ا- فیچرمیرے مطابق

بامیان کے زخموں پر بومبرال کا مرہم

nasir ullah baig

فروری کا آخری ہفتہ تھا، سال 2001 افغانستان پر طالبان کی حکومت تھی اور قندھار میں بیٹھے امیر ملا عمر نے اعلان کیا کہ بامیان کی وادی میں صدیوں سے ایستادہ گوتم بدھ کے مجسمے (صلصال اور شاہ مامہ) اب باقی نہیں رہیں گے۔

وادیٔ بامیان، جو کابل کے شمال مغرب میں واقع ہے، صدیوں سے تہذیبوں کے سنگم کی علامت رہی ہے۔ یہاں کوہ ہندوکش کے چٹانوں کو کاٹ کر تراشے گئے دو عظیم مجسمے ( 53 میٹر بلند صلصال اور 35 میٹر بلند شاہ مامہ) یہ صرف پتھر نہیں تھے، تاریخ کے صفحات تھے شاہراہِ ریشم کے گواہ، گندھارا فن کے امین، اور انسان کی تخلیقی قوت کی مثال تھے۔

26 فروری 2001 کو جب یہ خبر افغانستان سے باہر نکل گئی تو ابتدا میں دنیا کو یقین نہ آیا۔ اقوام متحدہ، اسلامی ممالک اور متعدد ریاستوں نے اپیلیں کیں کہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے۔ مگر بامیان کی خاموش چٹانوں نے جلد ہی توپوں کی گھن گرج سن لی۔ پہلا مرحلہ گولہ باری کا تھا۔ اینٹی ائر کرافٹ گنز اور توپوں سے مجسموں پر گولے داغے گئے، مگر صدیوں پرانی چٹان نے فوری ہار نہ مانی۔ پھر مجسموں کے قدموں اور دھڑ کے گرد بارودی سرنگیں نصب کی گئیں۔ مارچ کے پہلے ہفتے میں دھماکوں کا سلسلہ تیز ہوا۔ ہر دھماکے کے بعد گرد کا بادل اٹھتا، وادی لرزتی، اور صدیوں کی تاریخ ایک ایک کر کے ملبے میں بدلتی گئی۔ 10 مارچ تک چھوٹا مجسمہ بری طرح متاثر ہو چکا تھا۔ 12 مارچ 2001 کو بڑے مجسمے صلصال کا سینہ بھی چاک کر دیا گیا۔ کئی دنوں تک وقفے وقفے سے دھماکے ہوتے رہے، یہاں تک کہ دونوں مجسمے مکمل طور پر زمیں بوس کر دیے گئے۔

دنیا نے اس منظر کو انسانی تہذیب کے خلاف ایک سانحہ قرار دیا۔ بعد ازاں 2003 میں یونیسکو نے بامیان کی وادی کو عالمی ثقافتی ورثہ اور خطرے سے دوچار مقامات کی فہرست میں شامل کیا، مگر جو گر چکا تھا وہ اپنی اصل ہیئت میں واپس نہ آ سکا۔ آج بھی بامیان کی چٹانوں میں وہ خالی طاق موجود ہیں، جیسے تاریخ کے سینے میں دو گہرے زخم۔ سیاح جب وہاں کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں مجسمے نظر نہیں آتے، مگر ان کی عدم موجودگی خود ایک گواہی بن چکی ہے۔

2021 ہی میں بامیان کی اس تباہی کے ردعمل میں یورپ کے ایک کونے میں ایک علامتی جواب تخلیق ہوا۔ پرتگال کے قصبے بومبرال میں مقامی صنعت کار جوزے بیراڑو نے احتجاج کے طور پر ایڈن بدھا گارڈن کے نام سے مشرقی باغ کی بنیاد رکھ کر بامیان کی تباہی کے احتجاج کا اظہار کیا۔ یہ باغ تقریباً 35 ہیکٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اسے یورپ کا سب سے بڑا مشرقی باغ کہا جاتا ہے۔ اس باغ میں بدھ مت کے امن اور مراقبے کے تین سو مجسمے، سات سو چینی ٹیرا کوٹا سولجرز، سینکڑوں افریقی شونا مجسموں کے ساتھ پگودے اور اسیائی فن پارے بنانے میں چھ ہزار ٹن گرینائٹ اور سنگ مرمر استعمال ہوا ہے۔

قدیم فن پاروں، اور جدید مجسمہ سازی کے نمونوں، جھیلوں، بانس کے جھنڈوں اور پتھریلے راستوں کے درمیان ستر فٹ بلند بدھا کے مجسمے کے ارد گرد کھڑے یہ مجسمے ایک پیغام دیتے ہیں کہ تہذیب کو بارود سے مٹایا نہیں جا سکتا، وہ کسی نہ کسی صورت دوبارہ جنم لیتی ہے۔

بامیان میں جہاں دو طاق خالی رہ گئے، وہیں بومبرال میں سینکڑوں بدھ خاموشی سے ایستادہ ہیں۔ جیسے تاریخ نے ایک وادی میں زخم کھایا اور دوسری سرزمین پر مرہم رکھ دیا۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW