کالم۔

دولت اور طاقت کے جال میں پھنسی تتلی کیسے آزاد ہوئی؟

(انسانی بیوپار اور کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کی شکار ورجینیا رابرٹس جوفرے کی کہانی)

gohar taj

امریکہ کے جیفری ایپسٹین کے جرائم کی داستانیں آج دنیا میں زدعام ہیں۔ جس نے اپنی بے اندازہ دولت اور بے تحاشا طاقت کے بل بوتے پہ اپنے جرائم میں بین الاقوامی سطح پہ ملوث گروہ کے ساتھ انتہائی منظم انداز میں انسانی جنسی بیوپار سرگرم رکھا۔ جو اس وقت دنیا کی سب سے منافع بخش یعنی سو بلین ڈالرز صنعت ہے۔ ایپسٹن نے برسوں ہزار سے زیادہ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی استحصال اور بیوپار کا ایک ایسا جال بنا کہ جس میں پھنسنے والوں کا نکلنا محال تھا۔ اگست 2020ء میں جیل میں قید جیفری ایپسٹین کے مرنے کے بعد بھی اس کی زیادتیوں کی شکار خواتین جو کبھی کم سن لڑکیاں تھیں، انصاف کے کٹہرے میں حکومت سے انصاف کی طلبگار ہیں۔ اور اس وقت عوام بھی ان لڑکیوں کے ساتھ کھڑے اہپسٹین فائلز کے مکمل ریلیز ہونے کے منتظر ہیں تاکہ جرم کے مرتکب دنیا کے بااثر طاقتور افراد کا عدالتی احتساب اور سزا ہو سکے۔

ویسے تو اس منظم جرم کی شکار تمام لڑکیوں کی کہانیاں دردناک اور انسانیت اور سماجی نظام کے منہ پہ طمانچہ ہیں، لیکن کیس اسٹڈی کے طور پہ ہم نے صرف ایک لڑکی ورجینا رابرٹس جوفرے کی زندگی کی کہانی کا انتخاب کیا ہے۔ کیونکہ وہ پہلی باہمت لڑکی تھی جس نے اپنی جان اور نام کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عوامی سطح پہ اپنے اور دوسری لڑکیوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی اور ظلم کے خلاف سب سے زیادہ بارسوخ، امیر اور طاقتور افراد جیفری ایپسٹین، اس کی ساتھی گیلن میکسویل اور برطانیہ کے پرنس اینڈریو کے خلاف آواز بلند کی اور قانونی جنگ لڑی۔ بدقسمتی سے 41 برس کی عمر میں انصاف کے لیے لڑنے والی ورجینیا خود اپنی ذاتی زندگی میں ہونے والی جنسی، جذباتی اور جسمانی زخموں کا بوجھ نہ سہار سکی اور بالآخر اپریل 2025ء میں خودکشی کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

اسکی یادداشتوں پہ مبنی ایک کتاب ”Nobody ’s Girl“ (کسی کی لڑکی نہیں ) ہے جو اس کے مرنے کے بعد اس کی وصیت کے طور پہ شائع ہوئی۔ جس میں اس نے پوری جرات مندی سے ان بڑے طاقتور اور با اثر افراد کے متعلق لکھا ہے جن کے پاس وہ جنسی استحصال کی غرض سے بھیجی جاتی رہی۔ آج دنیا کی نظر میں ورجینیا حقیقی معنوں میں وہ لیڈر ہے جس نے خاموش بیٹھنے کے بجائے استحصال کرنے والوں کے چہرے بے نقاب کیے۔ اور اس جنسی استحصال اور انسانی بیوپار کے گھناؤنے نظام میں تلاطم برپا کر دیا جو دنیا کے ان طاقتور اور بارسوخ افراد کا دفاع کر رہا تھا۔

ورجینیا 1983ء میں سیکرومنٹو، کیلی فورنیا میں پیدا ہوئی۔ چار سال کی عمر میں اس کا گھرانا پام بیچ، فلوریڈا منتقل ہو گیا۔ اس کی یادوں میں اس کا ابتدائی بچپن بہت خوبصورت تھا۔ دو بھائیوں کی محبتی اور ہر وقت ہنسنے ہنسانے والی بہن جسے ٹام بوائے کی طرح رہنا، گھڑ سواری کرنا اور درختوں پہ چڑھنا بہت پسند تھا۔ لیکن اس کی خوشیوں اور اعتماد کا شیرازہ اس وقت بکھر گیا جب وہ سات سے گیارہ برس کی عمر تک وہ اپنے ہی باپ اور اس کے علاوہ ایک خاندان کے فرد کے ہاتھوں کبھی روزانہ تو کبھی ہفتہ میں دو تین بار جنسی استحصال کا شکار ہونے لگی۔ اس جنسی استحصال کے ٹراما کو دل میں چھپائے اس کی دنیا اور مزاج دونوں ہی بدل گئے۔ اب وہ ایک باغی، بگڑی ہوئی گھر سے بھاگنے اور سڑکوں پہ رہنے والی ٹین ایج لڑکی تھی جو کبھی فوسٹر ہومز میں رہی تو کبھی سیکس ٹریفکرز کے ہتھے چڑھی۔ لیکن چودہ برس کی عمر تک گھر سے بھاگتے بھاگتے اسے احساس ہوا کہ اسے اس فرار میں صرف بھوک، جسمانی پامالی، ہر قسم کا تشدد اور درد ہی ملا۔ لہذا بے چارگی کے عالم میں وہ باپ کے گھر واپس لوٹ آئی۔ اس نے محنت پہ انحصار کر کے اپنی زندگی کو بدلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

ہائی اسکول کے بعد 2000ء کی گرمیوں میں ورجینیا نے سولہ برس کی عمر میں موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پراپرٹی مارا لاگو، پام بیچ میں واقع ایک اسپا کے لاکر روم میں اٹنڈنٹ کی نوکری کرلی۔ اپنی ہیجان انگیز اور بے سکون زندگی کے مقابلے میں اسے اسپا کا ماحول بہت پرسکون لگا۔ لہذا اس نے مساج تھرپسٹ بننے کا فیصلہ کر لیا۔ ایک دن وہ مساج سے متعلق اناٹومی کی کتاب کی ورق گردانی کر رہی تھی تو اس کے پاس بہت بااعتماد، خوبصورت انگریزی لہجے میں گفتگو کرنے والی بظاہر مہربان اور مددگار عورت آئی جس نے ورجینیا کو بتایا کہ وہ ایک دولت مند شخص جیفری ایپسٹن کو جانتی ہے جو ٹریولر مساج تھرپسٹ کی تلاش میں ہے۔ ”اگر تم چاہو تو میں تمھیں انٹرویو کے لیے اس کے پاس لے سکتی ہوں؟“ یہ عورت ایپسٹین کی ساتھی برطانوی نژاد گلین میکس ویل تھی۔ ورجینیا کو یہ عورت بہت اچھی لگی۔ اس نے گلین کو بتایا کہ ”وہ ابھی مساج تھرپسٹ تو نہیں مگر بننا چاہتی ہے۔“ یہ ابتدائی تعارف تھا۔ اسی دوپہر جب ورجینیا کو اس کے باپ نے ایپسٹین کے پاس انٹرویو کے لیے چھوڑا تو اسے ہرگز اندازہ نہ تھا کہ اس خوبصورت مینشن میں مساج تھرپسٹ کی نوکری کے بہانے اس کے ساتھ کیا بدترین سلوک ہونے والا ہے۔ دیواروں پہ آویزاں دنیا کی شخصیات کے ساتھ تصاویر دیکھ کے اسے ایپسٹین کے بااثر اور دولت مند ہونے کا اندازہ ہو چکا تھا۔ گول زینے سے ہوتی ہوئی وہ بالائی منزل کے مساج روم میں داخل ہوئی جہاں عریاں ایپسٹین مساج کی غرض سے لیٹا تھا۔ پہلی ملاقات میں، مساج کرتے ہوئے، گلین کی تربیت کے دوران ایپسٹن اور گلین میکسویل نے اس کی زندگی کے تمام حالات معلوم کر لیے۔ دونوں کو ہمدرد اور مددگار سمجھتے ہوئے سولہ سالہ ورجینیا نے اپنی ساری بپتا سنا دی۔ ساتھ ہی اپنا مساج تھرپسٹ بننے کا خواب بھی۔ ایپسٹین نے اس کی زندگی بدلنے اور مساج تھرپسٹ کی تعلیم دلانے کا وعدہ بھی کیا۔ اس طرح ورجینیا نے پہلے دن ملازمت کی شروعات میکسویل سے ایپسٹین کا مساج سیکھنے سے کی تو ایک گھنٹے کے بعد اختتام ایپسٹن اور گلین میکسویل کے ہاتھوں اپنے جنسی استحصال اور دو سو ڈالرز معاوضہ کی ادائیگی پہ ہوا۔ جو نو ڈالرز گھنٹہ پانے والی غریب اور مساج تھرپسٹ کی تعلیم کا خواب بننے والی کم سن لڑکی کے لیے بہت بڑی رقم تھی۔

اس سے قبل ورجینیا کو اپنے باپ کے علاوہ بھی دنیا کے دوسرے مردوں سے دھوکہ کھانے اور جنسی استحصال کا تجربہ تھا البتہ ایک بظاہر مہربان نظر آنے والی عورت سے دھوکہ اور جنسی استحصال کا تجربہ نہایت غیر متوقع اور تکلیف دہ تھا۔ لیکن حالات کی عسرت، زندگی کی محرومیاں اور کم وقعتی کے احساس نے اس بے توقیری کو زندگی کا ایک اور تلخ اور تکلیف دہ تجربہ سمجھ کے قبول کر لیا۔

ایک دن ایپسٹن نے ورجینیا کو اپنے آفس میں اس کے چھوٹے بھائی اسکائی رابرٹس کے اسکول میں لی ہوئی تصویر دکھائی۔ اور دھمکی دی کہ اگر کسی کو بھی اس جنسی استحصال کا بتایا تو اس کے بھائی اور گھر والوں کی زندگی کی خیر نہیں۔ اس نے ورجینیا کو یہ بھی باور کروایا کہ پام بیچ، فلوریڈا کی پولیس کس طرح اس کے قابو میں ہے۔

اس طرح تعلیم اور بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے والی ورجینیا ایک بے بس تتلی کی مانند ایپسٹین کے جال میں بری طرح پھنستی چلی گئی۔ ملازمت کی نوعیت اس کا گہرا خفیہ راز بن چکی تھی۔ جہاں اس کو مجبور کیا جاتا کہ وہ اپنی جیسی، کم عمر اور لڑکیاں مساج کی نوکری کے بہانے شکار کر کے لائے۔ اسی طرح ہر نئی آنے والی لڑکی سے اپنی جیسی مزید لڑکیاں لانے کا دباؤ ڈالا جاتا اور ان کو دو سو ڈالرز فی لڑکی دیے جاتے۔ اس طرح اس جال میں پھنسنے والوں کا دائرہ وسیع تر ہوتا جاتا۔

ایپسٹین کے مینشن میں ہر وقت کم سن لڑکیوں کی آمد و رفت رہتی۔ جن کی عمریں چودہ سے سترہ سال تک کی ہوتیں لیکن ایپسٹن نے ورجینیا کو خود بتایا تھا کہ اسے پیرس کے فیشن ڈیزائنر Luc Brunel Jean نے بارہ سال کی عمر کی تین لڑکیاں بھیجیں تھیں۔ بقول ورجینیا، ایپسٹین کے تصرف میں روزانہ کم ازکم تین لڑکیاں رہتیں۔ وہ اپنے پرائیویٹ طیارے ”لولیٹا ایکسپرس“ میں دو گھنٹے کی فلائیٹ کے دوران بھی مساج اور سیکس کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔

فوری طور پہ ورجینیا کا باہر کے ممالک جانے کے لیے پاسپورٹ بنایا گیا اس طرح ملازمت کے نو ماہ کے عرصے میں وہ آدھی دنیا گھوم چکی تھی۔ اس کا جنسی استحصال کر والوں میں دنیا کے نامور، طاقتور اور ارب پتی بااثر شخصیات تھیں جن میں سائنسدان، ڈاکٹرز، فنکار، تعلیم دان حتی کے وزیر اعظم اور برطانیہ کا پرنس اینڈریو تک شامل ہیں۔ آسٹریلیا کے پروگرام سکسٹی منٹ میں ورجینیا نے کہا ”ایپسٹین کے دولت مند ملنے والوں کے درمیان، مجھے لگا میں ایک کمسن لڑکی مردوں کے سمندر میں۔ ایک بچی جو بڑوں کے درمیان پھنس گئی تھی، جن کو اجازت تھی کہ جو وہ کرنا چاہیں کریں۔ مجھے جو بھی پسند کر لیتا، میں ارب پتیوں کے درمیان پہنچا دی جاتی۔ سیاست دان، پروفیسرز، شاہی افراد، دنیا کے اونچے متمول لوگ جو دنیا چلاتے ہیں۔ دنیا کے سب سے طاقتور لوگ۔“

ان کم سن لڑکیوں کی جنسی تجارت کے لیے ایپسٹین نے مین ہٹن، نیویارک، فلوریڈا پام بیچ، ورجن آئی لینڈ، میکسیکو، پیرس وغیرہ میں عالیشان مینشن، اور خوبصورت جزیروں کو مرکز بنایا۔ نجی ہیلی کاپٹرز کے علاوہ اس کا بدنام زمانہ ”لولیٹا ایکسپرس“ طیارہ بھی تھا۔ یہ مینشنز اور طیارے ارب پتیوں اور مشہور لوگوں کے تصرف میں بھی آتے۔ ان عمارتوں میں خفیہ ویڈیو ٹیپ اور کیمرے تھے جو وہاں آنے والوں کے ہر عمل کو محفوظ کرتے تاکہ ان بااثر لوگوں کو بوقت ضرورت بلیک میل کیا جا سکے۔

اٹھارہ برس کی عمر تک ورجینیا تین بار پرنس اینڈریو کے پاس بھیجی گئی۔ ویسے تو ورجینیا کو ہر استحصال کرنے والے سے نفرت، غصہ اور تکلیف ہوتی لیکن ایک طاقتور اور دولتمند شخص نے ورجینا کو بری طرح جسمانی اذیت سے دوچار کرنے کے بعد زخمی بھی کر دیا۔ اس تجربے کے بعد خاصکر ورجینیا اس چنگل سے نکلنے کے لیے بے چین تھی۔ لیکن کیسے؟ اس کے بغیر ایپسٹین رات کو سوتا نہیں تھا۔ ورجینیا کا کام ایپسٹین کو بستر میں ایسے ہی سلانا تھا جیسے مائیں ننھے بچوں کو چادر اڑا کے سلاتی ہیں۔ ایپسٹین کا حکم تھا کہ جب تک وہ سو نہ جائے ورجینا کمرہ نہ چھوڑے۔ شاید وہ اس میں اپنی ماں کا متلاشی ہو؟ کون جانے۔

ایک دن ایپسٹین اور گلین نے اس سے ایپسٹین کی اولاد پیدا کرنے کی صورت میں بہت سی مراعات کی پیشکش کی۔ کہ وہ بہت اچھی ماں ثابت ہوگی۔ مگر اس کے لیے اسے اس معاہدے پہ دستخط کرنے تھے کہ وہ اپنے بچے کے حقوق سے دستبردار ہو جائے۔ ورجینیا اس کے لیے ہرگز راضی نہ تھی لیکن اس کو پتا تھا کہ انکار کی گنجائش نہیں۔ لہذا اس نے بظاہر اس معاہدے پہ بخوشی رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا لیکن اس سے پہلے اسے وعدے کے مطابق مساج تھرپی کے سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کی تعلیم دلوا دی جائے۔ ایپسٹین نے اس کا تھائی لینڈ کے مشہور مساج کے تعلیمی ادارے میں داخلہ کروا دیا۔ اور یہ قدم اس کی زندگی کا اہم ترین موڑ ثابت ہوا۔

تھائی لینڈ میں اسے رابرٹ نام کا آسٹریلین لڑکا ملا جس نے ورجینیا کی کہانی سن کر تیسرے دن ہی شادی کا پیغام دے دیا۔ ساتویں دن دونوں نے شادی کر لی۔ سال تھا 2002ء۔ اس طرح تقریباً ڈھائی سال ورجینیا نے ایپسٹین اور دوسرے استحصالیوں کا جنسی، جسمانی، ذہنی جذباتی تشدد برداشت کیا۔ شادی کے بعد اس نے ایپسٹین کو امریکہ فون کر کے بتا دیا کہ اب وہ واپس نہیں آئے گی۔ اس نے یہاں شادی کرلی ہے۔

شادی کے بعد ورجینیا کے تین بچے ہوئے۔ گو وہ اس شادی کی ابتدا ہی سے وہ گھریلو تشدد کا شکار تھی لیکن اس نے اس پر تشدد شادی کو بائیس سال 2024ء تک برقرار رکھا۔ تحقیق بتاتی ہے کہ پارٹنر کے تشدد کو عورت اوسطا سات بار برداشت کر کے واپس لوٹ آتی ہے۔ ورجینیا کی زندگی میں جو حالات رہے تھے اس میں مردوں کی دنیا میں بار بار دھوکہ کھانا، اپنی کم وقعتی اور احساس کمتری نارمل تھا۔ یقیناً بہت سے عوامل طلاق یا علیحدگی میں حائل ہوتے ہیں۔

گھر میں تشدد کی جو بھی صورتحال ہو، ورجینیا نے مئی 2009ء میں اپنا نام راز میں رکھتے ہوئے فلوریڈا کی فیڈرل کورٹ میں اہپسٹین اور گلین کی سیکس ٹریفکنگ کے خلاف شہری مقدمہ درج کروایا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے تعلقات بل کلنٹن، بل گیٹ، کلیسا کے پوپ، ڈونلڈ ٹرمپ اور بااثر، طاقتور اور ارب پتیوں کے ساتھ ہیں۔ جن کا وہ پرائیویٹ بزنس مینیجر اور ایڈوائزر تھا۔ جے پی مورگن chase اور Deutsche جیسے مشہور بینکوں نے بھی باوجود ریڈ فلیگ کے اس کا کروڑوں کا بزنس جاری رکھا تھا۔

(یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایپسٹن کے خلاف یہ شکایت پہلی بار نہیں تھی اس سے قبل ماریا فارمر نے ایف بی آئی میں اپنے اور چھوٹی بہن کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کی شکایت لکھوائی تھی۔ لیکن ایپسٹین کی دولت اور طاقت کی بنا پہ اس کی شکایت پہ کان نہیں دھرا گیا۔ البتہ دوسری بار 2005ء میں جب ایک چودہ سالہ بچی کے والدین نے پام بیچ، فلوریڈا پولیس کو رپورٹ کیا تو پولیس پہلی بار متحرک ہوئی۔) اس طرح 2008ء میں ایف بی آئی اور فلوریڈا پولیس کی رپورٹ ایپسٹن کو کم عمر لڑکیوں کے جنسی بیوپار پہ گرفتار کیا گیا لیکن پیسے کی طاقت کے بل بوتے پہ یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس نے یو ایس فلوریڈا کے وکیل الیگزنڈر اکوسٹا کی مرہون منت ایک ڈیل یا معاہدے کے تحت صرف تیرہ ماہ کی سزا منظور کی جس کے مطابق وہ بارہ گھنٹے کے لیے پوری آزادی کے ساتھ آفس جا کر اپنا کام کر سکتا تھا۔ گویا وہ ابھی بھی ہر جرم کے لیے آزاد ہی تھا۔ جیل صرف سونے جاتا تھا۔ لیکن پھر جولائی 2019ء میں ایک بار پھر اسے نیویارک اور فلوریڈا کی فیڈرل عدالتوں نے اسے گرفتار کر کے نیویارک کی جیل میں قید کیا جس کے دوران وہ اگست 2019ء میں خودکشی کر کے مر گیا۔ گو اس کی موت آج تک ایک متنازع معاملہ ہے۔

ورجینیا نے 2010ء میں اپنی بیٹی کی پیدائش کے بعد تمام تر خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی زندگی کی کہانی کو دنیا میں عام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور پہلی بار اس کی کہانی 2011 میں عوامی سطح پہ پڑھی گئی جس میں اس کی گلین اور اینڈریو کے ساتھ تصویر چھپی۔ جو اتفاق سے ایپسٹین نے لی تھی۔ پرنس اینڈریو کے خلاف کم عمر لڑکی کے ساتھ جنسی استحصال کا سول قانون کا مقدمہ نیویارک کی عدالت میں 2021ء میں ہوا۔ جس کے نتیجے میں اینڈریو کو نہ صرف شاہی مراعات سے ہاتھ دھونا بلکہ اس نے ایک خطیر رقم ورجینیا کی کم عمر لڑکیوں کی ٹریفنگ کی حفاظت کے لیے قائم کردہ نان پرافٹ آرگنائزیشن SOAR (Speak Out، Act، Reclaim) کو دی۔ جس کا سمبل نیلی آزاد تتلی ہے۔

گو آسٹریلیا میں ورجنیا خود اپنے شوہر کے ہاتھوں گھریلو تشدد کا شکار تھی لیکن کمسن لڑکیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے انصاف کے لیے اس نے اپنی ذات کو بھلا کے سارے خدشات مول لیے۔ اس کی جدوجہد محض ایپسٹین یا گلین میکسویل کے ہی خلاف نہیں تھی بلکہ اس گھناؤنے کاروبار کو چلانے اور اس کو پشت پناہی دینے والے نظام کے خلاف تھی۔ یقیناً اس کی ہمت افزائی میں ”می ٹو“ تحریک کا بھی اہم کردار ہے۔ تاہم یہ ان تمام لڑکیوں کی مشترکہ جدوجہد ہے کہ آج پورا امریکہ ایک زبان ہو کے ایپسٹین فائلز کو عوام کے سامنے لانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ صدر ٹرمپ، جس کی تصویر ان فائلز میں جابجا دیکھی جا سکتی ہے، اپنی پوری مخالفتوں کے باوجود کانگریس میں مشترکہ طور پہ ایپسٹین فائلز ایکٹ پاس ہونے کے بعد فائلز عوام کے سامنے کھولنے پہ مجبور ہو گیا۔ کیونکہ یہ ڈیموکریٹ یا ریپبلکن کا سیاسی معاملہ نہیں بلکہ کمزور کی آواز بلند کرنے کا ہے۔

ادھر آسٹریلیا میں ورجینیا سے اس کے شوہر نے تشدد کے بعد اس کے بچے لے لیے تھے۔ کار کے ایک حادثے کے بعد اس کے گردوں نے کام بند کر دیا تھا۔ وہ تنہائی جھیل رہی تھی۔ اپریل 2025ء میں ورجینا کی آسٹریلیا خودکشی (متنازع) کے بعد اس کی آواز خاموش ہو گئی۔ لیکن مرنے سے قبل اس نے ہزاروں کمزور لڑکیوں کو ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی طاقت دی۔ اس کی موت کے بعد شائع ہونے سوانح ”کسی کی بیٹی نہیں“ (Nobody ’s girl) میں اس کی کہانی ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئی ہے۔

منشیات کی تھرپسٹ ہونے کے ناتے میں نے ملازمت کے دوران نشے میں مبتل ابے شمار مرد اور عورتوں کی کہانیاں سنی ہیں جو جنسی بیوپار میں جکڑی ان کم سن لڑکیوں کی کہانیوں سے کچھ مختلف نہیں۔ ان میں مشترکہ بات اپنے حالات کے سبب vulnerability یا کمزوری ہے۔ جس کی وجہ سے طاقتور خاص کر بارسوخ دولت مند ان کو آسانی سے اپنا شکار بنا لیتے ہیں۔ ان میں اکثر شکار غربت کے مارے، غیر مناسب ماحول، ڈرگ، تشدد اور اور مالی محرومیوں، ماں باپ کی بے توجہی، طلاق یا علحیدگی، بچپن میں جسمانی، جذباتی اور جنسی تشدد کے ٹراما کا شکار ہوتے ہیں۔ ورجینا کی زندگی کی کہانی نمائندہ کیس اسٹڈی ہے۔

اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ ورجینیا اس جنسی استحصال کے بعد گھر واپس کیوں نہیں چلی گئی لیکن لوگ بھول جاتے ہیں کہ کمسن لڑکیوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ پیسے دے کے ان کے خواب خریدے جاتے ہیں۔ ان کا اعتماد تو عموماً ان کے گھر میں ہی چھین لیا جاتا ہے جیسے ورجینیا کو بچپن میں باپ کے جنسی استحصال نے باغی بنا کر گھر سے بھاگنے پہ مجبور کیا۔ پھر باہر کی دنیا نے اس کے اعتماد کو مزید توڑا۔ جنسی بیوپار کا شکار لڑکیاں پیدا نہیں ہوتیں بلکہ بنائی جاتی ہیں۔ ہمارا نظام کمزوروں کو کمزور تر اور انصاف سے محروم رکھتا ہے وہ دولت مند اور طاقتور کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ صرف جیفری ایپسٹین ہی نہیں بلکہ اس کے جرم کو تحفظ اور جشم پوشی کرنے والا ہر فرد اس جرم میں شریک ہے۔ موجودہ حکومت ہو یا پچھلی حکومتیں۔ اگر وقت پہ پہلی شکایت پہ انصاف برتا جاتا تو یہ بیوپار اس قدر پھلتا پھولتا؟ ہمییں یاد رکھنا ہے کہ کسی بھی ظلم پہ سماج کی خاموشی اسے پنپنے دیتی ہے جبکہ بروقت آواز ظالم کے ہاتھ پکڑ لیتی ہے۔ اور ایسا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
یار قلم کار
یار قلم کار
5 months ago

اسی موضوع پر عنایت اللہ (حکایت ڈائجسٹ والۓ) کی مشہور کتاب۔۔میں کسی کی بیٹی نہیں۔۔۔۔شائع ہو چکی ہے۔۔۔یہ کہانی مندرجہ بالا کالم سے کس قدر ملتی ہے میں پڑھ کے حیران رہ گیا۔

Ishrat Afreen
Ishrat Afreen
3 months ago

گوہر جس عرق ریزی اور باریک بینی سے تم نے “ایپسٹین فائل “ پر تحقیق کی اور قلم اٹھایا ہے یہ بروقت کام ہے۔ خاص طور پر یہ آگاہی ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے بھی ضروری جو بچیوں اور عورتوں کے استحصال کی داستانوں پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ عمدہ مضمون
سلامت رہو

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW