بلاگ

آج کی کربلا، غزہ میں بھوک و پیاس اور اموات کا ”بھیانک تماشا“

 

gohar taj

آج کل سوشل میڈیا پہ ہم میں سے اکثر کی نظروں کے سامنے ہڈیوں کے ڈھانچے بنے فاقہ زدہ فلسطینی سامنے آ جاتے ہیں جو غذا کی کمیابی کے سبب بھوک اور پیاس کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ خاص کر ہڈیوں کے پنجر میں قید حالات سے ٹھٹھرے ننھے ننھے فلسطینی بچے۔ جن کی تکلیف دہ ویڈیو کو چند سیکنڈ بھی دیکھنا ہمارے لیے محال ہوجاتا ہے۔ ہمارے دل دہل جاتے ہیں۔ کھانے کا نوالہ حلق میں اٹکنے لگتا ہے۔ ہم میں سے اکثر ان مناظر کو آگے بڑھاتے ہوئے گزر جاتے ہیں کہ فرار ہمارا نفسیاتی مدافعتی عمل ٹھہرا ہے۔

لیکن حقیقت سے منہ کس طرح چرایا جائے کہ غزہ، فلسطین آج چودہ سو سال قبل کے کربلا کی زندہ تصویر بنا ہوا ہے۔ جہاں حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملہ کے بعد سے آج تک حقیقی رپورٹنگ کرنے والے فلسطینی صحافیوں کے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 227 ہو چکی ہے۔ جن میں 197 مرد اور 30 خواتین رپورٹرز شامل ہیں۔ اس بائیس ماہ کے تنازعے میں اسرائیل نہیں چاہتا کہ اس کے جوابی وحشیانہ حملوں کی خبر پھیلے۔ لیکن ٹیکنالوجی کے دور میں تو کئی دہائیوں قبل کے جرائم کے شواہد بھی سامنے آ جاتے ہیں۔ یہ تو نسبتاً نیا تنازعہ ہے۔ فلسطین پہ برسوں سے جاری اسرائیلی تسلط ظلم، جبر اور استبداد سے جڑے سانحات کا تسلسل ہے جسے آج تمام دنیا دیکھ رہی ہے۔ دنیا میں بظاہر خاموشی سہی، بالخصوص اسلامی ممالک میں، لیکن ظلم کے انمٹ سیاہ ابواب تاریخ کے اوراق پہ تو رقم ہو رہے ہیں۔

اس وقت فلسطین میں کوئی علاقہ محفوظ نہیں۔ گھر، تعلیمی ادارے اور بظاہر محفوظ اسپتالوں پہ بھی اسرائیل کے براہ راست مسلسل حملے۔ غزہ ہیلتھ منسٹری اور الجزیرہ کے مطابق اب تک 59، 676 اموات اور 143، 965 زخمی افراد درج ہوئے ہیں۔ یہ بھی شرمناک خبر ہے کہ دنیا میں وافر اور ضائع ہونے والی غذا کے باوجود بھوک اپنے زوروں پہ ہے، فلسطین میں کھانے، طبی امداد اور دوسری بنیادی ضرورت کی اشیاء کی رسد پہ قدغن کے باعث وہاں رہنے والے ناکافی غذا، ناکارہ مدافعتی نظام کے سبب بیماریوں کا غلبہ ہے، خاص کر بچوں اور بوڑھوں میں۔ 26 جولائی 2025 کی اطلاع کے مطابق اسرائیل کے ہاتھوں ”زبردستی اور انسانوں کے پیدا کردہ قحط“ کے سبب حالیہ چند ہفتوں میں 133 اموات ہو چکی ہیں۔ محض گزشتہ تین دنوں میں 27 بچے بھوک سے مر چکے ہیں۔ غزہ کی بیس لاکھ سے زائد کی آبادی میں کھانے کی اشیاء مثلاً آٹا، چاول، دالوں، دودھ اور شکر جیسی اشیاء کے دام آسمان کو چھو رہے ہیں۔ جو اب پیسے والوں کی قوت خرید سے بھی باہر ہیں۔ خوراک کی کمیابی کے سبب ماؤں کا دودھ خشک ہو گیا ہے اور نوزائیدہ بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔

عام لوگ ہی نہیں ڈاکٹرز اور ہیلتھ کیئر کے شعبہ سے منسلک افراد بھی ناکافی غذا کی وجہ سے بھوکے رہتے ہیں۔ اور اسی عالم میں انسانی جان بچانے کا کام کر رہے ہیں۔ ملک قحط کے دہانے پہ ہے۔ الجزیرہ کے طارق ابو ایذوم کے مطابق ”فلسطین میں بھوک اتنی مہلک ہو چکی ہے جیسے بم۔“ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گیٹرس نے فلسطین کے ڈھلتے ہوئے انسانی خدمات کے نظام کو ”ہارر شو“ (بھیانک تماشے ”) کا نام دیا ہے۔

تو آئیے غزہ میں انسانی تباہی کے ”بھیانک تماشے“ کے کچھ مناظر دیکھتے ہیں۔

یہ غزہ کے جنوب میں واقع نصر ہسپتال کے بچوں کے شعبہ میں اپنی ماں کی گود میں کپڑے میں لپٹی پانچ ماہ کی زینب کی لاش ہے۔ جس کو اس کی ماں محض چھ ہفتہ ہی اپنا دودھ پلا سکی۔ کیونکہ اسرائیل نے مارچ سے ایک بار پھر قلیل مقدار میں کھانے کی امدادی رسد کے دستوں پہ قدغن لگا دی تھی۔ خود ماں بھوکی ہو تو دودھ کیسے ہو گا۔ زینب کو فارمولا دودھ نہ مل سکا اور وہ مر گئی۔ پیدائش کے وقت اس کا وزن 6.6 پونڈز تھا جبکہ موت کے وقت 4.4 پونڈز۔ اس طرح یہ بچی مری نہیں قتل کردی گئی۔ اس کی ماں اسرا ابو حلیب نے کہا ”میری بچی کے بعد اور بھی بچے مریں گے۔ ان کے نام فہرست میں ہیں جنہیں کوئی نہیں دیکھتا۔ وہ صرف نام اور عدد ہیں۔ ہمارے بچے جنہیں ہم نو مہینے (اپنے جسم میں ) رکھتے اور پیدا کرتے ہیں وہ صرف عدد بن جاتے ہیں۔“

اور پھر یہ ہے خان یونس کے نصر اسپتال میں سیالا ماجدی جس کو ہنسنا پسند تو ہے مگر اس کی مسکراہٹ کمزور اور جلد بجھ جاتی ہے۔ گیارہ ماہ کی عمر میں اس کا وزن بیس پونڈ ہونا چاہیے مگر وہ صرف آٹھ پونڈ کی ہے۔ اس کی پنڈلی کمزور اور ننھا ہاتھ بمشکل ہی نرس کی انگلی پکڑ سکتا ہے۔ اس کی چھتیس سالہ ماں نجیہہ نے این بی سی ٹی وی کی ٹیم کو بتایا کہ بچوں کے وارڈ کے اسی کمرے میں چار بچے مرے تھے۔ اسے ڈر ہے کہ اگلی مرنے والی اس کی بچی ہوگی۔ دنیا جانتی ہے کہ ان دردناک اموات کا اہتمام اسرائیلی ملٹری کے ہاتھوں ترتیب پایا ہے۔

ویسے تو فلسطین میں ہر فرد ہی غذا کی قلت کا شکار ہے مگر قحط کے ان بھیانک مناظر میں بچوں کی اکثریت ہے کیونکہ بیس لاکھ کی آبادی میں آدھی آبادی بچوں پہ مشتمل ہے۔ والدین بچوں کی بھوک کو پانی سے مٹا رہے ہیں۔ ان کی غذا میں فولاد، میگنیشیم، اور کیلشیم جیسے ضروری اجزا عرصے سے ناپید ہیں جس کی وجہ سے جسمانی صحت اور تمام اندرونی نظام کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا ہے۔ یہ بچے اگر زندہ بھی رہے تو بعد میں مختلف جسمانی اور ذہنی معذوری کا شکار ہوں گے۔ جو بلا شبہ قوم کا تاریخی اور نسلی ٹراما (صدمہ) بن جائے گا۔ ماہرین صحت کے مطابق آج تک کی تاریخ میں ہر تین افراد میں ایک کو غذائی قلت کا شدید سامنا ہے۔ آئی پی سی (انٹر جنجریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیس کلاسیفیکیشن کے مطابق یوں تو پوری آبادی ہی ناکافی خوراک کا شکار ہے۔ لیکن آدھی سے زائد آبادی کو ایمرجنسی فیز 4 کا سامنا ہے جبکہ بائیس فی صد فیز 5 یعنی شدید ترین غذائی بحران میں مبتلا ہیں۔ بار بار ایک سے دوسری پناہ گاہ کی تلاش، ہسپتالوں میں طبی سہولیات کا فقدان، اور فضا میں موت کا رقص اور خوف و ہراس بلاشبہ نسلوں کے ٹراما پہ محیط ہو گا۔

اب ذرا ان قحط زدہ افراد کے خوراک حاصل کرنے کی تگ ود کے مناظر بھی دیکھ لیں جو خالی پیٹ میلوں چل کر بمشکل امدادی ٹرک پہ غذائی رسد تک پہنچتے ہیں۔ جہاں امدادی علاقوں کو کنٹرول کرنے والے اسرائیلی فوجی کے علاوہ اسرائیل کی پشت پناہی میں ُ کام کرنے والے امریکی ادارے GHF (غزا ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن ) اور Safe Reach Solution (سیف ریچ سلوشن) کے ٹھیکیدار ہیں۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے ایک امریکی فوجی نے، جو پہلے بھی چار جنگوں میں لڑ چکا ہے، بتایا کہ یہاں اس نے جو تشدد دیکھا کہیں نہیں دیکھا۔ جہاں خوراک کی فراہمی والے علاقوں پہ بھوکے اور نہتے فلسطینوں کوائر اسٹرائیک اور گن شوٹ سے مارا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق خوراک کے ٹرک کی رسائی پہ تعینات اسرائیلی اور امریکی حمایت یافتہ فاؤنڈیشنوں پہ تعینات فوجی رضاکاروں می ہاتھوں اب تک ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو مارا جا چکا ہے۔ دی ایسوسی ایٹڈ پریس کی اطلاع کے مطابق خوراک کی رسد کے ان مقامات کی ”حفاظت“ کرنے والے فلسطینوں پہ گولہ بارود اور دستی بم پھینکتے ہیں۔ جب وہ خوراک لے کر واپس رہے ہوتے ہیں تو پیچھے سے ان کے پاؤں پہ گولیاں مارتے ہیں۔ یہ وحشیانہ عمل ان کے افسر کے حکم پہ ہوتا ہے۔ مارچ سے مئی تک غذا کی فراہمی پہ مکمل بندش کے بعد سے غذا اور ضروری اشیاء ٹرکوں پہ منتظر ہیں کہ انہیں استعمال کیا جائے مگر جنگ بندی اور اور غذا کی ترسیل کے بند راستے کھولے بغیر یہ ان کو استعمال کرنا ممکن نہیں۔

دنیا بھر کی سو انسانی حقوق کی پاسبان آرگنائزیشنوں اور گروپس نے اسرائیل کے غیرانسانی رویے، علاقوں کی ناکہ بندی محاصرہ اور غذا کی فلسطینی علاقوں میں ترسیل پہ پابندی پہ کھلم کھلا غم غصے اور احتجاج کا اظہار کیا ہے۔ ہر ملک میں بشمول اسرائیل، مسلسل ہونے والے منظم احتجاجی جلسے جلوس اور نعرے اس کی چند مثالیں ہیں۔

22 جولائی 2025 کو دنیا کے اٹھائیس ممالک بشمول یوکے، جاپان اور بہت سے یورپین ممالک نے ایک مشترکہ بیان پہ دستخط کیے ہیں۔ ان سب نے احتجاج کے ساتھ اسرائیل کی فضائی امدادی رسد پہ پابندی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بات توجہ طلب ہے کہ دستخط کرنے والے یہ ممالک اسلامی نہیں۔ اکثر اسلامی ممالک تو ابھی بھی امریکہ کی گود میں ہیں جو اس وقت نیتن یاہو کی سرکردگی میں چلنے والے اسرائیل کا سب سے وفادار ساتھی ہے۔

اس غذائی قلت اور موت کے سیل رواں پہ بین الاقوامی سطح پہ احتجاج اور مذمت کے نتیجے میں بالآخر اسرائیل نے کچھ اقدامات پہ عمل پہ رضامندی ظاہر کی۔ دیر البلاح، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں ہفتے کی رات سے امداد کا ہوائی جہاز سے فضا سے غذا فضا سے کا پروگرام شروع کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کے قافلوں کے لیے انسانی ہمدردی کی راہداری قائم کی جائے گی۔

اس مقصد کے لیے گنجان آبادی والے محصور علاقوں میں جنگ کا وقفہ ہو گا تاکہ اقوام متحدہ کی گاڑیاں غذائی رسد کی فراہمی کے وقت گزر سکیں۔ لیکن دوسرے علاقوں میں جنگ بندی نہیں ہوگی۔

فضا سے خوراک اور دودھ پھینکنے کی درخواست اردن کی تھی۔ گو فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی کے سربراہ فلپ لازارینی نے خبردار کیا ہے کہ ہوائی ڈراپ کا طریقہ مہنگا ناکارہ اور بھوک سے مرنے والے شہریوں کو بھی ہلاک کر سکتا ہے۔

مشہور پبلک ریڈیو این پی آر کے مطابق آج 27 جولائی سے اسرائیل کی فوج غزہ کے سب سے بڑے آبادی والے مراکز میں روزانہ دس گھنٹے کے لیے لڑائی روک رہی ہے اور محصور علاقوں میں خوراک کی امداد کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔

فوجی کارروائیوں میں روزانہ کی مہلت، آج یعنی اتوار 27 جولائی کی صبح 10 بجے شروع ہوئی جو روزانہ رات 8 بجے تک جاری رہے گی۔ غزہ شہر، دیر البلاح اور المواسی میں، ساحل کے ساتھ ایک بڑا خیمہ کیمپ۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں تشدد کی صورت میں فلسطینی پناہ لے سکتے ہیں۔

آج غزہ کے کچھ علاقوں میں فوجی سرگرمیوں میں ”ٹیکٹیکل توقف“ کا اعلان کیا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس اقدام کا خیرمقدم کیا گیا ہے، حالانکہ انسانی ہمدردی کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ شاید مختصر نوٹسکی امدادی کھڑکیاں مصیبت زدہ فلسطینیوں کو بچانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اقوام متحدہ اور امدادی ایجنسیوں کے قافلوں کو غزہ بھر میں خوراک اور ادویات پہنچانے کے قابل بنانے کے لیے مخصوص ”محفوظ راستے“ بھی بنائے جائیں گے۔ ان تمام تر اقدامات کے بعد بھی غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید چھ فلسطینی بھوک سے جان دھو بیٹھے ہیں۔ اس طرح بھوک سے مرنے والوں کی تعداد کل 133 ہو چکی ہے۔

گو اردن، مصر اور یو اے ای کے مطابق 25 ٹن کا کھانا اور دوسری ضروری اشیا ائر ڈراپ اور زمینی راستے سے پہنچائی گئی ہیں۔ دس گھنٹے روزانہ کی جنگ بندی پہ بھی عمل شروع ہوا ہے لیکن فلسطین کے عوام کا ردعمل ہے ”اگرچہ یہ امداد خوش آئند ہے لیکن یہ گہرے ہوتے ہوئے بحران کے وسیع تر دیرپا حل کا آغاز ہونا چاہیے۔“

فلسطین اور اسرائیل کا تنازعہ پیچیدہ ضرور ہے لیکن کون سا معاملہ ہے جو گفتگو اور افہام و تفہیم سے نہیں طے کیا جاسکتا؟ کیا اس کے لیے فلسطین، کشمیر، یمن، صومالیہ، سوڈان، یوکرین کے عوام کو خودغرض سیاست دانوں کی بھینٹ چڑھنا اور لقمہ اجل بننا ضروری ہے؟ ہمیں ہر صورت میں دھرتی کو بے گناہ عوام کے خون سے پاک اور بھوک اور درندگی کے ہاتھوں مرنے والوں کا قبرستان بننے سے روکنا ہو گا۔

(اس مضمون کی تیاری میں انٹرنیٹ کے مختلف ذرائع استعمال ہوئے ہیں۔ )

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Durdana Jaffery
Durdana Jaffery
10 months ago

Very touching. Please keep writing

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW