نمائشی اقدامات سے آگے بڑھیں۔ عوام، خصوصاً محنت کش طبقہ، اس سوال کا جواب چاہتا ہے کہ آیا ریاست ان کے بچوں کی جان اور صحت کے تحفظ کی آئینی و قانونی ذمہ داری پوری کرنے میں واقعی سنجیدہ ہے، یا پھر ہر سانحے کے بعد چند معطلیوں، مالی امداد اور وعدوں کے ذریعے معاملہ دبانے کی کوشش کی جائے گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کئی برسوں سے سندھ میں برسر اقتدار ہے۔ اگر سوشل سکیورٹی کے اسپتالوں کی یہ حالت ہے تو ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا حکومت اس حقیقت سے انکار کر سکتی ہے کہ نگرانی کا نظام ناکام ہوا؟ کیا یہ صرف چند ملازمین کی غلطی تھی یا پورا ادارہ جوابدہی سے محروم ہو چکا ہے؟ تشویش کی بات یہ ہے کہ گزشتہ روز مزید ایچ آئی وی کیسز سامنے آنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد خدشات اور بھی بڑھ گئے ہیں۔ اگر متاثرہ افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے تو یہ معاملہ صرف ایک ماضی کے سانحے تک محدود نہیں بلکہ ایک جاری عوامی صحت کے بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ایسے میں حکومت سندھ، سیسی اور محکمہ صحت پر لازم ہے کہ وہ فوری طور پر مکمل شفافیت کے ساتھ تمام حقائق عوام کے سامنے رکھیں، متاثرہ افراد کی بروقت اسکریننگ، علاج اور فالو اپ کو یقینی بنائیں، خاموشی، تاخیر یا معلومات چھپانا عوام کے اعتماد کو مزید مجروح کرے گا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ نا انصافی کے مترادف ہو گا۔
