وقت اور کوانٹم:کیا مستقبل ماضی کے بارے میں ہماری کہانی بدل سکتا ہے؟

2004 ء کے آخر میں مجھے دنیا کے ممتاز سائنسی جریدے Science کی طرف سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا۔ اگلا سال، یعنی 2005 ء، طبیعیات کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ اس سال البرٹ آئن سٹائن کے 1905 ء کے انقلابی مقالات کو ایک صدی مکمل ہو رہی تھی۔ یہی وہ سال تھا جسے آج بھی ”معجزاتی سال“ (Annus Mirabilis) کہا جاتا ہے۔
صرف چھبیس سال کی عمر میں آئن سٹائن نے چند مہینوں کے اندر ایسے مقالات شائع کیے جنہوں نے طبیعیات کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ انہی میں سے ایک مقالے نے روشنی کی کوانٹم فطرت کی وضاحت کی اور بعد میں کوانٹم میکانیات کی بنیاد رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ آج کی جدید دنیا، جس میں لیزر، کمپیوٹر چِپ، ایم آر آئی، فائبر آپٹکس اور کوانٹم ٹیکنالوجی شامل ہیں، کسی نہ کسی درجے میں اسی انقلاب کی مرہونِ منت ہے۔
اس تاریخی موقع پر Science نے ایک خصوصی شمارہ شائع کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں دنیا کے مختلف شعبوں کے ممتاز سائنس دانوں کو دعوت دی گئی کہ وہ کوانٹم میکانیکس کے اہم موضوعات پر ایسے مضامین لکھیں جو نہ صرف ماہرین بلکہ دوسرے سائنس دانوں کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہوں۔
میں نے اپنے دیرینہ دوست اور ممتاز طبیعیات دان، پروفیسر یاکر اہارونوف (Yakir Aharonov) کے ساتھ مل کر ایک مضمون تحریر کیا۔ اس کا عنوان تھا:
Time and Quantum: Erasing the Past and Impacting the Future
اس مضمون میں ہم نے ایک ایسے سوال کا انتخاب کیا جو بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے مضمرات انتہائی گہرے ہیں۔
کیا آج کیا گیا ایک تجربہ ہمیں ماضی کے بارے میں اپنی سوچ بدلنے پر مجبور کر سکتا ہے؟
یہ سوال پہلی نظر میں سائنس سے زیادہ فلسفے کا معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا سرچشمہ جدید تجرباتی طبیعیات ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں ایسے تجربات کیے جا چکے ہیں جن کے نتائج نے دنیا بھر کے طبیعیات دانوں کو مجبور کیا کہ وہ وقت، حقیقت اور معلومات کے بارے میں اپنے بنیادی تصورات پر دوبارہ غور کریں۔
پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہمارا مقصد یہ ثابت کرنا ہرگز نہیں تھا کہ مستقبل واقعی ماضی کو بدل دیتا ہے یا وقت الٹا چل سکتا ہے۔ بلکہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ کوانٹم دنیا میں وقت، معلومات اور مشاہدے کا باہمی تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے کہیں زیادہ گہرا اور پیچیدہ ہے۔
اس مضمون میں میں انہی حیران کن تجربات کی کہانی بیان کروں گا۔
اس کہانی کو سمجھنے کے لیے ہمیں صرف ایک سادہ سی بات جاننا ہوگی جس کا ذکر میں پہلے مضامین میں بھی کر چکا ہوں۔
ہم اپنے اردگرد دو طرح کی چیزیں دیکھتے ہیں۔ ایک ذرات، جیسے کنکر، گیند یا ریت کے ذرے ؛ اور دوسری لہریں، جیسے پانی کی لہریں یا آواز کی لہریں۔
ذرّہ ایک متعین راستے پر چلتا ہے۔ اگر آپ گیند اچھالیں تو وہ ایک ہی راستہ اختیار کرتی ہے۔ اس کے برعکس، لہر پھیلتی ہے، ایک دوسرے سے ملتی ہے، اور بعض اوقات ایک دوسرے کو مضبوط یا کمزور بھی کر دیتی ہے۔ یہی عملInterference کہلاتا ہے۔
انیسویں صدی کے آغاز میں برطانوی سائنس دان تھامس ینگ نے ایک مشہور تجربہ کیا جسے Young Double Slit Experiment کا نام دیا جاتا ہے۔ انہوں نے روشنی کو دو باریک سوراخوں سے گزارا۔ اگر روشنی صرف ذرات پر مشتمل ہوتی تو سکرین پر دو روشن دھبے نظر آنے چاہئیں تھے۔ لیکن اس کے بجائے روشن اور تاریک دھاریوں کا ایک سلسلہ ظاہر ہوا، بالکل ویسا جیسا لہروں کے ایک دوسرے سے ملنے پر بنتا ہے۔ اس تجربے نے سائنس دانوں کو یقین دلا دیا کہ روشنی ایک لہر ہے۔
لیکن کہانی نے ایک غیر متوقع موڑ لیا۔
1905 ء میں البرٹ آئن سٹائن نے ایک ایسے مظہر کی وضاحت کی جس میں روشنی لہروں کی طرح نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے توانائی کے پیکٹوں، یعنی فوٹونوں، کی طرح برتاؤ کرتی ہے۔ اس دریافت پر انہیں بعد میں نوبل انعام ملا۔
یوں سائنس دانوں کے سامنے ایک عجیب معمہ کھڑا ہو گیا۔
کیا روشنی لہر ہے یا ذرّہ؟
کوانٹم میکانیکس کا جواب حیران کن تھا۔
روشنی کبھی لہر کی خصوصیات ظاہر کرتی ہے اور کبھی ذرّے کی۔ یہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم اس سے کس قسم کا سوال پوچھتے ہیں۔
یہ خیال اس وقت اور بھی پراسرار ہو گیا جب دو شگافی تجربہ ایک نئی صورت میں دہرایا گیا۔ اس مرتبہ روشنی کی شعاع استعمال کرنے کے بجائے ایک ایک کر کے صرف ایک فوٹون بھیجا گیا۔ توقع یہ تھی کہ ہر فوٹون دو نوں سوراخوں میں سے صرف ایک سے گزرے گا اور آخر میں سکرین پر دو دھبے بنیں گے۔
لیکن حیرت انگیز طور پر ایسا نہیں ہوا۔
لاکھوں فوٹون، ایک ایک کر کے بھیجے گئے، اور آخرکار سکرین پر پھر وہی interference pattern نمودار ہوا۔ گویا ہر فوٹون کسی نہ کسی معنی میں دونوں راستوں سے گزر رہا تھا۔
لیکن جیسے ہی سائنس دانوں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ فوٹون حقیقت میں کس سوراخ سے گزرا، interference pattern غائب ہو گیا اور فوٹون ایک ذرّے کی طرح برتاؤ کرنے لگا۔
یہیں سے وہ معمہ شروع ہوتا ہے جس نے جدید طبیعیات کو ہلا کر رکھ دیا۔
کیا صرف کسی ذرّے کا راستہ معلوم کرنے کی کوشش ہی اس کے رویّے کو بدل دیتی ہے؟ کیا فوٹون کو مستقبل کا علم ہوتا ہے؟
اسی سوال نے امریکی طبیعیات دان جان ویلر کو ایک اور حیران کن تجربہ تجویز کرنے پر آمادہ کیا۔ اس تجربے نے وقت کے بارے میں ہماری عام فہم سوچ کو چیلنج کیا، اور یہی ہماری کہانی کا اگلا مرحلہ ہے۔
اب تک ہم ایک حیران کن بات دیکھ چکے ہیں۔ اگر فوٹون کے راستے کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہ کی جائے تو وہ لہر کی طرح برتاؤ کرتا ہے اور interference pattern پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ وہ کس شگاف سے گزرا تھا تو interference ختم ہو جاتا ہے اور وہ ایک ذرّے کی طرح دکھائی دیتا ہے۔
یہ نتیجہ خود اپنی جگہ حیران کن تھا، لیکن جان ویلر نے اس سے بھی زیادہ گہرا سوال پوچھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم یہ فیصلہ ہی اس وقت کریں جب فوٹون دونوں سوراخوں سے گزر چکا ہو، تو کیا ہو گا؟
پہلی نظر میں یہ سوال بے معنی معلوم ہوتا ہے۔ آخر فوٹون اپنا سفر مکمل کر چکا ہے۔ وہ سوراخوں سے گزر کر آگے بڑھ چکا ہے۔ اب ہمارا بعد کا فیصلہ اس کے ماضی پر کیسے اثر ڈال سکتا ہے؟
ہماری روزمرہ زندگی میں تو ایسا ممکن نہیں۔
فرض کریں ایک تیر کمان سے نکل چکا ہے۔ جب وہ نشانے تک پہنچ جائے تو آپ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ اسے دائیں طرف سے جانا چاہیے تھا یا بائیں طرف سے۔ راستہ تو پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔
لیکن کوانٹم دنیا میں معاملہ اتنا سادہ نہیں۔
ویلر نے ایک ایسا تجربہ تجویز کیا جس میں فوٹون پہلے دو سوراخوں سے گزرتا ہے اور اس کے بعد تجربہ کرنے والا فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اس سے کون سا سوال پوچھے گا۔ اوپر دی گئی تصویر کے مطابق اگر ایسا انتظام کیا جائے جس سے فوٹون کا راستہ معلوم ہو سکے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ ایک ذرّے کی طرح برتاؤ کرتا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے، ہم دو ڈیٹیکٹر دونوں سوراخوں کے سامنے رکھتے ہیں۔
اور اگر ایسا انتظام کیا جائے جس میں راستے کی معلومات حاصل نہ ہو سکے تو وہی فوٹون لہر کی طرح interference پیدا کرتا ہے۔ اس صورت میں ڈیٹیکٹرز کی بجائے ایک سکرین سامنے ہوتی ہے۔
غور کیجیے، فرق صرف تجربے کے آخری حصے میں ہے، جبکہ فوٹون سوراخوں سے پہلے گزر چکا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تجربے کو تاخیر شدہ انتخاب (Delayed Choice) کہا جاتا ہے۔
کیا واقعی مستقبل ماضی کو بدل دیتا ہے؟ یہ وہ مقام ہے جہاں اکثر غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔
پہلی مرتبہ یہ تجربہ سننے والا تقریباً ہمیشہ یہی سوچتا ہے کہ شاید بعد میں کیا گیا فیصلہ فوٹون کے ماضی کو بدل دیتا ہے۔ لیکن طبیعیات دان ایسا نہیں کہتے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسا سوال پوچھ رہے ہیں جو شاید کوانٹم دنیا میں ویسے معنی ہی نہیں رکھتا جیسے ہماری روزمرہ زندگی میں رکھتا ہے۔
ہم فطری طور پر پوچھتے ہیں کہ فوٹون حقیقت میں کس شگاف سے گزرا تھا؟ کوانٹم نظریہ ہمیں بتاتا ہے کہ اگر ایسا کوئی تجربہ ہی نہ کیا گیا ہو جس سے راستہ معلوم ہو سکے، تو یہ سوال بے معنی ہے۔ یعنی اوپر کی مثال میں اگر ڈیٹیکٹر نہ رکھے جائیں تو یہ سوال بے معنی ہے کہ فوٹون کس سوراخ سے گزرا تھا۔ کوانٹم میکانکس کے مطابق، تجرباتی مشاہدے کے بغیر سوال کی اہمیت نہیں۔
یعنی فطرت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ پہلے یہ طے کریں کہ ہم اس سے کون سا سوال پوچھ رہے ہیں۔ جواب اسی سوال کے مطابق ملتا ہے۔
یہ خیال پہلی مرتبہ سننے میں عجیب لگتا ہے، لیکن گزشتہ کئی دہائیوں میں کیے گئے بے شمار تجربات نے اسی کی تصدیق کی ہے۔
ویلر کا تجربہ ایک بنیادی سوال چھوڑ جاتا ہے۔
اگر صرف راستے کی معلومات حاصل کرنے یا نہ کرنے سے نتیجہ بدل جاتا ہے، تو پھر اس صورت میں کیا ہو گا اگر ہم پہلے راستے کی معلومات حاصل کریں اور بعد میں اسے اس طرح مٹا دیں کہ کسی کے لیے بھی یہ معلوم کرنا ممکن نہ رہے کہ فوٹون کس راستے سے آیا تھا؟
کیا interference pattern دوبارہ ظاہر ہو جائے گا؟
ہمارا کلاسیکی وجدان کہتا ہے کہ ایسا ہرگز ہرگز ممکن نہیں ہونا چاہیے۔
لیکن کوانٹم دنیا نے ایک مرتبہ پھر سائنس دانوں کو حیران کر دیا۔
اسی سوال نے مارلن سکلی کے مشہور کوانٹم ایریزر (Quantum Eraser) تجربے کو جنم دیا، جس نے معلومات، حقیقت اور وقت کے درمیان تعلق کو ایک نئی روشنی میں پیش کیا۔
کوانٹم ایریزر میں ماضی نہیں بدلتا، بلکہ ہماری معلومات بدلتی ہیں۔
مارلن سکلی نے طبیعیات دانوں کے سامنے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا۔
ہم دیکھ چکے ہیں کہ اگر فوٹون کے راستے کی معلومات حاصل کر لی جائے تو interference pattern غائب ہو جاتی ہیں۔ لیکن اگر راستہ معلوم ہی نہ ہو تو وہی فوٹون لہر کی طرح interference pattern پیدا کرتا ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ اگر پہلے راستے کی معلومات حاصل کر لی جائے، لیکن بعد میں اس معلومات کو اس طرح ختم کر دیا جائے کہ اصولی طور پر بھی اسے دوبارہ معلوم نہ کیا جا سکے، تو کیا ہو گا؟ یہی خیال مارلن سکلی اور ان کے ساتھیوں نے پیش کیا، جسے بعد میں کوانٹم ایریزر کا نام دیا گیا۔
اس تجربے کا بنیادی تصور حیرت انگیز حد تک سادہ ہے۔
ہم اوپر دی گئی تصویر میں دکھائے گئے کوانٹم ایریزر (Quantum Eraser) کی ایک سادہ تشریح پیش کرتے ہیں۔
یہ تجربہ ینگ کے ڈبل سلٹ (Double Slit) تجربے سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ بنیادی فرق یہ ہے کہ ہر سوراخ میں ایک فوٹون کے بجائے بیک وقت دو فوٹون a اور b پیدا کیے جاتے ہیں۔ یہ کام خاص کرسٹل نصب کر کے کیا جا سکتا ہے۔ اہم بات یہ کہ ایک وقت میں دو فوٹون اس طرح پیدا ہوتے ہیں کہ ہمیں نہیں معلوم کہ دونوں فوٹون بالائی شگاف میں پیدا ہوئے ہیں یا زیریں شگاف میں۔ a فوٹون بالکل اسی طرح تداخل (interference) پیدا کرتے ہیں جیسے ینگ کے ڈبل سلٹ والے تجربے میں ہوتا ہے۔ جبکہ b فوٹون کا کردار یہ معلوم کرنا ہے کہ فوٹون کس راستے (which۔ path) سے گزرا۔
ایک اور اہم بات یہ کہ کرسٹل سے بیم سپلٹر B تک کا فاصلہ کرسٹل سے سکرین تک کے فاصلے کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ یوں ہم یہ فیصلہ a فوٹون کے سکرین پر ڈیٹیکٹ ہونے کے کافی دیر بعد کر سکتے ہیں کہ یہ معلومات حاصل کی جائے یا نہیں کہa فوٹون کس سوراخ سے آ یا۔
اب اس تجربے کا ہوش ربا نتیجہ۔
اگر ہم یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ a فوٹون کس سوراخ سے آیا، تو اوپر دی گئی تصویر میں بائیں طرف کی تصویر پر غور کیا جائے۔ اس تصویر کے مطابق اگرb فوٹون ڈیٹیکٹرD 3 میں کلک پیدا کرے، تو a فوٹون بالائی سوراخ سے آیا، اور اگرbفوٹون ڈیٹیکٹرD 4 میں کلک پیدا کرے، تو a فوٹون نچلے سوراخ سے آیا۔ یوں ہمارے پاس اس بات کی تفصیل ہو گی کہ a فوٹون کس سوراخ سے سکرین تک پہنچے۔ یعنی اگر ڈیٹیکٹرز D 3 یا D 4 شمار میں کلک ریکارڈ کریں تو ہمارے پاس ”کون سا راستہ“ (which۔ way) معلومات موجود ہوتی ہیں۔
لیکن صورت حال اس وقت مزید دلچسپ ہو جاتی ہے جب ہم فوٹونوں کو آئینوں B 1 اورB 2 سے منعکس کر کے بیم سپلٹر B سے گزارتے ہیں جیسا کہ دائیں طرف دی گئی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ اگر b فوٹون D 1 پر دریافت ہو تو برابر امکان ہے کہ وہ شگاف 1 سے براستہ 1 B 1 BD 1 اختیار کرتے ہوئے آیا ہو، یا شگاف 2 سے راستہ 2 B 2 BD 1 اختیار کرتے ہوئے آیا ہو۔ اس صورت میں ہم یہ معلومات مٹا چکے ہوتے ہیں کہ a فوٹون کس شگاف سے نکلا تھا، لہٰذا اس سے متعلق which path معلومات دستیاب نہیں رہتی۔ یہی بات D 2 پر دریافت ہونے والے b فوٹون کے بارے میں بھی درست ہے۔
اہم نتیجہ یہ ہے کہ جن واقعات میں b فوٹون D 3 اور D 4 پر دریافت ہوتے ہیں، ان کے متعلق a فوٹونوں کا نمونہ (pattern) بالکل ویسا ہی ہوتا ہے جیسا ہمیں اس صورت میں ملنا چاہیے جب فوٹون بالترتیب شگاف 1 یا شگاف 2 سے آئے ہوں۔ یعنی یہاں کوئی Interference pattern موجود نہیں ہو گا، جیسا کہ توقع کی جاتی ہے کیونکہ ہمارے پاس which path معلومات موجود ہوتی ہیں۔
اس کے برعکس، ان واقعات میں جہاں b فوٹون D 1 یا D 2 پر دریافت ہوتے ہیں، ہمیں واضح Interference pattern حاصل ہوتا ہے۔ اس ڈیٹا میں متعلقہ a فوٹونوں کے بارے میں کوئی which path معلومات دستیاب نہیں ہوتی۔
فرض کریں کہ ہم b فوٹونوں کے ڈیٹیکٹر بہت دور نصب کر دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان فوٹونوں پر مستقبل میں کی جانے والی پیمائشیں اس بات پر اثر انداز ہوتی ہیں کہ ہم آج (یا حتیٰ کہ کل) ماپے گئے a فوٹونوں کے بارے میں کیا بیان دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر، ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ وہ a فوٹون جن کے b ساتھیوں کے ذریعے راستے کی معلومات کامیابی سے حاصل کر لی گئی تھیں، ماضی میں شگاف 1 یا شگاف 2 میں سے کسی ایک سے نکلے تھے۔ اسی طرح ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ a فوٹون جن کے b ساتھیوں کی راستے کی معلومات مٹا دی گئی تھی، انہیں ماضی میں صرف شگاف 1 یا صرف شگاف 2 سے آیا ہوا قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ انہیں ایک معنی میں دونوں شگافوں سے آیا ہوا سمجھنا پڑتا ہے۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ مستقبل میں کی جانے والی پیمائشیں اس کہانی کی تشکیل میں کردار ادا کرتی ہیں جو ہم ماضی کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بعد میں کیا گیا فیصلہ پہلے سے ریکارڈ شدہ نتائج کی تعبیر بدل رہا ہو۔
لیکن یہاں ایک نہایت اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔
سکرین پر حاصل ہونے والی اصل تصویر کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔
سکرین پر ہمیشہ ایک بے ترتیب سا نمونہ (random pattern) ریکارڈ ہوتا ہے۔ Interference pattern صرف اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب بعد میں دونوں فوٹونوں کے اعداد و شمار کو ایک خاص طریقے سے آپس میں ملایا جائے، جسے Coincidence Counting کہا جاتا ہے۔
دوسرے لفظوں میں، ماضی کا ریکارڈ تبدیل نہیں ہوتا۔ بلکہ اس ریکارڈ کی تشریح مکمل معلومات ملنے کے بعد بدلتی ہے۔
یہی وہ بنیادی نکتہ تھا جس پر میں اور یاکر اہارونوف نے اپنے 2005 ء کے Science کے مضمون میں خاص زور دیا تھا۔
کوانٹم ایریزر ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ مستقبل ماضی کو بدل دیتا ہے، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ کوانٹم دنیا میں کسی واقعے کو سمجھنے کے لیے مکمل معلومات کا ہونا ضروری ہے۔ جب نئی معلومات سامنے آتی ہے، تو وہ ماضی میں جمع کیے گئے ڈیٹا کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے کی اجازت دیتی ہے۔
یہ فرق بظاہر معمولی محسوس ہوتا ہے، لیکن یہی فرق کوانٹم میکانیات کو سنسنی خیز کہانیوں سے الگ کر کے ایک مضبوط سائنسی نظریہ بناتا ہے۔
ان تجربات کے نتائج اتنے ہوش ربا ہیں کہ سٹرنگ تھیوری کے معمار اور ایک عظیم سائنسدانBrian Greene ان تجربات کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
”یہ تجربات ہماری جگہ (Space) اور وقت (Time) کے بارے میں روایتی تصورات کے لیے ایک شاندار چیلنج ہیں۔ کوئی ایسا واقعہ جو کسی دوسری چیز کے بہت بعد اور بہت دور وقوع پذیر ہو، پھر بھی اُس دوسری چیز کی وضاحت کے لیے نہایت اہم ثابت ہوتا ہے۔ کلاسیکی اور عام فہم کے معیار کے مطابق یہ بات بظاہر بالکل عجیب، بلکہ دیوانگی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اصل نکتہ یہی ہے : کوانٹم کائنات کو سمجھنے کے لیے کلاسیکی طرزِ فکر مناسب نہیں۔ جب میں نے پہلی بار ان تجربات کے بارے میں جانا، تو کئی دنوں تک میرے اندر ایک عجیب سی مسرت اور جوش کی کیفیت رہی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے حقیقت کے ایک پوشیدہ اور پردۂ راز میں چھپے ہوئے پہلو کی ایک جھلک مجھے دکھا دی گئی ہو۔“



Thanks for sharing mysteries of our universe