معیشت کا ڈھونگ اور بھوکے عوام
ہم بار بار سنتے ہیں کہ پاکستان کے پاس کھربوں ڈالر کے وسائل ہیں۔ کبھی بتایا جاتا ہے کہ تربیلا کی زمین میں سونا چھپا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ ہمارے پہاڑ خزانے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی کے پاس آٹے اور روٹی کی فکر ہے۔ جب پیٹ خالی ہو اور حکمران خزانے کے خواب دکھا رہے ہوں تو دل چاہتا ہے ہنسا بھی جائیں اور رو بھی لیں۔
حکومت آج دعویٰ کر رہی ہے کہ معیشت بہتر راستے پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قرض مل جانا ترقی ہے۔ اگر کوئی گھر قرض سے چل رہا ہو، اور قرض ہی سے بجلی کا بل، راشن اور علاج ہو رہا ہو تو کیا اسے خوشحال کہا جا سکتا ہے۔ ملک کی حالت بھی یہی ہے۔ معیشت تب ٹھیک ہوتی ہے جب روزگار بڑھے، صنعتیں چلیں، پیداوار بڑھے۔ یہاں تو فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور ٹیکس عوام کی جیب سے آخری پیسہ بھی نکال رہا ہے۔
پاکستان نے بائیس سے زیادہ بار آئی ایم ایف سے پروگرام لیا اور ہر بار حکومت نے کہا کہ ملک سنبھل گیا ہے۔ اگر ہر بار سنبھلنے کے بعد دوبارہ گرنا پڑا تو سمجھنا چاہیے کہ علاج غلط ہے۔ عالمی ادارے کھل کر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کا موجودہ اقتصادی ماڈل عوام کو فائدہ نہیں دے سکتا۔ بنیاد ہی قرض پر ہے۔ قرض بیساکھی ہے، اس پر چلنے والا کبھی نہیں دوڑ سکتا۔
سرمایہ کاری کو امید بنا کر پیش کیا گیا۔ کبھی سی پیک کا خواب بیچا گیا، کبھی ایس آئی ایف سی، کبھی سبز تبدیلی، اب معدنیات کے دعوے۔ ہر چند ماہ بعد نیا نعرہ، نیا اسٹوری۔ حقیقت یہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری آ رہی نہیں، بلکہ بڑے ادارے جا رہے ہیں۔ پروکٹر اینڈ گیمبل، ٹیلی نار، شیل، فائزر اور ٹوٹل انرجیز جیسی کمپنیاں خاموشی سے پاکستان چھوڑ چکی ہیں۔ سوال سیدھا ہے۔ جب پاکستانی خود سرمایہ نہیں لگا رہے، تو باہر والوں سے کیا امید رکھی جائے۔
بینکوں نے صنعت کو نظر انداز کر دیا ہے۔ وہ حکومت کو قرض دیتے ہیں اور بیچ میں منافع کھاتے ہیں۔ فیکٹریاں لگانے والا ڈر رہا ہے۔ بجلی مہنگی، ٹیکس بے قابو، پالیسی غیر واضح اور محنت کرنے والے ہنرمند باہر جا رہے ہیں۔ جب کاریگر ہی باہر چلے جائیں تو صنعت کیسے چلے۔
ملک ہر 100 روپے کماتا ہے اور تقریباً 250 روپے خرچ کرتا ہے۔ جو چیزیں ہم باہر سے لاتے ہیں، ان میں پٹرول اور گاڑیوں کی درآمد سب سے زیادہ ہے۔ ہر نئی گاڑی اور ہر لیٹر پٹرول قرض سے خریدا جاتا ہے۔ ایک غریب ملک یہ عیاشی کب تک برداشت کرے گا۔ ضرورت یہ ہے کہ غیر ضروری درآمدات بند ہوں، پٹرول صَرف ضرورت کے مطابق ملے، اور صنعت کو سستا بجلی و ٹیکس دیا جائے تاکہ پیداوار بڑھے۔
اب ریاست پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ میڈیا پر پابندیاں، سیاست پر پابندیاں، اور عوامی نمائندوں کی طاقت کم کی جا رہی ہے۔ طاقت سے حالات کچھ وقت سنبھل سکتے ہیں لیکن ہمیشہ نہیں۔ معیشت گر جائے تو دیواریں نہیں، پورا گھر گرتا ہے۔
پاکستان آج ایک فیصلے پر کھڑا ہے۔ چاہیں تو اپنی معیشت کو حقیقت پسندانہ بنیاد پر ٹھیک کریں۔ چاہیں تو بند فیکٹریاں کھولیں، مہارت والے نوجوان تیار کریں، اور مقامی پیداوار بڑھائیں۔ ورنہ دنیا کو ڈر ہے کہ قرض کے بوجھ تلے یہ ملک صرف لڑکھڑائے گا نہیں بلکہ پوری طرح گر جائے گا۔
سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم انہیں استعمال کرنا چاہتے ہیں یا صرف خواب بیچتے رہیں گے۔ اگر پاکستان کو گھر سمجھا جائے گا تو اسے بچایا جائے گا، اگر تجربے کی لیبارٹری سمجھا گیا تو پھر آنے والی نسلیں بس اس تباہی کی کہانی سنائیں گی۔

