میرے مطابق

ہنٹا وائرس: بیماری، خوف اور عالمی بساط کی مہرہ بندی

sajida farheen farhee

دنیا کی بساط پر جب بھی کوئی مہرہ ہلایا جاتا ہے، تو اس کی بازگشت پہلے سے کہیں سنی یا دیکھی معلوم ہوتی ہے۔ آج کل عالمی میڈیا پر ہنٹا وائرس کا جو شور سنائی دے رہا ہے، وہ محض ایک طبی خبر نہیں بلکہ ایک ایسی فلمی کہانی معلوم ہوتی ہے جس کا اسکرپٹ برسوں پہلے ہی ہالی ووڈ، امریکی کارٹونز اور کوریائی میڈیا کے دفاتر میں لکھا جا چکا تھا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ 2011 کی فلم ’کنٹیجیئن‘ (Contagion) میں دکھائی جانے والی ’سوشل ڈسٹنسنگ‘ اور وائرس کا چمگادڑ سے انسان میں منتقلی کا منظر، برسوں بعد حقیقت بن کر سامنے آیا؟ اس فلم نے تو اس وقت وہ اصطلاحات استعمال کیں جن سے عوام واقف تک نہ تھے، اور میڈیا کے اس بلاگر کا کردار بھی دکھایا جو خوف پھیلا کر مخصوص مفادات حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح 1995 کی فلم ’آؤٹ بریک‘ (Outbreak) جہاں ایک بندر کے ذریعے وائرس پھیلتا ہے اور فوج پورے شہر کو سیل کر دیتی ہے، وہ ہمیں مستقبل کے کسی بند ماحول کے لیے ذہنی طور پر تیار کر رہی تھی۔

بات صرف فلموں تک محدود نہیں، بلکہ کارٹونز نے اس تصویر کو واضح کرنے میں حیرت انگیز کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور پر ”دی سمپسنز“ (The Simpsons) کا ذکر کرنا یہاں بہت ضروری ہے۔ اس کارٹون سیریز کے بارے میں دنیا بھر میں یہ تاثر عام ہے کہ یہ مستقبل کی پیشگوئی کرتی ہے۔ 1993 کی ایک قسط میں دکھایا جانے والا ”اوساکا فلو“ ہو یا 2012 (سیزن 23، قسط 19 ) کا وہ منظر جہاں سمپسن خاندان ایک پرتعیش کروز شپ (Cruise Ship) پر چھٹیاں گزارنے جاتا ہے اور وہاں اچانک ایک وبا کا خوف پھیل جاتا ہے جس کے بعد پورے جہاز کو باقی دنیا سے کاٹ کر قرنطینہ (Quarantine) کر دیا جاتا ہے۔ یہ سب آج کے حالات سے اس قدر مماثلت رکھتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کیا یہ محض لکھاریوں کا تخیل تھا یا اسکرین کے ذریعے دی جانے والی کوئی خاص وارننگ؟ اسی طرح 2005 میں ’ساؤتھ پارک‘ نے پرندوں سے پھیلنے والی بیماری کے ذریعے یہ دکھایا کہ کس طرح میڈیا ایک چھوٹی سی بیماری کو ’دنیا کا خاتمہ‘ بنا کر پیش کرتا ہے تاکہ عوام کی توجہ دیگر اہم مسائل سے ہٹائی جا سکے۔

کوریائی میڈیا بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہا۔ 2013 کا کوریائی ڈرامہ ’دی وائرس‘ (The Virus) ایک ایسی ٹیم کی کہانی ہے جو ایک مہلک وائرس کا پیچھا کرتی ہے، لیکن آخر میں یہ ہولناک انکشاف ہوتا ہے کہ یہ وائرس قدرتی نہیں بلکہ ایک دوا ساز کمپنی اور با اثر گروہوں کا پھیلایا ہوا ایک ہتھیار تھا تاکہ وہ خوف بیچ کر اربوں ڈالر کما سکیں۔ کوریائی فلم ’فلو‘ (Flu) میں بھی بحری جہازوں اور کنٹینرز کے ذریعے وائرس کا پھیلنا دکھایا گیا، جو حیرت انگیز طور پر آج کے ’کروز شپ‘ والے واقعات سے میل کھاتا ہے۔ میڈیا کا یہ ’وائلن‘ جس شدت سے آج بجایا جا رہا ہے، اس کا اصل مقصد محض طبی آگاہی نہیں بلکہ وہ ’جیو پولیٹیکل مینیوورنگ‘ (Geopolitical Maneuvering) ہے جو پردے کے پیچھے عالمی بساط پر جاری ہے۔

یہ جیو پولیٹیکل مینیوورنگ دراصل وہ حکمت عملی ہے جس کے ذریعے عالمی طاقتیں کسی بھی خطے میں خوف پھیلا کر وہاں کی معیشت، نقل و حمل اور انسانی آزادیوں کو اپنے قابو میں کر لیتی ہیں۔ آج ہنٹا وائرس کے نام پر جو خوف کا راگ الاپا جا رہا ہے، وہ اسی عالمی شطرنج کی ایک چال معلوم ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقتور ممالک کو اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے ہوں یا کسی خاص خطے پر دباؤ بڑھانا ہو، تو وائرس جیسی ’عالمی آفت‘ کا سہارا لے کر سرحدیں بند کر دی جاتی ہیں اور سپلائی چین کو مفلوج کر دیا جاتا ہے۔ جنوبی کوریا کے ’ہنتان دریا‘ سے منسوب اس وائرس کا کروز شپ پر ظاہر ہونا اور پھر اس کا عالمی میڈیا پر چرچا، اسی مینیوورنگ کی ایک کڑی ہے۔ میڈیا وائلن کے ذریعے پھیلایا جانے والا یہ خوف دراصل وہ دھواں ہے جس کے پیچھے عالمی سیاست کے بڑے کھلاڑی اپنی چالیں چلتے ہیں، چاہے وہ معیشت کو کنٹرول کرنا ہو یا قوموں کو ایک مخصوص بیانیے کے تابع کرنا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک ایسی ’میڈیا وار‘ کے دور میں جی رہے ہیں جہاں سچائی اکثر جیو پولیٹیکل مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ یہ تحریر ایک دعوتِ فکر ہے کہ ہم خبروں کی لہروں میں بہنے کے بجائے ان کے پیچھے چھپی اس گہری مینیوورنگ کو پہچانیں جو برسوں سے اسکرین پر دکھائی جانے والی کہانیوں اور کارٹونز کے ذریعے ہمارے اعصاب پر سوار کی جا رہی ہے۔ کیا ہم واقعی ایک نئی آفت کا شکار ہیں، یا پھر عالمی بساط پر بچھائی گئی اس شطرنج کا ایک مہرہ، جس کا اسکرپٹ بہت پہلے لکھا جا چکا تھا؟

”یہ وائرس محض ایک طبی اتفاق نہیں بلکہ عالمی بساط پر بچھائی گئی اس شطرنج کی ایک تزویراتی مہرہ بندی (Geopolitical Maneuvering) ہے، جہاں میڈیا ’وائلن‘ بجا کر عوام کو خوف کے حصار میں قید کرتا ہے تاکہ طاقتور کھلاڑی پردے کے پیچھے اپنے سیاسی و معاشی اسکرپٹ کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔“

”یہ وائرس محض ایک اتفاق نہیں، بلکہ عالمی بساط کی وہ مہرہ بندی ہے جہاں میڈیا کے ذریعے خوف پھیلا کر سیاسی و معاشی مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں۔ عالمی بساط پر بچھائی گئی وہ تزویراتی چالیں، جن کا مقصد بیماری کے خوف کو سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا ہے۔“

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW