میرے مطابق

گلگت بلتستان اور بھٹو خاندان

muhammad asad solangi

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ رشتے ایسے ہیں جو صرف ووٹ، جلسوں اور انتخابی نتائج تک محدود نہیں رہتے بلکہ عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ گلگت بلتستان اور بھٹو خاندان کا تعلق بھی انہی رشتوں میں سے ایک ہے۔ یہ تعلق محض سیاست کا نہیں بلکہ اعتماد، شناخت، عوامی حقوق اور تاریخی یادوں کا ایک ایسا سفر ہے جو نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے۔

جب گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ کا ذکر ہوتا ہے تو شہید ذوالفقار علی بھٹو کا نام خود بخود گفتگو کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم تھے بلکہ اس لیے بھی کہ انہوں نے اس خطے کے عوام کو وہ توجہ دی جس کے وہ طویل عرصے سے منتظر تھے۔ 1974 میں ان کا گلگت بلتستان کا دورہ محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں تھا بلکہ عوام کے لیے امید کا ایک نیا دروازہ ثابت ہوا۔

اس دور میں گلگت بلتستان مختلف انتظامی اور سیاسی مسائل سے دوچار تھا۔ عوام اپنے بنیادی حقوق اور بہتر نمائندگی کے خواہاں تھے۔ شہید بھٹو نے نہ صرف ان مسائل کو سمجھا بلکہ ایسے عملی اقدامات کیے جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ایف سی آر جیسے فرسودہ قوانین کا خاتمہ، راجگی نظام کی باقیات کا خاتمہ اور عوام کو زیادہ حقوق دینا ایسے اقدامات تھے جنہوں نے خطے کی سماجی اور سیاسی فضا کو بدل کر رکھ دیا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں بزرگ جب بھٹو کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی گفتگو میں احترام اور محبت نمایاں نظر آتی ہے۔ بہت سے لوگ انہیں ”محسنِ گلگت بلتستان“ قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک بھٹو نے اس خطے کو صرف ترقیاتی منصوبے نہیں دیے بلکہ عوام کو عزت اور شناخت بھی دی۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بعد شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی اس تعلق کو برقرار رکھا۔ ان کی سیاست کا محور ہمیشہ عوامی حقوق، جمہوریت اور وفاقی یکجہتی رہا۔ گلگت بلتستان کے عوام نے بھی محترمہ بینظیر بھٹو کو ہمیشہ محبت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا۔ ان کی شہادت پر جس طرح پورے پاکستان میں غم کی لہر دوڑی، اسی طرح گلگت بلتستان کے عوام نے بھی اسے اپنا ذاتی نقصان سمجھا۔

وقت آگے بڑھتا رہا اور ملک کی سیاست نئے مراحل سے گزرتی رہی، لیکن گلگت بلتستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کا تعلق برقرار رہا۔ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد 2009 کا گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر سامنے آیا، جسے خطے کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جاتا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے مقامی نمائندگی اور انتظامی اختیارات کو ایک نئی شکل دی گئی اور عوام کو اپنے معاملات میں زیادہ موثر کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔

آج جب چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری گلگت بلتستان کے عوام سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ دراصل اسی سیاسی اور تاریخی ورثے کو آگے بڑھاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کو وہی حقوق اور مواقع ملنے چاہئیں جو پاکستان کے دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل میں بھی پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کے حوالے سے دلچسپی اور وابستگی کا ایک سلسلہ موجود ہے۔

یقیناً گلگت بلتستان کی سیاست صرف ایک جماعت کے گرد نہیں گھومتی۔ یہاں مختلف سیاسی قوتیں موجود ہیں اور عوام اپنے حالات اور ترجیحات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جب بھی گلگت بلتستان میں عوامی حقوق، سیاسی شناخت اور تاریخی اصلاحات کی بات ہو گی تو بھٹو خاندان اور پاکستان پیپلز پارٹی کا ذکر ضرور آئے گا۔

شاید یہی کسی سیاسی قیادت کی اصل کامیابی ہوتی ہے کہ اس کے اقدامات صرف سرکاری فائلوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عوام کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جائیں۔ گلگت بلتستان اور بھٹو خاندان کا تعلق بھی اسی حقیقت کی ایک روشن مثال ہے۔ نصف صدی گزرنے کے باوجود یہ رشتہ آج بھی سیاسی مباحث، عوامی گفتگو اور تاریخی حوالوں میں زندہ ہے، اور بظاہر آنے والے برسوں میں بھی اس کی اہمیت برقرار رہے گی۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW