میرے مطابق

شاپ: گلگت میں لوک ڈرامے کی ابتدا اور ارتقا

Aziz Ali Dad

از: عزیز علی داد
مترجم: اشفاق احمد ایڈووکیٹ

گلگت بلتستان کی ثقافت انسان اور ماحول کے درمیان گہرے تعلق و تعامل کا نتیجہ ہے۔ صدیوں سے پہاڑی ماحول میں رہتے ہوئے اس خطے کے باشندوں نے مختلف زبانوں، ثقافتی روایات اور مذاہب کی تشکیل کی۔ یہ سب عناصر مل کر گلگت بلتستان کی سرزمین کو یہاں کی ثقافت کا مسکن بناتے ہیں۔ اس خطے کی زبانوں اور ادب کی ایک منفرد خصوصیت ان کی زبانی روایات اور علاقائی رسومات ہیں۔ یہ رسومات اور روایات ماضی کے لوک تصور کا‎‏ئنات اور کونیات کی جھلک پیش کرتی ہیں اور آج کے جدید دور میں بھی لوگوں کی اجتماعی یاداشت پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ گلگت بلتستان کی ایسی ہی ایک قدیم ثقافتی رسم ”شاپ“ ہے۔

اگرچہ شاپ کی ابتدا اور اس کے معنی کے بارے میں کوئی واضح تاریخی ریکارڈ موجود نہیں۔ مگر مقامی زبانوں، ریت، ادب، لوک نفسیات اور ثقافتی علامات کا مطالعہ اس کی ابتدا اور ارتقا کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ شینا زبان میں دعا کو ”شی شاپ“ اور بد دعا کو ”کھچی شاپ“ کہا جاتا ہے۔ شاپ کا لفظ گلگت بلتستان کی کونیاتی سوچ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بدھ مت اور اسلام کی آمد سے قبل اس خطے میں روحیت اس سے وابستہ ‎‎‎شمنیزم کے عقائد غالب تھے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ روایات مکمل طور پر ختم ہو گئیں۔ بیرونی مذاہب کے غلبے کے باوجود روحیت پر مبنی روایات اور اس سے جڑے تصورات ثقافتی رسومات میں کسی نہ کسی صورت زندہ رہے۔ اگرچہ بدھ مت صدیوں تک اس خطے میں غالب رہا، مگر وہ زیادہ تر اشرافیہ کا مذہب تھا اور عام لوگوں میں پوری طرح سرایت نہ کر سکا۔ عام لوگ ارواح اور مختلف روحوں پر یقین رکھتے تھے۔ اسی لیے ہمیں گلگت بلتستان کی روزمرہ زندگی میں بون مذہب کے مضبوط اثرات نظر آتے ہیں۔ اسلام کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ جدید اسلام کے برعکس، تاریخی طور پر روایتی اسلام نے خود کو مقامی ثقافت کے مطابق ڈھال لیا اور ارواح پرستی کو مٹانے کے بجائے مقامی کونیاتی استعاروں کو اپنے اندر سمو لیا۔

جدید دور میں روحیت اور شمنیت سے وابستہ رسومات اور تصورات گلگت بلتستان کی عوامی ثقافت میں ٹکڑوں کی صورت میں باقی رہ گئے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ نئے مذاہب کی بالادست نظریاتی موجودگی کے باوجود ارواح پرستی سے متعلق عقائد عوامی سطح پر زندہ رہے۔ شاپ اسی روحیت کی پیداوار ہے۔ ‎شاپ ایک اور ثقافتی رسم نسالو کے فوراً بعد منائی جاتی ہے، جو ہر سال 13 سے 21 دسمبر کے درمیان ہوتی ہے۔ نسالو کے دوران لوگ جانور ذبح کرتے ہیں اور ان کا گوشت سخت سردیوں کے لیے محفوظ کرتے ہیں۔ شاپ کو نسالو سے جوڑنے کا عام تاثر درست نہیں، کیونکہ شاپ کی ابتدا دراصل دیوی مرکم کی عبادت سے ہوئی ہے۔

گلگت کی اساطیری کونیات میں مرکم پاکیزہ فطرت کی دیوی ہے۔ اسے جنگلی حیات، شکاریوں، چراگاہوں اور پھولوں کی محافظ سمجھا جاتا ہے۔ مقامی عقیدے کے مطابق مرکم دیوی درد زہ میں مبتلا خواتین اور شکاریوں پر مہربان ہوتی ہے۔ تاریخی طور پر گلگت کے مختلف علاقوں میں مرکم کے مندر قائم تھے، جن کے آثار حالیہ ماضی تک حراموش، ہنزہ ہنی، پونیال، بگروٹ اور گور کی وادیوں میں دیکھے جا سکتے تھے۔

قدیم زمانے میں لوگ ہر سال مرکم دیوی کے مندر میں جمع ہو کر جانوروں کی قربانی پیش کرتے تھے۔ یہ سالانہ تقریب خوراک، زندگی، خوشی اور زرخیزی کی دعاؤں سے شروع ہوتی تھی۔ مندر کی پروہت ایک عورت ہوتی تھی جو نذرانوں کو قبولیت بخشتی تھی۔ قربانی کے بعد دعوت کے ساتھ ایک عظیم الشان جشن منایا جاتا تھا، جس میں لوگ قربانی کا گوشت کھاتے، شراب پیتے اور ساری رات رقص کرتے تھے۔ مرکم دیوی کی پروہت بننے کے لیے عورت کا کنواری ہونا اور کچھ مخصوص پابندیوں پر عمل کرنا لازم تھا۔ ایسی عورت کو سیلی کہا جاتا تھا، جس کے معنی مقدس اور باکرہ ہونے کے ہیں۔ ہر مندر میں پجاری کے لیے ایک مخصوص چبوترہ ہوتا تھا جسے سیلی تلی کہا جاتا تھا۔

قدیم دور میں شاپ کی تقریبات میں صرف کنوارے اور باکرہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہی شریک ہو سکتے تھے۔ یہ نوجوانوں کے لیے بلوغت کے اعلان اور پاکدامنی کے جشن کا ایک موقع ہوتا تھا۔ آج بھی نابالغ بچے اور شادی شدہ جوڑے شاپ میں حصہ نہیں لیتے ہیں۔ ماضی قریب تک گلگت کے بعض علاقوں میں نوجوان لڑکیوں کا سالانہ اجتماع ہوتا تھا جس کو شینا زبان میں ”ملایوچ بیوک“ اور بروششکی میں ”شوکرو ہُروتس“ کہا جاتا ہے۔ یہ رسم مرکم دیوی کے مندر کی تقریبات کی باقیات ہیں۔

مرکم کے مندر کی تقریبات میں لوگ مختلف اساطیری اور مافوق الفطرت مخلوقات کے ماسک پہنتے تھے، جن میں لومڑی، شمن، بلی، چڑیل، جھردھنگائیلو، یودینی، گاش مگاشی، ملالیلی، ہرگن، یچولو، یامالے، میٹو اور مکھاکر آجی (دادی) شامل تھے۔

شینا زبان میں ماسک کو ٹوکورو کہا جاتا ہے۔ یہ ماسک محافظ دیوی یا روح کی نمائندگی کرتے تھے جو پہننے والے کی حفاظت اور اس پر اثر ڈالتی تھی۔ گلگت بلتستان میں آج بھی مقامی شکاری جنگلی بکرے کے شکار کے لیے لومڑی کا ماسک (لوئی) پہنتے ہیں۔ ماسک پہننے کا عمل نفسیاتی اور کائناتی دونوں پہلو رکھتا ہے۔ ماسک پہننے والا خود کو دیویوں اور مافوق الفطرت قوتوں کی صفات سے ہم آہنگ محسوس کرتا یا کرتی ہے۔ کائناتی نقطۂ نظر سے یہ ماسک اور رسومات مقامی ثقافت اور ماحول کے گہرے تعلق کو ظاہر کرتے ہیں اور سماجی نظم و ضبط کے قیام کا ذریعہ بنتے ہیں۔

مرکم کے مندر کی سالانہ تقریبات لوگوں کو اپنے محافظ دیوی دیوتاؤں کی صورت اختیار کرنے کا موقع فراہم کرتی تھیں۔ جشن کا ماحول سرشاری اور وجدانی ہوتا تھا، جس میں لوگ اپنی روزمرہ شناخت اور سماجی پابندیاں بھول جاتے تھے۔ لباس اور سماجی آداب کی کوئی خاص پروا نہیں کی جاتی تھی۔ یہ محبت کے کھلے اظہار اور جیون ساتھی کے انتخاب کا موقع ہوتا تھا۔ اس روایت کی جھلک آج بھی چترال کے کیلاش قبیلے کے چلم جوشٹ تہوار میں دیکھی جا سکتی ہے۔ علم بشریات کی رو سے مطالعہ کرنے پر اندازہ ہوتا ہے کہ شینا زبان میں بیاک کا لفظ ابتدا میں مندر کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ جرمن ریسرچر کارل جٹیمار ایک ایسے ہی جشن کا ذکر کرتا ہے جو گلگت سے متصل ایک وادی میں منعقد کیا گیا۔ وہ لکھتے ہیں، ”اس گھر کے سربراہ نے ایک بہت بڑی دعوت کا اپنے بیاک میں اہتمام کیا جہاں علاقے کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بیاک ناچنے اور جمع ہونے کی جگہ ہوتی ہے۔ شرکا میں مرد اور خواتین دونوں شامل تھے۔ یہ لوگ شراب پی کر کھل کر بغیر کسی قدغن کے ناچتے تھے۔ وہاں اتنے بکروں کو ذبح کیا گیا تھا کہ بیاک کا فرش ان کے خون اور لوگوں کی شراب سے بھر گیا تھا۔“

مرکم کی سالانہ تقریب گزشتہ سو برسوں میں ختم ہو چکی ہے، مگر اس کی ساخت اور روایات قراقرم کی وادیوں میں آج بھی بعض ثقافتی رسومات میں موجود ہیں۔ شاپ کے دوران محلے یا گاؤں کے نوجوان گھر گھر جا کر خوشحالی اور زرخیزی کی دعائیں گیت کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ ان دعاؤں میں پہاڑوں سے بہتی سنہری دولت لانے والی ندی کا تصور ملتا ہے، جسے گلگت دریا (سونی ساری) سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ان دعاؤں میں زرخیز عورت، مویشیوں اور اولاد کی کثرت اور گھرانے کی خوشحالی کی خواہش شامل ہوتی ہے۔ اس میں گھر کی عورت کی زرخیز کوکھ کے لیے جو دعا مانگی جاتی ہے، وہ دراصل مرکم دیوی سے التجا کا براہِ راست حوالہ ہے کیونکہ مقامی دیومالا کے مطابق مرکم عورت کی کوکھ میں بچے کا بیج بوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شاپ کے شرکا بھی دعا کرتے ہیں کہ گھر کے مویشی خانے، اور اصطبل مویشیوں، جانوروں اور گھوڑوں سے بھر جائیں۔ وہ گھر کے لڑکے اور لڑکی کے لیے دلہا اور دلہن بننے کی بھی دعا کرتے ہیں۔

دعائیں مکمل کرنے کے بعد ، شاپ میں کورس گانے والے خاندان کے سربراہ سے اجازت طلب کرتے ہیں تاکہ نقاب اوڑھے کردار اپنا ڈراما پیش کرسکیں۔ اجازت ملنے کے بعد تو وہ کردار جن کو شینا میں جری گہ جرو اور بروششکی میں جٹہر کہا جاتا ہے تاریخی واقعات یا مقبول لوک کہانیوں پر مبنی ڈرامائی مناظر پیش کرتے ہیں، اور بعض اوقات اپنی اداکاری کے ذریعے عشقیہ کہانی بھی سناتے ہیں۔ نقاب پوش اداکاروں میں ایک مسخرہ بھی شامل ہوتا ہے جو لطیفے سناتا ہے۔ شاپ کے شرکا فی البدیہہ گیت گاتے ہیں جن میں عاشق کی کیفیت، کسی لڑکی کا رشتہ مانگنے کی خواہش، جنگجو کے کارنامے اور نوجوان کے خواب جیسے موضوعات شامل ہوتے ہیں۔

روحیت یا اینیمیزم کے دور میں لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں مختلف رسومات ادا کرتے تھے تاکہ وہ اپنے اعمال کے لیے مافوق الفطرت ہستیوں اور دیوی دیوتاؤں کی منظوری حاصل کر سکیں۔ مثال کے طور پر، بلند ترین پہاڑ مرکم دیوی اور دیگر مقدس دیویوں کا مسکن سمجھے جاتے تھے۔ ان کی خوشنودی کے لیے لوگ اپنے دیہات میں پہاڑی چوٹیوں کی چھوٹی نقلیں تعمیر کرتے تھے۔ آج گلگت میں شاپ ارواح پرست کونیات کے سیاق و سباق کے بغیر، مرکم کے مندر کے تہوار کی ایک مختصر شکل ہے۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاپ دراصل دیہی ماحول میں مرکم دیوی کے جشن اور تہوار منانے کا ایک عمل ہے۔

قدیم زمانے میں گلگت کی مختلف وادیوں کے ہر گاؤں اور بستی میں شاپ منایا جاتا تھا۔ جب مقامی مختلف محلوں سے تحائف جمع ہو جاتے تو شاپ کے شرکا ایک مرکزی مقام پر اکٹھے ہو کر بڑا شاپ، جسے تھال شاپ کہا جاتا تھا، مناتے تھے۔

گلگت کے معروف ادیب اسرار الدین اسرار، ماہرِ بشریات اور لسانیات شکیل احمد شکیل کے حوالے سے قدیم گلگت شہر میں شاپ کی رسم کا ذکر کرتے ہیں۔ اسرار لکھتے ہیں ”قدیم گلگت شہر گیارہ دیہات پر مشتمل تھا جنہیں کوٹ کہا جاتا تھا۔ یہ گیارہ کوٹ دو حصوں میں تقسیم تھے جنہیں پھری کہا جاتا تھا۔ ہر کوٹ کا اپنا ترنگفا (نمبردار) اور زیتو (نمبردار کا معاون) ہوتا تھا۔ تمام کوٹوں کے لوگ مختلف راتوں میں اپنے اپنے کوٹ میں رسم شاپ مناتے تھے اور آخر میں مل کر تھال شاپ (بڑا شاپ) کا تہوار مناتے تھے۔ اس کے بعد وہ کوٹ محلہ گلگت میں برانگسا (دعوت) کے لیے جمع ہوتے تھے۔ گیارہ کوٹوں کے شاپ منانے والے تمام گروہ اس دعوت میں شریک ہوتے تھے۔ دو گروہوں کے درمیان پھلی گائے (کرامبو) کا مقابلہ ہوتا تھا، جس میں تماشائی ذہنی اور جسمانی طور پر شریک ہو کر اپنے اپنے حصے کے کھلاڑی کی حمایت کرتے تھے“ ۔

شاپ کی روایت نے گلگت میں جدید فنون خصوصاً جدید ڈرامے پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ جب 1950 کی دہائی میں اسکولوں اور دیگر عوامی مقامات پر تھیٹر متعارف ہوا تو ڈراموں میں اداکاری کرنے والے اکثر وہی لوگ تھے جو شاپ کی رسومات میں مختلف کردار ادا کرتے تھے۔

ریڈیو پاکستان کے قیام اور مقامی زبانوں میں پروگرام نشر ہونے سے مقامی لکھاریوں کو مقامی موضوعات پر ڈرامے لکھنے کا موقع ملا۔ شینا زبان کے ممتاز ڈراما نگار، جیسے محمد امین ضیاء، عبدالحفیظ شاکر اور غلام عباس نسیم، گلگت کی شاپ روایت میں رچے بسے لکھاری ہیں۔ ان میں سے آخری دو نہ صرف لکھاری بلکہ شینا ڈرامے کے بہترین اداکار بھی ہیں۔

گلگت کی سرزمین اور اس کی روحانی کونیات سے گہرے ثقافتی تاریخی رشتے کے باوجود، شاپ ہنزہ، نگر، غذر، دیامر اور گلگت کے دیگر علاقوں سے تقریباً ناپید ہو چکا ہے، اگرچہ گلگت کے چند علاقوں اور وادی پونیال میں یہ رسم اب بھی محدود پیمانے پر موجود ہے۔

شاپ کے خاتمے کی وجوہات میں شہر کاری، معاشرتی انفرادیت، روایتی سماجی ڈھانچے کا انہدام، ہجرت، بڑھتی ہوئی مذہبیت اور خطے میں پدرشاہی ذہنیت کا غلبہ شامل ہیں۔ گزشتہ ساٹھ برسوں میں گلگت کے معاشرے میں داخل ہونے والی نئی مذہبی فکر و نظر نے شناخت کی بنیاد کو ثقافت سے ہٹا کر فرقہ ورانہ خطوط پر استوار کر دیا ہے۔ اس نئی مذہبیت نے خالصیت کے جنون میں گلگت بلتستان سے روحیت اور شمنیت پر مبنی روایات کی تمام نشانیاں مٹا دی ہیں۔ یوں آج شاپ کے نغموں کی تائید میں جہاں شاپ کے شرکا بلند آواز میں ”شو“ (ہاں ) پکارتے تھے، اب اس کی جگہ ”آمین“ نے لے لی ہے۔

قدیم روحیتی ثقافت میں عورت کو سیلی (مقدس) سمجھا جاتا تھا۔ لیکن موجودہ فرقہ ورانہ بیانیے میں عورت کو ایسی ہستی تصور کیا جاتا ہے جو برائی کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اس لیے عورت کی موجودگی کو سماجی اور ثقافتی مقامات پر یا تو محدود کر دیا گیا ہے یا مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اسی لئے آج ہمیں شاپ کی رسم میں عورتوں کی شمولیت مکمل طور پر غائب نظر آتی ہے۔ نئی مذہبی سوچ نے پدرشاہی ذہنیت کی طاقت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ روحیاتی تصورِ کائنات میں پریوں اور دیوی کے ہاں نر اولاد نہیں ہوتی تھی، اسی لیے مرکم دیوی کے مندر میں شاپ کے دوران عورت کی کوکھ اور زمین کی زرخیزی کے لیے دعا مانگی جاتی تھی۔ زمین اور محافظ دیویاں عورتیں ہیں جو تمام مخلوقات، بشمول لڑکیوں، کو جنم دیتی ہیں۔ مگر اب شاپ کے گانوں اور دعاؤں میں گھروں میں بیٹوں اور پوتوں کی کثرت کی دعا کی جاتی ہے، اگرچہ چند مقامات پر عورتوں اور بیٹیوں کے لیے دعائیں اب بھی باقی ہیں۔ یوں گلگت کی عورت کو اس ثقافتی رسم سے مکمل طور پر مٹا دیا گیا جس کا ظہور ایک نسوانی دیوی کے مندر سے ہوا تھا۔ عورت کے سماجی زوال کی سطح کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہی عورت جو کبھی مرکم کے مندر کی پروہت یا مذہبی سربراہ ہوتی تھی، آج اسے ایک پالتو جانور کی مانند بنا دیا گیا ہے، جس پر مذہبی اور ثقافتی میدانوں کے دروازے بند ہیں۔

شاپ کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ ثقافت کو مذہب اور پدرشاہی ذہنیت کی گرفت سے آزاد کرایا جائے۔ آج مذہبیت اور ثقافتی تنگ نظر سوچ کی قدغنوں اور نکال باہر کرنے کی ذہنیت کے باعث گلگت بلتستان کی عورتوں کو تخلیقی میدانوں، بشمول ڈراما، شاعری، ادب اور تفریح و ثقافت کی صنعت، میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ اسی لیے گلگت بلتستان کے ثقافتی منظرنامے میں مقامی سینما، ہیروئن، ادیب خاتون اور ثقافتی شخصیت موجود نہیں ہے۔ شاپ گلگت کے اس معاشرے میں، جو فرقہ ورانہ خطوط پر منقسم ہے، ایک متحد کرنے والی قوت بن سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سرشاری، جمالیات، خوشی اور ثقافتی جڑوں سے پیوست رسومات کے لیے نئی جگہیں بنائی جائیں۔ اس سے ثقافت میں نئے رنگ شامل ہوں گے جو یک رخی مذہبی اور پدرشاہی ذہنیت کے باعث بے رنگ ہو چکی ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW