اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان

پاکستان کی سیاست دیکھیں تو لگتا ہے جیسے ہر دہائی میں ایک ہی ڈرامے کی نئی قسط چل رہی ہو۔ جس میں کردار تو بدلتے رہتے ہیں مگر کہانی نہیں بدلتی اور اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان ہمیشہ ایک جیسا ہی رہتا ہے۔ اسکندر مرزا سب سے پہلے پاکستان کے صدر تھے، مگر ان کا دور حکومت ختم ہونے والا تھا۔ کیا کریں؟ وہ بھی چالاک تھے، سوچا فیلڈ مارشل ایوب خان کے ساتھ مل کر مارشل لا لگا لیں، تاکہ صدارت کا وقت تھوڑا اور بڑھ جائے۔ مارشل لا تو لگ گیا، لیکن چند دن بعد ایوب خان نے خود صدر بن کر مرزا صاحب کو باہر پھینک دیا۔ اور صاف پیغام دے دیا کہ: ”یہ اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان ہے، اور سیاستدان یہاں صرف کردار ہیں۔“ یہ پہلا پیغام تھا، مگر سیاستدانوں نے اس پیغام سے سبق نہیں سیکھا اور آج تک یہی کھیل چلتا آ رہا ہے۔
پھر آئے ذوالفقار علی بھٹو، جو ایک باصلاحیت نوجوان تھے۔ بھٹو کی فیلڈ مارشل ایوب خان کی گود میں سیاسی پیدائش ہوئی پھر بھٹو نے جنرل یحییٰ خان سے مدد حاصل کر کے اقتدار کے کھیل میں حصہ لیا۔ نتیجتاً اقتدار تو حاصل کر لیا لیکن پاکستان دو لخت ہو گیا۔
پھر اگلی قسط میں بھٹو نے سات سینئر جنرلز کو سپرسیڈ کر کے اپنے پسندیدہ جنرل، ضیاء الحق کو آرمی چیف بنا دیا۔ بھٹو نے سوچا کہ یہ بندہ میرا کام آسان کرے گا، اقتدار کا تختہ مضبوط رہے گا، لیکن بھٹو کی قسمت نے پھر وہی مذاق کیا جو سکندر مرزا کے ساتھ ہوا تھا، اسی ضیاء الحق نے بھٹو کا تختہ الٹا اور انہیں پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیا۔ اور ظلم یہاں ختم نہیں ہوا، پھانسی کے بعد بھٹو کے برہنہ جسد کی تصویریں بھی بنائی گئیں اور حکام تک پہنچائی گئیں، تاکہ سب کو دوبارہ واضح پیغام جائے کہ: ”یہ اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان ہے، اور سیاستدان یہاں صرف کردار ہیں۔“
پھر 1986 میں بینظیر بھٹو کی وطن واپسی ہوئی، اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے باوجود انہوں نے بمشکل 1988 میں اپنی حکومت بنا ہی لی۔ لیکن دو سال بعد ہی صدر غلام اسحاق خان کے ذریعے ان کی حکومت گرا دی گئی۔ بعد میں بینظیر بھٹو 1993 میں دوبارہ اقتدار میں آئیں، اور اس بار بینظیر نے فاروق لغاری، جو پیپلز پارٹی سے ہی تعلق رکھتے تھے انہیں صدر لگایا تھا۔ لیکن یہی صدر 1996 میں اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں ان کی دوسری حکومت بھی گرانے کا ذریعہ بن گیا۔ اس کے ذریعے یہی پیغام دیا گیا کہ: ”یہ اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان ہے، اور سیاستدان یہاں صرف کردار ہیں۔“
پھر نمبر آتا ہے نواز شریف صاحب کا، ویسے تو نواز شریف نے جنرل جیلانی کی آشیرباد سے سیاست میں قدم رکھا اور ضیا الحق کے پسندیدہ بن کر 1985 میں وزیراعلیٰ پنجاب بھی بن گئے۔ اور نواز شریف کو اس ڈرامہ میں تین دفعہ وزیراعظم بننے کا کردار تو مل گیا لیکن تینوں دفعہ حسب روایت ان کی حکومتیں اپنی مدت مکمل نہ کر سکیں۔ نواز شریف کی پہلی حکومت محض تین سال بعد 1993 میں صدر غلام اسحاق خان کے ذریعے گرا دی گئی۔ اپنے دوسرے دور حکومت میں نواز شریف نے جنرل جہانگیر کرامت سے استعفیٰ لے کر جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف لگایا، سوچا یہ آدمی میرے اقتدار میں سہولت پیدا کرے گا، لیکن اسی پرویز مشرف نے 1999 میں مارشل لا لگا کر دو تہائی اکثریت کے ساتھ منتخب وزیراعظم نواز شریف کو اٹھا کے اٹک قلعہ جیل میں پھینک دیا، اور 2007 تک جلاوطن رہے۔ اور سبق ایک ہی تھا کہ: ”یہ اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان ہے، اور سیاستدان یہاں صرف کردار ہیں۔“
اور اب ماضی قریب میں عمران خان کو دیکھیں۔ انہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹنشن دی، مگر اسی جنرل باجوہ نے عمران خان کی حکومت کو اٹھا کے باہر پھینک گیا۔ پچھتر سالہ تاریخ میں سیاستدانوں کی غلطیاں اور اسٹیبلشمنٹ کا کھیل ایک ہی پیغام دے رہا ہے کہ: ”یہ اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان ہے، اور سیاستدان یہاں صرف کردار ہیں۔“
اب ذرا اس ساری تاریخ کو سامنے رکھ کر حال پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اسکندر مرزا سے لے کر ایوب خان، بھٹو سے ضیاء الحق، نواز شریف سے مشرف، اور عمران خان سے جنرل باجوہ تک، اگر کہانی ایک ہی ہے اور سکرپٹ بھی وہی ہے تو پھر آج کے کرداروں کو پہچاننا کون سا مشکل کام ہے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ جو آج پسندیدہ ہے وہ کل ناپسندیدہ ہو سکتا ہے، اور جسے آج اقتدار کی کرسی دی گئی ہے وہی کل دروازے سے باہر بھی نکالا جا سکتا ہے۔ باقی آپ خود اندازہ لگا لیجیے کہ اس سیاسی ڈرامے کی موجودہ قسط میں کیا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ایک بات تو تاریخ نے طے کر دی ہے کہ حکومتیں آئیں گی اور جائیں گی، سیاستدان اقتدار کے لیے اپنی چالاکیاں اور قربانیاں دیں گے، لیکن نظام وہی رہے گا، اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ جیتتی رہے گی اور اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان ہمیشہ برقرار رہے گا۔
اگر سچ بات کی جائے تو اس پورے نظام کو اس قدر طاقتور بنانے میں سب سے بڑا کردار بھی انہی سیاستدانوں کا ہے جو بعد میں خود کو مظلوم کہلواتے ہیں۔ اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے، اپنی مفاد پرستی کو بچانے کے لیے، اقتدار سے بے پناہ محبت اور طاقت کے نشے میں مبتلا ہو کر انہوں نے ہر دور میں اسٹیبلشمنٹ کا کندھا استعمال کیا، آئین کو خود کمزور کیا اور پھر حیران بھی خود ہوئے کہ یہ دیو ان کے قابو سے کیوں نکل گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ اسے بدلنا، اس کہانی کو ختم کرنا اور حقیقی جمہوریت لانا آسان نہیں رہا۔ اب اس کے لیے صرف نعرے، بیانات یا وقتی اتحاد نہیں بلکہ بہت بڑے لیول کی سیاسی قربانی، اجتماعی شعور اور طاقت کے اس کھیل کو نہ کھیلنے کا غیر معمولی حوصلہ درکار ہو گا۔ ورنہ یہ ڈرامہ یونہی چلتا رہے گا، اور ہم ہر چند سال بعد ایک نئے ایپی سوڈ پر تالیاں بجاتے رہیں گے۔


