کم پیسوں میں علاج کروانا ہے تو اس کی قیمت تو چکانی ہو گی
سرکاری ہسپتالوں کے دروازے پر داخل ہوتے ہی انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی طبی مرکز میں نہیں بلکہ صبر، برداشت اور بے بسی کے ایک طویل امتحان میں داخل ہو رہا ہو۔ یہاں بیماری صرف جسم کی نہیں ہوتی، یہاں نظام بھی مریض ہوتا ہے، اور افسوس یہ ہے کہ اس نظام کا علاج کرنے والا کوئی ڈاکٹر موجود نہیں۔
چند دن پہلے ایک دوست کے ساتھ دانتوں کے علاج کی غرض سے ایک بڑے سرکاری ہسپتال جانا ہوا۔ خیال تھا کہ جہاں ہر شعبے کے ماہرین موجود ہوں، وہاں ایک عام مریض کو کم از کم تشخیص اور رہنمائی تو آسانی سے مل جائے گی۔ لیکن ہسپتال کے احاطے میں قدم رکھتے ہی معلوم ہو گیا کہ اصل بیماری دانت میں نہیں، انتظامی ڈھانچے میں ہے۔
پارکنگ کے دروازے پر چند افراد اس اعتماد کے ساتھ کھڑے تھے جیسے ہسپتال نہیں، ان کی ذاتی جاگیر ہو۔ موٹرسائیکل وہیں کھڑی کرنی تھی جہاں ان کی مرضی تھی۔ پرچی پر جو رقم درج تھی، وصول کی جانے والی رقم اس سے کہیں زیادہ تھی۔ شاید یہ وہ خاموش ٹیکس تھا جو عوام اپنی مجبوری کی وجہ سے ادا کرتے ہیں اور جس کی کوئی رسید نہیں ہوتی۔
اندر داخل ہوئے تو ایک اور دنیا آباد تھی۔ لمبی قطاریں، تھکے ہوئے چہرے، ہاتھوں میں مڑی تڑی پرچیاں اور آنکھوں میں امید کی آخری کرن۔ ایک کھڑکی سے دوسری کھڑکی، ایک پرچی سے دوسری پرچی اور ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک کا سفر ایسے جاری تھا جیسے علاج نہیں بلکہ کسی سرکاری راز تک رسائی حاصل کی جا رہی ہو۔
ڈاکٹر صاحب تک پہنچنے میں خاصا وقت لگا۔ معائنہ ہوا، پھر ایک نئی پرچی کا حکم صادر ہوا۔ ایکسرے کے لیے الگ قطار، الگ انتظار اور الگ آزمائش۔ جب تمام مراحل مکمل ہو گئے اور یوں محسوس ہوا کہ اب شاید علاج شروع ہو گا تو نہایت سادگی سے بتایا گیا کہ یہ علاج یہاں ممکن نہیں، آپ کسی دوسرے شہر تشریف لے جائیں۔
یہ جملہ سن کر مجھے خیال آیا کہ اگر مریض نے آخرکار دوسرے شہر ہی جانا تھا تو کیا اس کی چند گھنٹوں کی مشقت، قطاروں میں گزارا گیا وقت اور ذہنی اذیت بھی علاج کا حصہ تھی؟
ہسپتال کی راہداریوں میں چلتے ہوئے مجھے ہر چہرہ ایک الگ داستان سناتا محسوس ہوا۔ کہیں ایک بوڑھا شخص کانپتے ہاتھوں سے پرچی سنبھالے کھڑا تھا، کہیں ایک ماں اپنے بیمار بچے کو گود میں لیے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ کہیں سفید بالوں والی عورتیں دھکے کھا رہی تھیں اور کہیں مزدور طبقے کے لوگ روزی کا وقت قربان کر کے صحت کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ ان سب کی آنکھوں میں ایک ہی سوال تھا: کیا بیماری کا علاج اتنا مشکل ہونا چاہیے؟
ان تمام مناظر میں ایک منظر سب سے زیادہ دل پر نقش ہو گیا۔ ایک نوجوان لڑکی اپنی ضعیف والدہ کے ساتھ آئی تھی۔ وہ ڈاکٹر کو اپنی ماں کی بیماری کی مکمل کیفیت بتانا چاہتی تھی، مگر دروازے پر موجود محافظ نے اسے یہ کہہ کر روک دیا کہ ڈاکٹر کا ڈیکورم متاثر ہو گا۔ میں دیر تک سوچتا رہا کہ آخر اس معاشرے میں پروٹوکول کس کے لیے ہے؟ مریض کے لیے یا ملازم کے لیے؟ اگر ایک بوڑھی ماں اپنی بیماری پوری طرح بیان نہ کر سکے تو کیا ڈاکٹر کا وقار بچ جاتا ہے اور مریض کی تکلیف غیر اہم ہو جاتی ہے؟
ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے زیادہ تر لوگ وہ ہیں جن کے پاس مہنگے نجی ہسپتالوں کا خرچ برداشت کرنے کی سکت نہیں۔ وہ کم پیسوں میں علاج کروانے آتے ہیں، لیکن اس سستے علاج کی اصل قیمت روپے نہیں ہوتی۔ اس کی قیمت لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر، عزتِ نفس مجروح کروا کر، گھنٹوں انتظار کر کے اور بے حسی کے رویوں کو برداشت کر کے ادا کی جاتی ہے۔
حکمران اکثر نئے ہسپتالوں، جدید مشینوں اور صحت کے بجٹ کے اعداد و شمار سناتے ہیں، مگر کسی دن انہیں بھی عام مریض بن کر انہی قطاروں میں کھڑا ہونا چاہیے۔ شاید تب انہیں معلوم ہو کہ بیماری صرف جسموں میں نہیں، نظاموں میں بھی گھر کر جاتی ہے۔ اور جب نظام بیمار ہو جائے تو سب سے زیادہ تکلیف غریب آدمی کو اٹھانی پڑتی ہے۔
سرکاری ہسپتال آج بھی غریب کی آخری امید ہیں، لیکن امید کا بوجھ اتنا زیادہ ہو چکا ہے کہ اس کے نیچے انسان کی عزت، سہولت اور وقت دب کر رہ گئے ہیں۔ کم پیسوں میں علاج تو مل جاتا ہے، مگر اس کی قیمت بعض اوقات اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ مریض صحت یاب ہونے سے پہلے ہی تھک جاتا ہے۔


You are right 👍 Sir i like it and good job 👍😊
Right 💯