آفت زدہ قرار دینا: ریاستی اختیار یا ریاستی ذمہ داری؟

جب ریاست کسی علاقے کو باضابطہ طور پر آفت زدہ قرار دیتی ہے تو یہ محض ایک سرکاری نوٹیفکیشن یا ہمدردی پر مبنی اعلان نہیں ہوتا، بلکہ یہ اعلان دراصل ریاست کی طرف سے اس حقیقت کا اعتراف ہوتا ہے کہ اب اس علاقے کے عوام کی جان، عزت اور بقا کی ذمہ داری براہِ راست حکومت کے کندھوں پر آ چکی ہے۔ پاکستان میں اس ذمہ داری کی قانونی بنیاد دو اہم قوانین فراہم کرتے ہیں جن میں قومی آفات (روک تھام و امداد) ایکٹ 1958 اور قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2010 شامل ہیں۔ ان دونوں قوانین کو سامنے رکھا جائے تو آفت زدہ قرار دینے کے بعد حکومت کی ذمہ داریاں نہایت واضح، ہمہ گیر اور ناگزیر ہو جاتی ہیں۔
قومی آفات ایکٹ 1958 بنیادی طور پر ایک ہنگامی نوعیت کا قانون ہے، جو حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ غیر معمولی حالات میں فوری فیصلے کرے، وسائل کو اپنے کنٹرول میں لے اور انسانی جانوں کو بچانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کرے۔ اس قانون کے تحت کسی علاقے کو آفت زدہ قرار دینے کے بعد حکومت اس بات کی پابند ہو جاتی ہے کہ متاثرہ آبادی کو فوری تحفظ فراہم کرے، انہیں خطرناک مقامات سے محفوظ علاقوں میں منتقل کرے، اور ان کے لیے خوراک، رہائش اور طبی امداد کا بندوبست کرے۔ یہ سب کچھ کسی احسان کے طور پر نہیں بلکہ ایک قانونی فرض کے طور پر انجام دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اس تناظر میں یہ حقیقت خاص طور پر توجہ طلب ہے کہ گزشتہ زلزلے کے بعد حکومت نے وادی چپورسن کے صرف تین دیہات کو آفت زدہ قرار دیا ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری وادی چپورسن اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئی ہے اور وادی کے تمام چھ سو گھرانے کسی نہ کسی شکل میں خوف، عدم تحفظ اور نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں آفت کو چند دیہات تک محدود کر دینا نہ صرف حقائق سے انحراف ہے بلکہ قانون کی روح کے بھی منافی ہے، کیونکہ آفت کا پیمانہ سرکاری نقشے نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں پر پڑنے والا اثر ہوتا ہے۔
قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2010 اس ذمہ داری کو مزید وسعت دیتا ہے اور ریاست کو محض ردِعمل دینے والی اتھارٹی کے بجائے ایک منصوبہ ساز اور جوابدہ ادارہ بناتا ہے۔ اس قانون کے تحت این ڈی ایم اے، PDMA اور DDMA جیسے ادارے اس لیے قائم کیے گئے کہ آفت کے بعد افراتفری کے بجائے ایک منظم اور مربوط ردِعمل سامنے آئے۔ آفت زدہ قرار دینے کے بعد حکومت پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ نہ صرف فوری ریلیف فراہم کرے بلکہ نقصانات کا باقاعدہ تخمینہ لگائے، متاثرین کی بحالی کے منصوبے ترتیب دے اور مستقبل میں ایسے خطرات سے بچاؤ کے لیے عملی اقدامات کرے۔ اگر آفت پورے علاقے کو لپیٹ میں لے چکی ہو تو ذمہ داری بھی پورے علاقے تک پھیل جاتی ہے، اسے انتظامی سہولت کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جا سکتا۔
آفت زدہ علاقے میں رہائش کا مسئلہ سب سے بنیادی ہوتا ہے۔ خیمے، عارضی شیلٹرز، یا محفوظ عمارتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اسی طرح صاف پانی، خوراک، ایندھن اور موسم کی شدت سے بچاؤ کے انتظامات ریاستی فرض میں شامل ہیں۔ اگر متاثرہ آبادی کو سردی، بھوک یا بیماری کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 9، یعنی حقِ زندگی، کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ چپورسن جیسے سرد اور دشوار گزار علاقے میں یہ ذمہ داری مزید حساس اور فوری نوعیت اختیار کر لیتی ہے۔
طبی امداد کے حوالے سے دونوں قوانین حکومت کو اس بات کا پابند بناتے ہیں کہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو، فیلڈ اسپتال اور موبائل ہیلتھ یونٹس قائم کیے جائیں، اور وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ آفت کے بعد بیماریوں کا پھیلاؤ ایک معروف خطرہ ہوتا ہے، اور اس خطرے سے نمٹنا حکومت کی براہِ راست ذمہ داری ہے، نہ کہ کسی فلاحی ادارے پر چھوڑ دینے کا معاملہ۔
مالی اور معاشی پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ آفت زدہ قرار دیے جانے کے بعد حکومت پر لازم ہے کہ وہ گھروں، فصلوں، مویشیوں اور روزگار کے نقصانات کا شفاف سروے کرائے اور متاثرین کو مالی امداد، گرانٹس یا دیگر سہولیات فراہم کرے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2010 واضح طور پر بحالی اور تعمیرِ نو کو ریاستی ذمہ داری قرار دیتا ہے، محض وقتی امداد کو نہیں۔ جب متاثرین کی تعداد پوری وادی پر محیط ہو تو بحالی کا دائرہ بھی پوری وادی تک ہونا چاہیے۔
ان دونوں قوانین کے تحت حکومت کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزی، منافع خوری اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ آفت زدہ علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا اور استحصالی عناصر کو لگام دینا حکومت کا فرض ہے، کیونکہ ایسے حالات میں معاشی استحصال انسانی المیے کو دوچند کر دیتا ہے۔
سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2010 حکومت کو مستقبل کے بارے میں سوچنے کا پابند بناتا ہے۔ اگر کوئی علاقہ مسلسل خطرات کی زد میں ہو تو ریاست پر لازم ہے کہ وہ سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر فیصلہ کرے کہ وہاں محفوظ تعمیر ممکن ہے یا نہیں۔ اگر خطرات مستقل نوعیت کے ہوں تو متاثرہ آبادی کی باعزت منتقلی اور متبادل آبادکاری پر غور کرنا بھی ریاستی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ چپورسن کے معاملے میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ وقتی اعلانات کے بجائے پورے خطے کو آفت زدہ قرار دے کر ان دونوں قوانین کے تحت فوری، سخت اور جامع اقدامات اٹھائے جائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آفت زدہ قرار دینے کے بعد ریاست کسی تماشائی کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔ قانون اسے مکمل اختیار بھی دیتا ہے اور مکمل ذمہ داری بھی۔ 1958 کا قانون حکومت کو فوری طاقت دیتا ہے، جبکہ 2010 کا قانون اس طاقت کے ساتھ جوابدہی، منصوبہ بندی اور پائیدار حل کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر ریاست ان ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتی تو مسئلہ محض انتظامی کمزوری نہیں رہتا بلکہ ایک سنجیدہ آئینی اور انسانی حقوق کا بحران بن جاتا ہے، جس کا خمیازہ ہمیشہ عام شہری ہی بھگتتا ہے۔
