کیا ہمیں کسی کی نجی زندگی کا منصف بننے کا حق ہے؟
آج کا دور معلومات کی برق رفتاری کا دور ہے۔ موبائل فون کی ایک اسکرین پر پوری دنیا سمٹ آئی ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی سوشل میڈیا کی ٹائم لائن پر کسی اداکار کی شادی، کسی سیاست دان کی طلاق، کسی اینکر کے گھریلو معاملات یا کسی کھلاڑی کی نجی گفتگو موضوعِ بحث بنی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں یہ حق کس نے دیا کہ ہم کسی کی ذاتی زندگی کو اپنی گفتگو، تبصروں اور فیصلوں کا موضوع بنا لیں؟ کیا شہرت کسی انسان کو اس کے بنیادی انسانی حق یعنی پرائیویسی سے محروم کر دیتی ہے؟
پاکستانی میڈیا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ہم نے بارہا دیکھا کہ مشہور شخصیات کی ذاتی زندگیوں کو اس طرح اچھالا گیا جیسے وہ کوئی عوامی اثاثہ ہوں۔ مثال کے طور پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کی شادی کو جس انداز میں ٹی وی ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پر زیرِ بحث لایا گیا، وہ صرف ایک سیاسی خبر نہ رہی بلکہ ذاتی نوعیت کے تبصروں تک جا پہنچی۔ اسی طرح اداکارہ ماہرہ خان کی نجی زندگی یا فیروز خان کے ازدواجی معاملات کو میڈیا ٹرائل کا حصہ بنا دیا گیا۔ سوال یہ نہیں کہ خبر دی جائے یا نہ دی جائے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا خبر دینے کی کوئی اخلاقی حد بھی ہونی چاہیے یا نہیں؟
اسلامی تعلیمات ہمیں واضح طور پر منع کرتی ہیں کہ ہم کسی کے عیوب کی ٹوہ میں نہ رہیں۔ قرآن مجید میں ”تجسس“ سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج ہم نے تجسس کو ہی تفریح بنا لیا ہے۔ کسی کی شادی ہو جائے تو ہم اس کی سابقہ زندگی کا حساب کھول لیتے ہیں، کسی کا رشتہ ٹوٹ جائے تو ہم اس کے کردار پر سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کے فیصلوں کے پیچھے ایسے حالات اور جذبات ہوتے ہیں جن سے ہم واقف نہیں ہوتے۔
میڈیا کا کردار یہاں نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ ریٹنگ کی دوڑ میں اکثر چینلز سنسنی خیزی کو ترجیح دیتے ہیں۔ نجی وی لاگز میں ایسے عنوانات رکھے جاتے ہیں جو محض کلکس حاصل کرنے کے لیے ہوتے ہیں : ”اصل حقیقت کیا ہے؟“ ، ”اندر کی کہانی سامنے آ گئی!“ وغیرہ۔ ان ویڈیوز میں قیاس آرائیاں زیادہ ہوتی ہیں اور حقائق کم۔ یوں ایک انسان کی ذاتی زندگی عوامی عدالت میں پیش کر دی جاتی ہے، جہاں ہر شخص جج بھی ہے اور وکیل بھی۔
یہاں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ”پبلک فگر“ ہونا اور ”پبلک پراپرٹی“ ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔ کوئی اداکار، سیاست دان یا کھلاڑی اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے حوالے سے عوام کے سامنے جواب دہ ہو سکتا ہے مگر اس کی نجی زندگی، اس کے ازدواجی فیصلے، گھریلو اختلافات یا ذاتی کمزوریاں اس کا اپنا معاملہ ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے اس حد کو مٹا دیا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب صرف صحافی یا اینکر ہی نہیں بلکہ ہر موبائل رکھنے والا شخص ”رپورٹر“ بن چکا ہے۔ ایک افواہ چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ بغیر تصدیق کے شیئر کرنا، طنزیہ میمز بنانا، یا سخت تبصرے کرنا عام ہو چکا ہے۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہماری ایک پوسٹ کسی کے خاندان، بچوں اور والدین پر کیا اثر ڈال سکتی ہے۔
اس رویے کے معاشرتی اثرات بھی گہرے ہیں۔ جب ہم مسلسل دوسروں کی نجی زندگیوں پر گفتگو کرتے ہیں تو ہماری توجہ اپنے کردار، اپنی اصلاح اور اپنی ذمہ داریوں سے ہٹ جاتی ہے۔ ہم تنقید میں ماہر ہو جاتے ہیں مگر خود احتسابی سے غافل۔ ایک معاشرہ تب مضبوط بنتا ہے جب اس کے افراد ایک دوسرے کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں، نہ کہ ایک دوسرے کی کمزوریوں کو موضوعِ بحث بنائیں۔
مزید برآں، نجی معاملات کو اچھالنے سے نفسیاتی مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ کئی مشہور شخصیات نے کھلے عام اعتراف کیا کہ میڈیا ٹرائل اور سوشل میڈیا تنقید نے ان کی ذہنی صحت کو متاثر کیا۔ جب کسی کے گھر کا مسئلہ قومی مذاق بن جائے تو وہ فرد اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر یہی رویہ ہمارے اپنے خاندان کے ساتھ اختیار کیا جائے تو ہمیں کیسا محسوس ہو گا؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات شخصیات خود اپنی زندگی سوشل میڈیا پر شیئر کرتی ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کی ہر بات کو اپنی مرضی کے معنی پہنا کر تنقید کا نشانہ بنائیں۔ کسی کی رضا سے شیئر کی گئی تصویر یا خبر کو بھی احترام کے دائرے میں رکھنا ضروری ہے۔ آزادیٔ اظہار کا مطلب کسی کی عزتِ نفس مجروح کرنا نہیں ہے۔
ہمیں بطور قوم اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ کیا ہمارا وقت اور توانائی واقعی اس بات پر صرف ہونی چاہیے کہ فلاں اداکار نے کس سے شادی کی یا فلاں سیاست دان کا گھریلو جھگڑا کیا ہے؟ کیا ہمارے معاشرے میں تعلیم، صحت، معیشت اور اخلاقی اقدار جیسے سنجیدہ مسائل کم ہیں جو ہم دوسروں کی ذاتی زندگیوں میں الجھے رہیں؟
حل کیا ہے؟ سب سے پہلے انفرادی سطح پر خود کو روکنا ہو گا۔ ہر خبر کو شیئر کرنے سے پہلے خود سے سوال کریں : کیا یہ کسی کی عزت پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟ کیا یہ معلومات واقعی عوامی مفاد میں ہے؟ اگر نہیں، تو خاموشی بہتر ہے۔ دوسرا، میڈیا اداروں کو بھی اخلاقی ضابطۂ کار پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ ریٹنگ وقتی فائدہ دے سکتی ہے، مگر اعتماد کھو جائے تو ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کسی کی نجی زندگی پر تبصرہ کرنا نہ ہمارا حق ہے اور نہ ہماری ذمہ داری۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر انسان اپنی کمزوریوں، غلطیوں اور آزمائشوں کے ساتھ ایک مکمل کہانی ہے۔ ہم اس کہانی کا ایک صفحہ دیکھ کر پورا فیصلہ نہیں سنا سکتے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری ذاتی زندگی کا احترام کیا جائے تو ہمیں بھی دوسروں کے لیے وہی معیار اپنانا ہو گا۔
ایک مہذب معاشرہ وہی ہے جہاں خبر اور تجسس کے درمیان ایک اخلاقی لکیر موجود ہو اور اس لکیر کو پار نہ کیا جائے۔


Relatable of this current💯
environment
God bless you sir 😊
جزاک اللہ
Nice 👍