میرے مطابق

پاکستان کی بنیادیں کھوکھلا کرنے والا خاموش بحران

پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے والا ایک خاموش بحران تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ایک ایسا بحران جو نئی نسل کی امیدیں چھین رہا ہے اور ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی حالیہ نشاندہی کہ ملک کے اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، محض ایک اعداد و شمار کی تکرار نہیں بلکہ ایک الارم ہے جو ہمیں جگانے کے لیے بج رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار نہیں، بلکہ لاکھوں بچوں کی تباہ شدہ تقدیریں ہیں جو ناخواندگی کے گہرے اندھیروں میں گم ہو رہی ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں تعلیم کو بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے، یہ صورت حال نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ قومی بقا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر ہم ابھی نہیں جاگے تو کل کی نسل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ یہ نہ صرف افراد کو با اختیار بناتی ہے بلکہ قوموں کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچاتی ہے۔ مگر پاکستان میں یہ بنیاد کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ غربت کی زنجیروں میں جکڑے والدین کے لیے بچوں کی تعلیم ایک دور کا خواب بن چکی ہے۔ دیہی علاقوں میں سکول یا تو موجود ہی نہیں یا اتنے دور ہیں کہ چھوٹے بچوں کے لیے سفر ایک آزمائش بن جاتا ہے۔ جہاں سکول ہیں، وہاں نصاب فرسودہ، کلاس رومز خستہ حال اور سہولیات ناکافی ہیں۔ اساتذہ کی کمی ایک الگ درد ہے، بہت سے سکولوں میں ایک استاد درجنوں کلاسوں کا بوجھ اٹھا رہا ہوتا ہے، اور تربیت کی کمی کی وجہ سے تعلیم کا معیار گرتا جا رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ دلخراش یہ ہے کہ لاکھوں بچے سکول کی بجائے محنت مزدوری پر مجبور ہیں۔ وہ کارخانوں میں، کھیتوں میں یا گلیوں میں کام کرتے نظر آتے ہیں، تاکہ گھر کا چولہا جل سکے۔ یہ نہ صرف ان کی صلاحیتوں کو ضائع کر رہا ہے بلکہ ملک کی اقتصادی اور سماجی ترقی کو بھی روک رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ناخواندگی کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، جو غربت کے شیطانی چکر کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ یہ بحران محض تعلیمی نہیں بلکہ سماجی، اقتصادی اور اخلاقی ہے۔ ایک ایسا زہر جو آہستہ آہستہ قوم کی رگوں میں سرایت کر رہا ہے۔

اس بحران کی جڑیں گہری ہیں، اور اس کا حل بھی سطحی اقدامات سے ممکن نہیں۔ حکومت کو اسے قومی ایمرجنسی قرار دے کر فوری اور جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ سب سے پہلے، مفت اور معیاری تعلیم کو ہر بچے کا بنیادی حق بنانا ضروری ہے۔ اس کے لیے تعلیم کے بجٹ کو کم از کم دوگنا کیا جائے، موجودہ جی ڈی پی کا صرف 2 فیصد سے بڑھا کر کم از کم 4 فیصد تک لایا جائے، تاکہ سکولوں کی تعمیر، نصاب کی تجدید اور سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ دیہی علاقوں میں سکولوں کا جال بچھانا اولین ترجیح ہونی چاہیے ؛ موبائل سکولز یا کمیونٹی بیسڈ تعلیمی مراکز قائم کیے جائیں جو دور دراز علاقوں تک پہنچیں۔ اساتذہ کی بھرتی کو شفاف اور میرٹ بیسڈ بنایا جائے، اور ان کی تربیت کے لیے جدید پروگرامز متعارف کروائے جائیں۔ ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کلیدی ہے، آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل کلاس رومز کے ذریعے تعلیم کو قابل رسائی بنایا جا سکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں روایتی سکول قائم کرنا مشکل ہے۔

اس کے علاوہ، نجی شعبے اور مخیر حضرات کو اس مشن میں شریک کرنا ناگزیر ہے۔ ٹیکس چھوٹ یا دیگر مراعات دے کر نجی اداروں کو سکول قائم کرنے کی ترغیب دی جائے، جبکہ فلاحی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کی جائے تاکہ غریب بچوں کو وظائف اور مفت کتب فراہم کی جا سکیں۔ بچوں کی محنت کشی کا خاتمہ کرنے کے لیے والدین کو مالی سہارا ضروری ہے ؛ اس لیے حکومت غریب خاندانوں کو مشروط نقد امداد پروگرامز شروع کرے، جہاں امداد کی شرط بچوں کی سکول حاضری ہو۔ اس طرح، غربت کی زنجیریں ٹوٹ سکیں گی اور بچے تعلیم کی روشنی حاصل کر سکیں گے۔ مزید برآں، قومی سطح پر آگاہی مہم چلائی جائے جو والدین کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کرے اور سماجی رویوں کو تبدیل کرے۔ لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے، کیونکہ وہ اس بحران کی سب سے زیادہ شکار ہیں، ان کے لیے محفوظ سکول اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

یہ اقدامات محض تجاویز نہیں بلکہ قومی بقا کی ضمانت ہیں۔ اگر ہم ابھی نہیں اٹھے تو کل کی نسل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ پاکستان کی حقیقی ترقی کا راز اس کی نئی نسل کی تعلیم میں پوشیدہ ہے۔ آئیے، اس بحران کو ایک موقع میں تبدیل کریں، ایک ایسا موقع جو ہمیں ایک تعلیم یافتہ، خوشحال اور مضبوط پاکستان کی طرف لے جائے۔ وقت کم ہے، لیکن عزم اگر ٹھوس ہو تو ناممکن کچھ بھی نہیں۔ حکومت، سماج اور ہر شہری کو مل کر یہ جنگ لڑنی ہوگی، کیونکہ تعلیم کی روشنی ہی اندھیروں کو شکست دے سکتی ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW