بلاگ

سافٹ ویئر اپڈیٹ“ کی سیاست”

sukar jakhro

پاکستان کی سیاسی لغت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک نئی اصطلاح تیزی سے ابھر کر سامنے آئی ہے : ”سافٹ ویئر اپڈیٹ کرنا“ ۔ پہلی نظر میں یہ اصطلاح جدید ٹیکنالوجی یا کمپیوٹر کی دنیا سے متعلق محسوس ہوتی ہے، مگر سیاسی اور سماجی تناظر میں اس کا استعمال ایک نہایت سنجیدہ اور تشویشناک رجحان کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد عموماً ایسے واقعات لیے جاتے ہیں، جہاں کسی فرد خصوصاً نوجوان کارکن، طالب علم، صحافی یا سیاسی اختلافِ رائے رکھنے والے شخص کو دباؤ، خوف، حراست، یا ذہنی و جسمانی جبر کے ذریعے اپنے سیاسی نعروں، خیالات یا عوامی موقف کو تبدیل کرنے پر مجبور کیا جائے۔ کئی معاملات میں ایسے افراد ویڈیو بیانات یا سوشل میڈیا پیغامات میں اپنے سابقہ یا یوں کہیے کے حقیقی خیالات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

جیسا کہ حال ہی میں فیس بک پر دیکھا گیا کہ ایک نوجوان کو پہلے قوم پرستی کے حق میں اور بعد ازاں پاکستان کے حق میں نعرے لگاتے دکھایا گیا۔ پھر اگلے ہی دن ایک اور نوجوان کو سندھیوں سے معافی مانگتے ہوئے دکھایا گیا۔ ایسے مناظر دیکھ کر کوئی بھی حساس دل رکھنے والا انسان خوش نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ غصہ، نفرت اور انتہا پسندی ایک قسم کی بیماری ہے، جس کا علاج کرنے کے بجائے اس قسم کے نعرے زبردستی لگوانا ایسا ہی ہے جیسے کسی بیمار سے جبراً کہلوایا جائے کہ ”میں بالکل ٹھیک اور تندرست ہوں۔“

ایسا عمل گھناؤنا ہے۔

تاہم اس مسئلے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، جسے نظر انداز کرنے سے بحث ادھوری رہ جاتی ہے۔ ایسی حکمتِ عملیاں صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں رہیں۔ بہت سے مواقع پر مذہبی گروہ، فرقے، قوم پرست، انتہا پسند یا سخت نظریاتی سیاسی دھڑے بھی اپنے مخالفین کے خلاف اسی نوعیت کے ذہنی اور سماجی جبر کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ کسی صحافی، استاد، طالب علم یا سماجی کارکن کو ”قوم دشمن“ ، ”غدار“ ، ”بکا ہوا“ یا ”سرکاری ایجنٹ“ قرار دے کر خاموش کرانے کی کوشش بھی اسی غیر جمہوری ذہنیت کا حصہ ہے۔

اسی لیے اصل مسئلہ صرف ایک فریق کی غلطیوں کا نہیں، بلکہ ایک ایسی سیاسی ثقافت کا بحران ہے جہاں اختلاف کو برداشت کرنے یا حل کرنے کے بجائے دبانے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اگر معاشرے میں ہر قوت اپنے اختیار، ہتھیار یا اثر و رسوخ کے ذریعے لوگوں کی سوچ ”اپڈیٹ“ کرنا چاہے، تو پھر جمہوریت، انسانی حقوق اور سیاسی استحکام شدید خطرے میں پڑ جائیں گے۔

کسی بھی صحت مند جمہوریت کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اس میں مختلف خیالات، متضاد نظریات اور تنقیدی آوازیں ایک ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی ترقی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ جب سرکاری یا سیاسی قوتیں لوگوں کو اپنے خیالات بدلنے پر مجبور کرتی ہیں، تو دراصل یہ ان کی سیاسی کمزوری کا ثبوت ہوتا ہے۔

مضبوط جمہوری حکومتیں یا توانا سیاسی تحریکیں لوگوں کو دلیل، انصاف، ترقی اور کارکردگی کے ذریعے قائل کرتی ہیں، جبکہ کمزور قوتیں خوف، تشدد اور دباؤ کے ذریعے خاموشی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ”سافٹ ویئر اپڈیٹ“ جیسے اقدامات بھی اسی نفسیات سے جنم لیتے ہیں۔ مقصد صرف ایک فرد کو خاموش کرنا نہیں ہوتا بلکہ پورے معاشرے کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ اختلاف کی قیمت ذلت، سزا یا دہشت ہو سکتی ہے۔

سندھ اور بلوچستان جیسے علاقوں میں، جہاں وسائل کی تقسیم، ثقافتی شناخت، صوبائی خودمختاری اور سیاسی نمائندگی کے حوالے سے طویل عرصے سے شکایات موجود ہیں، ایسی حکمتِ عملیاں مزید خطرناک ہو جاتی ہیں۔ جب نوجوان محسوس کرتے ہیں کہ ان کے سوالات کا جواب مکالمے کے بجائے جبر سے دیا جا رہا ہے، تو بے اعتمادی اور بیگانگی بڑھنے لگتی ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں مختلف سیاسی رجحانات، قوم پرست حلقوں اور حکومتوں کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ سندھ، بلوچستان اور بعض دیگر علاقوں میں مختلف تحریکیں طویل عرصے سے اپنے سیاسی، ثقافتی اور معاشی حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ گروہ آئینی اور جمہوری دائرے میں کام کرتے ہیں، جبکہ بعض نے شدت پسندانہ راستے بھی اختیار کیے ہیں۔

سرکاری موقف عموماً قومی سالمیت اور سیکیورٹی کے نقطۂ نظر پر مبنی ہوتا ہے۔ حکام کا خیال ہوتا ہے کہ حکومت یا سرکار مخالف نعرے یا تحریکیں ملک کے اتحاد کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ لیکن جب ہر اختلافی آواز کو سیکیورٹی خطرہ، غداری یا ملک دشمنی سمجھا جانے لگے، تو جمہوریت کا دائرہ سکڑنے لگتا ہے۔

اسی طرح بعض قوم پرست حلقے بھی اختلاف برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اگر کوئی نوجوان یا دانشور ان کے موقف سے اختلاف کرے یا پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کے اندر حل کی بات کرے، تو اسے ”غدار“ یا ”قوم دشمن“ قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح سیاسی بحث دلیل کے بجائے وفاداریوں کے امتحان میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

یہ بیانیے کی جنگ معاشرے کو دو انتہاؤں کے درمیان پھنسا دیتی ہے :
الف۔ ایک طرف سرکاری طاقت
ب۔ اور دوسری طرف سیاسی یا گروہی جبر
دونوں صورتوں میں نقصان سچ، جمہوریت اور عام شہریوں کو پہنچتا ہے۔

”سافٹ ویئر اپڈیٹ“ کے مباحثے میں سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اس کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں پر پڑتا ہے۔ نوجوان سیاسی شعور، جذبات اور شناخت کی تشکیل کے مرحلے میں ہوتے ہیں۔ اگر انہیں خوف، تشدد یا ذلت کے ذریعے خاموش کیا جائے، تو اس کے طویل المدتی نفسیاتی اور سماجی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایک نوجوان جو اپنے خیالات کے اظہار کے سبب حراست، دھمکیوں یا تذلیل کا شکار ہو، وہ سرکار اور اداروں پر اعتماد کھو سکتا ہے۔ دوسری طرف اگر مذہبی، سیاسی یا قوم پرست گروہ اسے ”غدار“ یا ”کافر“ قرار دے کر سماجی طور پر الگ تھلگ کر دیں، تو وہ انتہا پسندی یا مایوسی کی طرف بھی دھکیلا جا سکتا ہے۔

اس لیے نوجوانوں کے ساتھ ایسا رویہ صرف ایک فرد کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ مستقبل کے معاشرے کے ساتھ بھی نا انصافی ہے۔ قوموں کا مستقبل نوجوانوں کے اعتماد، تعلیم اور سیاسی شعور پر قائم ہوتا ہے، نہ کہ ان کی خاموشی پر۔

اخلاقی اعتبار سے ”سافٹ ویئر اپڈیٹ“ کی سوچ نہایت خطرناک ہے، کیونکہ یہ انسان کو آزاد ضمیر رکھنے والے فرد کے بجائے ایک ”پروگرام کی جانے والی مشین“ سمجھتی ہے۔ جب کسی شخص کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے دل اور ذہن کے خلاف بیان دے، تو یہ صرف سیاسی عمل نہیں رہتا بلکہ انسانی وقار کی توہین بن جاتا ہے۔

انسان کو سوچنے، سوال کرنے، اختلاف کرنے اور اپنی سیاسی شناخت منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔ اگر معاشرہ یہ اصول قبول کر لے کہ طاقتور قوتیں لوگوں کے خیالات زبردستی ”درست“ کر سکتی ہیں، تو پھر آزادی کا تصور بے معنی ہو جائے گا۔

یہ اخلاقی بحران صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں۔ جب مختلف افراد، ادارے، قوم پرست یا مذہبی انتہا پسند گروہ بھی اپنے مخالفین کو خوف کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو وہ بھی اسی غیر اخلاقی منطق کو فروغ دیتے ہیں۔ نتیجتاً معاشرے میں دلیل کے بجائے خوف، اور مکالمے کے بجائے نفرت بڑھتی ہے۔

پاکستان کا آئین شہری آزادی، انسانی وقار اور اظہارِ رائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔
٭ آرٹیکل 14 انسانی عزت اور وقار کے تحفظ کی بات کرتا ہے۔
٭ آرٹیکل 19 اظہارِ رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے۔
٭ آرٹیکل 10 منصفانہ قانونی عمل اور تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

لہٰذا کسی بھی شہری کو زبردستی سیاسی بیان دینے یا واپس لینے پر مجبور کرنا آئین کی روح کے منافی ہے۔ اگر کوئی شخص قانون توڑتا ہے تو اس کے لیے عدالتیں، قانونی کارروائی اور شفاف انصاف کا نظام موجود ہونا چاہیے۔ سیاسی خیالات کو دبانے کے لیے غیر رسمی جبر استعمال کرنا قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتا ہے۔

اسی طرح اگر مختلف سیاسی دھڑے بھی لوگوں کو سماجی دباؤ، دھمکیوں یا تشدد کے ذریعے خاموش کریں، تو وہ بھی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ جمہوریت صرف سرکار کو محدود کرنے کا نام نہیں بلکہ ہر طاقتور فریق کو جوابدہ بنانے کا عمل ہے۔

سوشل میڈیا کے دور میں ”سافٹ ویئر اپڈیٹ“ کا تصور مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ اب جبر صرف جسمانی حراست یا تشدد تک محدود نہیں رہا۔ آن لائن مہمات، ٹرولنگ، کردار کشی، ویڈیو معافیاں اور سماجی تذلیل بھی سیاسی کنٹرول کے ہتھیار بن چکے ہیں۔

کبھی کسی نوجوان کی ویڈیو وائرل کی جاتی ہے جس میں وہ اپنے خیالات واپس لیتا نظر آتا ہے، اور کبھی کسی صحافی یا کارکن کے خلاف منظم آن لائن مہم چلائی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں لوگ اپنے اصل خیالات کے اظہار سے خوفزدہ ہونے لگتے ہیں۔

یہ صورتحال خطرناک ہے کیونکہ یہ ”ذاتی سنسرشپ“ کو جنم دیتی ہے۔ لوگ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ اختلاف شاید ان کی تعلیم، ملازمت، خاندان یا سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

پاکستان جیسے کثیر القومی اور کثیر الثقافتی معاشرے میں مسائل کا مستقل حل صرف سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جبر، خوف یا زبردستی بیانیہ مسلط کرنا وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتا ہے، لیکن دلوں سے شکایات ختم نہیں کر سکتا۔

اس سلسلے میں درج ذیل اصلاحات و اقدامات ممکن ہیں :

الف: مکالمہ اور سیاسی گفت و شنید

حکومت اور سیاسی گروہوں /قوم پرست حلقوں دونوں کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ سیاسی مسائل کو محض سیکیورٹی مسئلہ بنانا خطرناک ہے۔ مکالمہ، پارلیمانی بحث اور آئینی طریقے ہی پائیدار حل پیدا کر سکتے ہیں۔

ب: اختلاف کو برداشت کرنا

ہر اختلاف کرنے والا شخص غدار یا دشمن نہیں ہوتا۔ سیاسی جماعتوں، اور گروہوں اور سرکاری اداروں کو تنقید برداشت کرنا سیکھنا ہو گا۔ جمہوریت کا حسن ہی یہی ہے کہ مختلف خیالات ساتھ موجود رہیں۔

ج: نوجوانوں کو شریک بنانا

نوجوانوں کو خاموش کرنے کے بجائے انہیں سیاسی عمل، تعلیمی مباحث اور پالیسی سازی میں شامل کیا جانا چاہیے۔ مایوس نوجوان معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، جبکہ با اختیار نوجوان استحکام کا ذریعہ بنتے ہیں۔

د: انسانی حقوق کا مشترکہ تحفظ

سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں اور میڈیا کو ہر قسم کے جبر کی مخالفت کرنی چاہیے۔ خواہ وہ سرکاری اداروں کی جانب سے ہو یا کسی قوم پرست یا انتہا پسند گروہ کی طرف سے۔

ہ: انصاف اور شفافیت

جبری گمشدگیوں، تشدد یا سیاسی جبر کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اسی طرح اگر کوئی سیاسی جماعت، گروہ یا تنظیم تشدد یا دھمکیوں میں ملوث ہو تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

”سافٹ ویئر اپڈیٹ“ کی اصطلاح کے پیچھے دراصل طاقت اور خوف کی سیاست کارفرما ہے۔ یہ ذہنیت چاہے سرکاری اداروں میں ہو یا کسی قوم پرست یا انتہا پسند گروہ میں، دونوں صورتوں میں جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہے۔

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ خیالات کو جبر کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ خوف لوگوں کو وقتی طور پر خاموش تو کر سکتا ہے، مگر ان کے ذہنوں اور دلوں سے سوالات ختم نہیں کر سکتا۔ اگر پاکستان کو ایک مستحکم، پُرامن اور جمہوری معاشرہ بننا ہے، تو تمام فریقوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ سیاسی مسائل کا حل صرف سیاسی اور آئینی طریقوں سے ہی ممکن ہے۔

حکومت اور سرکاری حکام اور اداروں کو اپنے شہریوں پر اعتماد کرنا ہو گا، اور سیاسی جماعتوں، حلقوں یا گروہوں اور تنظیموں کو بھی اختلاف برداشت کرنا سیکھنا ہو گا۔ حقیقی قومی یکجہتی جبر سے نہیں بلکہ انصاف، احترام اور مکالمے سے پیدا ہوتی ہے۔

انسانی حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور سیاسی اختلاف کسی بھی معاشرے کے لیے خطرہ نہیں ہوتے، بلکہ یہی ایک صحت مند اور مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہوتے ہیں۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
3 Comments
عارف احمد
عارف احمد
2 months ago

دنیا بھر میں یہ کام ہزاروں سال سے ہوتا آ رہا ہے
انبیا سے لے کر فلسفیوں اور حق پرست لوگوں پر یہ وقت آتا رہا
وہ ممالک جہاں ادارے جاگ رہے ہوتے ہیں اور عدالتیں انصاف یں تاخیر نہیں کرتیں وہاں یہ مسئلہ کم آتا ہے
آزادی رائے کا اظہار۔۔۔ شتر بے مہار آزادی نہیں
کیا کوئی سڑک پر کھڑے ہوکر کسی کو گالیاں دے سکتا ہے
کسی حکومت یا ریاستی ادارے پر جھوٹے الزام لگا سکتا ہے
نہیں
ان کا سر بچ جاتا ہے یہی بہت ہے

سکار جاکھرو
sukar jakhro
2 months ago

ہم کم ازکم میسر پلیٹ فارمز پر صدائے احتجاج تو بلند کر سکتے ہیں:

کچھ حشر تو ان سے اٹھے گا کچھ دور تو نالے جائیں گے

عارف احمد
عارف احمد
2 months ago
Reply to  sukar jakhro

ضرور

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW