میرے مطابق

جمہوریت کا اصل حُسن

پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں کشیدگی، معطلیاں اور سیاسی انتقام کوئی نئی بات نہیں۔ مگر جب کسی ادارے میں سیاسی مفاہمت کی کوئی کرن نمودار ہو تو اسے سراہنا بھی ضروری ہے، مگر سوالات اٹھانا بھی لازمی ہوتا ہے کہ کیا یہ مفاہمت پائیدار جمہوری رویوں کی جانب قدم ہے یا وقتی مفاد پر مبنی ایک مجبوری؟

حال ہی میں پنجاب اسمبلی میں 26 اپوزیشن ارکان کی معطلی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک اہم پیش رفت سامنے آئی۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے ان ارکان کے خلاف دائر ریفرنس واپس لینے اور معطلی ختم کرنے کا عندیہ دیا، جس پر دونوں فریقین میں مذاکرات کامیاب قرار دیے جا رہے ہیں۔ اس پیش رفت کو محض ایک انتظامی کارروائی نہ سمجھا جائے بلکہ اس کے پس منظر میں جاری سیاسی کشمکش اور پارلیمانی کشیدگی کا ایک گہرا سلسلہ ہے۔

پنجاب اسمبلی کے 26 اپوزیشن ارکان کی معطلی کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اپوزیشن نے حکومت کے بعض فیصلوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی کی۔ اسپیکر کے روسٹرم کا گھیراؤ، حکومتی ارکان کے خلاف نعرے بازی، اور اجلاس کی کارروائی میں مداخلت جیسے اقدامات کے بعد حکومتی بنچز کی جانب سے ان ارکان کے خلاف سخت ایکشن کا مطالبہ کیا گیا۔

اس تناظر میں احمد اقبال، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان، اور افتخار احمد چھاچھر جیسے سینئر حکومتی ارکان کی جانب سے اسپیکر کو تحریری طور پر درخواستیں دی گئیں کہ ان 26 ارکان کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کیا جائے تاکہ ان کی رکنیت ختم کی جا سکے۔

ملک احمد خان کو ایک سنجیدہ، قانونی معاملات میں ماہر اور نسبتاً متوازن اسپیکر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس کیس میں ان پر یہ دباؤ تھا کہ وہ حکومتی صفوں کے مطالبے کو عملی جامہ پہنائیں۔ تاہم موجودہ صورت حال میں ان کی جانب سے ریفرنسز ختم کرنے اور معطل ارکان کو بحال کرنے کا فیصلہ ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر مفاہمت کی کوششیں جاری ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسپیکر نے سیاسی تصادم سے گریز کرتے ہوئے قانونی عمل کو معطل کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ اسمبلی حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ ریفرنس معطلی کا ڈرافٹ تیار کریں، جو اسپیکر کی منظوری کے بعد جاری کیا جائے گا۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جن نکات پر اتفاق رائے ہوا، ان میں سب سے اہم نکتہ معطل ارکان کی بحالی ہے۔ لیکن کیا یہ اتفاق رائے مستقبل کی کسی مستقل پارلیمانی ہم آہنگی کی طرف اشارہ ہے؟ یا یہ صرف اسپیکر کی بیرون ملک روانگی سے قبل ایک وقتی بندوبست ہے تاکہ اسمبلی کا ماحول وقتی طور پر پرامن رکھا جا سکے؟

بعض سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت کو اندرونی سطح پر یہ احساس ہوا ہے کہ مسلسل اپوزیشن کو دیوار سے لگانا جمہوریت کے تسلسل اور حکومتی ساکھ دونوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن نے بھی یہ سمجھا کہ مسلسل احتجاج کی سیاست اسمبلی کی کارروائی کو مفلوج کر کے ان کے اپنے مسائل میں اضافہ کر سکتی ہے۔

قانونی طور پر اسپیکر کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے والے ارکان کے خلاف ضابطے کے تحت کارروائی کرے، مگر رکنیت ختم کروانے کے لیے معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجنے کی راہ قانونی طور پر نہایت سنجیدہ ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں ریفرنس کے ساتھ ٹھوس شواہد اور ضوابط کے مطابق کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس حوالے سے اسپیکر کا ریفرنس واپس لینا نہ صرف قانونی بوجھ سے نجات ہے بلکہ اس سے اسمبلی کی کارروائی کو غیر ضروری عدالتی موشگافیوں سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔

اگرچہ بظاہر یہ ایک جمہوری جیت ہے کہ دونوں فریقین نے مفاہمت کا راستہ اپنایا، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ مفاہمت کتنی دیرپا ہوگی؟ کیا مستقبل میں بھی ایسے بحرانوں کو مذاکرات سے حل کیا جائے گا یا پھر دوبارہ معطلی، واک آؤٹ اور بائیکاٹ کی سیاست دیکھنے کو ملے گی؟

حقیقت یہ ہے کہ اس عمل نے دونوں فریقین کو ایک تجربہ فراہم کیا ہے کہ اگرچہ اختلافات ہوں، تب بھی بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا ممکن ہے۔ اس عمل سے نہ صرف اسمبلی کی کارروائی کو روانی ملے گی بلکہ عوامی مسائل پر بحث کے مواقع بھی بڑھیں گے۔

پنجاب اسمبلی کے 26 ارکان کی معطلی کا خاتمہ ایک اہم قدم ضرور ہے، لیکن یہ محض ایک سیاسی وقفہ بھی ہو سکتا ہے اگر مستقل مزاجی سے پارلیمانی روایات کو مستحکم نہ کیا گیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسمبلی میں برداشت، گفت و شنید اور آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اختلاف رائے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

جمہوریت کا اصل حسن صرف انتخابات نہیں بلکہ منتخب نمائندوں کے درمیان مسلسل مکالمہ اور رواداری ہے۔ اگر پنجاب اسمبلی اس مثبت رویے کو برقرار رکھ پاتی ہے، تو یہ نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ پاکستان کی جمہوریت کے لیے بھی ایک امید افزا علامت ہو گی۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW