میرے مطابق

نرم ہوتے امریکی رویے

Mohsan Shahzad Mughal

دنیا کی سیاست میں کوئی فیصلہ بے وجہ نہیں ہوتا۔ جب عالمی طاقتیں نرم رویہ اپناتی ہیں یا سخت موقف اختیار کرتی ہیں تو اس کے پیچھے مفادات، حکمتِ عملی، اور سفارتی تدابیر کی طویل داستانیں ہوتی ہیں۔ امریکہ کی جانب سے حالیہ ٹیرف پالیسی میں پاکستان کو بھارت اور دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں خصوصی رعایت دینا، بظاہر ایک اقتصادی اقدام ہے، مگر اس کے پس پردہ چھپی خارجہ پالیسی کی کامیابیاں اور سفارتی محاذ پر لڑی گئی معرکہ آرائیاں نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔

امریکہ جیسے عالمی طاقت ور ملک کی معاشی پالیسی میں تبدیلی محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ خارجہ تعلقات، تزویراتی مفادات اور جیو اکنامک حقائق کا مجموعہ ہوتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ٹیرف پالیسی میں پاکستان پر جوابی محصولات (retaliatory tariffs) کو کم کر کے 19 فیصد کر دینا اور بھارت جیسے اسٹریٹجک پارٹنر پر 25 فیصد کا نفاذ، اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک نئی نظر سے دیکھ رہا ہے۔

یہ فیصلہ معمولی نہیں۔ جنوبی ایشیائی تناظر میں پاکستان ہمیشہ سے امریکہ کے لیے اہم رہا ہے، چاہے وہ سرد جنگ کے دن ہوں، افغانستان کی جنگ ہو، یا دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم۔ لیکن حالیہ دنوں میں تعلقات میں جو گرم جوشی دکھائی دی ہے، وہ صرف ماضی کی بنیاد پر نہیں بلکہ حالیہ سفارتی سرگرمیوں، نئی معاشی حکمت عملیوں اور مشترکہ ڈیجیٹل اہداف کی وجہ سے بھی ہے۔

اس تجارتی رعایت کا اصل پس منظر پاکستان کی فعال سفارت کاری ہے۔ جنرل سید عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات، وزیر اعظم شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے باہمی روابط، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی ملاقاتیں اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی وزیر تجارت سے گفتگو۔ یہ سب محض رسمی ملاقاتیں نہیں بلکہ ٹھوس ایجنڈوں اور باہمی مفادات کی بنیاد پر کی جانے والی اہم سفارتی کوششیں تھیں۔ یہ ملاقاتیں ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان نے روایتی سفارت کاری سے ہٹ کر ایک جدید، با اثر اور نتیجہ خیز حکمت عملی اپنائی ہے، جس کے نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔

اس کالم میں اگر صرف ٹیرف کی رعایت کا ذکر ہو تو بات ادھوری رہے گی۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والا ”تاریخی تجارتی معاہدہ“ دراصل مستقبل کی معیشت کی جانب ایک قدم ہے۔ اس معاہدے کی روشنی میں ڈیجیٹل معیشت، کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور Web 3 ٹیکنالوجی میں باہمی تعاون کی بات کی جا رہی ہے۔

بلال بن ثاقب اور امریکی ڈیجیٹل پالیسی ساز بو ہائنس کی ملاقات، یہ واضح اشارہ دے رہی ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل دنیا میں قائدانہ کردار ادا کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ پاکستان کو Web 3 حب بنانے کی خواہش اور اس پر عالمی سطح پر ہم آہنگی کی کوشش، یہ ظاہر کرتی ہے کہ اب ہماری خارجہ پالیسی صرف جغرافیائی سیاست تک محدود نہیں رہی، بلکہ تکنیکی میدانوں میں بھی ہم مقام حاصل کرنے جا رہے ہیں۔

یہ سوال فطری ہے کہ امریکہ بھارت پر 25 فیصد اور پاکستان پر صرف 19 فیصد ٹیرف کیوں لگا رہا ہے؟ یہ وہی بھارت ہے جسے امریکہ کئی سالوں سے اپنی انڈو پیسیفک پالیسی کا ستون سمجھتا رہا ہے۔ تو پھر یہ تبدیلی کیوں؟

ممکنہ وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ امریکہ بھارت کے کچھ اندرونی فیصلوں سے ناراض ہے، جن میں تجارتی عدم توازن، روس سے بڑھتی قربت، اور چین کے ساتھ نرم رویہ شامل ہیں۔ دوسری طرف پاکستان نے سفارتی محاذ پر امریکہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ شراکت داری کے نئے امکانات کے لیے تیار ہے، خاص طور پر ڈیجیٹل اور معاشی میدانوں میں۔

اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ اس رعایت کو کس طرح اقتصادی فوائد میں ڈھالتا ہے۔ محض کم ٹیرف کا اعلان کافی نہیں ہوتا؛ اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو اپنی برآمدات کے دائرہ کار کو بڑھانا ہو گا، مصنوعات کے معیار کو عالمی تقاضوں کے مطابق بنانا ہو گا، اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول مہیا کرنا ہو گا۔

پاکستان کے نجی شعبے کو بھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ کے ساتھ اپنی تجارتی شراکت کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہو گا۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، آئی ٹی اور زراعت کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے بنائے جا سکتے ہیں۔

امریکہ کا حالیہ رویہ پاکستان کے لیے یقیناً خوش آئند ہے، لیکن یہ مستقل نہیں۔ عالمی سیاست میں مفادات مستقل ہوتے ہیں، رویے نہیں۔ اس لیے پاکستان کو اس وقت کو غنیمت جان کر اپنی داخلی معیشت کو مستحکم، پالیسیوں کو متوازن اور سفارت کاری کو مسلسل فعال رکھنا ہو گا۔

یہ رعایت صرف اعداد و شمار کی کامیابی نہیں بلکہ ایک بہتر حکمتِ عملی، سیاسی استحکام اور عالمی منظرنامے میں نرمی سے پیش آنے کا انعام ہے۔ اگر ہم نے اس موقع کو دانشمندی سے استعمال کیا تو ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی تجارتی نظام میں بھی اہم مقام حاصل کر لے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW