بلاگ

اجرک: بے جا مخالفت اور اندھی عقیدت

sukar jakhro

سندھ کی سرزمین دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک، وادیٔ سندھ کی تہذیب کی امین ہے۔ اس عظیم تہذیب کی متعدد روایات آج بھی مختلف ثقافتی علامات کی صورت میں زندہ ہیں، جن میں اجرک کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اجرک محض ایک کپڑا نہیں بلکہ سندھ کی ہزاروں سالہ تہذیبی روایت، فنِ دستکاری، مہمان نوازی، محبت، احترام اور اجتماعی شناخت کی علامت ہے۔ صدیوں سے یہ سندھی معاشرے کی سماجی، ثقافتی اور جذباتی زندگی کا حصہ رہی ہے اور آج بھی سندھ کے عوام اسے اپنے ورثے اور شناخت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

سندھی معاشرے میں کسی معزز مہمان کو اجرک اوڑھانا احترام کا اظہار سمجھا جاتا ہے، جبکہ خوشی، تہوار، شادی بیاہ اور ثقافتی تقریبات میں اس کا استعمال فخر اور وابستگی کی علامت ہے۔ حتیٰ کہ تدفین کے موقع پر میت کو قبر میں اتارتے وقت بھی اجرک استعمال کی جاتی ہے، جبکہ میت پر اظہارِ عقیدت اور خراجِ تحسین کے طور پر بھی اجرکیں چڑھائی جاتی ہیں۔

تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران میں اجرک ایک ایسی بحث کا مرکز بن گئی ہے جس میں دو متضاد مگر یکساں طور پر نقصان دہ رجحانات نمایاں ہوئے ہیں۔ ایک طرف بعض حلقوں نے سیاسی یا نسلی تعصب کی بنیاد پر اجرک اور سندھی ثقافت کی بے جا مخالفت کی، جبکہ دوسری طرف بعض افراد اور گروہوں نے اجرک کے ساتھ ایسی حد سے بڑھی ہوئی عقیدت کا اظہار کیا جو اسے ایک ثقافتی علامت کے بجائے تقریباً مقدس شے کا درجہ دینے کے مترادف محسوس ہوتی ہے۔ یہ دونوں انتہائیں نہ صرف ثقافت کی اصل روح کے منافی ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

اجرک کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ اور ثقافتی محققین کے مطابق اس کے بعض رنگوں، ڈیزائنوں اور طباعتی روایات کی جڑیں وادیٔ سندھ کی تہذیب تک پہنچتی ہیں۔ موئنجو دڑو سے ملنے والے بعض آثار میں ایسے نقوش اور نمونے موجود ہیں جو اجرک کے روایتی ڈیزائنوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔ بعض محققین موئنجو دڑو سے دریافت ہونے والی مشہور ”پریسٹ کنگ“ کی مورتی کے کندھوں پر موجود منقش چادر کو بھی اجرک کی ابتدائی شکل قرار دیتے ہیں، اگرچہ اس بارے میں حتمی اتفاقِ رائے موجود نہیں۔

روایتی اجرک کی تیاری ایک نہایت پیچیدہ، صبر آزما اور فنکارانہ عمل ہے۔ خالص سوتی کپڑے کو مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ قدرتی رنگوں، خصوصاً نیل (انڈیگو) ، لکڑی کے ٹھپوں، ہاتھ سے کی جانے والی طباعت اور روایتی رنگائی کے ذریعے اسے تیار کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں کپڑے کو سرسوں کے تیل، قدرتی اجزاء اور مخصوص طریقہ ہائے کار سے گزار کر اس کی مضبوطی اور چمک میں اضافہ کیا جاتا تھا۔ بعض روایتی اقسام، جن کو ”تیلی اجرک“ کہا جاتا ہے، برسوں کے استعمال کے باوجود اپنی خوبصورتی برقرار رکھتی ہیں۔

روایتی طریقۂ کار میں بعض اوقات کپڑے کو سرسوں کے تیل میں بھگو کر مضبوط کیا جاتا، پھر مختلف مراحل سے گزار کر نرم بنایا جاتا اور آخر میں لکڑی کے مہروں کے ذریعے اس پر نقش و نگار ثبت کیے جاتے تھے۔ ایک معیاری روایتی اجرک کی تیاری میں ہفتوں بلکہ بعض اوقات ایک ماہ سے زائد وقت لگ جاتا ہے۔ سرخ، سیاہ، سفید اور نیلگوں رنگ اس کی نمایاں شناخت سمجھے جاتے ہیں۔

سندھ میں کسی مہمان کو اجرک اوڑھانا عزت و احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ادیب، شاعر، دانشور، فنکار، سیاست دان یا عام لوگ، سب کے لیے اجرک محبت اور خیرسگالی کا پیغام رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اجرک سندھ کی اجتماعی شناخت اور تہذیبی تسلسل کی ایک زندہ علامت بن چکی ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں اجرک کو بعض حلقوں کی جانب سے غیر ضروری تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بحث خاص طور پر اس وقت شدت اختیار کر گئی جب سندھ حکومت نے گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں پر اجرک کے ڈیزائن متعارف کرائے۔ اگرچہ اصل معاملہ ایک انتظامی یا حکومتی فیصلے سے متعلق تھا، لیکن بعض افراد نے اس موقع کو بشمول اجرک؛ سندھ، سندھی عوام اور ان کی ثقافتی علامتوں پر تنقید کا ذریعہ بنا لیا۔

اس سلسلے کا ایک افسوسناک منظر وہ بھی تھا جب سیاسی احتجاج کے دوران گدھوں کے گلے میں اجرک سے مزین نمبر پلیٹیں ڈال کر انہیں سڑکوں پر لایا گیا۔ بظاہر یہ احتجاج کسی سرکاری پالیسی کے خلاف تھا، مگر اس عمل نے ایک پوری ثقافت اور اس کے نمائندہ نشان کو تمسخر کا نشانہ بنایا۔ اسی طرح ماضی میں بھی مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے اجرک اور سندھی ثقافت کے خلاف ایسے بیانات سامنے آتے رہے ہیں جن میں تنقید کے بجائے تعصب، تمسخر اور نفرت کا عنصر زیادہ نمایاں تھا۔

یہ رویہ دراصل ایک وسیع تر تعصب کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ بعض مبصرین اور سوشل میڈیا صارفین نے اس قسم کے اقدامات کو سندھی ثقافت اور اس کی نمائندہ علامتوں کے خلاف نسلی و ثقافتی تعصب کی ایک شکل قرار دیا ہے۔ اگرچہ سیاسی اختلاف ہر شخص کا حق ہے، لیکن کسی پوری ثقافت اور اس کی علامتوں کو ہدف بنانا اختلافِ رائے نہیں بلکہ عدم برداشت کے زمرے میں آتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگر کسی حکومت یا ادارے کا کوئی فیصلہ غلط ہو تو تنقید اس فیصلے پر ہونی چاہیے، نہ کہ اس ثقافتی علامت پر جو صدیوں سے عوام کی مشترکہ میراث ہو۔ دنیا کی مہذب اقوام اپنی ثقافتی علامات کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنے کی کوشش کرتی ہیں، کیونکہ یہ کسی ایک جماعت یا حکومت کی ملکیت نہیں ہوتیں بلکہ پورے معاشرے کا مشترکہ سرمایہ ہوتی ہیں۔

اس تناظر میں اجرک کی توہین یا تمسخر دراصل صرف ایک کپڑے کی توہین نہیں بلکہ ایک تہذیبی ورثے اور لاکھوں لوگوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

اگر اجرک کی بے جا مخالفت قابلِ مذمت ہے تو اس کے برعکس اجرک کو غیر معمولی تقدیس کا درجہ دینا بھی ایک مسئلہ ہے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک شخص کی تصویر اور ویڈیو زیرِ بحث آئیں جس میں وہ اجرک کو بطورِ مصلیٰ استعمال کرتے ہوئے نماز ادا کر رہا تھا۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں حیرت انگیز طور پر اس شخص پر اجرک کی بے حرمتی اور توہین کا الزام صادر کر دیا گیا۔ پوسٹ کے تلخ لہجے اور مشتعل انداز سے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ گویا وہ اس عمل کو ”بلاسفیمی“ کے مترادف گردانتا ہے۔ حالانکہ منطقی طور پر دیکھا جائے تو اجرک کو عبادت کے لیے استعمال کرنا تو اس کے احترام کی ایک اعلیٰ ترین صورت ہے، نہ کہ باعث توہین۔

یہاں احترام اور تقدیس کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ احترام ایک مثبت اور فطری رویہ ہے، جبکہ تقدیس ایک الگ تصور ہے جو عموماً مذہبی یا مقدس اشیاء کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ اجرک احترام کی مستحق ضرور ہے، لیکن اسے ایسی مقدس شے قرار دینا مناسب نہیں جس کے استعمال پر مخصوص پابندیاں عائد کر دی جائیں۔

سندھ کے دیہی علاقوں میں لوگ صدیوں سے اجرک کو چادر، اوڑھنی، رومال، بستر، تہبند اور روزمرہ زندگی کے متعدد کاموں میں استعمال کرتے آئے ہیں۔ اگر ایک ثقافتی علامت کو اس حد تک مقدس بنا دیا جائے کہ اس کے عام استعمال پر بھی اعتراض ہونے لگے تو پھر ثقافت اور تقدیس کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے۔

یہ رجحان بعض اوقات ایک نئی قسم کی ”ثقافتی بلاسفیمی“ کے تصور کو جنم دے سکتا ہے، جس میں ثقافتی اشیاء کو مذہبی مقدسات کی طرح ناقابلِ سوال بنا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ثقافتی احترام اور مذہبی تقدیس دو الگ تصورات ہیں۔ اجرک احترام کی مستحق ضرور ہے، لیکن اسے ایسی مقدس شے قرار دینا مناسب نہیں جس کے استعمال پر مخصوص پابندیاں عائد کر دی جائیں۔

یہ رویہ اس طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ جب کسی ثقافتی علامت کو اس کے اصل دائرے سے نکال کر تقدس کا درجہ دے دیا جاتا ہے تو وہ اپنی اصل خوبصورتی کھو دیتی ہے اور لوگوں کو جوڑنے کے بجائے تقسیم کرنے لگتی ہے۔

اجرک کے حوالے سے ایک اور انتہا پسندانہ رویہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک واقعہ سوشل میڈیا پر زیر بحث آیا جس میں ایک بزرگ فقیر کو محض اجرک کے تہبند کے طور پر استعمال کرنے پر چند نام نہاد قوم پرستوں نے گھیرا ہوا تھا۔ انہوں نے اجرک کے تہبند کو اجرک کی توہین قرار دیتے ہوئے اس بزرگ کی ”سندھیت“ پر طعنہ زنی کی۔ دورانِ احتجاج وہ بزرگ کو بالواسطہ طور پر مغلظات بھی بک رہے تھے اور اس کے تہبند بدلنے پر جارحانہ انداز میں مصر تھے۔ آخرکار بزرگ کی آہ و بکا کو نظر انداز کر کے اسے اجرک کا تہبند اتارنے اور اپنی پسند کے کپڑے کا تہبند باندھنے پر مجبور کر دیا گیا، اور آخر میں ”حق موجود“ اور ”جئے سندھ“ کے روایتی نعرے لگائے گئے۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کے ساتھ بدسلوکی کا معاملہ نہیں بلکہ اس سے زیادہ سنگین مسئلہ یہ ہے کہ ثقافتی شناخت کے نام پر کسی انسان کی آزادی اور عزتِ نفس کو مجروح کیا گیا۔

اس واقعے سے قطع نظر کہ اس میں شامل افراد کے ارادے کیا تھے، بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کسی ثقافتی علامت کے نام پر کسی فرد کی آزادی، پسند یا عزتِ نفس کو مجروح کیا جا سکتا ہے؟ اگر کوئی شخص اپنی ملکیت میں موجود ایک کپڑے کو اپنی ضرورت اور روایت کے مطابق استعمال کرتا ہے تو اسے زبردستی کسی اور طرزِ عمل پر مجبور کرنا ثقافتی محبت نہیں بلکہ ثقافتی جبر کے قریب تر رویہ ہے۔

ثقافت محبت سے اپنائی جاتی ہے، جبر سے نہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی خوشی اور مرضی سے اجرک پہننا چاہے تو یہ قابلِ احترام ہے، لیکن اگر اسے دباؤ، خوف یا سماجی شرمندگی کے ذریعے مجبور کیا جائے تو یہ ثقافت کی خدمت نہیں بلکہ اس کی بدنامی کا باعث بنتا ہے۔

سوشل میڈیا نے اس پوری بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ افسوس کے الگورتھم عام طور پر اشتعال انگیز، جذباتی اور متنازع مواد کو سنجیدہ اور متوازن گفتگو کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلاتا ہے۔ نتیجتاً ایک معمولی واقعہ چند گھنٹوں میں ثقافتی جنگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

ایک طرف اجرک کے خلاف کوئی اشتعال انگیز پوسٹ وائرل ہو جاتی ہے، دوسری طرف اس کے جواب میں حد سے بڑھی ہوئی جذباتی پوسٹیں سامنے آتی ہیں۔ پھر ردعمل کے جواب میں مزید ردعمل پیدا ہوتا ہے اور یوں ایک ثقافتی علامت غیر ضروری تنازعات کا مرکز بن جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سندھ کی اکثریت نہ اجرک کی توہین چاہتی ہے اور نہ ہی اسے مذہبی تقدس کا درجہ دینا چاہتی ہے۔ اکثریت صرف اپنی ثقافت اور شناخت کے احترام کی خواہاں ہے۔

اس پوری بحث کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اجرک کی بے جا مخالفت اور حد سے زیادہ عقیدت بظاہر ایک دوسرے کی ضد ہونے کے باوجود دراصل ایک ہی ذہنی رویے کی دو مختلف شکلیں ہیں۔

ایک گروہ کہتا ہے :
”اجرک کی کوئی اہمیت نہیں، یہ محض ایک سیاسی علامت ہے۔“
دوسرا گروہ کہتا ہے :
”اجرک اتنی مقدس ہے کہ اس کے مخصوص استعمال پر بھی اعتراض کیا جا سکتا ہے۔“
دونوں صورتوں میں اعتدال اور تنقیدی شعور غائب ہو جاتا ہے۔
ایک طرف تحقیر ہے، دوسری طرف مبالغہ آمیز عقیدت۔
ایک طرف نفرت ہے، دوسری طرف غیر ضروری تقدیس۔
ایک طرف ثقافتی تعصب ہے، دوسری طرف ثقافتی جبر۔
یہ دونوں رجحانات بالآخر معاشرے میں تقسیم، کشیدگی اور عدم برداشت کو فروغ دیتے ہیں۔

ایک باشعور اور مہذب معاشرے کا تقاضا یہ ہے کہ:
٭ اجرک کو سندھ کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے طور پر احترام دیا جائے۔
٭ اس کی توہین، تمسخر اور تعصب پر مبنی مخالفت کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
٭ اسے سیاسی مفادات اور نفرت انگیز مباحث کا ایندھن نہ بنایا جائے۔
٭ اسے مذہبی تقدس کا درجہ نہ دیا جائے۔
٭ لوگوں کو اجرک استعمال کرنے یا نہ کرنے کی آزادی حاصل ہو۔
٭ کسی شخص پر ثقافتی شناخت مسلط نہ کی جائے۔
٭ اختلافِ رائے کو دشمنی یا ثقافتی غداری نہ سمجھا جائے۔
٭ ثقافتی محبت کو انسانی احترام، رواداری اور آزادی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔
٭ ثقافتی علامتوں کو اپنی شناخت ثابت کرنے یا دوسروں کی شناخت جانچنے کا ہتھیار نہ بنایا جائے۔

اجرک سندھ کی تاریخ، تہذیب، فنِ دستکاری، محبت، مہمان نوازی اور ثقافتی شناخت کی ایک خوبصورت اور قابلِ فخر علامت ہے۔ اس کی بے جا مخالفت تعصب، نا انصافی اور ثقافتی عدم برداشت کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ اس کے ساتھ اندھی عقیدت اور غیر ضروری تقدیس بھی ثقافت کی اصل روح سے مطابقت نہیں رکھتی۔

ثقافت کا حسن اس کی کشادگی، تنوع، رواداری اور انسان دوستی میں ہوتا ہے۔ سندھ کی قومی روایات بھی یہی درس دیتی ہے کہ محبت، احترام اور برداشت ہی کسی تہذیب کی اصل طاقت ہیں۔ لہٰذا اجرک کی حقیقی عظمت بھی اسی میں ہے کہ وہ لوگوں کو جوڑنے، محبت بانٹنے اور تہذیبی شعور کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بنے، نہ کہ تعصب، جبر یا انتہاپسندی کا۔

اعتدال ہی وہ راستہ ہے جو اجرک کے وقار، انسانی آزادی اور سماجی ہم آہنگی تینوں کو بیک وقت محفوظ رکھ سکتا ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
عارف احمد
عارف احمد
2 months ago

ہم نے اپنی زندگیوں میں کیسی کیسی مصیبتیں پال لی ہیں

سکار جاکھرو
sukar jakhro
2 months ago

خشت اول چون نهد معمار کج
تا ثریا می‌رود دیوار کج

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW