آٹھ کروڑ بولنے والے، سو خریدار: پنجابی زبان کا المیہ (پنجاب دی ویل )

یہ مضمون پنجابی زبان کے دکھ پر ہے، اور دل بار بار یہی چاہتا رہا کہ اسے پنجابی میں ہی قلم بند کیا جائے، کہ جس زبان کا نوحہ لکھا جا رہا ہے وہ اپنی ہی زبان میں سنا جائے۔ مگر یہی مضمون اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پنجابی کے پڑھنے والے اس وقت اتنے محدود ہو چکے ہیں کہ اگر یہ سطریں پنجابی رسم الخط میں لکھی جاتیں تو غالباً وہیں محدود رہ جاتیں، جن چند سو قاریوں کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ وہ کروڑوں لوگ جو گھر میں پنجابی بولتے ہیں مگر پڑھتے اردو میں ہیں، انہی تک یہ بات پہنچانی مقصود تھی، اور یہ تضاد، کہ زبان کے دکھ کو دور تک پہنچانے کے لیے اسی زبان سے وقتی طور پر منہ موڑنا پڑا، غالباً اس پورے مسئلے کی سب سے دردناک تفسیر ہے۔
کوئی زبان اپنی موت اس دن نہیں مرتی جس دن اس کا آخری بولنے والا خاموش ہو جائے، وہ اپنی موت اس دن سے مرنا شروع کرتی ہے جس دن اس کے بولنے والوں اور اس کے پڑھنے لکھنے والوں کے درمیان وہ خلیج حائل ہو جائے جسے پاٹنا روز بروز دشوار تر ہوتا چلا جائے۔ اور جب یہ خلیج کسی چھوٹی، کمزور، یا سمٹتی ہوئی زبان کے حصے میں نہ آئے بلکہ اس زبان کے حصے میں آئے جسے بولنے والوں کی تعداد پورے ملک میں سب سے زیادہ ہو، تو معاملہ محض لسانی نہیں رہتا، ایک قومی ضمیر کی آزمائش بن جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار خود اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ پنجابی، عدد کے اعتبار سے، پاکستان کی سب سے بڑی مادری زبان ہے، آبادی کا قریب سینتیس فیصد حصہ، یعنی آٹھ کروڑ نوے لاکھ کے لگ بھگ نفوس، اسی زبان میں سوچتے، خواب دیکھتے، اور اپنے پیاروں سے دل کی بات کہتے ہیں۔ مردم شماری کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 ء میں پاکستان کی مجموعی آبادی کا تقریباً سینتیس فیصد حصہ پنجابی کو اپنی مادری زبان بتاتا ہے، اور یہ تعداد آٹھ کروڑ نواسی لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے، جو ملک کی کسی بھی دوسری زبان کے بولنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اب ذرا ٹھہر کر سوچیے، جس زبان کے بولنے والوں کی یہ کثرت ہو، اسی زبان میں چھپنے والی کتاب کے خریدار بمشکل سو کے ہندسے تک پہنچتے ہوں، اور ان سو میں بھی اکثریت لکھنے والے کے ذاتی حلقۂ احباب کی ہو، تو یہ کوئی حادثاتی امر نہیں، بلکہ ایک ایسی مسلسل کوتاہی کا نتیجہ ہے جس کی جڑیں کئی نسلوں پر پھیلی ہوئی ہیں۔
اور یہ فاصلہ کوئی جامد یا ساکت حقیقت نہیں، ایک بڑھتا ہوا عمل ہے، جس کی رفتار حالیہ برسوں میں اور تیز ہوئی ہے۔ ایک تحقیقی جائزے نے، جو 2017 ء اور 2023 ء کی دو یکے بعد دیگرے مردم شماریوں کے موازنے پر مبنی تھا، یہ حقیقت آشکار کی کہ صوبہ پنجاب کی مجموعی آبادی میں سولہ فیصد اضافہ ہوا، مگر اسی عرصے میں پنجابی کو اپنی مادری زبان بتانے والوں کی تعداد میں محض گیارہ فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، جبکہ اردو کو مادری زبان قرار دینے والوں کی شرح اس تناسب سے کہیں زیادہ رفتار سے بڑھی۔ اسی تحقیقی جائزے کے مطابق پانچ برسوں کے دوران پچیس سے تیس لاکھ کے قریب پنجاب کے باسیوں نے اپنی مردم شماری کی تفصیلات میں مادری زبان پنجابی کی بجائے اردو درج کرانے کو ترجیح دی، اور اس تبدیلی کا سب سے بڑا حصہ ضلع لاہور سے سامنے آیا جہاں ہر دسویں فرد نے اپنی زبان بدل لی، اس کے بعد راولپنڈی، گوجرانوالہ اور فیصل آباد کا نمبر آتا ہے، اور یہ رجحان خاص طور پر ان شہری اور خوشحال طبقوں میں نمایاں ہے جو زبان کی تبدیلی کو سماجی و معاشی بلندی کی سیڑھی سمجھتے ہیں۔ یعنی جس طبقے کے ہاتھ میں زبان کی بقا کی سب سے زیادہ قوت تھی، وہی طبقہ اپنی مادری زبان سے سب سے پہلے دستبردار ہو رہا ہے، اور یہ ایک ایسی بے وفائی ہے جس کا الزام کسی بیرونی دشمن پر نہیں دھرا جا سکتا۔
اس زوال کے اسباب تلاش کرنے کے لیے دور کی مسافت اختیار کرنے کی ضرورت نہیں، تاریخ کا ایک ورق پلٹنا کافی ہے۔ جس دن اجنبی حکمرانوں نے پنجاب کی سرزمین پر اپنا نظامِ تعلیم مسلط کیا، اسی دن سے پنجابی اپنی ہی زمین پر بے گھر ہونا شروع ہو گئی تھی۔ برطانوی حکومت نے پنجاب کے مقامی نظامِ تعلیم کو ختم کرتے ہوئے ابتدائی تعلیم کے لیے پنجابی کی جگہ اردو کو لازمی زبان قرار دے دیا تھا، جبکہ دفتری زبان کے طور پر فارسی کی جگہ انگریزی کو رائج کر دیا گیا، اور یوں دو بیرونی زبانیں مقامی زبان کی جگہ لے بیٹھیں۔ اور جو نقصان نوآبادیاتی دور میں پہنچا، وہ آزادی کے بعد بھی درست نہ ہو سکا، بلکہ بعض معنوں میں اسی سانچے میں ڈھلتا چلا گیا۔ خود پنجاب کی سب سے قدیم اور معتبر درس گاہ، جہاں پنجاب کی مٹی کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا حق تھا، وہاں پنجابی زبان و ادب کی باقاعدہ تعلیم آزادی کے تئیس برس بعد ، 1970 ء میں، اس وقت داخل ہو سکی جب پنجابی کے ایک بزرگ عالم نے دفترِ صدارت میں لیٹ کر احتجاج کیا، اور تب کہیں جا کر اورینٹل کالج کے دروازے پنجابی کے لیے کھلے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ جس زبان کو اپنی ہی سرزمین کی سب سے بڑی درس گاہ میں داخلے کے لیے ایک بزرگ کو زمین پر لیٹنا پڑا ہو، وہ زبان آج تک اسی نوعیت کی محتاجی سے نہ نکل سکی ہو۔
اور پچپن برس گزرنے کے بعد بھی، صورتحال بہتری کی بجائے ابتری کی طرف مائل ہے۔ صوبے کی چونتیس سرکاری یونیورسٹیوں میں سے صرف چھ ہی چار سالہ ڈگری میں پنجابی زبان و ادب کا مضمون پیش کرتی ہیں، اور جہاں کہیں یہ سہولت موجود بھی ہے وہاں طلبہ کی دلچسپی بھی مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ پانچ برس پہلے پانچ یونیورسٹیوں میں پنجابی زبان کی چار سالہ ڈگری میں زیرِ تعلیم طلبہ کی مجموعی تعداد ایک سو بیالیس تھی، جو 2024 ء میں گھٹ کر محض پچپن رہ گئی، اور ان میں سے بھی نصف تعداد صرف ایک یونیورسٹی، یعنی ننکانہ صاحب کی بابا گرونانک یونیورسٹی، میں زیرِ تعلیم ہے۔ انٹرمیڈیٹ کی سطح پر بھی یہی رجحان دہرایا گیا ہے، پنجاب کے پانچ بڑے تعلیمی بورڈوں میں پنجابی کا امتحان دینے والے طلبہ کی تعداد 2017 ء میں پچپن ہزار سے متجاوز تھی جو 2024 ء تک گھٹ کر چوبیس ہزار سے کچھ ہی اوپر رہ گئی، یعنی تقریباً نصف کی کمی۔ اسی طرح صوبے کے آٹھ سو چھہتر کالجوں میں پنجابی پڑھانے کے لیے منظور شدہ آسامیوں کی کل تعداد محض دو سو اکاون ہے جن میں چھپن آسامیاں تاحال خالی پڑی ہیں، اور پنجابی ادبی بورڈ کو ملنے والی سالانہ سرکاری گرانٹ اتنی کم ہے کہ اس کا ذکر کرنا مناسب نہیں ہے، جس میں عمارت کا کرایہ اور عملے کی تنخواہیں بھی شامل ہیں۔ اب کوئی صاحبِ بصیرت اس بات کی توقع کیسے رکھ سکتا ہے کہ جس زبان کو اپنے ہی گھر میں اتنی کم جگہ ملی ہو، اس کے قاری کہیں اور سے نازل ہو جائیں گے؟
یہ بھی درست ہے کہ حکومتی ادراک بالکل مفقود نہیں رہا۔ صوبے کی وزیرِ اعلیٰ نے، پنجاب کلچر ڈے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، پنجابی زبان کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنانے کا اعلان کیا، اور یہ اعلان اس بات کی علامت ہے کہ ریاست کی سطح پر یہ سوال بالکل نظروں سے اوجھل نہیں۔ مارچ 2024 ء میں پنجاب کلچر ڈے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے پنجابی زبان کو اسکولوں میں بطور مضمون متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ مگر جو قوم اپنی تقدیر کا فیصلہ محض اعلانات سے کرنے لگے، وہ عبرت کے اس سبق کو بھول جاتی ہے کہ اعلان اور عمل کے درمیان جو فاصلہ ہوتا ہے، وہی فاصلہ زبانوں کو زندگی اور موت کے بیچ لٹکائے رکھتا ہے۔ اٹھتر برس کی آزادی کے بعد بھی اگر یہ محض ایک اعلان ہی ہو، عملی نفاذ نہ ہو، تو جس نسل کو پنجابی خواندہ ہونا تھا وہ نسل ابھی بھی جنم نہیں لے سکی۔
اور یہ بھی جان لینا ضروری ہے کہ یہ محرومی پنجابی کے ساتھ کوئی خاص برتاؤ نہیں، بلکہ اس ملک میں زبان کے پورے مسئلے کی ایک تلخ کڑی ہے۔ جس ملک میں قومی وحدت کے نام پر ایک ہی زبان کو مرکزیت دی گئی، وہاں باقی تمام علاقائی زبانیں کسی نہ کسی صورت دیوار سے لگا دی گئیں، بنگالی کو ہندوانہ رنگ کا الزام دیا گیا، پشتو کو کسی اور مذہب سے جوڑ کر بدنام کیا گیا، اور اس پوری تاریخ میں پنجاب کی خاموشی سب سے زیادہ حیران کن ہے، کیونکہ پنجاب کے پاس، سیاسی و انتظامی اعتبار سے، وہ اثر و رسوخ موجود تھا جو کسی اور صوبے کے پاس نہ تھا، مگر یہ اثر و رسوخ کبھی اپنی زبان کے حق میں استعمال نہ ہو سکا۔ پاکستان میں زبان کا مسئلہ کسی اور ملک کی نسبت کہیں زیادہ پیچیدہ اور نازک صورت اختیار کر گیا، یہاں تک کہ بنگالی زبان کو ہندوانہ کہہ کر اور پشتو کو کسی اور مذہب سے جوڑ کر مذہبی و لسانی تعصب پھیلایا گیا۔ یعنی جس قوم کے پاس طاقت تھی، اس نے اپنی طاقت کا رخ اپنی زبان کی طرف موڑنے کی بجائے، اسے اردو اور انگریزی کی چوکھٹ پر ہی نچھاور کر دیا۔
اور جہاں تھوڑی بہت فکری سرگرمی باقی بھی ہے، وہاں بھی وہی داخلی انتشار حائل نظر آتا ہے۔ پنجاب کی ثقافتی و علمی شناخت پر گفتگو کرنے والے اہلِ نظر خود اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پنجابی اور سرائیکی کے حلقوں کے درمیان ایک تنگ نظر گروہی رقابت نے جگہ بنا لی ہے، اور یہ بھی کہ پنجابیوں پر ایک خاص بیانیہ مسلط کیا گیا جسے، افسوس، انہوں نے خود بھی اپنا لیا۔ پنجاب کے دانشوروں کے کردار میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، مگر ساتھ ہی ایک تنگ نظر گروہی رجحان بھی سر اٹھا رہا ہے، خاص طور پر پنجابی اور سرائیکی حلقوں کے مابین، اور اس تجزیے میں یہ بھی کہا گیا کہ پنجابیوں پر ایک مخصوص بیانیہ مسلط کر دیا گیا جسے بعد میں پورے ملک نے قبول کر لیا۔ یہی وہ روش ہے جو ہر پنجابی ادبی نشست میں دہرائی جاتی ہے، ایک گروہ اپنے کارناموں کا فخریہ تذکرہ کرتا ہے، دوسرے گروہ کی کوتاہیوں پر انگلی اٹھاتا ہے، اور یوں وہ توانائی، جو مشترکہ قاری پیدا کرنے پر صرف ہونی چاہیے تھی، باہمی چپقلش کی نذر ہو جاتی ہے۔ اور جو قوم اپنے ہی گھر میں تقسیم ہو، وہ باہر کی دنیا کو اپنی طرف کیسے بلائے گی؟
اب اس فکری اور مشقی کوتاہی کی طرف آتے ہیں جو شاید سب سے زیادہ توجہ کی مستحق ہے، یعنی وہ رویہ جس میں پنجابی لکھنے والا اپنی روزمرہ کی بولی چھوڑ کر ایسے الفاظ کا انتخاب کرتا ہے جو اس کی وسعتِ لغت کا ثبوت بن سکیں۔ اس کی ایک تکنیکی وجہ بھی موجود ہے، کیونکہ پنجابی کو اردو رسم الخط میں لکھنے کی خود اپنی مشکلات ہیں، اور اردو کے حروف پنجابی کی بہت سی مخصوص آوازوں کو پوری طرح سمو نہیں پاتے، جس کے باعث لکھنے والوں کو نئے حروف اور علامتیں وضع کرنی پڑتی ہیں، اور اس پر بھی اتفاقِ رائے موجود نہیں۔ پنجابی لکھنے کے لیے اردو کا رائج رسم الخط ناکافی محسوس ہوتا ہے، اور اسے مکمل طور پر برتنے کے لیے کچھ اضافی حروف وضع کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مگر یہ تکنیکی الجھن، جب ادب کی دنیا میں داخل ہوتی ہے، تو بعض لکھاری اسے چھپانے کی بجائے اور بڑھا دیتے ہیں، ثقیل، غیر مانوس، اور بسا اوقات مصنوعی طور پر سنسکرت زدہ الفاظ کا سہارا لے کر، اور یوں متن اور بولی کے درمیان فاصلہ اور گہرا ہو جاتا ہے۔ کسی جدید اصطلاح کا زبردستی پنجابی ترجمہ گھڑنا اسی رویے کی انتہا ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا اصول ہے جو کسی زبان کی تاریخ سے کبھی نہیں ٹلتا، کہ کوئی ترجمہ شدہ لفظ اسی وقت زندہ رہتا ہے جب وہ اصل لفظ سے زیادہ بامعنی اور زیادہ سہل ہو، ورنہ عوام محبتِ زبان کے باوجود اسے قبول نہیں کرتے۔ موبائل، انٹرنیٹ، اور کمپیوٹر جیسے الفاظ نہ اردو نے بدلے، نہ پنجابی نے، اور نہ ہی کسی نے اس پر کوئی اعتراض اٹھایا، کیونکہ یہ الفاظ خود اپنے ممکنہ متبادل سے کہیں زیادہ آسان اور مانوس ہو چکے تھے۔ زبان کی زندگی اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ نئے زمانے کے الفاظ کا سانس لیتی رہے، ورنہ وہ عجائب گھر کی کسی طاق میں سجی ہوئی چیز بن کر رہ جاتی ہے، جسے دیکھا جاتا ہے، سراہا جاتا ہے، مگر بولا نہیں جاتا۔
اسی بحث کے دوران اگر عامر ریاض کی حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی کتاب پنجاب دی ویل کا ذکر ہو تو یہ کسی طور غیر متعلق نہیں۔ عامر ریاض پنجاب کے تعلیمی و ثقافتی حلقوں میں کوئی نووارد نام نہیں، بلکہ ایک ایسے محقق کی حیثیت رکھتے ہیں جنہوں نے برسوں سے دستاویز اور اعداد و شمار کی زبان میں بات کرنے کو اپنا شیوہ بنایا ہے۔ 2011 ء میں انہوں نے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی نصابی کتابوں پر ایک تفصیلی تحقیقی رپورٹ پیش کی تھی، جس میں یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ چوتھی سے دسویں جماعت تک کی چونتیس نصابی کتابوں میں مجموعی طور پر آٹھ سو اکہتر اسباق میں سے صرف پینتیس اسباق، یعنی پانچ فیصد سے بھی کم، پنجاب کے تعارف پر مبنی تھے۔ اسی طرح وہ 2019 ء میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر کی ایک تقریب میں بھی موجود تھے جہاں پنجابی فلسفے پر لکھی گئی کتابوں کی رونمائی ہوئی، اور اس محفل میں کئی معتبر نام شریکِ گفتگو تھے۔ اس تقریب میں پنجابی فلسفے پر لکھی گئی دو کتابوں کی رونمائی ہوئی جس میں کئی معروف اہلِ قلم اور دانشوروں نے شرکت کی، اور عامر ریاض بھی ان مقررین میں شامل تھے۔ وہ عوامی جمہوری فورم کے پنجابی نمبر کے مدون بھی رہے ہیں۔ وہ عوامی جمہوری فورم کے پنجابی زبان پر مخصوص شمارے کے مدیر بھی رہے ہیں۔ یعنی ان کا تعلق اسی سنجیدہ حلقے سے ہے جو نصابی بے ضابطگیوں سے لے کر پنجابی زبان کے حقوق تک، ہر بات دستاویزی شہادت کی بنیاد پر کہتا ہے۔
مگر پنجاب دی ویل کے متعلق یہ جاننے کی کوشش کہ ٹھیک ٹھیک کتنے نسخے فروخت ہوئے، یا اس پر عوامی سطح پر کون کتنی بات کر رہا ہے، بے سود ثابت ہوئی، اور یہ ناکامی خود اس مضمون کی دلیل کی سب سے زندہ مثال ہے۔ جو کتاب پاکستان کے سب سے بڑے آن لائن کتب خانے پر قریب چھبیس سو روپے میں دستیاب ہو، اور جس کے متعلق کوئی واضح فروخت کا اندازہ، کوئی وسیع تبصرہ نگاری، کوئی خبری کوریج آسانی سے میسر نہ آئے، وہ خود اس بات کی گواہ ہے کہ سنجیدہ پنجابی نثر ابھی تک ایک محدود اور بند دائرے کے اندر ہی گردش کرتی ہے، چاہے وہ دائرہ کتنا ہی قابلِ احترام کیوں نہ ہو۔ البتہ ایک بات قابلِ ستائش ہے، اور وہ خود کتاب کے عنوان کی سطح پر ملتی ہے۔ پنجاب دی ویل، یہ ترکیب اسی سادہ اور رائج پنجابی محاورے سے جنم لیتی ہے جس میں ویلا کا مطلب وقت یا زمانہ ہوتا ہے، جیسے عام بول چال میں اوکھے ویلے، یعنی مشکل وقت، کہا جاتا ہے، یا ویل کا مطلب پودے کی مسلسل بڑھوتری ہے، ویل کسی چیز کی شان، عزت یا موقع کے معنی میں بھی برتا جانے والا لفظ ہے۔ یہ سبھی کسی ثقیل، مصنوعی، یا سنسکرت زدہ لفظ سے اخذ نہیں ہے۔ جو زبان کی اس فطری سادگی کی ایک مثال ہے جو محاورے میں خودبخود سما جاتی ہے۔ یہ چھوٹی سی بات، عنوان کے انتخاب کی سطح پر ہی، اس رویے کے خلاف ایک لطیف اور خاموش مثال بن جاتی ہے جس کی نشاندہی اس مضمون کے آغاز میں کی گئی، یعنی بولی جانے والی زبان کے قریب رہنا، فرہنگ دکھانے کی خواہش سے دور رہنا۔ اور جس محقق نے نصابی کتابوں کی خامیاں دستاویز اور عدد کی زبان میں بے نقاب کیں، اس سے یہ توقع بے جا نہیں کہ وہ زبان کو ثبوت پہنچانے کا وسیلہ بنائے گا، نہ کہ فرہنگ کی نمائش کا۔ یہی وہ کردار ہے جس کی پنجابی نثر کو آج سب سے زیادہ حاجت ہے، ایسے قلم کار جو تاریخ، معیشت، اور سیاست جیسے سنجیدہ موضوعات کو اس زبان میں اس طرح برتیں کہ ایک عام پنجابی بولنے والا، جس نے کبھی پنجابی رسم الخط باقاعدہ نہیں پڑھا، وہ بھی متن سے اپنا رشتہ جوڑ سکے۔ پنجاب دی ویل جیسی کاوشیں، چاہے ان کا دائرۂ اثر ابھی محدود ہو، اسی سمت میں ایک قابلِ قدر قدم ہیں، کہ یہ زبان کو محض شاعری، ناول، افسانہ، شخصی خاکے اور لوک داستان کی چوکھٹ سے نکال کر تحقیقی نثر کی وسیع دنیا میں لانے کی کوشش کرتی ہیں۔
غرض یہ کہ پنجابی زبان کا مسئلہ کسی ایک سبب کا مرہونِ منت نہیں، بلکہ تین مختلف کوتاہیوں کا مجموعہ ہے۔ ریاست کی سطح پر نصاب اور ادارہ جاتی سرپرستی کی کمی، اہلِ دانش کی سطح پر گروہی انتشار اور باہمی چپقلش، اور تخلیقی سطح پر روزمرہ بولی سے فاصلہ۔ اور جس طرح کوئی جسم ایک عضو کی بیماری سے پورا صحت مند نہیں کہلا سکتا، اسی طرح اگر ان تین کوتاہیوں میں سے صرف ایک درست ہو جائے تو بھی مرض باقی رہے گا، جب تک تینوں کا علاج بیک وقت نہ کیا جائے۔ جو زبان آٹھ کروڑ سے زیادہ گھروں میں بولی جاتی ہے، جو صدیوں سے وارث شاہ، بلھے شاہ، اور شاہ حسین جیسے شاعروں کا لباس رہی ہے، اسے دفتر اور جماعت کے دروازے پر اجنبی بن کر کھڑا رہنے کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔ امید کی کرن صرف اتنی ہے کہ حکومتی اعلانات، اور عامر ریاض جیسی خاموش، مگر مضبوط بنیادوں پر قائم کاوشیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ دروازہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا، مگر اسے کھلا رکھنے کے لیے وہی تین سانسیں بیک وقت لینی ہوں گی جن کا ذکر اس مضمون میں کیا گیا، ورنہ کوئی بھی زبان، خواہ اس کے بولنے والوں کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو، اپنے ہی گھر میں یتیم ہو کر رہ جاتی ہے۔

Very important topic , you should share it on some social media platform so it can be shared further