بلاگ

کلٹ، اوشو اور روحانی رہزن

Aziz Ali Dad

آج کے دور میں انسان ہر قسم کے بیرونی اثرات کے یلغار کا شکار ہے۔ جب انسان دنیا کا سامنا نہیں کر سکتا ہے تو وہ اندرون خانہ ایک موضوعی ہجرت کرتا ہے تاکہ وہ بیرونی دنیا کی ہر لمحہ تبدیل ہوتے رویوں اور گوناگوں خیالات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکے۔ اس طرح کے رویے، ان روایتی معاشروں میں زیادہ پنپتے ہیں جہاں لوگ اچانک برق رفتار تبدیلی سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انیسویں اور بیسویں صدی میں سب سے زیادہ کلٹ امریکہ میں نمودار ہوئے۔ اچانک تبدیلی سماج کے بنیادی اداروں اور اقدار کو تہس نہس کر کے روحانی انتشار پیدا کرتی ہے۔ اسی روحانی درماندگی میں جدید انسان مسیحاؤں، جدید معجزات جو کہ لاٹری نکلنے یا پرائز بانڈ جیتنے کی صورت میں رونما ہوں، جنسیت، لایعنی بغاوت اور منشیات میں پناہ لے کر ڈھونڈتا ہے۔

معاشرتی اضطراب اور روحانی بیگانگی کا ماحول ایک مخصوص سماجی نفسیات کو جنم دیتا ہے، اس کے اظہار کے لئے معاشرہ ایک خاص نوع کی روحانی زبان جنم دیتی ہے، اور اسی کے ذریعے انسان دنیا کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر تشکیل دیتا ہے۔ اس کو عام عمرانی زبان میں کلٹ کہا جاسکتا ہے۔ کلٹ کی زندگی بظاہر گہرے روحانی واردات کی ایک قسم لگتی ہے، لیکن اس کے اثرات مذہب سے قدرے مختلف ہوتے ہیں۔ اگرچہ کلٹ مذہبی اور فلسفیانہ زبان اختیار کرتا ہے، مگر وہ اسے صرف دنیا کے متعلق اپنا نقطۂ نظر بیان کرنے اور اس کے لیے جواز پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

عام طور پر یہ ایک پاپولسٹ روحانی تحریک کے طور پر نمودار ہوتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال گرو رجنیش المعروف اوشو کی ہے، جس کا روحانی انقلاب انڈیا میں برپا ہوا مگر اس کی روحانی لہریں سات سمندر پار امریکہ جا پہنچیں، جہاں اوشو نے ایک مکمل روحانی ریاست قائم کی اور دنیا کے کروڑوں انسانوں کی سوچ کو متاثر کیا۔ پاکستان اور بھارت میں تو آج کل ایسے روحانی استادوں، مرشدوں، منٹورز اور گروؤں کی بھرمار ہے۔ ان گروؤں کے عقیدت مندوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ یقین نہ آئے تو انڈیا کے ست گرو اور دیگر ٹائپ کے لوگوں کو دیکھئے۔ ان کے معتقدین میں بڑے پڑھے لکھے اور جہاندیدہ لوگ بھی شامل ہیں۔

کلٹ کے نظریات پر یقین رکھنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ روایتی مذہب سے ہٹ کر سوچتے اور عمل کرتے ہیں۔ اسی لئے کلٹ کے پیروکار عموماً دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ بغیر مذہب کے، روحانیت پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کو یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ وہ ایک نئے عقیدے کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ اس عقیدے کے دوام کے لئے وہ خاص رسومات کے ذریعے بظاہر ایک ایسی مذہبی عمارت کھڑی کر دیتے ہیں، جس کی طرف ایک بار تو ہر شخص لپکتا ہے۔ یہاں پر مذہب اور کلٹ میں تفریق کرنا لازمی ہے۔ مذہب ایک خاص زمان و مکان میں ابھرتا ہے مگر اس کا بیانیہ اس تناظر سے اپنے آپ کو آزاد کروا لیتا ہے، یوں وہ آفاقی اور لازمانی ہوجاتا ہے۔ جب کہ اس کے برخلاف کلٹ ایک خاص تناظر میں تو پیدا ہوجاتا ہے مگر اپنے تناظر کے پیدائشی نال کو کاٹ کر خود کو الگ نہیں کر پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خاص زمان پر محیط ہوتا ہے اور جب ایک سماج تغیر سے گزرتا ہے تو پورا تناظر تبدیل ہوجاتا ہے، اور تناظر کی اس تبدیلی کے ساتھ ہی کلٹ کا وجود غایت بھی ختم ہوجاتا ہے اور وہ اپنی موت مر جاتا ہے۔

کلٹ کے نظریاتی عمارت کے ستون میں جو بنیادی خیال کارفرما ہوتا ہے، وہ یہ کہتا ہے کہ ہمیں بیرونی خیالات نے ذہنی اور روحانی طور پر بیمار کیا ہوا ہے۔ اس بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لئے لازم ہے کہ ہم اپنے ذہن کو تمام خیالات، رشتوں ناتوں اور تقاضوں سے پاک کر لیں تاکہ اس خالصیت کو حاصل کرنے کے بعد انسانی روح کے اندر روحانی روشنی داخل ہو سکے۔ اور روح کے اندر اس روشنی کو گرو یا مرشد اپنے خیالات کے ذریعے داخل کرتا ہے۔ اس مقام کے بعد انسان دنیاوی احتیاجات، خیالات، ضروریات، مروجہ اقدار، جنس، دولت و دھن اور سماج کے دیگر معاملوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ یہ ایک ایسا مقام ہوتا ہے جہاں سماجی رتبہ، علم، پیسہ، اخلاقیات، رشتہ، مذہب، ثقافت، حتٰی کہ ملک تک تحلیل ہو کر ایک نئی روحانی کمیونٹی کی تشکیل کرتے ہیں۔ یوں اس روحانی کیفیت سے گزرے لوگ گمشدہ روحانی بہشت کی نشاط کو بحال کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

اوشو نے انیس سو اسی کی دہائی میں امریکہ کی ریاست اوریگن کے قصبے اینٹیلوپ میں رجنیش پورم کے نام سے اپنے پیروکاروں پر مشتمل ایک کمیون بنائی تھی جو چونسٹھ ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ اوشو بظاہر دولت کے خلاف تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ حقیقی امیری اندر کی، یعنی باطنی امیری ہے جس کے دروازے مراقبت کے کھل جا سم سم سے کھلتے ہیں۔ ظاہری دولت اس اصلی دولت کی جعلی متبادل ہے کیونکہ یہ ہمیں اس مغالطے میں رکھتی ہے کہ ہم امیر ہیں۔ مگر اندرونی طور پر ہم بہت ہی غریب واقع ہوتے ہیں۔ اس روحانی دولت کو حاصل کرنے کے لئے اوشو نے ایک جامع روحانی نظام تشکیل دیا، جو اس قدر دلفریب تھا کہ امریکہ اور یورپ میں اس روحانی دولت کے حصول کے لئے لاکھوں لوگوں نے اپنی جائیدادیں فروخت کیں، اچھی نوکریوں کو خیرباد کہہ دیا، اور قریبی رشتوں سے انکاری ہو گئے۔ اوشو کی اس مملکت میں، جو اس کا آشرم بھی کہلاتا تھا لوگ ایک ساتھ، ایک ہی خاندان کی طرح رہتے تھے۔ وہاں پر جنسیت پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ اس وجہ سے اوشو کو سیکس گرو کا لقب بھی ملا۔

جب دنیا میں اوشو کا روحانی انقلاب برپا ہو رہا تھا تو معروف فلسفی اور نفسیات دان ایرک فرام نے اعلان کیا کہ گرو رجنیش عرف اوشو بازاری روحانیت کا پرچارک ہے۔ اس کی روحانی آزادی اصل میں جدید روحانی بے اطمینانی کا استحصال کرتی ہے اور یہ روحانی وفور جلد ختم ہو جائے گا۔ اور ہوا بھی یوں! اوشو کی اپنی زندگی سادگی اور فقیری کا کوئی۔ عمل دخل نہیں تھا۔ وہ لیموزین کاروں کے قافلے میں سفر کرتا اور اس کے اوپر ہیلی کاپٹر پرواز کرتا تھا۔ لاکھوں لوگوں کی جائیدادیں بکوانے کے بعد اس نے خود اربوں کی ایمپائر بنالی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کے آشیانے میں جنسی استحصال اور مالی بدعنوانیوں کی کہانیاں منظر عام پر آنے لگیں۔ بالآخر ان الزامات کی بنیاد پر انھیں امریکہ سے جلاوطن کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی وہی روحانی بہشت لوگوں کی روحانی تباہی کا منظر پیش کرنے لگی اور بلا روک ٹوک جنسیت کا تصور ایڈز کی آمد سے ڈھے گیا۔

اوشو اپنی ذہانت، مکاری اور چرب زبانی سے لاکھوں لوگوں کا روحانی استحصال کرنے میں کامیاب ہوا۔ اس کی نظریات کے اثرات ساری دنیا پر پڑے۔ پاکستان میں اب بھی ان کی کتابیں اور تراجم شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ انھیں عموماً فلسفی سمجھا جاتا ہے۔ میں بھی زمانہ طالب علمی میں ان کے خیالات سے واقف تھا، مگر بے انتہا متاثر نہیں ہوا کیونکہ ان کے خیالات میرے موضوعی اور معروضی خیالات سے میل نہیں کھاتے تھے۔ تاہم میں ان کو فلسفی گردانتا تھا۔ ان کے اصل مقام کے متعلق مجھے آگاہی، میرے لندن میں فلسفے کے مضمون کی پڑھائی کے دوران ہوئی۔

لندن میں فلسفے کے کورس میں ان کا نام اور کتابوں کو غائب دیکھ کر مجھے سخت حیرت ہوئی۔ میں نے اپنے فلسفے کے استاد سے پوچھا کہ گرو رجنیش اوشو اس کورس میں کیوں شامل نہیں ہے؟ انھوں نے ترنت جواب دیا ”کیونکہ وہ فلسفی نہیں ہیں۔ ہاں ان کو پڑھایا جاتا ہے لیکن عمرانیات میں کلٹ کے مطالعے میں ریفرنس کے طور پر !“ میں نے پھر کلٹ کی تعریف پوچھی تو گویا ہوئے ”آپ سماجی علوم کا فلسفہ پڑھ رہے ہیں۔ مطالعہ کریں تو سمجھ پائیں گے۔ ابھی جواب دوں گا تو آپ پڑھیں گے نہیں۔“ اس کے بعد میں نے کلٹ کا تفصیلی مطالعہ کیا تاہم سماجی تناظر میں اس کی تفہیم حاصل نہیں کر سکا۔ جب دو ہزار پانچ میں، میں لندن سے فلسفے کی ڈگری لے کر پاکستان آیا، تب مجھے ایک ناخوشگوار واقعے کو قریب سے مشاہدہ اور تجزیہ کرنے کا موقع ملا۔

میری لندن سے واپسی کے کچھ ہی مہینے بعد ہی گلگت شہر کے ایک مضافاتی گاؤں میں ایک دل دہلانے والا واقعہ پیش آیا۔ ایک خاص لوگوں کے گروپ نے، جو روحانی ذکر و فکر میں مصروف رہتے تھے، تین دن کے مراقبے اور ذکر کے بعد تین خواتین کی آنکھیں نکال لیں اور ان کے سینے چیر کر دل نکال کر انہیں مار دیا۔ محلے والوں کو اس واقعے کے رونما ہونے کے ایک دن بعد پتہ چلا تو پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس گھر پہنچی تو سوائے ایک کے باقی سب لوگوں نے اس جرم کا اعتراف کر لیا۔ اور پوچھنے پر قتل کا جواز دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان کی آنکھوں کو باطنی آنکھ سے دیکھ رہے تھے۔ اس لئے ہمیں ان کی آنکھوں میں شیطان دیکھنے کے قابل ہوئے۔ ان کا دعوی تھا کہ انہوں نے آنکھ نہیں شیطان کو وہاں سے نکالا ہے۔ یہ روحانی لوگ آپس میں رشتہ دار تھے اور قتل ہونے والوں میں دو افراد کی خالہ، ماں اور کزن شامل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں بعض کو کالے جادو پر بھی عبور حاصل تھا اور بعض کو گروہ کے اندر بھی ایک خاص مقام حاصل تھا کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ وہ روحانی طور پر دوسرے لوگوں کی نسبت اعلٰی روحانی درجے پر مسند نشین تھے۔ ان میں بعض لوگ پاک او پاکیزگی کے تصور جنون کی حد تک دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کے گھر میں خاص جگہوں میں بیوی بچوں کو بیٹھنا منع تھا کیونکہ وہ جگہ روحانی ریاضت کے لئے مختص تھی۔ اور غیر روحانی لوگوں کی ایسی جگہ پر موجودگی اس روحانی تقدس کو ناپاک کرتی ہے۔ یہ سراسر ایک نفسیاتی کیس تھا مگر پولیس کے پاس نفسیاتی انوسٹی گیشن کا عملہ اور تربیت موجود نہیں تھی۔ لہٰذا پہلو پر کچھ پیشرفت نہ ہو سکی۔ البتہ مجرموں کو سزائیں دی گئی۔

ان کی گرفتاری کے چند ہفتوں بعد میری اور دیگر کچھ صحافیوں کی ان روحانی قاتلوں کے ساتھ ملاقات اور بات چیت ہوئی۔ ان کی کہانی پاکستان کے مؤقر جریدے ہیرالڈ میں بھی چھپی تھی۔ خیر بات چیت کے دوران وہ لوگ اسلامک تھیولوجی، مابعدالطبیعات اور صوفی ازم کے ایسے الفاظ استعمال کر رہے تھے جن کی سمجھ کسی عام یا پڑھے لکھے بندے تک کو بھی نہیں ہو سکتی تھی۔ مزید یہ کہ ان الفاظ کے معنی لغت کے معنی سے یکسر مختلف تھے۔ انھوں نے ان الفاظ کے لئے اپنے معانی تراشے تھے۔ یہ لوگ ایک بہت بڑے گروپ کا حصہ تھے۔ ان کی گفتگو اور ان کے الفاظ سے اندازہ ہوا کہ انھوں نے ان عجیب و غریب الفاظ اور ان کے خود ساختہ اخذ شدہ معانی کے ذریعے تخلیق ِکائنات، حیات اور ممات کے متعلق اپنا ایک پورا نظریہ تشکیل دے دیا ہے۔ ان کے الفاظ اس گروپ سے باہر کے لوگوں کی سمجھ سے بالاتر تھے اور یہی بات شاید لوگوں کو ان کی طرف مائل کیے جاتی تھی۔ تب مجھے سماجی تناظر میں کلٹ کی سمجھ آ گئی۔ مختصر الفاظ میں کلٹ وہ گروہ ہوتا ہے جس کی زبان اور دنیا اس گروہ سے باہر کے لوگوں کے لئے ناقابل فہم ہوتے ہیں۔

اگر بیسویں صدی میں اوشو کی روحانی تحریک مارکیٹ کی روحانیت تھی تو اکیسویں صدی کے مسٹیکل یا روحانی رجحانات کو کیا سمجھیں؟ دونوں کے پیچھے جو حرکیات عمل پیرا ہیں وہ برق رفتار تبدیلی ہے۔ آج کے مقابلے میں بیسویں صدی کی تبدیلی کی رفتار کچھوے کی معلوم ہوتی ہے۔ آج مقامی، ملکی اور عالمی حدیں مدہم ہو کر ایک دوسرے میں ضم ہو گئی ہیں۔ پہلے تبدیلی آنے میں کئی دہائیاں لگتی تھی، آج چند دن لگتے ہیں۔ اور یقیناً اس کے نفسیاتی مضمرات ہیں۔ جوں جوں ہم عالمی تبدیلی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں توں توں روحانی بے چینی، کلٹ، رجحانات اور دیگر تریاق بڑھتے جا رہے ہیں۔ انڈیا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ عالمگیریت کی سرایت کے ساتھ ہی وہاں ہندوتوا کے عروج ہوا اور ست گروؤں اور گروؤں کی ایک نئی کھیپ پیدا ہوئی ہے۔ وہاں یوگا بھی ایسے گروؤں کے ہاتھ آیا ہے جو اس سے اربوں پیسہ بٹورنے کے لئے موتر اور پیشاب سے لاتعداد پروڈکٹ بنائے جا رہے ہیں۔

مودی نے تو یوگا کو باقاعدہ طور پر اپنے ہندوتوا نظریے کی ترویج کے لئے ریاستی پالیسی کا اہم جز بنا دیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ آپ پیروں، عاملوں، نجومیوں اور روایتی مذاہب کے ماننے والوں کو چھوڑیں، یہاں تو اچھے پڑھے لکھے اور امیر لوگ بھی مابعد الجدیدیت کے دور کے روحانی ٹوٹکوں اور تریاق کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں۔ یوگا کے ساتھ بغیر مذہب کی روحانیت اعلٰی طبقے اور اپر مڈل کلاس کا فیشن یا لائف سٹائل بن گیا ہے۔ اب یوگا اور مراقبہ عبادات کی طرح گھروں میں باقاعدگی سے کیا جاتا ہے۔ اس کے لئے مخصوص جگہوں اور یوگا میٹس بنے ہوئے ہیں۔ اور ہر ویک اینڈ پہ اجتماعی سیشنز ہوتے ہیں۔ اگر پیسے ہونے کے باوجود آپ یہ سب نہیں کرتے ہیں تو آپ صحیح معنوں میں تہذیب یافتہ اور اس کلاس کے ذوق سے نابلد ہیں۔ اب تو کارپوریٹ سیکٹر یوگا ریٹریٹ کرواتا ہے تاکہ لوگ اپنے آپ کو پا سکیں۔ امیر کی کمزوری میں بھی بہت بڑا پیسہ ہے روحانیت کی تلاش میں اب انھوں نے گلگت بلتستان کا رخ کر لیا ہے جہاں پر ان کے لئے مخصوص جگہیں مختص کر دی گئی ہیں۔ ان جگہوں پر مقامی لوگوں اور اجنبیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ یہاں پاکستان کا پڑھا لکھا اور لبرل طبقہ گرمیوں کے موسم میں روحانیت کی روشنی پانے کے لئے لاکھوں روپے خرچتا ہے۔ ایک یہ مقامی ہیں جنہیں روحانیت تو چھوڑیں، دن کو بائیس گھنٹے بجلی نصیب نہیں مگر پاکستان کی اشرافیہ اور لبرلز یہاں سے نہ صرف گیان حاصل کر کے چلے جاتے ہیں بلکہ غالباً خود کو پا بھی لیتے ہیں۔

مندرجہ بالا بیان کردہ رجحانات اس خوف زدہ سماجی ذہنیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں فرد یا افراد اپنی وجودی حالت کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کی بجائے اپنے وجود سے ہی فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے کمزور اور اپنے وجود سے انکاری سماج آسانی سے روحانی عطائیوں اور عطائی مرشدوں اور گروؤں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ اوشو سے لے کر موجودہ دور کی روحانی تحریکیں اور ٹوٹکے ہمیں اپنی وجودی حقیقت سے فرار ہونے کے لئے چور دروازے مہیا کرتے ہیں۔ یہ دروازے جو باہر سے ہمارے اندر کی طرف کھولے جا رہے ہیں، وہ بظاہر آزادی کے در نظر آتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ آپ اپنے آپ سے فرار ہو کر ، باہر کہاں جائیں گے؟ آپ بظاہر تو آزاد ہو رہے ہیں مگر حقیقت میں ایک ایسے قید خانے میں مقید ہوتے ہیں، جس کی اصلیت کی آگاہی آپ کو اس وقت حاصل ہوگی جب آپ اپنی سزا اور عمر کاٹ چکے ہوں گے۔ سو حقیقت یہ ہے کہ اصل آزادی وہ در عطا کرتی ہے جو آپ کے اندر سے باہر کی طرف کھلتے ہیں۔ انفرادی نفسیات کے بانی نفسیات دان الفریڈ ایڈلر اپنے اندر قوت پیدا کرنے کے لئے اندر سے باہر کی طرف سفر کرنے کی بات کرتا ہے۔

ہماری وجودی حالت، معموں اور کرب و ابتلا کا علاج ان سے فرار میں نہیں بلکہ حقیقت کا سامنا کرنے میں ہے۔ اس سلسلے میں الفریڈ ایڈلر کی نفسیات بہتر رہنمائی کرتی ہے۔ فرائیڈ کے برعکس ایڈلر نفسیاتی بیماری کا علاج ذمہ داری اٹھانے سے آتی ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم حال کی حقیقت سے رابطہ قائم اور مقصد تلاش کریں۔ حقیقت ایک بے رحم حسینہ ضرور ہے، مگر اس سے فرار کے نتیجے میں ہم خوف ناک بھوتوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ یہ بھوت ہماری حقیقت سے آنکھیں چرانے کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ جو بالآخر ہماری آنکھیں، ذہن اور روح اپنے پاس گروی رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ حقیقت کی ظالم حسینہ انسان کو ایسے بھوتوں اور بلاؤں سے بچاتی ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جو چیز اس پاس موجود ہوتی ہے وہ بری لگتی ہے مگر جو دسترس نہیں ہے اس کے لئے ہم تڑپتے ہیں۔ لیکن یقین کریں کہ حقیقت سے فرار کا راستہ اختیار کرنے میں جس موہوم چیز کو ہم دلکش تصور کرتے ہیں، وہی دراصل حقیقت کے ختم ہوتے ہی اپنی رعنائی اور دلکشی کھو دیتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حال کے ان رہزنوں اور بے حال مستقبل کے بیوپاریوں سے کیسے بچا جائے؟ اس کا سادہ سا حل یہ ہے کہ لمحۂ موجود میں آپ کے وجود کے ساتھ جو چیزیں وابستہ ہیں، ان کو سمجھیں۔ اگر ہمارے خواب، خوف، بلائیں، اور جعلی نجات دہندہ حال کے خوف سے پھوٹتے ہیں تو ہماری خوشیاں، راہ نجات، حل اور امیدیں بھی ہماری موجودہ وجودی حالت سے پیدا ہوتے ہیں۔ جو کوئی بھی آپ کے وجود کے حقیقی عناصر کو چھین کر ایک نظر نہ آنے والی دلکشی اور لاحاصل وجودی سرخوشی کا چورن بیچتے ہیں وہ دراصل آپ سے آپ کا حال بھی چھین والے رہزن ہیں اور اس کے عوض سوائے لاحاصلی اور محرومیوں کے، کچھ نہیں دیتے۔ ایسے لوگوں کی کیفیت اوشو کے تباہ کردہ ان روحوں کی مانند ہوتی ہے، جو اپنے گرو کے تعمیر کردہ بلند منزلہ عمارت کے ڈھے جانے سے اس کے ملبے تلے کچل گئی تھیں۔ جدید روحانی عطائیوں اور گائیڈز کا طریقہ واردات ہی یہ ہے کہ پہلے یہ آپ کو اپنے آپ سے خالی کر دیتے ہیں اور پھر اس خالی شخصیت میں اپنی روحانیت کا منجن بیچتے ہیں، جس کی سب سے پہلی شرط سب کچھ بھول جانے کا ہے۔ اس بھولنے کی روحانی مشق کے کیا نتائج ہوتے ہیں، ان کو ایک ذاتی تجربے سے سمجھاتے ہیں۔

کچھ سال پہلے مجھے ایک ریسرچ کے سلسلے میں ہنزہ کے سب سے دور افتادہ گاؤں شمشال جانا پڑا۔ شمشال کا راستہ اب بھی نہ صرف دشوار گزار اور خطرناک ہے، بلکہ راستے میں کسی انسانی آبادی اور ہوٹل کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ اس لئے میں نے اپنے ساتھ تھرماس میں گرم چائے رکھ لی تھی۔ راستے میں مشہور گلیشیئر خوردوپن آتا ہے جس کے عین سامنے، چشمے کا پانی، اس کے اطراف موجود سبزہ اور درخت پر مشتمل ایک خوبصورت جگہ ہے۔ اسی جگہ پر ایک پرانی عمارت بھی ہے۔ اس مقام سے گلیشیئر کا دلکش نظارہ بھی ہوتا ہے۔ اسی لئے میں نے اس مقام پر گاڑی روک کر چائے پینے کا فیصلہ کیا۔

جس پرانی عمارت کا میں نے ذکر کیا، وہ سڑک سے تھوڑی اوپر کی جانب واقع تھی اور وہاں کچھ لوگ نظر آرہے تھے۔ میں چائے پی رہا تھا اور اس دوران تین بندے نیچے اتر آئے۔ دعا سلام کے بعد میں نے پوچھا کہ وہ لوگ اس ویرانے میں کیا کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ چار روزہ یوگا اور مراقبہ ریٹریٹ پر ہیں۔ وہ لوگ کارپوریٹ اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ تھے۔ جب ان کو پتہ چلا کہ میرا تعلق ریسرچ کے شعبے سے ہے، تو پھر میرے ریسرچ اور اس علاقے کے متعلق بات چیت کرنے لگے۔ میں نے یوگا کے متعلق پوچھا تو بات چیت روحانیت اور میڈیٹیشن سے نکل کر فلسفہ تک چلی گئی۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ میں خود فلسفے کا طالب علم ہوں۔ تو وہ فوراً اوشو رجنیش کا ذکر کر بیٹھے۔ میں نے رجنیش کے بارے میں اپنے اختلاف کا اظہار کیا اور فلسفے کے متعلق بات چیت کی۔ اس دوران ان کے ایک ساتھی نے بتایا کہ میرا ذہن بہت زیادہ خیالات سے بھرا ہوا ہے جو میری شخصیت پر نفسیاتی بوجھ بن رہے ہیں۔ میرا موقف یہ تھا کہ ہماری شخصیت وہ ہے جو ہمارے خیالات ہیں۔ اگر ہم اپنی شخصیت سے خیالات اٹھا لیں تو باقی کیا رہتا ہے۔ ہم اپنے خوابوں، خیالوں، کامیابیوں، ناکامیوں، محرومیوں، احساسات اور افکار و جذبات کا مجموعہ ہی تو ہیں۔ مختصراؑ ہم وہ ہیں جو ہمارے خیالات ہیں۔ خیر انھوں نے میرے نظریے سے اختلاف کیا کہ اصل شخصیت ان سب خیالات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد ابھرتی ہے۔ اور اس گمشدہ ذات کو یوگا تھیراپی اور میڈیٹیشن کے ذریعے ہی پایا جاسکتا ہے۔ ان میں سے ایک شخص جو یوگا اینڈ میڈیٹیشن انسٹرکٹر تھا، مجھ سے کہنے لگا کہ مجھے یوگا اور میڈیٹیشن تھیراپی کی ضرورت ہے۔ میں نے استغفار کیا کہ وہ کیسے ہو گا؟ اس نے کہا کہ وہ اسی جگہ میری مشق کروا سکتا ہے۔ چونکہ میرے پاس وقت کافی تھا اس لئے میں نے حامی بھر لی۔

پھر اس انسٹرکٹر نے، میں جس پتھر پر بیٹھا تھا، اسی پر اپنے پاؤں سمیٹ کر ہاتھ اوپر اٹھا کر مجھ سے یوگا پوز بنانے کو کہا۔ اس دوران اس کے ساتھیوں نے بھی وہی پوز اختیار کیا۔ پھر انسٹرکٹر نے ہم سب کو تاکید کی کہ وہ جو کہے، ہمیں بالکل اسی طرح عمل کرنا ہے۔ اس نے پہلے آنکھیں بند کرنے کو کہا اور تاکید کی کہ جب تک وہ حکم نہ دے، کسی کو بھی آنکھ کھولنے کی اجازت نہیں۔ پھر حکم دیا کہ ہم اپنی نوکری اور کام کو بھول جائیں۔ اس کے بعد کہا کہ بھول جاؤ کہ تم نے کوئی تعلیم حاصل کی ہے۔ پھر صدا آئی کہ بھول جاؤ کہ تم کسی کے بیٹے، بھائی، باپ، شوہر، پوتے وغیرہ ہو۔ پھر حکم آیا کہ ہم اپنے ذہن سے اپنی جائیداد اور پیسوں کا خیال نکال دیں۔ ساتھ ہی دوسرے سماجی اور فکری خیالات کو بھی نکال باہر کرنے کی تاکید کی گئی۔ اس کے بعد کوئی تیس منٹ تک سانسوں کی مختلف مشقیں کروائی گئیں۔ پھر دس منٹ تک مکمل خاموشی اختیار کر کے اپنے اندر جھانکنے کو کہا گیا۔ اس عمل کے بعد حکم ہوا کہ ہم تصور کریں کہ ہم ایک کھلی جگہ پر ہیں جہاں کوئی انسانی آبادی اور تعمیرات نہیں، بلکہ ہم فطرت کے خوبصورت نظاروں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ پھر آواز آئی کہ ٹھنڈی ہوا کے ہلکے جھونکے ہم سے ٹکرا رہے ہیں اور ہم ہوا کی مدھر آواز اور پرندوں کی چہچہاہٹ سن رہے ہیں اور پھولوں کی خوشبو کو محسوس کر رہے ہیں۔ پھر ہمیں کہا گیا کہ ہم ایک سبزہ زار میں بیٹھے یہ تجربہ کر رہے ہیں۔ اور مزید اسی حالت میں دس منٹ رہنے کو کہا گیا۔ پھر انسٹرکٹر نہایت احتیاط کے ساتھ ہمارے کان میں یوں سرگوشی کرنے لگا جیسے ہم نیند میں ہیں۔ بہرحال ہمیں جواب اونچی آواز میں دینا تھا تاکہ جس روحانی تجربے سے ہم انفرادی طور پر گزر رہے تھے، اس میں سب شریک ہوں۔ غالباً اس طرح سے روحانی حلقہ تشکیل پاتا ہے۔

خیر پھر میرے کان کے قریب آ کر پوچھا کہ اپنے تمام خیالات اور دنیا کو بھلا کر اس سرسبز جگہ پر بیٹھ کر قدرتی حسن کے نظارے کر کے میں کیا محسوس کر رہا ہوں؟ تو میں نے بغیر کسی توقف کے جواب دیا کہ میں اپنے آپ کو ایک گائے کی طرح سمجھ رہا ہوں اور سبز گھاس مجھے لبھا رہی ہے۔ یہ بات سن کر میرے ساتھ بیٹھے روحانی ساتھیوں کی ہنسی چھوٹ گئی اور انہوں نے اپنی آنکھیں کھولیں۔ یوں اس چٹکلے پر اس یوگا اور مراقبہ کا اختتام ہوا۔ میرے روحانی ساتھیوں کو میری بات نے ضرور محظوظ کیا تھا، تاہم یوگا انسٹرکٹر کو محسوس ہوا کہ مجھ میں دنیا بہت زیادہ سرایت کر گئی ہے اس لئے میں نے روحانی تجربات کو محسوس کرنے کی صلاحیت کھو دی ہے۔ اس پوری سرگرمی کے دوران مجھے انسٹرکٹر کی جو بات اچھی لگی، وہ یہ تھی کہ میرے غیر سنجیدہ جواب پر غصہ آنے کے باوجود اس نے نہ صرف اسے ظاہر ہونے نہ دیا بلکہ اپنا مدعا بھی اچھے انداز میں بیان کیا۔ تاہم میرا جواب ہرگز غیر سنجیدہ نہیں تھا۔ میرا طریقہ یہی ہے کہ جب کوئی دقیق معاملے کو آسانی سے سمجھانا ہو تو میں اسے لطیفے یا مزاحیہ پیرائے کی صورت میں پیش کرتا ہوں۔

یہاں بھی اپنے آپ کو گائے سمجھنے سے میری مراد یہ تھی کہ میں اپنے اور اپنے اردگرد موجود خیالات رویوں، اپنے وجودی کیفیات اور لوگوں سے کٹ کر اپنی شخصیت کی تعمیر خلاء میں نہیں کر سکتا۔ اور اگر ہم سب ان خیالات و افکار سے چھٹکارا حاصل کر لیں تو کسی جانور جیسا کہ گائے کے قریب ہونے کے زیادہ امکانات ہیں بہ نسبت کسی اعلٰی درجے کی مخلوق بننے کے! سو بالکل اسی طرح یہ جو آج کی مارکیٹی روحانیت ہے، یہ بھی انسان سے اس کی ذات اور شناخت چھین کر اسے جانور بنا کر کسی روحانی ریوڑ کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے سادھوؤں کے پاس کروڑوں کے روحانی ریوڑ ہیں اور ان کو گائے کا گوبر اور موتر پلا کر روحانی گیان حاصل کروایا جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں پیروں اور عاملوں کی فوج ہے جن کے پاس کروڑوں نہیں تو لاکھوں کی تعداد میں یہ روحانی ریوڑ موجود ہیں۔ اور اگر آپ نے اپنی بالخصوص اپنی شخصیت اور بالعموم انسانیت بچانی ہے تو اپنے ذہن کو توانا کریں تاکہ وہ نئی چیزوں اور تبدیلیوں کی تفہیم حاصل کر کے اس تبدیلی پر قادر ہو سکے۔ ورنہ مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب سستی روحانیت کے ریوڑ کا حصہ بن کر ، اپنا دماغ خالی کر کے آپ اشرف المخلوقات تو نہیں مگر حیوانات میں ضرور شامل ہوجائیں گے۔

مصنف افکار کے تاریخ کے قاری اور فلسفے کی کتاب ”نومیڈک میڈیٹیشن“ کے مصنف ہیں۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW