بلاگ

ہمارا غصہ، ان کی تفریح

asrar uddin asrar

دنیا کی بڑی طاقتیں خصوصاً ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک جس چیز پر سب سے زیادہ فخر کرتی ہیں، وہ ان کی فوجی طاقت نہیں بلکہ علم، سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشت ہے۔ یہ طاقتیں اچانک مضبوط نہیں ہوئیں ؛ انہوں نے صدیوں تک تعلیم، تحقیق، ادارہ سازی اور انسانی وسائل پر مسلسل سرمایہ کاری کی۔ انہوں نے اپنی یونیورسٹیوں کو جنگی ہتھیاروں سے زیادہ اہم سمجھا، اپنے سائنسدانوں کو قومی اثاثہ بنایا، اور اپنی معیشت کو جذبات نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے ذریعے کھڑا کیا۔

ان ممالک کی ایک بنیادی حکمت عملی یہ رہی ہے کہ وہ اپنے داخلی نظام کو مستحکم رکھتے ہیں جبکہ عالمی سیاست کے میدان کو اپنے مفادات کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے اپنی سرزمین کو جنگ کا میدان نہیں بننے دیا بلکہ ہزاروں میل دور جنگیں لڑی گئیں۔ کبھی کسی خطے کو فوجی اڈہ بنایا گیا، کبھی کسی ریاست کو حمایت دے کر دوسرے ملک کے خلاف کھڑا کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جنگوں کا بوجھ دوسروں نے اٹھایا جبکہ ان کی اپنی زمین، معیشت اور عوام محفوظ رہے۔

اس کے برعکس مسلم دنیا اور ترقی پذیر معاشروں کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے طاقت کے اصل سرچشمے علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کو پس پشت ڈال دیا۔ ہم عالمی سیاست کو سمجھنے کے بجائے صرف جذباتی ردِعمل تک محدود ہو گئے ہیں۔ جب بھی دنیا میں مسلمانوں یا کسی کمزور قوم کے خلاف نا انصافی ہوتی ہے، ہمارا ردعمل اکثر دانشمندانہ حکمت عملی کے بجائے غصے، احتجاج اور بعض اوقات اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچانے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب ہم اپنی ہی سڑکیں جلاتے ہیں، اپنے ہی بازار تباہ کرتے ہیں، یا اپنے ہی شہروں میں انتشار پھیلاتے ہیں تو عالمی طاقتیں متاثر نہیں ہوتیں ؛ بلکہ وہ ہمیں غیر سنجیدہ معاشرہ سمجھ کر مزید نظر انداز کرتی ہیں۔ ہمارا غصہ ان کے لیے مسئلہ نہیں بنتا، بلکہ بعض اوقات تفریح کا سامان بن جاتا ہے۔

اس صورتحال میں اہلِ دانش شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ دانشور خاموش ہو جاتے ہیں، اور حکمران عالمی فورمز پر موثر موقف پیش کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ جس قوم کی معیشت کمزور ہو، جس کا تعلیمی نظام زوال کا شکار ہو، جس کی سیاست داخلی انتشار میں پھنسی ہو، اس کی آواز عالمی سطح پر وزن نہیں رکھتی۔

معاشی میدان میں بھی ہماری حالت تشویشناک ہے۔ چند ممالک تیل کی دولت پر انحصار کرتے ہیں جبکہ بیشتر مسلم ریاستیں قرضوں کے سہارے چل رہی ہیں۔ اقتدار اکثر جمہوری شعور کے بجائے سیاسی جوڑ توڑ یا بیرونی حمایت سے قائم رہتا ہے۔ ایسے حکمران عالمی طاقتوں کی ناراضی مول لینے کے بجائے ان کی خوشنودی کو ترجیح دیتے ہیں، چاہے اس کی قیمت قومی خودمختاری ہی کیوں نہ ہو۔

اصل بحران یہ ہے کہ ہم نے ترجیحات بدل دی ہیں۔ ہم سائنسی تحقیق کے بجائے خطابت کو، مہارت کے بجائے نعروں کو اور تعلیم کے بجائے جذبات کو اہمیت دینے لگے ہیں۔ ہم ایسے افراد تو پیدا کر رہے ہیں جو جذبات بھڑکا سکتے ہیں، مگر ایسے سائنسدان، انجینئر، ماہر معیشت اور محقق کم پیدا ہو رہے ہیں جو قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں۔

دنیا کی سپر طاقتیں یہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ علم ہی اصل طاقت ہے۔ اسی لیے وہ تحقیق پر اربوں ڈالر خرچ کرتی ہیں، نئی ٹیکنالوجی تخلیق کرتی ہیں، اور مستقبل کی جنگیں ہتھیاروں سے زیادہ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور سائنسی برتری کے ذریعے لڑنے کی تیاری کرتی ہیں۔ اگر ایک طرف علم کی یونیورسٹیاں قائم ہوں اور دوسری طرف جہالت کے مراکز، تو نتیجہ پہلے سے طے ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے ہم آج بھی اپنی نوجوان نسل کی تعلیم پر سنجیدہ سرمایہ کاری نہیں کر رہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو آنے والی کئی نسلیں بھی عالمی دوڑ میں پیچھے رہیں گی۔ عالمی طاقتوں کے لیے یہ صورتحال فائدہ مند ہے، کیونکہ ایک غیر تعلیم یافتہ اور جذباتی معاشرہ آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ایسے معاشروں میں اپنی پسند کی قیادت مسلط کرنا مشکل نہیں رہتا۔

سوال یہ نہیں کہ دنیا ہمارے خلاف کیوں ہے ؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم خود اپنے حق میں کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے علم کو قومی ترجیح بنایا؟ کیا ہم نے تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی کو ریاستی پالیسی کا مرکز بنایا؟ کیا ہم نے اپنے نوجوان کو نعروں کے بجائے مہارت دی؟

جب تک ہم غصے کو حکمت میں، جذبات کو علم میں، اور احتجاج کو تعمیر میں تبدیل نہیں کرتے، تب تک ہمارا ردعمل دوسروں کے لیے سنجیدہ خطرہ نہیں بلکہ محض ایک وقتی تماشا ہی رہے گا۔

قومیں ایک دن میں نہیں بنتیں۔ وہ قطرہ قطرہ بنتی ہیں علم کے قطروں سے، شعور کے قطروں سے، اور مستقل مزاجی کے قطروں سے۔ اگر ہم نے اب بھی سمت درست نہ کی تو تاریخ ہمیں اسی طرح یاد رکھے گی، ایک ایسی قوم کے طور پر جو غصہ تو بہت کرتی تھی، مگر مستقبل بنانے کی تیاری نہیں کرتی تھی۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW