اپنا گھر اسکیم اور بینکوں کی کاہلی – مکمل کالم

ایک شریف آدمی نے بینک میں قرضے کی درخواست دی۔ بینک افسر نے اس کے کاغذات دیکھے اور پھر ایک سرد آہ بھر کر بولا، ”ہم معذرت خواہ ہیں، آپ کا کریڈٹ اسکور بہت کم ہے، ہم آپ کو قرضہ نہیں دے سکتے۔“ آدمی نے منتیں کرتے ہوئے کہا، ”خدارا، کوئی طریقہ نکالیے ورنہ میرا کاروبار ڈوب جائے گا!“ بینک افسر نے ادھر ادھر دیکھا، آدمی کے قریب ہوا اور سرگوشی کی، ”میری ایک آنکھ شیشے کی ہے، جو میڈیکل سائنس کا ایک شاہکار ہے۔ اگر تم نے بتا دیا کہ کون سی آنکھ نقلی ہے اور کون سی اصلی تو میں تمہارا قرضہ منظور کر دوں گا۔“ آدمی نے چند لمحوں کے لیے بینک افسر کی آنکھوں میں غور سے دیکھا اور بولا، ”آپ کی بائیں آنکھ نقلی ہے۔“ بینک والا دنگ رہ گیا۔ ”کمال ہے! میری بیوی بھی یہ فرق نہیں بتا سکتی۔ تمہیں کیسے پتہ چلا؟“ آدمی نے اطمینان سے جواب دیا، ”بہت آسان ہے۔ صرف اسی آنکھ میں انسانی ہمدردی کی کچھ چمک نظر آ رہی تھی۔“
بچپن میں جب ہم اِس قسم کے لطیفے پڑھتے تھے تو انہیں مبالغہ آرائی پر محمول کرتے تھے، لیکن اب بینکوں کے کرتوت دیکھ کر اِن پر یقین آ گیا ہے۔ بظاہر پاکستان کا بینکنگ نظام بہت عمدہ ہے، آج تک یہاں کوئی بینک نہیں ڈوبا، ڈیجیٹل بینکنگ میں بھی ہم دنیا سے پیچھے نہیں، لچھے دار گفتگو کوئی ہم سے سیکھے۔ پاکستانی بینک یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر اپنا اصل کام نہیں کرتے، یعنی صارفین کو قرض دینا۔
تازہ ترین ثبوت اِس کا وزیر اعظم کی اپنا گھر اسکیم ہے۔ اگر آپ کی کوئی مستقل آمدنی ہے، اپنا کام ہے یا کہیں ملازمت کرتے ہیں، اور اِس کا ثبوت پیش کر سکتے ہیں تو اپنا گھر بنانے کے لیے ایک کروڑ روپے تک کا قرضہ آپ کو فقط پانچ فیصد مارک اپ پر مل سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں عوام کے لیے اِس سے عمدہ اسکیم پیش کرنا ممکن نہیں تھا۔ اِس وقت اسٹیٹ بینک کا اعلان کردہ پالیسی ریٹ ساڑھے گیارہ فیصد ہے جس کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ اگر آپ بینک سے عام صارف کے طور پر قرضہ لیں گے تو آپ کو کم از کم ساڑھے سولہ فیصد سود پر قرض ملے گا جبکہ وزیر اعظم کی اسکیم کے تحت آپ نے صرف پانچ فیصد دینا ہے، باقی کا مارک اپ حکومت اپنی جیب سے بینک کو ادا کرے گی اور اِس مد میں تین سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یعنی اگر متوسط طبقے کا کوئی شخص ساٹھ ستر ہزار ماہانہ کرائے پر رہ رہا ہے تو وہ تین یا پانچ مرلے کا گھر بنا کر باآسانی اتنی ہی رقم قرضے کی قسط کی صورت میں ادا کر سکتا ہے اور کرائے دار سے مالک مکان بن سکتا ہے۔ اِس اسکیم میں کوئی خرابی نہیں ہے، خرابی صرف بینکوں میں ہے جنہوں نے اِس اسکیم کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے۔
آپ کسی بھی بینک کی ویب سائٹ پر چلے جائیں، ہر بینک نے وزیر اعظم کی اپنا گھر اسکیم سے متعلق معلومات فراہم کر رکھی ہیں جن میں لکھا ہے کہ کون یہ قرضہ لے سکتا ہے اور اِس کی کیا شرائط ہیں۔ درخواست فارم، شناختی کارڈ، ایک تصویر، حلفیہ بیان کہ آپ کے نام کوئی گھر نہیں ہے، اس پلاٹ کے کاغذ جس پر آپ گھر تعمیر کرنا چاہتے ہیں، ملازمت کا ثبوت، سیلری سلپ، ساٹھ دن کی بینک اسٹیٹمنٹ، اور بس۔ لیکن معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا، جب آپ یہ کاغذ جمع کروانے بینک جاتے ہیں تو آپ کے ہاتھ میں ایک نئی فہرست تھما دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ مزید دستاویزات بھی لے کر آئیں۔ اس میں تین حلفیہ بیانات ہیں جن میں ایک ہی بات مختلف انداز میں لکھی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ہاؤسنگ سوسائٹی سے دو قسم کے این او سی۔ متعلقہ دفتر سے گھر کا منظور شدہ نقشہ۔ دو لوگوں کے حوالے جو آپ کو جانتے ہوں (ان کا ذکر بعد میں آئے گا) ، ان کا شناختی کارڈ وغیرہ، پلاٹ کی رجسٹری بمعہ ملکیتی خط۔ ساتھ یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ بینک اِس قرضے کو منظور کرنے کی کوئی فیس نہیں لے گا جبکہ حقیقت اِس کے برعکس ہے۔
جب آپ دو ماہ بعد یہ تمام کاغذات پورے کر کے بینک جاتے ہیں تو آپ سے دستاویزات کے پلندوں پر دستخط کروائے جاتے ہیں جن میں یہ تک پوچھا جاتا ہے کہ جہاں آپ رہتے ہیں اس کے دائیں جانب کون قیام پذیر ہے، اوپر کون رہتا ہے، نیچے کون رہتا ہے، آپ کے مکان کا رنگ کیا ہے۔ جن دو لوگوں کا آپ نے حوالہ دیا تھا اُن کے علاوہ اپنے دفتر میں کام کرنے والوں کا حوالہ بھی دیں۔ بینک اپنی مرضی کے دن اور وقت میں کبھی بھی انہیں فون کرے گا اور پوچھے گا کہ آپ کیسے آدمی ہیں، کب سے انہیں جانتے ہیں وغیرہ۔ اور سنیے۔ بینک نے کچھ کمپنیاں ہائر کر رکھی ہیں، جن کا کام آپ کے پلاٹ کی قیمت کا تخمینہ لگانا ہے، اس کے چوبیس ہزار روپے آپ نے ادا کرنے ہیں۔ اس کے بعد ایک شخص آپ کی آمدن کا حساب لگائے گا اس کی فیس پندرہ ہزار ہے وہ بھی آپ نے بھرنی ہے۔ اور پھر ایک دن آپ نے اصل رجسٹری لے کر کچہری جانا ہے جہاں آپ کا پلاٹ رہن رکھا جائے گا، وہ سب خرچہ بھی آپ نے کرنا ہے۔
بینکوں کا موقف یہ ہے کہ وہ اسٹیٹ بینک کے قواعد کے تحت یہ تمام دستاویزات حاصل کرتے ہیں۔ چلیے درست ہے، مان لیا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بینک اپنی ویب سائٹ پر ایک ہی مرتبہ کیوں نہیں لکھ دیتے کہ کیا کیا درکار ہے؟ اور یہ غلط بیانی کیوں کی جا رہی ہے کہ بینک اِس کے چارجز وصول نہیں کر رہے جبکہ بینک کی نامزد کمپنیاں پیسے وصول کر رہی ہیں۔ اور تیسری بات، جب آپ نے صارف کا پلاٹ ہی رہن رکھ لیا اور اُس کی اصل رجسٹری رکھ کر اُس سے لکھوا لیا کہ نادہندہ ہونے کی صورت میں بینک جائیداد کا مالک ہو گا تو اُس کے بعد یہ تمام دھماچوکڑی مچانے کی کیا تُک ہے؟
اصل میں مسئلہ کچھ اور ہے۔ اِن عیاش بینکوں کو عادت پڑ چکی ہے کہ وہ لوگوں کا پیسہ ڈپازٹ کی صورت میں جمع کریں اور اسے بغیر کسی محنت کے حکومت کو مہنگے قرضوں (T-Bills) کی شکل میں دے کر اربوں روپے کا مفت منافع کمائیں۔ انہیں کیا مصیبت پڑی ہے کہ وہ کسی غریب کے مکان کی فائل پر محنت کریں اور پانچ فیصد مارک اپ پر اپنا مغز کھپائیں۔ ہاں، سبسڈی کا فرق حکومت ادا کرتی ہے لیکن بیس سال کا چکر، کاغذی کارروائی، غریب صارفین کے منہ لگنا، بینک کو یہ سب پسند نہیں۔ اس لیے وہ درخواستوں کا کام ٹھنڈے پیٹوں کرتے ہیں، جانتے بوجھتے ہوئے کہ جتنی زیادہ مشکلات پیدا کریں گے، اتنے کم لوگ آئیں گے۔ ممکن ہے کچھ لوگ کہیں کہ بینک ایک کروڑ دے رہا ہے تو اپنی تسلی تو کرے گا، جی بالکل تسلی کرے، مگر ذلیل نہ کرے۔ جس قسم کی دستاویزات مانگی جا رہی ہیں اُن میں سے آدھی غیر ضروری ہیں جن کا مقصد صارف کو تھکانے اور وزیر اعظم کی اسکیم کو ناکام بنانے کے سوا اور کچھ نہیں۔ جس کو یقین نہیں آتا وہ خود سرکار کے ہی بینک میں قرض کی درخواست جمع کروا کے دیکھ لے، پسینے چھوٹ جائیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان کمرشل بینکوں نے وزیرِ اعظم کی اس بہترین اسکیم کا جنازہ نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان صرف سرکلر جاری کر رہا ہے، اِن بینکوں کے خلاف کوئی ٹھوس ایکشن نہیں لے رہا۔ اگر واقعی اس اسکیم کو بچانا ہے تو فوری طور پر بینکوں کے اِس رویے کا نوٹس لینا ہو گا۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی بشرطیکہ اِس ضمن میں کچھ کام کر لیے جائیں۔ سب سے پہلے تو غیر ضروری دستاویزات ختم کی جائیں، جو کاغذات بینکوں نے ویب سائٹ پر مانگے ہیں وہ کافی ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو پابند کر رکھا ہے کہ وہ مقررہ وقت میں قرضے کی درخواست نمٹائیں گے مگر اُس پر عمل نہیں ہو رہا، لہذا یقینی بنایا جائے کہ مکمل درخواست وصول کرنے کے بعد بینک زیادہ سے زیادہ ایک ماہ میں قرضہ جاری کرے گا۔ ہر قسم کی پراسیسنگ فیس ختم کی جائے، بینک مارک اپ انہی کاموں کے لیے لیتا ہے لہذا اُس کے لیے الگ سے پیسے اینٹھنے کی ضرورت نہیں۔ مسترد کی جانے والی درخواستوں کے لیے ایک علیحدہ اپیل کا نظام بنایا جائے، نہ کہ وہی بنک اور وہی پورٹل اسے دیکھے۔ فورکلوژر قوانین میں ترمیم کر کے بنکوں کو اعتماد دلایا جائے، یہ کام برسوں سے التوا میں پڑا ہے، اس میں اب دیر نہیں کی جا سکتی۔
وزیرِ اعظم کا ’اپنا گھر‘ ایک نیک نیتی سے بنائی گئی سکیم ہے۔ 3.2 کھرب روپے کا اعلان، پانچ فیصد مارک اپ، بیس سال کی مہلت، ایک غریب ملک میں یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ ضرورت صرف بینکوں کو صراط مستقیم پر لانے کی ہے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں۔
