میرے مطابق

کامیابی کی چمک

mehran khan swat

میں ہسپتال کی انتظار گاہ میں انتظار کر رہا ہوں، سامنے ایک قابل قدر ڈاکٹر کا دفتر ہے۔ جس کے سامنے لوگوں کا رش لگا ہوا۔ وہ تمام عمر کے لوگوں میں طرح طرح کے امراض کی تشخیص کر رہا ہے لیکن کیا اس ڈاکٹر کو پتہ ہے کہ اسے بڑھاپے جیسا لاعلاج مرض لاحق ہو گیا۔ مریضوں کے ساتھ وقت گزارتے گزارتے وہ کب بڑھاپے کا مریض بن گیا۔ اسے تو ایسا نہیں لگتا لیکن حقیقت کو کون ٹال سکتا ہے جیسے مجھے اپنا آپ بے معنی نہیں لگتا لیکن میں بے معنی ہوں۔

نہ جانے یہ کس نے کہا تھا کہ بڑھاپے سے خطرناک بیماری کوئی نہیں۔ مجھے نہیں معلوم یہ میری ذہنی اختراع ہے یا میں کسی کے خیالات پڑھ کے بھول گیا ہوں اور یاد آنے پر اسے اپنا تصور کر رہا ہوں۔

پڑھنے سے یاد آیا ہمارا ایک دوست افلاطون کو پڑھ کے کہتا تھا میں نے قرآن سے اتنا نہیں سیکھا جتنا افلاطون سے سیکھا ہے۔ وہ خوش قسمت افلاطون سے سیکھ گیا اور ہم باتوں باتوں میں اس کا مذاق اڑانے والوں نے نہ قرآن سے سیکھا اور نہ افلاطون سے۔

مجھے اس وقت اس ڈاکٹر کا دکھ ہرگز نہیں ستا رہا ہے بلکہ یہ دکھ گلے پڑا ہوا ہے کہ مجھ جیسے آدم بیزار کے اردگرد یہ جیتے جاگتے دکھ بھرے کردار کیوں گھوم رہے ہیں۔ میں کیوں وہ محسوس کرتا ہوں جو میں محسوس کرنا نہیں چاہتا اور وہ محسوس نہیں کرپا رہا ہو جو میں محسوس کرنا چاہتا ہوں؟

میں اور یہ دکھ بھری کہانیاں چور سپاہی کا کھیل کھیلتے ہیں۔ میں اناڑی چور کی طرح ہر بار پکڑا جاتا ہوں یا شاید میں بھاگتے بھاگتے تھک کے خود کو ان کے حوالے کر دیتا ہوں۔ یہ بھاگتے رہنا بھی کتنا مشکل ہے؟

ہاں! میری عادت ہے میں ڈر کے اکثر جلد ہار مان کے پیچھے ہٹ جاتا ہوں اور چیزیں ادھوری چھوڑ دیتا ہوں۔ جیسے ہٹلر کی ”مائن کامف“ میں مکمل نہیں کر سکا۔ گاندھی جی کی آپ بیتی بھی بیچ میں چھوڑ دی، کون کون سی کتابیں یاد کروں لیکن یہ کہنا مناسب ہو گا کہ میں نے اتنی کتابیں نہیں پڑھیں، جتنی بیچ میں چھوڑ چکا ہوں۔ کچھ کتابوں سے ویسے ہی ڈر لگتا ہے جیسے ٹالسٹائی کی ”وار اینڈ پیس“ کو میں ہاتھوں میں لے کے صفحہ الٹ پلٹ کے دوبارہ رکھ دیتا ہوں، یاسر جواد کی ترجمہ شدہ ول ڈیورانٹ کی تہذیب کی داستان کو بھی پڑھنے سے ڈر لگتا ہے لیکن فی الحال میں چاہ کے بھی اسے خریدنے سے قاصر ہوں۔ میں کسی بھی کام کو انتہا تک نہیں پہنچا سکا ہمارا تعلق بھی تمہاری کہانی کی طرح میں بیچ میں چھوڑ گیا تھا، اس وہیل چیئر پر پینتیس سال گزارنے والے اپنے ہمسائے پر بھی میں افسانہ نہیں لکھ سکا۔ ہاں وہ افسانہ جس میں وہ چلتا ہے، اچھلتا ہے، کودتا ہے، دوڑتا ہے اور میراتھن ریس میں حصہ لینے کی اپنی خواہش کو تکمیل تک پہنچاتا ہے۔ مجھے اپنے جاننے والے کچھ کامیاب انسانوں کی ناکامیوں کی کہانیاں بھی لکھنی تھیں لیکن اب تک میں کوئی ایک بھی نہیں لکھ سکا۔

کامیابی سے اس لڑکے کا چہرہ یاد آتا ہے جو دنیا کی نظروں میں کامیاب ہو گیا ہے، جو کہہ رہا تھا میں نے ISSB کلیئر کر لیا ہے، اب میں سوچ رہا ہوں کہ جاؤں یا نہ جاؤں۔ وہ یہ بھی کہہ رہا تھا کہ میرا دل نہیں کرتا کہ میں جاؤں لیکن اس کی آنکھوں کی چمک کچھ اور ہی کہانی سنا رہی تھی۔

یہ آنکھیں ہمیشہ کچھ اور کہانی ہی کیوں سناتی ہیں؟

اس کی آنکھیں دیکھ کے مجھے بہت اچھا لگا اور نہ جانے کیوں اپنے دوست کی آنکھیں یاد آئیں جن میں چرس پینے کے بعد اتنی چمک آجاتی تھی کہ انسان کا دل کرتا تھا کہ ان آنکھوں میں جی بھر کے دیکھے۔

اس کی آنکھوں میں دیکھ کے لگ رہا تھا کہ اس کی کامیابی کا سرور میرے دوست کے چرس کے سرور سے کہیں زیادہ ہے۔

لیکن کیا کامیابی کا نشہ بھی چرس کے نشہ کی طرح جلد ہی اترتا ہے؟ کامیابی کا نشہ زیادہ مہلک ہوتا ہے یا ناکامی کا نشہ زیادہ جان لیوا ہوتا ہے؟ شاید یہی وہ پنچ لائنز تھیں جو میں ابتدا میں لکھنا چاہتا تھا لیکن آخر میں لکھ گیا۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW