میرے مطابق

جزیرہِ گناہ، ڈیجیٹل وارفیئر، انٹیلی جنس ٹرائینگل اور عالمی طاقتوں کی اسیری

sajida farheen farhee

اکیسویں صدی کی تاریخ میں ’لٹل سینٹ جیمز‘ محض سمندر کے بیچوں بیچ واقع ایک چھوٹا سا نجی جزیرہ نہیں تھا، بلکہ یہ وہ ’انٹیلی جنس لیبارٹری‘ تھی جہاں دنیا کے طاقتور ترین انسانوں کو قیدی بنانے کا فن سیکھا اور آزمایا گیا۔ اس جزیرے کا مالک جیفری ایپسٹین کوئی عام مجرم یا ارب پتی نہیں تھا، بلکہ وہ اس ’انفارمیشن وار‘ کا ایک ایسا مہرہ تھا جس کے ڈانڈے واشنگٹن کے ایوانوں سے لے کر لندن کے بکنگھم پیلس اور تل ابیب کے سیکیورٹی اداروں تک پھیلے ہوئے تھے۔

اس جزیرے کی دیواروں میں نصب خفیہ کیمرے اور ہر کمرے میں چھپے مائیکروفون محض عیاشی کا سامان نہیں تھے، بلکہ یہ دنیا کا مہنگا ترین اور منظم ترین ’ہنی ٹریپ‘ آپریشن تھا۔ یہاں آنے والے عالمی مہرے، جن میں سابق امریکی صدور، برطانوی شہزادے اور ٹیکنالوجی کے بڑے بڑے نامور کھلاڑی شامل تھے، وہ یہ سمجھ کر آ رہے تھے کہ وہ تفریح کر رہے ہیں، لیکن درحقیقت وہ اپنی سیاسی ساکھ اور اپنے ملکوں کے مستقبل کا سودا کر رہے تھے۔

اس پراسرار کھیل کے پیچھے ایک ہولناک ’انٹیلی جنس ٹرائینگل‘ سرگرم تھا۔ اس مثلث کے ایک کونے پر سی آئی اے اور موساد جیسی ایجنسیاں تھیں، دوسرے پر میڈیا کے وہ بڑے نام جو سچ کو دبانے کا ہنر جانتے تھے، اور تیسرے کونے پر وہ اشرافیہ جو اس جال میں پھنس چکی تھی۔ اس نیٹ ورک کا سرا گیسلین میکسویل کے والد رابرٹ میکسویل سے ملتا ہے، جو ایک ایسا میڈیا ٹائیکون تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بیک وقت تین ملکوں کی انٹیلی جنس کے لیے کام کرتا تھا۔ جب وہ مرا تو اسے اسرائیل میں سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا، جس سے اس گہرے گٹھ جوڑ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

یہ محض ایک سیکس اسکینڈل نہیں تھا، بلکہ ’آپریشن موکنگ برڈ‘ کی وہ جدید شکل تھی جہاں میڈیا کے بڑے اداروں نے ثبوت ہونے کے باوجود برسوں خاموشی اختیار کیے رکھی۔ یہ ’انفارمیشن وارفیئر‘ کا وہ نمونہ تھا جسے انٹیلی جنس کی زبان میں Kompromat کہا جاتا ہے، یعنی کسی کی ایسی کمزوریاں ریکارڈ کر لینا کہ وہ تاحیات آپ کا غلام بن جائے۔

جب 2024 کی عدالتی فائلز نے ان مہروں کو بے نقاب کرنا شروع کیا اور رازوں کا بوجھ حد سے بڑھ گیا، تو کہانی میں وہ خونی موڑ آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ وہ شخص جو دنیا کے خطرناک ترین رازوں کا امین تھا، اپنی ہائی سیکیورٹی جیل میں مردہ پایا گیا۔ عین اس وقت جب کیمرے خراب ہوئے اور گارڈز سو گئے، ”مردے راز نہیں اگلتے“ کے مصداق ایپسٹین کو خاموش کر دیا گیا۔

آج ایپسٹین تو مر چکا ہے، لیکن اس کا بچھایا ہوا جال ختم نہیں ہوا بلکہ اس نے ایک نئی اور خطرناک ترین ’ڈیجیٹل‘ شکل اختیار کر لی ہے۔ اب کسی جسمانی جزیرے کی ضرورت نہیں رہی، بلکہ پیگاسس جیسے اسپائی ویئر اور ڈیٹا چوری کے نیٹ ورکس نے آپ کے ہاتھ میں موجود اسمارٹ فون کو ہی وہ ’جزیرہِ گناہ‘ بنا دیا ہے۔ بلیک میلنگ کے لیے اب کمروں میں کیمرے نہیں، بلکہ آپ کا اپنا ڈیٹا ہی آپ کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار ہے۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس پوری داستان میں ایک ہی بڑا سبق چھپا ہے کہ معلومات ہی اس دور کی سب سے قیمتی کرنسی ہے۔ جو اس معلومات پر قابو رکھتا ہے، وہی دنیا پر راج کرتا ہے۔ وہ تمام خفیہ فائلز اور ہارڈ ڈرائیوز جو ایپسٹین کے پاس تھیں، آج بھی کسی انٹیلی جنس ایجنسی کی تجوری میں محفوظ ہیں اور یقیناً آج بھی عالمی سیاست کے کئی بڑے ناموں کی ڈوریاں وہیں سے ہلائی جا رہی ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW