بلاگ

خواص کو ”آزادی“ اور عوام کو ”جشن“ مبارک

sukar jakhro

ہر سال 14 اگست کو پاکستان میں یومِ آزادی بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ سڑکوں پر شاید چین ساختہ جھنڈیاں لہراتی ہیں، قومی نغموں اور ترانوں کی گونج سنائی دیتی ہے، اور سرکاری تقریبات میں ترقی، خوشحالی، اور وحدت کے بلند بانگ دعوؤں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لیکن اس چکاچوند کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہوتی ہے : جہاں خواص اپنی تنخواہوں، مراعات، اور عیاشیوں میں اضافے کی خوشخبریاں سمیٹ رہے ہوتے ہیں، وہیں عوام بدامنی، بدنظمی، حادثات، اور مسائل کی دلدل میں دھنسی ہوئی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ عام پاکستانی کے لیے ”یومِ آزادی مبارک“ محض ایک کھوکھلا نعرہ بن کر رہ گیا ہے، جبکہ اس ملک کے وسائل اور مواقع پر خواص کا قبضہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔ یوں یومِ آزادی کا تہوار خواص کے لیے ایک تفریح کا موقع ہے، جبکہ عوام کے لیے یہ محض ایک سالانہ مذاق بن کر رہ گیا ہے، جسے بدامنی، بدنظمی، اور لامتناہی مسائل نے مزید تلخ کر دیا ہے۔

پاکستان کے حکمران طبقے اور ان کے حواریوں کی تنخواہیں، مراعات، اور عیاشیاں ہر سال نئی بلندیوں کو چھوتی ہیں۔ سرکاری عہدوں پر فائز یہ ”طبقات“ اپنے لیے نئے مراعاتی پیکجز، مفت سفری سہولیات، عالیشان گاڑیاں، مہنگے رہائشی بنگلے، اور حتیٰ کہ سرکاری اخراجات پر عمرے اور حج جیسے مذہبی فریضوں تک کا بندوبست کر لیتے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو ائرکنڈیشنڈ دفاتر اور محل نما اقامت گاہوں میں بیٹھ کر قوم کے مستقبل کے فیصلے کرتا ہے، لیکن ان فیصلوں میں قومی مفاد سے زیادہ ان کے ذاتی مفادات کی ترجیح نظر آتی ہے۔ جب بات تنخواہوں یا مراعات میں اضافے کی آتی ہے، تو پارلیمنٹ سے ایوانِ صدر تک سب ایک زبان ہو جاتے ہیں کہ ”ملک کی ترقی“ کے لیے ان کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ لیکن کیا ایسا اضافہ کبھی عام پاکستانی کی جیب تک پہنچتا ہے؟ جواب واضح ہے : کبھی نہیں!

حالیہ برسوں میں مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں معمولی اضافے کی تجاویز و آراء کو عالمی مالیاتی اداروں (جیسے آئی ایم ایف) کے دباؤ کا حوالہ دے کر مسترد کر دیا جاتا ہے، جبکہ خواص کی تنخواہوں اور مراعات میں کئی سو گنا اضافہ معمول بن چکا ہے ؛ اس پر مالیاتی اداروں کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کی تنخواہوں اور مراعات میں گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے برعکس، غریب اور متوسط طبقے کے لیے بنیادی ضروریات۔ بجلی، گیس، خوراک، اور پانی۔ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ یہ تضاد ہر سال 14 اگست کو اور زیادہ واضح ہوتا ہے، جب خواص اپنی عیاشیوں کے ساتھ جشن مناتے ہیں اور عوام کو بس ایک خالی ”یومِ آزادی مبارک“ کا نعرہ سننے کو ملتا ہے۔

پاکستان آج کل بدامنی اور بدنظمی کے عفریت کے سائے میں ہے۔ دہشت گردی کے واقعات سے لے کر سڑکوں پر ہونے والے حادثات تک، ہر طرف ایک غیر یقینی صورتحال ہے۔ شہری علاقوں میں ٹریفک حادثات، بجلی کی لوڈ شیڈنگ، اور پانی کی قلت عام ہو چکی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی عدم موجودگی اور بدامنی و بدنظمی بلک طوائف الملوکی نے زندگی کو اور مشکل بنا دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں سیلاب، زلزلے، اور دیگر قدرتی آفات نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے، لیکن سرکاری سطح پر ان مسائل کے حل کے لیے خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آتے۔ برسات ہوتی ہے تو شہری گٹروں میں ڈوب کر مر جاتے ہیں، بجلی کی تاروں کے گرنے سے جانیں ضائع ہوتی ہیں، اور پھر عوام کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ وہ ”گھر سے کیوں نکلے؟“

امن و امان کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ دہشت گردی کے واقعات، جرائم کی شرح میں اضافہ، اور پولیس کی ناکامی بلکہ ”کارروائیوں“ نے عوام کے تحفظ کے احساس کو ختم کر دیا ہے۔ گھروں میں چوری، سڑکوں پر ڈکیتی، اور خواتین و بچوں کے خلاف جرائم نے معاشرے کو خوف کے سائے میں جکڑ رکھا ہے۔ کیا یہ وہی آزادی ہے جس کے لیے ہمارے اسلاف نے قربانیاں دی تھیں؟ جب ایک عام پاکستانی اپنے گھر، سڑک، یا بازار میں محفوظ نہیں، تو پھر اس آزادی کی کیا قیمت؟

پاکستان میں حادثات و واقعات کی فہرست اتنی طویل ہے کہ اسے بیان کرنا بھی مشکل ہے۔ سڑکوں پر ہونے والے ٹریفک حادثات ہر سال ہزاروں جانیں لے رہے ہیں۔ ناقص سڑکیں، غیر تربیت یافتہ ڈرائیور، اور ٹریفک قوانین کی عدم موجودگی اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ، صنعتی حادثات، بجلی کے شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ، اور غیر معیاری تعمیرات کے باعث عمارتوں کے گرنے کے واقعات نے بھی عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔

حال ہی کے برسوں میں، قدرتی آفات نے بھی پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ 2022 کے سیلاب نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا، فصلیں تباہ ہوئیں، اور بنیادی ڈھانچہ برباد ہو گیا۔ لیکن اس کے باوجود، بحالی کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ عوام اپنی مدد آپ کے تحت زندگی دوبارہ شروع کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ خواص اپنی عالیشان رہائش گاہوں میں آرام سے بیٹھ کر ”ترقی“ کے گن گاتے ہیں۔

پاکستان کے عوام کو درپیش مسائل کی فہرست لامتناہی ہے۔ مہنگائی نے بنیادی اشیائے خورد و نوش کو عام آدمی کی پہنچ سے باہر کر دیا ہے۔ آٹے، چینی، اور دالوں سے لے کر بجلی اور گیس کے بلوں تک، ہر چیز کی قیمت ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ بے روزگاری ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، اور جو نوکریاں ہیں وہ اکثر سفارش یا رشوت کے بغیر ملتی ہی نہیں۔

صحت اور تعلیم کے شعبے بھی بدحالی کا شکار ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں نہ ادویات ہیں، نہ ڈاکٹرز، اور نہ ہی بنیادی سہولیات۔ نجی ہسپتالوں کے اخراجات عام آدمی کے بس سے باہر ہیں۔ تعلیمی اداروں کی حالت بھی کچھ بہتر نہیں۔ سرکاری اسکولوں میں نہ اساتذہ ہیں، نہ کتابیں، اور نہ ہی بنیادی ڈھانچہ۔ نتیجتاً، غریب کے بچوں کا مستقبل تاریک ہوتا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ، نا انصافی اور بدعنوانی نے معاشرے کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا ہے، لیکن اس کا فائدہ صرف خواص کو ہوتا ہے۔ رشوت، اقربا پروری، اور بدعنوانی نے نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ جب ایک عام پاکستانی اپنی معمولی مراعات یا بنیادی حقوق کے لیے لڑتا ہے، تو اسے یا تو دھکے کھانے پڑتے ہیں یا پھر وہ سسٹم کے ہاتھوں ذلیل ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ پیٹ بھرے اور ”پیٹ بڑے“ خواص اپنے مفلوک الحال عوام کو وعظ دیتے ہیں کہ ”یہ نہ دیکھو کہ وطن نے تمہیں کیا دیا، بلکہ یہ سوچو کہ تم وطن کو کیا دے رہے ہو۔“ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی زندگیاں عیاشیوں میں گزارتے ہیں، اپنے بچوں کو بیرونِ ملک تعلیم دلاتے ہیں، علاج کے لیے یورپ اور امریکا جاتے ہیں، اور ریٹائرمنٹ کے بعد اسی وطن کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، صرف مرنے کے بعد دفن ہونے کے لیے واپس آتے ہیں۔ کیا انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ عوام وطن کو نہیں، بلکہ وطن کے خود ساختہ ٹھیکیداروں کو ٹیکس پر ٹیکس دے رہے ہیں؟ کیا انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ عوام بنیادی ضروریات اور سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ ان کا مال ٹیکسوں، رشوتوں، اور یوٹیلٹی بلز کی صورت میں لوٹا جا رہا ہے؟

عام پاکستانی کی زندگی اب محض بقا کی جنگ بن کر رہ گئی ہے۔ موبائل سے لے کر موٹر سائیکل تک، غرض کہ جان مال عزت کچھ بھی محفوظ نہیں۔ لوگ سڑکوں پر مر رہے ہیں، بجلی کی تاروں سے مر رہے ہیں، بیماریوں سے مر رہے ہیں، اور ظلم و نا انصافی کے ہاتھوں مر رہے ہیں۔ گھروں میں، سڑکوں پر، یا بازاروں میں کوئی محفوظ نہیں۔ برسات ہوتی ہے تو لوگ گٹروں میں ڈوب جاتے ہیں، کرنٹ لگنے سے مر جاتے ہیں، اور پھر انہیں ہی الزام دیا جاتا ہے کہ وہ گھر سے کیوں نکلے؟

یومِ آزادی ہمیں اس عظیم جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جو ہمارے اسلاف نے ایک آزاد وطن کے لیے کی۔ یہ دن ہمیں مساوات، انصاف، اور سب کے لیے خوشحالی کے خواب کی یاد دلاتا ہے۔ لیکن آج کے پاکستان میں یہ خواب دھندلا سا گیا ہے۔ جب تک خواص اپنی مراعات کے تحفظ کو ترجیح دیتے رہیں گے، جب تک بدامنی اور بدنظمی کا سلسلہ جاری رہے گا، اور جب تک عوام کو صرف نعروں سے بہلایا جاتا رہے گا، اس وقت تک یہ آزادی ادھوری رہے گی۔

حقیقی آزادی اس وقت ممکن ہے جب عوام کو بنیادی ضروریات اور سہولیات مہیا ہوں، تنخواہوں اور مراعات کا اضافہ صرف خواص کے لیے نہیں، بلکہ کسانوں، مزدوروں، اساتذہ، اور عام سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین کے لیے بھی ہو۔ جب تعلیم، صحت، اور روزگار کے مواقع ہر پاکستانی کے لیے قابلِ رسائی ہوں۔ جب بدامنی اور بدنظمی کا خاتمہ ہو، اور جب حادثات و سانحات سے جانی نقصان کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ جب یومِ آزادی کا جشن صرف ایوانوں تک محدود نہ ہو، بلکہ ہر گھر میں خوشحالی کی صورت میں منایا جائے۔

اس یومِ آزادی پر ہمیں اپنے حکمرانوں سے کچھ بنیادی سوالات پوچھنے کی ضرورت ہے : کیا یہ آزادی صرف آپ کی عیاشیوں اور مراعات کے لیے ہے، یا اس میں عام پاکستانی کی بہتری بھی شامل ہے؟ کیا بدامنی اور بدنظمی کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ ہے؟ کیا حادثات سے بچاؤ کے لیے کوئی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ کیا مہنگائی، بے روزگاری، اور نا انصافی کے خاتمے کے لیے کوئی پالیسی بنائی جا رہی ہے؟

ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کو محض جھنڈیاں لہرانے اور نعرے لگانے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے ایک تجدید عہد و عمل کا دن بنائیں۔ عہد اس بات کا کہ ہم ایک ایسے پاکستان کے لیے جدوجہد کریں گے جہاں انصاف ہو، مساوات ہو، اور ہر پاکستانی کے لیے خوشحالی ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بدعنوانی، نا انصافی، اور بدامنی کے خلاف آواز ہی نہیں عملی قدم اٹھائیں، اور ایک ایسا نظام بنائیں جہاں وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو، جہاں سڑکیں محفوظ ہوں، جہاں گھر محفوظ ہوں، اور جہاں ہر پاکستانی اپنی زندگی کو عزت اور تحفظ کے ساتھ گزار سکے۔

جب تک خواص کی عیاشیوں کا سلسلہ جاری رہے گا، جب تک بدامنی اور بدنظمی عام ہوتی رہے گی، اور جب تک عوام کے حصے میں صرف مبارکباد کے خالی نعرے آئیں گے، اس وقت تک آزادی ادھوری اور آزادی کا جشن ادھورا ہی رہے گا۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW