کالم۔

خودکشی۔ براہ مہربانی طبی امور کو مفتیان عظام کی پہنچ سے دور رکھیں

dr khurram niazi

ایپی ڈیمیالوجی یا وبائیات طب کی ایک بنیادی شاخ ہے جس میں بیماریوں، حادثات، پیچیدگیوں، اموات اور وجوہات کے مابین تعلق تلاش کیا جاتا ہے اور اس سارے علم کو اعداد و شمار کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ کسی ایک کمیونٹی، علاقے، ملک یا ساری دنیا کے لئے پبلک ہیلتھ کی ترجیحات متعین کی جا سکیں، بیماریوں اور آزار کی روک تھام کے لئے رقوم اور ذرائع مختص کیے جا سکیں اور کچھ عرصہ بعد دوبارہ اعداد و شمار کا جائزہ لے کر جانچا بھی جا سکے کہ متعلقہ مسئلہ میں کس قدر کمی یا اضافہ ہوا۔ یہ مبنی بر شواہد طب (ایوی ڈینس بیسڈ میڈیسن) کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

اگر خودکشی کی ایپی ڈیمیالوجی پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اس طرز رحلت سے دنیا بھر میں ہر سال سات سے آٹھ لاکھ افراد ہمکنار ہوتے ہیں عالمی ادارۂ صحت اسے پبلک ہیلتھ (صحت عامہ) کو درپیش بہت بڑا چیلنج قرار دیتا ہے۔ ڈاکٹر مریم صبغت اللہ اور طہٰ صابری جو اس موضوع پر اتھارٹی رکھتے ہیں کی موقر طبی جریدے لینسٹ میں شائع تحقیق کے مطابق مملکت خداداد میں بیس ہزار جانیں سالانہ خودکشی سے تلف ہو جاتی ہیں۔ خدشہ ہے کہ اصل اعداد و شمار کہیں زیادہ پریشان کن اور سنسنی خیز ہوں گے۔

نوعمر جانوں کے اس ضیاع کو بروقت، سائنسی اور کم قیمت طبی مداخلت سے روکا جاسکتا ہے۔ خودکشی کرنے کے بڑے اسباب میں ڈپریشن جیسے نفسیاتی عارضے، کثرت شراب نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال شامل ہیں۔ تاہم بہت سی خودکشیاں جذباتی، بحرانی کیفیت میں اچانک جوش میں آ کر بھی ہو جایا کرتی ہیں۔ بالخصوص جب انسان محسوس کرے کہ وہ مالی مشکلات، رشتوں میں کھنچاؤ، پرانے اور ناقابل علاج درد اور دائمی بیماری سے تنگ آ چکا ہے۔

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی، غم سے نجات پائے کیوں

اس کے علاوہ علاقائی یا عالمی تنازعات، ناگہانی آفات، تشدد، جنسی، نفسیاتی، جذباتی، مالی یا جسمانی استحصال، کسی عزیز کی موت، محبوب کی جدائی، احساس تنہائی، بلیک میلنگ، ہراسانی سب کچھ خودکشی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ خودکشی کی شرح معاشرے میں بالعموم کمزور اور ناپسندیدہ گروہوں میں اونچی ہوتی ہے جو صبح شام تضحیک، تمسخر اور تعصب کا نشانہ بنتے ہوں ان میں مہاجرین، اقلیتی فرقے کے ارکان، مختلف جنسی میلانات رکھنے والے جیسے ہم جنس پرست یا ٹرانسجینڈر، قیدی سب شامل ہیں۔ اپنی زندگی ختم کرنے کے خیالات آنا سب سے خطرناک علامت ہے۔ سیلف ہارم یعنی خود کو ایذا دینا ایک اہم انڈیکیٹر ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان افراد کی محتاط نگرانی اور سپورٹ لازمی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے 2021 ء میں ہدف بنایا تھا کہ 2030 ء تک خودکشیوں میں ایک تہائی کی کمی کی جائے گی۔ اس سٹریٹجی میں عوامی آگہی، ہمدردی اور متاثرہ فرد کی نگہداشت کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ اس عظیم مقصد میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ فرسودہ روایتی تصورات ہیں جو ذہنی امراض، نفسیاتی بحران اور خودکشی کو فرد یا اس کے اہل خانہ کے دامن پر لگا انمٹ داغ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کو سب سے زیادہ تشویش کچھ ممالک میں موجود ان قوانین پر تھی جو خود کشی کی کوشش کو قابل دست اندازی جرم قرار دیتے ہیں۔ اس بارے میں 2023 ء کی ایک دستاویز میں پاکستان میں ہونے والی اس قانون سازی کو بہت سراہا گیا تھا جس سے خودکشی کے مرتکب کو مجرم کے بجائے مریض قرار دے دیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے چند ہفتے قبل وفاقی شرعی عدالت نے اس قانون سازی کو اسلام کے منافی قرار دے کر منسوخ کر دیا ہے۔

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

عام جسمانی امراض کے مقابلے میں ذہنی اور دماغی امراض میں فرق یہ ہے کہ ان سے متاثرہ افراد اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔ معاشرے میں ان سے متعلق دقیانوسی اور امتیازی رویے غالب ہوتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیگر غیر محفوظ اور کمزور شہریوں کی طرح ذہنی مسائل کے شکار افراد کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے، اس کے لئے قانون سازی کرے اور ان قوانین کا نفاذ بھی۔ قانون سازی کے بغیر معاشرتی اقدار اور رویوں کو بدلنا ناممکن ہے۔ برطانیہ میں ذہنی صحت سے متعلق قوانین کے ارتقاء کا مختصر جائزہ انتہائی ضروری ہے۔ بالخصوص اس لئے کہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش سمیت درجنوں ایشیائی ممالک برطانوی نوآبادیات رہے اور آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی ان میں قبل از آزادی 1860 ء کے کالونیئل خود کشی قوانین کا تسلسل رہا ہے۔

تقریباً تمام مذاہب خودکشی کرنے کی سخت مذمت اور ممانعت کرتے ہیں۔ عہد وسطی میں یورپ میں کلیسا کا نظامِ حکومت میں بہت زیادہ عمل دخل تھا لہذا کلیسائی احکامات کے تحت خودکشی میں کامیاب ہو جانے والے کی جائیداد ضبط کر لی جاتی تھی، اس کی آخری رسومات اور عام قبرستان میں تدفین کرنے کی اجازت بھی نہ تھی۔ جرمنی وہ پہلا ملک تھا جس نے 1751 ء میں خودکشی کو جرائم کی فہرست سے خارج کر دیا۔ فرانسیسی انقلاب کے بعد رفتہ رفتہ یورپی اور شمالی امریکہ میں بھی خودکشی جرم نہ رہی یہ الگ بات ہے کہ کافی عرصے تک مرتکب اور اس کے اہلِ خانہ کے لئے خودکشی بد نامی کا وہ دھبہ بن جاتا جسے کئی نسل بعد بھی دھونا ممکن نہ ہوتا۔

انیسویں صدی میں فرانسیسی ماہر سماجیات ڈرکھئیم نے یہ نظریہ پیش کیا کہ خودکشی کے رویے کا اصل محرک بیرونی دباؤ یا معاشرتی مسائل ہوتے ہیں۔ اس نظریہ سے خودکشی کی بابت انسانی شعور میں بہت اضافہ ہوا۔ اس سے قبل خودکشی کو اخلاقی پستی اور گمراہی کا نتیجہ سمجھا جاتا تھا۔ دوسرا اہم کردار بابائے نفسیات سگمنڈ فرائیڈ نے ادا کیا جنہوں نے شدید خللِ دماغ یعنی سائیکوسس کا تصور روشناس کراتے ہوئے بتایا کہ دماغی امراض بھی درحقیقت بیماریاں ہوتی ہیں اور صحیح تشخیص کے بعد علاج ممکن ہے۔

اس پس منظر میں 1959 ء کا برطانوی دماغی صحت کا قانون بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس قانون میں پہلی مرتبہ دماغی بے ترتیبی یعنی مینٹل ڈس آرڈر کی اصطلاح استعمال کی گئی اس سے قبل قانونی مخطوطات میں پاگل پن، احمق اور بدھو جیسے تضحیک آمیز الفاظ کی تکرار ملتی ہے۔ نئے قانون کے تحت ذہنی امراض کے خصوصی اداروں جنہیں انیسویں صدی میں پاگل خانے کہا جاتا تھا اور عام اسپتالوں میں تفریق کو ختم کرنے کا حکم صادر ہوا۔ اس طرح ان پابندِ سلاسل بیماروں کے لئے کمیونٹی میں علاج معالجہ کا حق تسلیم کیا گیا۔

1961 ء میں خودکشی کا قانون پاس کیا گیا جو ایک انقلابی اقدام تھا یہ قانون خود کشی یا اس کی ناکام کوشش کرنے والے افراد کو ناقابل تعزیر یعنی بے گناہ قرار دیتا ہے۔

یہی وہ اہم موڑ تھا جس کے بعد سے خود کو ایذا رسانی (سیلف ہارم) بھی ایک پوشیدہ عارضہ نہ رہا بلکہ رفتہ رفتہ اسے ایک ایسا رویہ مان لیا گیا جس کو سمجھنے اور اس کے شکار افراد کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں خود ایذا رسانی کو رپورٹ کرنا یا حقیقی اعداد و شمار کا سراغ لگانا بالکل ممکن نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان پینل کوڈ مجریہ 325 کے مطابق ”جو شخص خودکشی کی کوشش کرے یا ایسا عمل کرے جس کے نتیجے میں یہ جرم سرزد ہو سکتا ہو اس کو ایک سال تک قید یا جرمانے یا دونوں کی سزا دی جا سکتی ہے“

اس قانون کی رو سے ایذا رسانی کے ہر واقعے کو ایسے اسپتال میں دکھانا لازمی ہے جو میڈیکو لیگل مرکز بھی ہو۔ مریض اور اس کے عزیز و اقارب قانونی، سماجی، ثقافتی اور مذہبی رسوائی کے ڈر سے تمام واقعات کو صیغۂ راز میں رکھتے ہیں۔ اگر اسپتال جانا پڑ جائے تو وہاں ایکسیڈنٹ ظاہر کیا جاتا ہے۔

سندھ دماغی صحت ایکٹ 2013 ء

10 اپریل 2015 ء کو سندھ اسمبلی میں اتفاق رائے سے پاس ہونے والا قانون جس کے مطابق خودکشی کی کوشش کرنے والے یا بلاسفیمی کے ملزم کا سائیکاٹرسٹ سے معائنہ ہونا چاہیے اور اگر ان میں ذہنی مرض کی تشخیص ہو تو انہیں فوراً طبی امداد دی جائے گی اس وقت خطۂ پاکستان میں ذہنی صحت کا سب سے ترقی پسندانہ قانون ہے۔ کوئی ماہر قانون ہی بتا سکے گا وفاقی شرعی عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد اس ایکٹ کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔

خودکشی اور اقدام خودکشی کو جرم گرداننے کے بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بحرانی کیفیت سے دوچار مریض کو اسپتال لے جانے اور پیشہ ورانہ مدد کے حصول کے بجائے اس کے مرض کو چھپایا جائے گا۔ پولیس متاثرہ فرد یا خاندان سے رقمیں بٹورے گی۔ جیل جانے کی صورت میں ذہنی مرض مزید شدت اختیار کرے گا اور یہ مجرمانہ ریکارڈ مجروح شخص کے لئے مستقبل میں نارمل زندگی کی طرف لوٹنے کے تمام دروازے بند کرے گا۔ خودکشی اور اس کی کوشش کو انڈر رپورٹ کیا جائے گا اور معاشرہ اس عمل کو پہلے سے کہیں زیادہ کریہہ اور غلیظ انمٹ داغ سمجھے گا۔ تسلیم شدہ طبی معاملات میں بے جا دخل اندازی سے پیشۂ طب کی ساکھ، آزادی اور خودمختاری پر ضرب لگے گی۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Dr R Alam
Dr R Alam
4 hours ago

An excellent article Sir. Thank you so much for raising this issue, which is silently ruining so many young lives and their families.
Very enlightening and informative.

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW